حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام
آپ کی ولادت باسعادت
آپ بتاریخ ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ھ مطابق ۲۰۷ ءیوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے (ارشادمفیدفارسی ص ۴۱۳ ،اعلام الوری ص ۱۵۹ ،جامع عباسی ص ۶۰ وغیرہ)۔ 
آپ کی ولادت کی تاریخ کوخداوندعالم نے بڑی عزت دے رکھی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا(جنات الخلوج ص ۲۷) ۔ 
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں (جلاء العیون ص ۲۶۵) ۔ آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔ 

اسم گرامی ،کنیت ،القاب
آپ کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفربن محمدکولقب صادق سے موسوم وملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا (جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔ 
علامہ ابن خلکان کاکہناہے کہ صدق مقال کی وجہ سے آپ کے نام نامی کاجزو”صادق“ قرارپایاہے (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۰۵) ۔ 
جعفرکے متعلق علماء کابیان ہے کہ جنت میں جعفرنامی ایک شیرین نہرہے اسی کی مناسبت سے آپ کایہ لقب رکھاگیاہے چونکہ آپ کافیض عام نہرجاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے (ارجح المطالب ص ۳۶۱ ،بحوالہ تذکرة الخواص الامة)۔ 
امام اہل سنت علامہ وحیدالزمان حیدرآبادی تحریرفرماتے ہیں،جعفر،چھوٹی نہریابڑی واسع (کشادہ ) امام جعفرصادق،مشہورامام ہیںبارہ اماموں میں سے اوربڑے ثقہ اورفقیہ اورحافظ تھے امام مالک اورامام ابوحنیفہ کے شیخ (حدیث)ہیں اورامام بخاری کونہیں معلوم کیاشبہ ہوگیاکہ وہ اپنی صحیح میں ان سے روایتیں نہیں کرتے اوریحی بن سعیدقطان نے بڑی بے ادبی کی ہے جوکہتے ہیں کہ میں ”فی منہ شئی ومجالداحب الی منہ“ میرے دل میں امام جعفرصادق کی طرف سے خلش ہے، میں ان سے بہترمجالدکوسمجھتاہوں ،حالانکہ مجالدکوامام صاحب کے سامنے کیارتبہ ہے؟ ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اہل سنت بدنام ہوتے ہین کہ ان کوآئمہ اہل بیت سے کچھ محبت اوراعتقادنہیں ہے۔ 
اللہ تعالی امام بخاری پررحم کرے کہ مروان اورعمران بن خطان اورکئی خوارج سے توانہوں نے روایت کی اورامام جعفرصادق سے جوابن رسول اللہ ہیں ان کی روایت میں شبہ کرتے ہیں (انواراللغتہ پارہ ۵ ص ۴۷ طبع حیدرآباددکن)۔ 
علامہ ابن حجرمکی اورعلامہ شبلنجی رقمطرازہیں کہ اعیان آئمہ میں سے ایک جماعت مثل یحی بن سعیدبن جریح،امام مالک ،امام سفیان ثوری بن عینیہ،امام ابوحنیفہ ،ایوب سجستانی نے آپ سے حدیث اخذکی ہے ،ابوحاتم کاقول ہے کہ امام جعفرصادق ایسے ثقہ میں لایسئل عنہ مثلہ کہ آپ ایسے شخصوں کی نسبت کچھ تحقیق اوراستفساروتفحص کی ضرورت ہی نہیں ،آپ ریاست کی طلب سے بے نیازتھے اورہمیشہ عبادت گزاری میں بسرکرتے رہے ،عمرابن مقدام کاکہناہے کہ جب میں امام جعفرصادق علیہ السلام کودیکھتاہوں تومجھے معاخیال ہوتاہے کہ یہ جوہررسالت کی اصل وبنیادہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰ ،نورالابصار، ص ۱۳۱ ،حلیة الابرارتاریخ آئمہ ص ۴۳۳) ۔ 

بادشاہان وقت
آپ کی ولادت ۸۳ ھ میں ہوئی ہے اس وقت عبدالملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھرولید،سلیمان،عمربن عبدالعزیز،یزیدبن عبدالملک ،ہشام بن عبدالملک،ولیدبن یزیدبن عبدالملک ،یزیدالناقص، ابراہیم ابن ولید،اورمروان الحمار،علی الترتیب خلیفہ مقررہوئے مروان الحمارکے بعدسلطنت بنی امیہ کاچراغ گل ہوگیا اوربن عباس نے حکومت پرقبضہ کرلیا،بنی عباس کاپہلابادشاہ ابوالعباس ،سفاح اوردوسرا منصور دوانقی ہواہے ۔ملاحظہ ہو(اعلام الوری) تاریخ ابن الوردی ،تاریخ ائمہ ص ۴۳۶) ۔ 
اسی منصورنے ابنی حکومت کے دوسال گزرنے کے بعدامام جعفرصادق علیہ السلام کوزہرسے شہیدکردیا(انوارالحسینہ جلد ۱ ص ۵۰) ۔ 

عبدالملک بن مروان کے عہدمیں آپ کاایک مناظرہ
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے بے شمارعلمی مناظرے فرمائے ہیں آپ نے دہریوں، قدریوں،کافروں اوریہودیوں ونصاری کوہمیشہ شکست فاش دی ہے کسی ایک مناظرہ میں بھی آپ پرکوئی غلبہ حاصل نہیں کرسکا،عہدعبدالملک بن مروان کاذکرہے کہ ایک قدریہ مذہب کامناظراس کے دربارمیں آکرعلماء سے مناظرہ کاخوہشمندہوا،بادشاہ نے حسب عادت اپنے علماء کوطلب کیااوران سے کہاکہ اس قدریہ مناظرسے مناظرہ کروعلماء نے اس سے کافی زورآزمائی کی مگروہ میدان مناظرہ کاکھلاڑی ان سے نہ ہارسکا، اورتمام علماء عاجزآگئے اسلام کی شکست ہوتے ہوئے دیکھ کر عبدالملک بن مروان نے فوراایک خط حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں مدینہ روانہ کیااوراس میں تاکیدکی کہ آپ ضرورتشریف لائیں حضرت امام محمدباقرکی خدمت میں جب اس کاخط پہنچاتوآپ نے اپنے فرزندحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے فرمایاکہ بیٹامیں ضعیف ہوچکاہوں تم مناظرہ کے لیے شام چلے جاؤ حضرت اما م جعفرصادق علیہ السلام اپنے پدربزرگوارکے حسب الحکم مدینہ سے روانہ ہوکرشام پہنچ گئے۔ 
عبدالملک بن مروان نے جب امام محمدباقرعلیہ السلام کے بجائے امام جعفرصادق علیہ السلام کودیکھاتوکہنے لگاکہ آپ ابھی کم سن ہیں اوروہ بڑاپرانامناظر ہے ،ہوسکتاہے کہ آپ بھی اورعلماء کی طرح شکست کھاجائیں ،اس لیے مناسب نہیں کہ مجلس مناظرہ منعقدکی جائے حضرت نے ارشادفرمایا،بادشاہ توگھبرا نہیں، اگرخدانے چاہاتومیں صرف چندمنٹ میں مناظرہ ختم کردوں گاآپ کے ارشادکی تائیددرباریوں نے بھی کی اورموقعہ مناظرہ پرفریقین آگیے۔ 
چونکہ قدریوں کااعتقادہے کہ بندہ ہی سب کچھ ہے، خداکوبندوں کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں،اورنہ خداکچھ کرسکتاہے یعنی خداکے حکم اورقضاوقدروارادہ کوبندوں کے کسی امرمیں دخل نہیں لہذا حضرت نے اس کی پہلی کرنے کی خواہش پرفرمایاکہ میں تم سے صرف ایک بات کہنی چاہتاہوں اوروہ یہ ہے کہ تم ”سورہ حمد“پڑھو،اس نے پڑھناشروع کیا جب وہ ”ایاک نعبدوایاک نستعین“ پرپہنچاجس کاترجمہ یہ ہے کہ میں صرف تیری عبادت کرتاہوں اوربس تھجی سے مدد چاہتاہوں توآپ نے فرمایا،ٹہرجاؤاورمجھے اس کاجواب دوکہ جب خداکوتمہارے اعتقاد کے مطابق تمہارے کسی معاملہ میں دخل دینے کاحق نہیں توپھرتم اس سے مدد کیوں مانگتے ہو، یہ سن کروہ خاموش ہوگیااورکوئی جواب نہ دے سکا،بالآخرمجلس مناظرہ برخواست ہوگئی اوربادشاہ نے بے حدخوش ہوا(تفسیر برہان جلد ۱ ص ۳۳) ۔ 

ابوشاکردیصانی کاجواب
ابوشاکردیصانی جولامذہب تھا حضرت سے کہنے لگاکہ کیاآپ خداکاتعارف کراسکتے ہیں اوراس کی طرف میری رہبری فرماسکتے ہیں آپ نے ایک طاؤس کا انڈا ہاتھ میں لے کرفرمایادیکھواس کی بالائی ساخت پرغورکرو،اوراندرکی بہتی ہوئی زردی اورسفیدی کابنظرغائردیکھواوراس پرتوجہ دوکہ اس میں رنگ برنگ کے طائرکیوں کرپیداہوجاتے ہیں کیاتمہاری عقل سلیم اس کوتسلیم نہیں کرتی کہ اس انڈے کااچھوتے اندازمیںبنانے والااوراس سے پیداکرنے والاکوئی ہے، یہ سن کروہ خاموش ہوگیااوردہریت سے بازآیا۔ 
اسی دیصانی کاواقعہ ہے کہ اس نے ایک دفعہ آپ کے صحابی ہشام بن حکم کے ذریعہ سے سوال کیاکہ کیایہ ممکن ہے ؟کہ خداساری دنیاکوایک انڈے میں سمودے اورنہ انڈابڑھے اورنہ دنیاگھٹے آپ نے فرمایابے شک وہ ہرچیزپرقادرہے اس نے کہاکوئی مثال؟ فرمایامثال کے لیے مردمک چشم آنکھ کی چھوٹی پتلی کافی ہے اس میں ساری دنیاسماجاتی ہے ،نہ پتلی بڑھتی ہے نہ دنیاگھٹتی ہے (اصول کافی ص ۴۳۳ ،جامع الاخبار)۔ 

امام جعفرصادق علیہ السلام اورحکیم ابن عیاش کلبی
ہشام بن عبدالملک بن مروان کے عہدحیات کاایک واقعہ ہے کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے حاضرہوکرعرض کیاکہ حکیم بن عیاش کلبی آپ لوگوں کی ہجوکرتاہے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایاکہاگرتجھ کواس کاکچھ کلام یادہوتوبیان کر اس نے دوشعرسنائے جس کاحاصل یہ ہے کہ ہم نے زیدکوشاخ درخت خرمہ پرسولی دیدی ،حالانکہ ہم نے نہیں دیکھا، کوئی مہدی دارپرچڑھایاگیاہو اورتم نے اپنی بیوقوفی سے علی کوعثمان کے ساتھ قیاس کرلیاحالانکہ علی سے عثمان بہتراورپاکیزہ تھا یہ سن کرامام جعفرصادق علیہ السلام نے دعاکی بارالہا اگریہ حکیم کلبی جھوٹاہے تواس پراپنی مخلوق میں کسی درندے کومسلط فرماچنانچہ ان کی دعاقبول ہوئی اورحکیم کلبی کوراہ میں شیرنے ہلاک کردیا(اصابہ ابن حجرعسقلانی جلد ۲ ص ۸۰) ۔ 
ملاجامی تحریرکرتے ہیں کہ جب حکیم کلبی کے ہلاک ہونے کی خبرامام جعفرصادق علیہ السلام کوپہنچی توانہوں نے سجدہ میں جاکرکہاکہاس خدائے برترکاشکرہے کہ جس نے ہم سے جووعدہ فرمایااسے پوراکیا(شواہدالنبوت ،صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،نورالابصار ص ۱۴۷) ۔ 

۱۱۳ ھ میں امام جعفرصادق کاحج
علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ آپ نے ۱۱۳ ھئمیں حج کیااوروہاں خداسے دعاکی،خدانے بلافصل انگوراوردوبہترین ردائیں بھیجیں آپ نے انگورخودبھی کھایااور لوگوں کوبھی کھلایا اورردائیں ایک سائل کودیدیں۔ 
اس وقعہ کی مختصرتفصیل یہ ہے کہ بعث بن سعدسنہ مذکورہ میں حج کے لیے گئے وہ نمازعصرپڑھ کرایک دن کوہ ابوقبیس پرگئے وہاں پہنچ کردیکھاکہ ایک نہایت مقدس شخص مشغول نمازہے، پھرنمازکے بعدوہ سجدہ میں گیااوریارب یارب کہہ کرخاموش ہوگیا،پھریاحی یاحی کہااورچپ ہوگیا،پھریارحیم یارحیم کہااورخاموش ہوگیا پھریاارحم الراحمین کہہ کرچپ ہوگیا پھربولاخدایامجھے انگورچاہئے اورمیری ردابوسیدہ ہوگئی ہے دوردائیں درکارہیں ۔ 
راوی حدیث بعث کہتاہے کہ یہ الفاظ ابھی تمام نہ ہوئے تھے کہایک تازہ انگوروں سے بھری ہوئی زنبیل آموجوہوئی دراس پردوبہترین چادریں رکھی ہوئی تھیں اس عابدنے جب انگورکھاناچاہاتومیں نے عرض کی حضورمیں امین کہہ رہاتھا مجھے بھی کھلائیے ،انہوں نے حکم دیامیں نے کھاناشروع کیا،خداکی قسم ایسے انگور ساری عمرخواب میں بھی نہ نظرآئے تھے پھرآپ نے ایک چادرمجھے دی میں نے کہامجھے ضرورت نہیں ہے اس کے بعدآپ نے ایک چادرپہن لی اورایک اوڑھ لی پھرپہاڑسے اترکرمقام سعی کی طرف گئے میں ان کے ہمراہ تھاراستے میں ایک سائل نے کہا،مولامجھے چادردیجئے خداآپ کوجنت لباس سے آراستہ کرے گاآپ نے فورادونوں چادریں اس کے حوالے کردیں میں نے اس سائل سے پوچھایہ کون ہیں؟ اس نے کہاامام زمانہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام یہ سن کرمیں ان کے پیچھے دوڑاکہ ان سے مل کرکچھ استفادہ کروں لیکن پھروہ مجھے نہ مل سکے (صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،کشف الغمہ ص ۶۶ ، مطالب السؤل ص ۲۷۷) ۔ 

امام ابوحنیفہ کی شاگردی کامسئلہ
یہ تاریخی مسلمات سے ہے کہ جناب امام ابوحنیفہ حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اورحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے شاگردتھے لیکن علامہ تقی الدین ابن تیمیہ نے ہمعصر ہونے کی وجہ سے اس میں منکرانہ شبہ ظاہرکیاہے ان کے شبہ کوشمس العلماء علامہ شبلی نعمانی نے ردکرتے ہوئے تحریرفرمایاہے ”ابوحنیفہ ایک مدت تک استفادہ کی غرض سے امام محمدباقر کی خدمت میں حاضررہے اورفقہ وحدیث کے متعلق بہت بڑاذخیرہ حضرت ممدوح کافیض صحبت تھا امام صاحب نے ان کے فرزندرشیدحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی فیض صحبت سے بھی بہت کچھ فائدہ اٹھایا،جس کاذکرعموما تاریخوں میں پایاجاتاہے ابن تیمیہ نے اس سے انکارکیاہے اوراس کی وجہ یہ خیال کی ہے کہ امام ابوحنیفہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے معاصراورہمعصرتھے اس لیے ان کی شاگردی کیونکر اختیارکرتے لیکن یہ ابن تیمیہ کی گستاخی اورخیرہ چشمی ہے امام ابوحنیفہ لاکھ مجتہد اورفقیہہ ہوں لیکن فضل وکمال میں ان کوحضرت جعفرصادق سے کیانسبت ، حدیث وفقہ بلکہ تمام مذہبی علوم اہل بیت کے گھرسے نکلے ہیں ”وصاحب البیت ادری بمافیہا“ گھروالے ہی گھرکی تمام چیزوں سے واقف ہوتے ہیں (سیرة النعمان ص ۴۵ ، طبع آگرہ)۔ 

امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعض نصائح وارشادات
علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں : 
۱ ۔ سعید وہ ہے جوتنہائی میں اپنے کولوگوں سے بے نیازاورخداکی طرف جھکاہواپائے ۔ 
۲ ۔ جوشخص کسی برادرمومن کادل خوش کرتاہے خداوندعالم اس کے لیے ایک فرشتہ پیداکرتاہے جواس کی طرف سے عبادت کرتاہے اورقبرمیں مونس تنہائی ،قیامت میں ثابت قدمی کاباعث، منزل شفاعت میں شفیع اورجنت میں پہنچانے مین رہبرہوگا۔ 
۳ ۔ نیکی کاتکملہ یعنی کمال یہ ہے کہ اس میں جلدی کرو،اوراسے کم سمجھو،اورچھپاکے کرو۔ 
۴ ۔ عمل خیرنیک نیتی سے کرنے کوسعادت کہتے ہیں۔ 
۵ ۔ توبہ میں تاخیرنفس کادھوکہ ہے۔ ۶ ۔ چارچیزیں ایسی ہیں جن کی قلت کوکثرت سمجھناچاہئے ۱ ۔آگ، ۲ ۔ دشمنی ، ۳ ۔ فقیر، ۴ ۔مرض 
۷ ۔ کسی کے ساتھ بیس دن رہناعزیزداری کے مترادف ہے ۔ ۸ ۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لیے لوگوں پراحسان کرو۔ 
۹ ۔ جب اپنے کسی بھائی کے وہاں جاؤتوصدرمجلس میں بیٹھنے کے علاوہ اس کی ہرنیک خواہش کومان لو۔ 
۱۰ ۔ لڑکی (رحمت) نیکی ہے اورلڑکانعمت ہے خداہر نیکی پرثواب دیتاہے اورہرنعمت پرسوال کرے گا۔ 
۱۱ ۔ جوتمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تم بھی اس کی عزت کرو،اورجوذلیل سمجھے اس سے خودداری رتو۔ ۱۲ ۔ بخشش سے روکناخداسے بدظنی ہے۔ 
۱۳ ۔ دنیامیں لوگ باپ داداکے ذریعہ سے متعارف ہوتے ہیں اورآخرت میں اعمال کے ذریعہ سے پہچانے جائیں گے۔ 
۱۴ ۔ انسان کے بال بچے اس کے اسیراورقیدی ہیں نعمت کی وسعت پرانہیں وسعت دینی چاہئے ورنہ زوال نعمت کااندیشہ ہے۔ 
۱۵ ۔ جن چیزوں سے عزت بڑھتی ہے ان میں تین یہ ہیں: ظالم سے بدلہ نہ لے، اس پرکرم گستری جومخالف ہو،جواس کاہمدردنہ ہواس کے ساتھ ہمدردی کرے۔ ۱۶ ۔ مومن وہ ہے جوغصہ میں جادہ حق سے نہ ہٹے اورخوشی سے باطل کی پیروی نہ کرے ۔ ۱۷ ۔جوخداکی دی ہوئی نعمت پرقناعت کرے گا،مستغنی رہے گا۔ ۱۸ ۔ جودوسروں کی دولت مندی پرللچائی نظریں ڈالے گا وہ ہمیشہ فقیررہے گا۔ ۱۹ ۔ جوراضی برضائے خدانہیں وہ خدا پراتہام تقدیرلگارہاہے۔ 
۲۰ ۔ جواپنی لغزش کونظراندازکرے گاوہ دوسروں کی لغزش کوبھی نظرمیں نہ لائے گا ۔ ۲۱ ۔ جوکسی پرناحق تلوارکھینچے گاتونتیجہ میں خودمقتول ہوگا ۲۲ ۔ جوکسی کوبے پردہ کرنے کی سعی کرے گاخودبرہنہ ہوگا ۲۳ ۔ جوکسی کے لیے کنواں کھودے گا خود اس میں گرجائے گا”چاہ کن راچاہ درپیش“ 
۲۴ ۔ جوشخص بے وقوفوں سے راہ ورسم رکھے گا،ذلیل ہوگا،جوعلماء کی صحبت حاصل کرے گا عزت پائے گا،جوبری جگہ دیکھے گا،بدنام ہوگا۔ 
۲۵ ۔ حق گوئی کرنی چاہئے خواہ وہ اپنے لیے مفیدہویامضر،۔ ۲۶ ۔ چغل خوری سے بچوکیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں دشمنی اورعدوات کابیج بوتی ہے۔ 
۲۷ ۔اچھوں سے ملو،بروں کے قریب نہ جاو،کیونکہ وہ ایسے پتھرہیں جن میں جونک نہیں لگتی ،یعنی ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا(نورالابصارص ۱۳۴) ۔ 
۲۸ ۔ جب کوئی نعمت ملے توبہت زیادہ شکرکروتاکہ اضافہ ہو۔ ۲۹ ۔ جب روزی تنگ ہوتواستغفارزیادہ کیاکروکہ ابواب رزق کھل جائیں۔ 
۳۰ ۔ جب حکومت یاغیرحکومت کی طرف سے کوئی رنج پہنچے تولاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم زیادہ کہوتاکہ رنج دورہو،غم کافورہو،اورخوشی کاوفورہو (مطالب السول ص ۲۷۴،۲۵۷) ۔ 

آپ کے اخلاق اورعادات واوصاف
علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے ایک غلام کوکسی کام سے بازاربھیجاجب اس کی واپسی میں بہت دیرہوئی توآپ اس کوتلاش کرنے کے لیے نکل پڑے،دیکھاایک جگہ لیٹاہواسورہاہے آپ اسے جگانے کے بجائے اس کے سرہانے بیٹھ گئے اورپنکھاجھلنے لگے جب وہ بیدار ہواتوآپ نے فرمایایہ طریقہ اچھانہیں ہے رات سونے کے لیے اوردن کام کاج کرنے کے لیے ہے آئندہ ایسانہ کرنا(مناقب جلد ۵ ص ۵۲) ۔ 
علامہ معاصر مولاناعلی نقی مجتہدالعصررقمطرازہیں،آپ اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جسے خداوندعالم نے نوع انسانی کے لیے نمونہ کامل بناکرپیداکیا ان کے اخلاق واوصاف زندگی کے ہرشعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے خاص خاص اوصاف جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طورپرواقعات نقل کیے ہیں مہمان نوازی، خیروخیرات، مخفی طریقہ پرغرباکی خبرگیری ،عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک عفوجرائم، صبروتحمل وغیرہ ہیں۔ 
ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں واردہوااورمسجدرسول میں سوگیا،آنکھ کھلی تواسے شبہ ہواکہ اس کی ایک ہزارکی تھیلی موجودنہیں ہے اس نے ادھرادھردیکھا، کسی کونہ پایاایک گوشہ مسجدمیں امام جعفرصادق علیہ السلام نمازپڑھ رہے تھے وہ آپ کوبالکل نہ پہنچانتاتھا آپ کے پاس آکرکہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے حضرت نے پوچھااس میں کیاتھا اس نے کہا ایک ہزاردینار،حضرت نے فرمایا،میرے ساتھ میرے مکان تک آؤ، وہ آپ کے ساتھ ہوگیابیت الشرف میں تشریف لاکر ایک ہزاردیناراس کے حوالے کردئیے ،وہ مسجدمیں واپس آگیااوراپنااسباب اٹھانے لگا،توخود اس کی دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظرآئی ،یہ دیکھ کربہت شرمندہ ہوااوردوڑتا ہواامام کی خدمت میں آیااورعذرخواہی کرتے ہوئے وہ ہزاردیناواپس کرناچاہا، حضرت نے فرمایا ہم جوکچھ دیدیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔ 
موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ معلوم ہوتاہے کہ اناج مشکل سے ملے گاتوجس کوجتناممکن ہووہ اناج خریدکررکھ لیتاہے مگرامام جعفرصادق علیہ السلام کے کردارکاایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے آپ کے وکیل معقب نے کہاکہ ہمیں اس گرانی اورقحط کی تکلیف کاکوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کااتناذخیرہ ہے جوبہت عرصہ تک کے لے کافی ہوگا حضرت نے فرمایایہ تمام غلہ فروخت کرڈالواس کے بعدجوحال سب کاہوگا،وہی ہمارابھی ہوگاجب غلہ فروخت کردیاگیاتوفرمایااب خالص گہیوں کی روٹی نہ پکاکرے، بلکہ آدھے گہیوں اورآدھے جوکی پکائی جائے، جہاں تک ممکن ہوہمیں غریبوں کاساتھ دیناچاہئیے۔ 
آپ کاقاعدہ تھاکہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرتے تھے مزدوروں کی بڑی قدرفرماتے تھے خودبھی تجارت فرماتے تھے اوراکثراپنے باغوں میںبہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کررہے تھے اورپسینہ سے تمام جسم ترہوگیاتھا، کسی نے کہا،یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں حضرت نے فرمایا،طلب معاش میں دھوپ اورگرمی کی تکلیف سہناعیب کی بات نہیں، غلاموں اورکنیزوں پروہی مہربانی رہتی تھی جواس گھرانے کی امتیازی صفت تھی ۔ 
اس کاایک حیرت انگیزنمونہ یہ ہے کہ جسے سفیان ثوری نے بیان کیاہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوادیکھاکہ چہرہ مبارک کارنگ متغیرہے، میں نے سبب دریافت کیا،توفرمایامیں نے منع کیاتھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پرنہ چڑھے ،اس وقت جومیں گھرآیاتودیکھاکہ ایک کنیزجوایک بچہ کی پرورش پرمتعین تھی اسے گودمیں لیے ہوئے زینہ سے اوپرجارہی تھی مجھے دیکھاتوایساخوف طاری ہواکہ بدحواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا،اوراس صدمہ سے جاں بحق تسلیم ہوگیامجھے بچہ کے مرنے کااتناصدمہ نہیں جتنااس کارنج ہے کہ اس کنیزپراتنارعب وہراس کیوں طاری ہوا،پھر حضرت نے اس کنیزکوپکارکرفرمایا،ڈرونہیں میں نے تم کوراہ خدامیں آزادکردیا، اس کے بعدحضرت بچہ کی تجہیزوتکفین کی طرف متوجہ ہوئے (صادق آل محمد ص ۱۲ ،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۴) ۔ 
کتاب مجانی الادب جلد ۱ ص ۶۷ میں ہے کہ حضرت کے یہاں کچھ مہمان آئے تھے حضرت نے کھانے کے موقع پراپنی کنیزکوکھانالانے کاحکم دیا،وہ سالن کابڑاپیالہ لے کرجب دسترخوان کے قریب پہنچی تواتفاقاپیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرگرگیا، اس کے گرنے سے امام علیہ السلام اوردیگرمہمانوں کے کپڑے خواب ہوگئے،کنیز کانپنے لگی اورآپ نے غصہ کے بجائے اسے راہ خدامیں یہ کہہ کرآزادکردیاکہ توجو میرے خوف سے کانپتی ہے شایدیہی آزادکرنا کفارہ ہوجائے ۔ 
پھراسی کتاب کےص ۶۹ میں ہے کہ ایک غلام آپ کاہاتھ دھلارہاتھا کہ دفعتہ لوٹاچھوٹ کرطشت میں گرااورپانی اڑکرحضرت کے منہ پرپڑا،غلام گھبرااٹھاحضرت نے فرمایاڈرنہیں،جامیں نے تجھے راہ خدامیں آزادکردیا۔ 
کتاب تحفہ الزائرعلامہ مجلسی میں ہے کہ آپ کے عادات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے جاناداخل تھا،آپ عہدسفاح اورزمانہ منصورمیںبھی زیارت کے لیے تشریف لے گئے تھے کربلاکی آبادی سے تقریباچارسوقدم شمال کی جانب،نہرعلقمہ کے کنارے باغوں میں”شریعہ صادق آل محمداسی زمانہ سے بناہواہے (تصویرعزا ص ۶۰ طبع دہلی ۱۹۱۹ ءء)۔ 

کتاب اہلیلچیہ
علامہ مجلسی نے کتاب بحارالانوارکی جلد ۲ میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی کتاب اہلیلچیہ کومکمل طورپرنقل فرمایاہے اس کتاب کے تصنیف کرنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ ایک ہندوستانی فلسفی حضرت کی خدمت میں حاضرہوااوراس نے الہیات اورمابعد الطبیعات پرحضرت سے تبادلہ خیال کرناچاہا حضرت نے اس سے نہایت مکمل گفتگوکی اورعلم کلام کے اصول پردہریت اورمادیت کوفناکرچھوڑا،اس آخرمیں کہناپڑاکہ آپ نے اپنے دعوی کواس طرح ثابت فرمادیاہے کہ ارباب عقل کومانے بغیرچارہ نہیں،تواریخ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے ہندی فلسفی سے جوگفتگوکی تھی اسے کتاب کی شکل میں مدون کرکے باب اہلبیت کے مشہورمتکلم جناب مفضل بن عمرالجعفی کے پاس بھیج دیاتھا اوریہ لکھاتھاکہ: 
اے مفضل میں نے تمہارے لیے ایک کتاب لکھی ہے جس میں منکرین خداکی ردکی ہے ،اوراس کے لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ میرے پاس ہندوستان سے ایک طبیب (فلسفی) آیاتھا اوراس نے مجھ سے مباحثہ کیاتھا،میں نے جوجواب اسے دیاتھا،اسی کوقلم بندکرکے تمہارے پاس بھیج رہاہوں۔ 

حضرت صادق آل محمدکے فلک وقارشاگرد
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے شاگردوں کاشمارمشکل ہے بہت ممکن ہے کہ آئندہ سلسلہ تحریرمیں اپ کے بعض شاگردوں کاذکرآتاجائے ، عام مورخین نے بعض ناموں کوخصوصی طورپرپیش کرکے آپ کی شاگردی کی سلک میں پروکرانہیں معززبتایاہے ۔ 
مطالب السؤل،صواعق محرقہ،نورالابصار وغیرہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ، یحی بن سعیدانصاری،ابن جریح، امام مالک ابن انس ،امام سفیان ثوری،سفیان بن عینیہ،ایوب سجستانی وغیرہ کاآپ کے شاگردوں میں خاص طورپرذکرہے(تاریخ ابن خلکان جلد ۱ ص ۱۳۰ ،خیرالدین زرکلی کی الاعلام ص ۱۸۳ ،طبع مصر محمدفرید وجدی کی ادارہ معارف القرآن کی جلد ۳ ص ۱۰۹/ طبع مصرمیں ہے وکان تلمیذہ ابوموسی جابربن حیان الصوفی الطرسوسی آپ کے شاگردوں میں جابربن حیان صوفی طرسوسی بھی ہیں۔ 
آپ کے بعض شاگردوں کی جلالت قدراوران کی تصانیف اورعلمی خدمات پرروشنی ڈالنی توبے انتہادشوارہے اس لیے اس مقام پرصرف جابربن حیان طرسوسی جوکہ انتہائی باکمال ہونے کے باوجودشاگردامام کی حیثیت سے عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہیں کاذکرکیاجاتاہے۔ 

امام الکیمیاجناب جابرابن حیان طرسوسی ۔
آپ کاپورانام ابوموسی جابربن حیان بن عبدالصمد الصوفی الطرسوسی الکوفی ہے آپ ۷۴۲ ءء میں پیداہوئے اور ۸۰۳ ءء میں انتقال فرماگئے بعض محققین نے آپ کی وفات ۸۱۳ ءء بتائی ہے لیکن ابن ندیم نے ۷۷۷ ءء لکھاہے انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے کہ استاداعظم جابربن حیان بن عبداللہ ،عبدالصمد کوفہ میں پیداہوئے وہ طوسی النسل تھے اورآزادنامی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے خیالات میں صوف تھا اوریمن کارہنے والاتھا،اوئل عمرمیں علم طبیعیات کی تعلیم اچھی طرح حاصل کرلی اورامام جعفرصادق ابن امام محمدباقرکی فیض صحبت سے امام الفن ہوگیا۔ 
تاریخ کے دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفرصادق علیہ السلام کی عظمت کااعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ ساری کائنات میں کوئی ایسا نہیں جوامام کی طرح سارے علوم پربول سکے الخ۔ 
تاریخ آئمہ میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی تصنیفات کاذکرکرتے ہوئے لکھاہے کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے ایک کتاب کیمیاجفررمل پرلکھی تھی حضرت کے شاگردومشہورومعروف کیمیاگرجابربن حیان جویورپ میں جبرکے نام سے مشہورہیں جابرصوفی کالقب دیاگیاتھا اورذوالنون مصری کی طرح وہ بھی علم باطن سے ذوق رکھتے تھے، ان جابرابن حیان نے ہزاروں ورق کی ایک کتاب تالیف کی تھی جس میں حضرت امام جعفرصادق کے پانچ سو رسالوں کوجمع کیاتھا،علامہ ابن خلکان کتاب وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۳۰ طبع مصر میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : 
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے مقالات علم کیمیااورعلم جفروفال میں موجودہیں اورجابربن حیان طرسوسی آپ کے شاگردتھے، جنہوں نے ایک ہزار ورق کی کتاب تالیف کی تھی، جس میں امام جعفرصادق علیہ السلام کے پانچ سورسالوں کوجمع کیاتھا ،علامہ خیرالدین زرکلی نے بھی الاعلام جلد ۱ ص ۱۸۲ طبع مصرمیں یہی کچھ لکھاہے ،اس کے بعدتحریرکیاہے کہ ان کی بے شمارتصانیف ہیں جن کاذکرابن ندیم نے اپنی فہرست میں کیاہے علامہ محمدفریدوجدی نے دائرئہ معارف القرآن الرابع عشر کی ج ۳ ص ۹۰۱ طبع مصرمیں بھی لکھاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفرصادق کے پانچ سو رسائل کوجمع کرکے ایک کتاب ہزارصفحے کی تالیف کی تھی ،علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ ابن خلدون مطبوعہ مصرص ۳۸۵ میں علم کیمیامیں علم کیمیاکاذکرکرتے ہوئے جابربن حیان کاذکرکیاہے اورفاضل ہنسوی نے اپنی ضخیم کتاب اورکتاب خانہ غیرمطبوعہ میں بحوالہ مقدمہ ابن خلدون ص ۵۷۹ طبع مصرمیں لکھاہے کہ جابربن حیان علم کیمیاکے مدون کرنے والوں کاامام ہے، بلکہ اس علم کے ماہرین نے اس کو جابرسے اتنامخصوص کردیاہے کہ ا س علم کانام ہی ”علم جابر“ رکھ دیاہے (الجوادشمارہ ۱۱ جلد ۱ ص ۹) ۔ 
مورخ ابن القطفی لکھتے ہیں کہ جابربن حیان کوعلم طبیعات اورکیمیامیں تقدم حاصل ہے ان علوم میں اس نے شہرئہ افاق کتابیں تالیف کی ہیں ان کے علاوہ علوم فلسلہ وغیرہ میں شرف کمال پرفائزتھے اوریہ تمام کمالات سے بھرپورہونا علم باطن کی پیروی کانتیجہ تھا ملاحظہ ہو (طبقات الامم ص ۹۵ واخبارالحکماص ۱۱۱ طبع مصر)۔ 
پیام اسلام جلد ۷ ص ۱۵ میں ہے کہ یہ وہی خوش قسمت مسلمان ہے جسے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شاگردی کاشرف حاصل تھا،اس کے متعلق جنوری ۲۵ ء میں سائنس پروگریس نوشتہ جے ہولم یارڈایم ائے ایف آئی سی آفیسر اعلی شعبئہ سائنس کفٹن کالج برسٹل نے لکھاہے کہ علم کیمیا کے متعلق زمانہ وسطی کی اکثرتصانیف ملتی ہیں جن میں گیبرکاذکرآتاہے اورعام طورپرگیبرابن حین اوربعض دفعہ گیبرکی بجائے جیبربھی دیکھاگیاہے اورگیبریاجیبردراصل جابرہے، چنانچہ جہاں کہیں بھی لاطینی کتب میں گیبرکاذکرآتاہے وہاں مرادعربی ماہرکیمیاجابربن حیان ہی ہے جسے() کے بجائے() کاآناجانا آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے لاطینی میں جے کے مترادف کوئی آوازاوربعض علاقوں مثلا مصر وغیرہ میں جے کواب بھی بطور(جی) یعنی (گ) استعمال کیاجاتا ہے اس کے علاوہ خلیفہ ہارون رشیدکے زمانے میں سائنس کیمسٹری وغیرہ کاچرچہ بہت ہوچکاہے اوراس علم کے جاننے والے دنیاکے گوشہ گوشہ سے کھینچ کر دربارخلافت سے منسلک ہورہے تھے جابربن حیان کازمانہ بھی کم وبیش اس ہی دورمیں پھیلاتھا پچھلے بیس پچیس سال میں انگلستان اورجرمنی میں جابرکے متعلق بہت سی تحقیقات ہوئی ہیں لاطینی زبان میں علم کیمیاکے متعلق چندکتب سینکڑوں سال سے اس مفکرکے نام سے منسوب ہیں جس میں مخصوص ۱ ۔ سما ۲ ۔ برفیکشن ۳ ۔ ڈی انویسٹی پرفیکشن ۴ ۔ڈی انویسٹی گیشن ورٹیلس ۵ ۔ ٹٹیابہن لیکن ان کتابوں کے متعلق اب تک ایک طولانی بحث ہے اوراس وقت مفکرین یورپ انہیں اپنے یہاں کی پیداواربتاتے ہیں اس لیے انہیں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جابرکوحرف (جی)(گ) سے پکاریں اوربجائے عربی النسل کے اسے یورپین ثابت کریں۔ 
حالانکہ سماکے کئی طبع شدہ ایڈیشنوں میں گیبرکوعربی ہی کہاگیاہے رسل کے انگریزی ترجمہ میں اسے ایک مشہورعربی شہزادہ اورمنطقی کہاگیاہے ۱۵۴۱ ء میں کی نورن برگ کے ایڈیشن میں وہ صرف عرب ہے اسی طرح اوربہت سے قلمی نسخے ایسے مل جاتے ہیں جن میں کہیں اسے ایرانیوں کے بادشاہ سے یادکیاگیاہے کسی جگہ اسے شاہ بندکہاگیاہے ان اختلافات سے سمجھ میں آتاہے کہ جابربراعظم ایشیاسے نہ تھا بلکہ اسلامی عرب کاایک درخشندہ ستارہ تھا۔ 
انسائکلوپیڈیاآف اسلامک کیمسٹری کے مطابق جعفربرمکی کے ذریعہ سے جابربن حیان کاخلیفہ ہارون الرشیدکے دربارمیں آناجاناشروع ہوگیاچنانچہ انہوں نے خلیفہ کے نام سے علم کیمیامیں ایک کتاب لکھی جس کانام ”شگوفہ“ رکھااس کتاب میں اس نے علم کیمیاکے جلی وخفی پہلوؤں کے متعلق نہایت مختصرطریقے نہایت ستھراطریق عمل اورعجیب وغریب تجربات بیان کئے جابرکی وجہ ہی سے قسطنطنیہ سے دوسری دفعہ یونانی کتب بڑی تعدادمیں لائی گئیں ۔ 
منطق میں علامہ دہرمشہورہوگیا اورنوے سال سے کچھ زائدعمرمیں اس نے تین ہزارکتابیں لکھیں اوران کتابوں میں سے وہ بعض پرنازکرتاتھا اپنی کسی تصنیف کے بارے میں اس نے لکھا ہے کہ ”روئے زمین پرہماری اس کتاب کے مثل ایک کتاب بھی نہیں ہے نہ آج تک ایسی کتاب لکھی گئی ہے اورنہ قیامت تک لکھی جائے گی (سرفراز ۲/ دسمبر ۱۹۵۲ ء)۔ 
فاضل ہنسوی اپنی کتاب”وکتاب خانہ“ میں لکھتے ہیں کہ جابرکے انتقال کے بعد دوبرس بعدعزالدودولہ ابن معزالدولہ کے عہدمیں کوفہ کے شارع باب الشام کے قریب جابرکی تجربہ گاہ کاانکشاف ہواچکاتھا جس کوکھودنے کے بعدبعض کیمیاوی چیزیں اورآلات بھی دستیاب ہوئے ہیں(فہرست ابن الندیم ۴۹۹) ۔ 
جابرکے بعض قدیمی مخطوطات برٹش میوزیم میں اب تک موجودہیں جن میں سے کتاب الخواص قابل ذکرہے اسی طرح قرون وسطی میں بعض کتابوں کاترجمہ لاطینی میں کیاگیامنجملہ ”ان تراجم کے کتاب“ سبعین بھی ہے جوناقص وناتمام ہے اسی طرح ”البحث عن الکمال“ کاترجمہ بھی لاطینی میں کیاجاچکاہے یہ کتاب لاطینی زبان میں کیمیاپریورپ کی زبان میں سب سے پہلی کتاب ہے اسی طرح اوردوسری کتابیں بھی مترجم ہوئیں جابرنے کیمیاکے علاوہ طبیعیات،ہیئت،علم رویا،منطق،طب اوردوسرے علوم پربھی کتابیں لکھیں اس کی ایک کتاب سمیات پربھی ہے ۔ 
یوسف الیاس سرکس صاحب معجم المطبوعات بتلاتے ہیں کہ جابربن حیان کی ایک نفیس کتاب سمیات بربھی ہے جوکتب خانہ تیموریہ قاہرہ مصرمیں بہ ضمن مخطوطات ہے ان میں چندایسے مقالات کوجوبہت مفیدتھے بعدکرئہ حروف نے رسالہ مقتطف جلد ۵۸،۵۹ میں شائع کیاہے ملاحظہ ہو(معجم ا لمطبوعات العربیہ المعربہ جلد ۳ حرف جیم ص ۶۶۵) ۔ 
جابربحیثیت ایک طبیب کے کام کرتاتھا لیکن اس کی طبی تصانیف ہم تک نہ پہنچ سکیں ،حالانکہ اس مقالہ کا لکھنے والایعنی ڈاکٹر ماکس می یرہاف نے جابرکی کتاب کوجوسموم پرہے حال ہی میں معلوم کرلیاہے۔ 
جابرکی ایک کتاب جس کومع متن عربی اورترجمہ فرانسیسی پول کراؤ متشرق نے ۱۹۳۵ ء میں شائع کیاہے ایسی بھی ہے جس میں اس نے تاریخ انتشارآراوعقائد وافکارہندی ،یونانی اوران تغیرات کاذکرکیاہے جومسلمانوں نے کئے ہیں اس کتاب کانام ”اخراج مافی القوة الی الفعل “ ہے (الجوادج ۹،۱۰ ص ۱۰ طبع بنارس)۔ 

صادق آل محمدکے علمی فیوض وبرکات
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام جنہیں راسخین فی العلم میں ہونے کاشرف حاصل ہے اورجوعلم اولین وآخرین سے آگاہ اوردنیاکی تمام زبانوں سے واقف ہیں جیساکہ مورخین نے لکھاہے میں ان کے تمام علمی فیوض وبرکات پرتھوڑے اوراق میں کیاروشنی ڈال سکتاہوں میں نے آپ کے حالات کی چھان بین کی ہے اوریقین رکھتاہوں کہ اگرمجھے فرصت ملے،توتقریبا چھ ماہ میں آپ کے علوم اورفضائل وکمالات کاکافی ذخیرہ جمع کیاجاسکتاہے آپ کے متعلق امام مالک بن انس لکھتے ہیں میری آنکھوں نے علم وفضل وروع وتقوی میں امام جعفرصادق سے بہتردیکھاہی نہیں جیساکہ اوپرگذراوہ بہت بڑے لوگوں میں سے تھے اوربہت بڑے زاہدتھے خداسے بے پناہ ڈرتے تھے ،بے انتہاحدیث بیان کرتے تھے ،بڑی پاک مجلس والے اورکثیرالفوائد تھے، آپ سے مل کر بے انتہاء فائدہ اٹھایاجاتاتھا(مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۲ طبع بمبئی)۔ 

علمی فیوض رسانی کا موقع
یوں توہمارے تمام آئمہ اہلبیت علمی فیوض وبرکات سے بھرپورتھے اورعلم اولین وآخرین کے مالک،لیکن دنیاوالوں نے ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہیں قیدوبندمیں رکھ کرعلوم وفنون کے خزانے پرہتھکڑیوں اوربیڑیوں کے ناگ بٹھادئیے تھے اس لےے ان حضرات کے علمی کمالات کماحقہ، منظرعام پرنہ آسکے ورنہ آج دنیاکسی علم میں خاندان رسالت مآب کے علاوہ کسی کی محتاج نہ ہوتی فاضل معاصرمولاناسبط الحسن صاحب ہنسوی لکھتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام المتوفی ۱۴۸ ھ کاعہدمعارف پروری کے لحاظ سے ایک زرین عہدتھا،وہ رکاوٹیں جوآپ سے قبل آئمہ اہل بیت کے لیے پیش آیاکرتی تھیں ان میں کسی حدتک کمی تھی ،اموی حکومت کی تباہی اورعباسی سلطنت کااستحکام آپ کے لیے سکون وامن کاسبب بنااس لیے حضرت کومذہب اہلیبت کی اشاعت اورعلوم وفنون کی ترویج کاایک بہترین موقع ملالوگوں کوبھی ان عالمان ربانی کی طرف رجوع کرنے میں اب کوئی خاص زحمت نہ تھی جس کی وجہ سے آپ کی خدمت میں علاوہ حجازکے دوردرازمقامات مثل عراق ،شام،خراسان، کابل سندھ ہند اوربلادروم ،فرنگ کے طلباء وشائقین علم حاضرہوکر مستفیدہوتے تھے حضرت کے حلقہ درس میں چارہزاراصحاب تھے علامہ شیخ مفیدعلیہ الرحمہ کتاب الارشادمیں فرماتے ہیں : 
ترجمہ : لوگوں نے آپ کے علوم کونقل کیاجنہیں تیزسوارمنازل بعیدہ کی طرف لے گئے اورآوازہ آپ کے کمال کاتمام شہروں میں پھیل گیااورعلماء نے اہل بیت میں کسی سے بھی اتنے علوم وفنون کونہیں نقل کیاہے جوآپ سے روایت کرتے ہیں اورجن کی تعدادچارہزاہے غیرعرب طالبان علم سے ایک رومی النسل بزرگ زرارہ بن اعین متوفی ۱۵۰ ھ قابل ذکرہیں جن کے داداسنسن بلادردم کے ایک مقدس راہب ( Nonk ) تھے زرارہ اپنی خدمات علمیہ کے اعتبارسے اسلامی دنیامیں کافی شہرت رکھتے تھے اورصاحب تصانیف تھے (کتاب الاستطاعت والجبران کی مشہورتصنیف ہے (منہج المقال ص ۱۴۲ ،مولفواالشیعة فی صدر اسلام ص ۵۱) ۔ 

کتب اصول اربعمایة
حضرت کے اصحاب میں چارسوایےس مصنفین تھے جنہوں نے علاوہ دیگرعلوم وفنون کے کلام مصوم کوضبط کرکے چارسوکتب اصول مدون کیں اصل سے مرادمجموعہ احادیث اہلبیت کی وہ کتابیں ہیں جن میں جامع نے خودبراہ راست معصوم سے روایت کرکے احادیث کوضبط تحریرکیاہے یاایسے راوی سے سناہے جوخودمعصوم سے روایت کرتاہے اس قسم کی کتاب میں جامع کی دوسری کتاب یارویت سے معنعنا (عن فلاں عن فلاں) کے ساتھ نہیں نقل کرتا جس کی سند میں اوروسائط کی ضرورت ہواس لیے کتب اصول میں خطاوغلط سہوونسیان کااحتمال بہ نسبت اوردوسری کتابوں کے بہت کم ہے کتب اصول کے زمانہ تالیف کاانحصارعہد امیرالمومنین سے لے کرامام حسن عسکری کے زمانہ تک ہے حس میں اصحاب معصومین نے بالمشاذمعصوم سے روایت کرکے احادیث کوجمع کیاہے یاکسی ایسے ثقہ راوی سے حدیث معصوم کواخذکیاہے جوبراہ راست معصوم سے روایت کرتا ہے شیخ ابوالقاسم جعفربن سعیدالمعروف بالمحقق الحلی اپنی کتاب المعبر میں فرماتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام کے جوابات مسائل کوچارسومصنفین اصحاب امام نے تحریرکرکے چارسوتصانیف مکمل کی ہیں۔ 

صادق آل محمدکے اصحاب کی تعداداوران کی تصانیف
آگے چل کر فاضل معاصرالجوادمیں بحوالہ کتاب وکتب خانہ لکھتے ہیں کتب رجال میں جن اصحاب آئمہ کے حالات وتراجم مذکورہیں ،ان کی مجموعی تعدادچار ہزارپانچ سواصحاب ہیں جن میں سے صرف چارہزاراصحاب حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے ہیں سب کاتذکرہ ابوالعباس احمدبن محمدبن سعیدبن عقدہ نے اپنی کتاب رجال میں کیاہے اورشیخ الطائفہ ابوجعفرالطوسی نے بھی ان سب کااحصاء اپن ی کتاب رجال میں کیاہے ۔ 
معصومین علیہم السلام کے تمام اصحاب میں سے مصنفین کی جملہ تعداد ایک ہزارتین سوسے زائدنہیں ہے جنہوں نے سینکڑوں کی تعدادمیں کتب اصول اورہزاروں کی تعدادمیں دوسری کتابیں تالیف اورتصنیف کی ہیں جن میں سے بعض مصنفین اصحاب آئمہ توایسے تھے جنہوں نے تنہا سینکڑوں کتابیں لکھیں ۔ 
فضل بن شاذان نے ایک سواسی کتابیں تالیف کی ہیں،ابن دول نے سوکتابیں لکھیں ہیں اسی طرح برقی نے بھی تقریبا سوکتابیں لکھیں ،ابن عمیرنے نوے کتابیں لکھیں اوراکثراصحاب آئمہ ایسے تھے جنہوں نے تیس یاچالیس سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں غرضیکہ ایک ہزارتین سومصنفین اصحاب آئمہ نے تقریبا پانچ ہزارتصانیف کیں،مجمع البحرین میں لفظ جبرکے ماتحت ہے کہ صرف ایک جابرالجعفی،امام جعفرصادق علیہ السلام کے سترہزاراحادیث کے حافظ تھے۔ 
تاریخ اسلام جلد ۵ ص ۳ میں ہے کہ ابان بن تغلب بن رباح (ابوسعید) کوفی صرف امام جعفرصادق علیہ السلام کی تیس ہزاراحادیث کے حافظ تھے ان کی تصانیف میں تفسیرغریب القرآن کتاب المفرد، کتاب الفضائل، کتاب الصفین قابل ذکرہیں، یہ قاری فقیہ لغوی محدث تھے، انہیں حضرت امام زین العابدین اورحضرت امام محمدباقر،حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے صحابی ہونے کاشرف حاصل تھا ۱۴۱ ھ میں انتقال کیا۔ 

حضرت صادق آل محمداورعلم طب
علامہ ابن بابویہ انفمی کتاب الخصائل جلد ۲ باب ۱۹ ص ۹۷،۹۹ طبع ایران میں تحریرفرماتے ہیں کہ ہندوستان کاایک مشہورطبیب منصوردوانقی کے دربارمیں طلب کیاگیا،بادشاہ نے حضرت سے اس کی ملاقات کرائی، امام جعفرصادق علیہ السلام نے علم تشریح الاجسام اورافعال الاعضاء کے متعلق اس سے انیس سوالات کئے وہ اگرچہ اپنے فن میں پوراکمال رکھتاتھا لیکن جواب نہ دے سکابالاخرکلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیا،علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اس طبیب سے حضرت نے بیس سوالات کئے تھے اوراس انداز سے پرازمعلومات تقریرفرمائی کہ وہ بول اٹھا ”من این لک ہذا العلم“اے حضرت یہ بے پناہ علم آپ نے کہاں سے حاصل فرمایا؟ آپ نے کہاکہ میں نے اپنے باپ داداسے ،انہوں نے محمدمصطفی صلعم سے ،انہوں نے جبرئیل سے ،انہوں نے خداوند عالم سے اسے حاصل کیاہے ،جس نے اجسام وارواح کوپیداکیاہے ”فقال الھندی صدقت-“ اس نے کہابے شک آپ نے سچ فرمایا،اس کے بعد اس نے کلمہ پڑھ کراسلام قبول کرلیااورکہا ”انک اعلم اہل زمانہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ عہدحاضرکے سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۱ ص ۴۵ طبع بمبئی)۔ 

حضرت صادق آل محمدکاعلم القرآن
مختصریہ کہ آپ کے علمی فیوض وبرکات پرمفصل روشنی ڈالنی تودشوارہے جیساکہ میں نے پہلے عرض کیاہے ،البتہ صرف یہ عرض کردیناچاہتاہوں کہ علم القرآن کے بارے میں دمعہ ساکبہ ص ۴۸۷ پرآپ کاقول موجودہے وہ فرماتے ہیں خداکی قسم میں قرآن مجیدکواول سے آخرتک اس طرح جانتاہوں گویامیرے ہاتھ میں آسمان وزمین کی خبریں ہیں،اوروہ خبریں بھی ہیں جوہوچکی ہیں،اورہورہی ہیں اورجوہونے والی ہیں اورکیوں نہ ہوجبکہ قرآن مجیدمیں ہے کہ اس پرہرچیزعیاں ہے ایک مقام پرآپ نے فرمایاہے کہ ہم انبیاء اوررسل کے علوم کے وارث ہیں (دمعہ ساکبہ ص ۴۸۸) ۔ 

علم النجوم
علم النجوم کے بارے میں اگرآپ کے کمالات دیکھناہوں توکتب طوال کامطالعہ کرنا چاہئے آپ نے نہایت جلیل علماء علم النجوم سے مباحثہ اورمناظرہ کرکے انہیں انگشت بدندان کردیاہے ،بحارالانوار،مناقب شہرآشوب ،دمعہ ساکبہ ،وغیرہ میں آپ کے مناظرے موجود ہیں علماء کافیصلہ ہے کہ علم نجوم حق ہے لیکن اس کاصحیح علم آئمہ اہلبیت کے علاوہ کسی کونصیب نہیں ،یہ دوسری بات ہے کہ حلقہ گوشان مودت نورہدایت سے کسب ضیا کرلیں۔ 

علم منطق الطیر
صادق آل محمددیگرآئمہ کی طرح منطق الطیرسے بھی باقاعدہ واقف تھے، جوپرندہ یاکوئی جانورآپس میں بات چیت کرتاتھااسے آپ سمجھ لیاکرتے تھے اوربوقت ضرورت اس کی زبان میں تکلم فرمایاکرتے تھے مثال کے لیے ملاحظہ ہو،کتاب تفسیرلباب التاویل جلد ۵ ص ۱۱۳ ،معالم التنزیل ص ۱۱۳ ،عجائب القصص ص ۱۰۵ ، نورالابصار ص ۳۱۱ ،طبع ایران میں ہے کہ صادق آل محمدنے قبرنامی پرندہ جس کو (چکور) یاچنڈول کہتے ہیں کہ بولتے ہوئے اصحاب سے فرمایا کہ تم جانتے ہے یہ کیاکہتاہے اصحاب نے صراحت کی خواہش کی توفرمایایہ کہتاہے ”اللہم العن مبغضی محمدوآل محمد“ خدایامحمد،آل محمدسے بغض رکھنے والوں پرلعنت کر،فاختہ کی آوازپرآپ نے کہاکہ اسے گھرمیں نہ رہنے دو،یہ کہتی ہے کہ ”فقدتم فقدتم“ خداتمہیں نیست ونابودکرے، وغیرہ وغیرہ۔ 

حضرت امام صادق علیہ السلام اورعلم الاجسام
مناقب بن شہرآشوب اوربحارالانوارجلد ۱۴ میں ہے کہ ایک عیسائی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے علم طب کے متعلق سوالات کرتے ہوئے جسم انسان کی تفصیل پوچھی آپ نے ارشادفرمایاکہ خداوندعالم نے انسان کے جسم میں ۱۲ وصل دوسواڑتالیس ہڈیاں اورتین سوساٹھ رگیں خلق فرمائی ہیں، رگیں تمام جسم کوسیراب کرتی ہیں ،ہڈیاں جسم کو،گوشت ہڈیوں کواوراعصاب گوشت کوروکے رہتے ہیں۔ 

حضرت امام صادق علیہ السلام کی انجام بینی اوردوراندیشی
مورخین لکھتے ہیں کہ جب بنی عباس اس بات پرآمادہ ہوگئے کہ بنی امیہ کوختم کردیں ،توانہوں نے یہ خیال کیاکہ آل رسول کی دعوت کاحوالہ دئیے بغیرکام چلنا مشکل ہے لہذاوہ امدادوانتقام آل محمدکی طرف دعوت دینے لگے اوریہی تحریک کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے جس سے عام طورپرآل محمدیعنی بنی فاطمہ کی اعانت سمجھی جاتی تھی ،اسی وجہ سے شیعیان بنی فاطمہ کوبھی ان سے ہمدردی پیداہوگئی تھی اوروہ ان کے معاون ہوگئے تھے اوراسی سلسلہ میں ابوسلمہ جعفربن سلیمان کوفی آل محمد کی طرف سے وزیرتجویزکئے تھے یعنی یہ گماشتہ کے طورپرتبلیغ کرتے تھے انہیں امام وقت کی طرف سے کوئی اجازت حاصل نہ تھی،یہ بنی کے مقابلہ میں بڑی کامیابی سے کام کررہے تھے جب حالات زیادہ سازگارنظرآئے توانہوں نے امام جعفرصادق علیہ السلام اورابومحمدعبداللہ بن حسن کوالگ الگ ایک ایک خط لکھاکہ آپ یہاں آجائیں تاکہ آپ کی بیعت کی جائے۔ 
قاصداپنے اپنے خطوط لے کرمنزل تک پہنچے، مدینہ میں جس وقت قاصدپہنچا وہ رات کاوقت تھا،قاصدنے عرض کی مولامیں،ابوسلمہ کاخط لایاہوں حضوراسے ملاحظہ فرماکرجواب عنایت فرمائیں۔ 
یہ سن کرحضرت نے چراغ طلب کیااورخط لے کراسی وقت پڑھے بغیرنذرآتش کردیااورقاصدسے فرمایاکہ ابوسلمہ سے کہناکہ تمہارے خط کایہی جواب تھا۔ 
ابھی وہ قاصدمدینہ پہنچابھی نہ تھا کہ ۳/ ربیع الاول ۱۲۳ ھ کوجمعہ کے دن حکومت کافیصلہ ہوگیااورسفاح عباسی خلیفہ بنایاجاچکاتھا(مروج الذہب مسعودی برحاشیہ کامل جلد ۸ ص ۳۰ ،تاریخ الخلفاء ص ۲۷۲ ،حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۷۴ ،تاریخ آئمہ ص ۴۳۳ ،)۔ 

امام جعفرصادق علیہ السلام کادربارمنصورمیں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات
علامہ رشیدالدین ابوعبداللہ محمدبن علی بن شہرآشوب مازندرانی المتوفی ۵۸۸ ء نے دربارمنصورکاایک اہم واقعہ نقل فرمایاہے جس میں مفصل طورپریہ واضح کیاہے کہ ایک طبیب جس کواپنی قابلیت پربڑابھروسہ اورغرورتھا وہ امام جعفرصادق علیہ السلام کے سامنے کس طرح سپرانداختہ ہوکرآپ کے کمالات کامعترف ہوگیاہم موصوف کی عربی عبارت کاترجمہ اپنے فاضل معاصرکے الفاظ میں پیش کرتے ہیں: 
ایک بارحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام منصوردوانقی کے دربارمیں تشریف فرماتھے،وہاں ایک طبیب ہندی کی باتیں بیان کررہاتھا اورحضرت خاموش بیٹھے سن رہے تھے جب وہ کہہ چکاتوحضرت سے مخاطب ہوکرکہنے لگا اگرکچھ پوچناچاہیں توشوق سے پوچھیں، آپ نے فرمایا،میں کیاپوچھوں ،مجھے تجھ سے زیاد ہ معلوم ہے (طبیب اگریہ بات ہے تومیں بھی کچھ سنوں ۔ 
امام : جب کسی مرض کاغلبہ ہوتواس کاعلاج ضدسے کرناچاہئے یعنی حارگرم کاعلاج سردسے ترکاخشک سے ،خشک کاترسے اورہرحالت میں اپنے خداپربھروسہ رکھے یادرکھ معدہ تمام بیماریوں کاگھرہے اورپرہیزسودواں کی ایک دواہے جس چیزکاانسان عادی ہوجاتاہے اس کے مزاج کے موافق اورا سکی صحت کاسبب بن جاتی ہے ۔ 
طبیب: بے شک آپ نے جوبیان فرمایاہے اصلی طب ہے۔ 
امام : اچھامیں چندسوال کرتاہوں،ان کاجواب دے : آنسووں اوررطوبتوں کی جگہ سرمیں کیوں ہے؟ سرپربال کیوں ہے؟ پیشانی بالوں سے خالی کیوں ہے؟ پیشانی پرخط اورشکن کیوں ہے؟ دونوں پلکیں آنکھوں کے اوپرکیوں ہیں؟ ناک کاسوراخ نیچے کی طرف کیوں ہے؟ منہ پردوہونٹ کیوں بنائے گئے ہیں؟ سامنے کے دانت تیزاورڈاڈھ چوڑی کیوں ہے؟ اوران دونوں کے درمیان میں لمبے دانت کیوں ہیں؟ دونوں ہتھیلیاں بالوں سے خالی کیوں ہیں؟ 
مردوں کے ڈاڈھی کیوں ہوتی ہے؟ ناخن اوربالوں میں جان کیوں نہیں؟ دل صنبوری شکل کاکیوں ہوتاہے؟ پھیپڑے کے دوٹکڑے کیوں ہوتے ہیں،اوروہ اپنی جگہ حرکت کیوں کرتاہے ؟ جگرکی شکل محدب کیوں ہے ،گردے کی شکل لوبئے کے دانے کی طرح کیوں ہوتی ہے گھٹنے آگے کوجھکتے ہیں پیچھے کوکیوں نہیں جھکتے؟ دونوں پاوں کے تلوے بیچ سے خالی کیوں ہیں؟ 
طبیب: میں ان باتوں کاجواب نہیں دے سکتا۔ 
امام : بفضل خدامیں ان سب باتوں کاجواب جانتاہوں ۔ طبیب بیان فرمائیے۔ 
امام علیہ السلام : ۱ ۔ سراگرآنسوؤں اوررطبوتوں کامرکزنہ ہوتاتوخشکی کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ 
۲ ۔ بال اس لیے سرپرہیں کہ ان کی جڑوں سے تیل وغیرہ دماغ تک پہنچتارہے اوربہت سے دماغی انجرے نکلتے رہیںدماغ گرمی اورزیادہ سردی سے محفوظ رہے۔ 
۳ ۔ پیشانی اس لیے بالوں سے خالی ہے کہ اس جگہ سے آنکھوں میں نور پہنچتاہے۔ 
۴ ۔ پیشانی میں خطوط اورشکن اس لیے ہیں کہ سرسے جوپشینہ گرے وہ آنکھوں میں نہ پڑجائے ،جب شکنوں میں پسینہ جمع ہوتوانسان اسے پونچھ کرپھینک دے جس طرح زمین پرپانی جاری ہوتاہے توگڑھوں میں جمع ہوجاتاہے۔ 
۵ ۔ پلکیں اس لیے آنکھوں پرقراردی گئی ہیں کہ آفتاب کی روشنی اسی قدران پر پڑے جتنی کہ ضرورت ہے اوربوقت ضرورت بندہوکرمردمک چشم کی حفاظت کرسکیں نیزسونے میں مدد دے سکیں، تم نے دیکھاہوگاکہ جب انسان زیادہ روشنی میں بلندی کی طرف کسی طرف کسی چیزکودیکھناچاہتاہے توہاتھ کوآنکھوں کے اوپررکھ کرسایہ کرلیتاہے۔ 
۶ ۔ ناک دونوں آنکھوں کے بیچ میں اس لیے قراردیاہے کہ مجمع نورسے روشنی تقسیم ہوکربرابردونوں آنکھوں کوپہنچے۔ 
۷ ۔ آنکھوں کوبادامی شکل کااس لیے بنایاہے کہ بوقت ضرورت سلائی کے ذریعہ سے دوا(سرمہ وغیرہ) اس میں آسانی سے پہنچ جائے،اگرآنکھ چوکور یاگول ہوتی توسلائی کااس میں پھرنامشکل ہوتادوااس میں بخوبی نہ پہنچ سکتی اوربیماری دفع نہ ہوتی۔ 
۸ ۔ ناک کاسوراخ نیچے کواس لیے بنایاکہ دماغی رطوبتیں آسانی سے نکل سکیں ،اگراوپرکوہوتاتویہ بات نہ ہوتی اوردماغ تک کسی چیزکی بوبھی جلدی نہ پہنچ سکتی 
۹ ۔ ہونٹ اس لیے منہ پرلگائے گئے کہ جورطوبتیں دماغ سے منہ میں آئیں وہ رکی رہیں اورکھانابھی انسان کے اختیارمیں رہے جب چاہے پھینک اورتھوک دے۔ 
۱۰ ۔ داڑھی مردوں کواس لیے دی کہ مرداورعورت میں تمیزہوجائے ۔ 
۱۱ ۔ اگلے دانت اس لیے تیزہیں کہ کسی چیزکاکاٹنایاکھٹکھٹاسہل ہو، اورڈاڈھ کوچوڑا اس لیے بنایاکہ غذاپیسنااورچباناآسان ہو،ان دونوں کے درمیان لمبے دانت اس لیے بنائے کہ ان دونوں کے استحکام کے باعث ہوں، جس طرح مکان کی مضبوطی کے لیے ستون (کھمبے) ہوتے ہیں۔ 
۱۲ ۔ ہتھیلوں پربال اس لیے نہیں کہ کسی چیزکوچھونے سے اس کی نرمی سختی،گرمی،سردی وغیرہ آسانی سے معلوم ہوجائے، بالوں کی صورت میں یہ بات حاصل نہ ہوتی۔ 
۱۳ ۔ بال اورناخن میں جان اس لیے نہیں ہے کہ ان چیزوں کابڑھنابرامعلوم ہوتاہے اورنقصان رساں ہے،اگران میں جان ہوتی توکاٹنے میں تکلیف ہوتی 
۱۴ ۔ دل صنوبری شکل یعنی سرپتلااوردم چوڑی (نچلاحصہ) اس لیے ہے کہ بآسانی پھیپڑے میں داخل ہوسکے اوراس کی ہواسے ٹھنڈک پاتارہے تاکہ اس کے بخارات دماغ کی طرف چڑھ کربیماریاں پیدانہ کرے۔ 
۱۵ ۔ پھیپڑے کے دوٹکڑے اس لیے ہوے کہ دل ان کے درمیان ہے اوروہ اس کوہوادیں۔ 
۱۶ ۔ جگرمحدب اس لیے ہواہے کہ اچھی طرح معدے کے اوپرجگہ پکڑے اوراپنی گرانی اورگرمی سے غذا کوہضم کرے۔ 
۱۷ ۔ کردہ لوبئے کے دانہ کی شکل کااس لیے ہواکہ (منی) یعنی نفطفہ انسانی پشت کی جانب سے اس میں آتاہے اوراس کے پھیلنے اورسکڑنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نکلتاہے جوسبب لذت ہے۔ 
۱۸ ۔ گھٹنے پیچھے کی طرف اس لیے نہیں جھکتے کہ چلنے میں آسانی میں ہواگرایسانہ ہوتاتوآدمی چلتے وقت گرگرپڑتا،آگے چلناآسان نہ ہوتا۔ 
۱۹ ۔ دونوں پیروں کے تلوے بیچ میں سے اس لیے خالی ہیں کہ دونوں کناروں پربوجھ پڑنے سے باسانی پیراٹھ سکیں اگرایسانہ ہوتااورپورے بدن کابوجھ پیروں پرپڑتاتوسارے بدن کابوجھ اٹھانادشوارہوتا۔ 
یہ جوابات سن کرہندوستانی طبیب حیران رہ گیااورکہنے لگاکہ آپ نے یہ علم کس سے سیکھاہے فرمایااپنے داداسے انہوں نے رسول خداسے حاصل کیاتھا اورانہوں نے خداسے سیکھاہے اس نے کہا ”اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدارسول اللہ وعبدہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ خداایک ہے اورمحمداس کے رسول اورعبد خاص ہیں ،”وانک اعلم اہل زمانہ“ اورآپ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۴۶ طبع بمبئی وسوانح چہاردہ معصومین حصہ ۲ ص ۲۵) ۔ 

امام جعفرصادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت جلادینے کامنصوبہ
طبیب ہندی سے گفتگوکے بعدامام علیہ السلام کاعام شہرہ ہوگیااورلوگوں کے قلوب پہلے سے زیادہ آپ کی طرف مائل ہوگئے،دوست اوردشمن آپ کے علمی کمالات کاذکرکرنے لگے یہ دیکھ کرمنصورکے دل میں آگ لگ گئی ،اوروہ اپنی شرارت کے تقاضوں سے مجبورہوکریہ منصوبہ بنانے لگاکہ اب 
جلدسے جلدانہیں ہلاک کردیناچاہئے،چنانچہ اس نے ظاہری قدرومنزلت کے ساتھ آپ کومدینہ روانہ کرکے حاکم مدینہ حسین بن زیدکوحکم دیا۔ 
ان احرق جعفربن محمدفی دارہ “ امام جعفرصادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت گھرکے اندرجلادیاجائے، یہ حکم پاکروالی مدینہ نے چندغنڈوں کے ذریعہ سے رات کے وقت جبکہ سب محوخواب تھے آپ کے مکان میں آگ لگوادی،اورگھرجلنے لگاآپ کے اصحاب اگرچہ اسے بجھانے کی پوری سعی کررہے تھے،لیکن بجھنے کونہ آتی تھی ،بالاخرہ آپ انہیں شعلوں میں کہتے ہوئے کہ ”اناابن اعراق الثری اناابن ابراہیم الخلیل“ اے آگ میں وہ ہوں جس کے آباواجدادزمین آسمان کی بنیادوں کے سبب ہیں اورمیں خلیل خداابرہیم نبی کافرزندہوں،نکل پڑے۔ 
اپنی عباکے دامن سے آگ بجھادی،(تذکرة المصومین ص ۱۸۱ بحوالہ اصول کافی آقائے کلینی علیہ الرحمة)۔ 

۱۴۷ ھ میں منصورکاحج اورامام جعفرصادق کے قتل کاعزم بالجزم
علامہ شبلنجی اورعلامہ محمدبن طلحہ شافعی رقمطرازہیں کہ ۱۴۷ ھ میں منصورحج کوگیا،اسے چونکہ امام کے دشمنوں کی طرف سے برابریہ خبردی جاچکی تھی کہ امام جعفرصادق تیری مخالفت کرتے رہتے ہیں،اورتیری حکومت کاتختہ پلٹنے کی سعی میں ہیں،لہذا اس نے حج سے فراغت کے بعدمدینہ کاقصدکیااوروہاں پہنچ کراپنے مصاحب خاص،ربیع سے کہاکہ جعفربن محمدکوبلوادو،ربیع نے وعدہ کے باوجودٹال مٹول کی اس نے پھردوسرے دن سختی کے ساتھ کہاکہ انہیں بلواو،میں کہتاہوں کہ خدامجھے قتل کرے اگرمیں انہیں قتل نہ کرسکوں، ربیع نے امام جعفرصادق کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی، مولاآپ کومنصوربلارہاہے، اوراس کے تیوربہت خراب ہیں،مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملاقات میں آپ کوقتل کردے گا، حضرت نے فرمایا”لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم“ یہ اس دفعہ ناممکن ہے غرضکہ ربیع آنحضرت کولے کرحاضردربارہوا،منصورکی نظرجیسے ہی آپ پرپڑی توآگ بگولہ ہوکربولا”یاعدواللہ“ اے دشمن خداتم کواہل عراق امام مانتے ہیں اورتمہیں زکواة اموال وغیرہ دیتے ہیں اورمیری طرف ان کاکوئی دھیان نہیں، یادرکھو،میں آج تمہیں قتل کرکے چھوڑوں گا اوراس کے لیے میں نے قسم کھالی ہے ہے یہ رنگ دیکھ کرامام جعفرصادق نے ارشادفرمایا ایے امیرجناب سلیمان کوعظیم سلطنت دی گئی توانہوں نے شکرکیا، جناب ایوب بلا میں مبتلا کیاگیاتوانہوں نے صبرکیا، جناب یوسف پرظلم کیاگیاتوانہوں نے ظالموں کومعاف کردیا، اے بادشاہ یہ سب انبیاء تھے اورانہیں کی طرف تیرانسب بھی پہنچتاہے تجھے توان کی پیروی لازم ہے، یہ سن کراس کاغصہ ٹھنڈاہوگیا(نورالابصار ص ۱۲۳ ،مطالب السول ص ۲۶۷) ۔ 

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شہادت
علماء فریقین کااتفاق ہے کہ بتاریخ ۱۵/ شوال ۱۴۸ ھ بعمر ۶۵ سال آپ نے اس دارفانی سے بطرف ملک جاودانی رحلت فرمائی ہے،ارشادمفید ص ۴۱۳ ،اعلام الوری ص ۱۵۹ ،نورالابصار ص ۱۲۳ ،مطالب السول ص ۲۷۷ ،یوم وفات دوشنبہ تھا اورمقام دفن جنت البقیع ہے۔ 
علامہ ابن حجرعلامہ علامہ ابن جوزی علامہ شبلنجی علامہ ابن طلحہ شافعی تحریررقمطرازہیں کہ مات مسموما ایام المنصور، منصورکے زمانہ میں آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،تذکرةخواص الامتہ ،نورالابصار ص ۱۳۳ ، ارجح المطالب ص ۴۵۰) ۔ 
علماء اہل تشیع کااتفاق ہے کہ آپ کومنصوردوانقی نے زہرسے شہیدکرایاتھا، اورنمازحضرت امام موسی کاظم علیہ اسلام نے پڑھائی تھی علامہ کلینی اورعلامہ مجلسی کاارشادہے کہ آپ کونہایت کفن دیاگیااورآپ کے مقام وقات پرہرشب چراغ جلایاجاتارہا۔ کتاب کافی وجلاء العیون مجلسی ص ۲۶۹ ۔ 

آپ کی اولاد
آپ کے مختلف بیویوں سے دس اولادتھیں جن میں سے سات لڑکے اورتین لڑکیاں تھیں لڑکوں کے نام یہ ہیں : 
۱ ۔جناب اسماعیل ۲ ۔حضرت امام موسی کاظم ۳ ۔عبداللہ ۴ ۔ اسحاق ۵ ۔ محمد ۶ ۔عباس ۷ ۔ علی ۔ اورلڑکیوں کے اسماء یہ ہیں : ۱ ۔ام فروہ ۲ ۔ اسماء ۳ ۔فاطمہ (ارشادوجنات الخلود) علامہ شبلنجی نے سات اولادتحریرکیاہے جن میں صرف ایک لڑکی کاحوالہ دیاہے جس کانام ”ام فروہ“ تھا(نورالابصار ص ۱۳۳) ۔ 
آپ ہی کی اولادسے خلفاء فاطمیہ گزرے ہیں جن کی سلطنت ۲۹۷ ئسے ۵۶۷ ء تک دوسوسترسال قائم رہی، ان کی تعدادچودہ تھی۔
 
 

 

Saying of Imam Jafar Sadiq (A.S.) - Urdu

Farsh Ki Zeen Se - Urdu

To be recited on His birth / from far

I bear witness that there is no god but Allah
The Unique, there is no partner for Him 
And I bear witness that Mohammad (s.a.w.a) in His servant and 
His Apostle and that he is the leader of the first and the last and that he is the chief of the Prophets and the Apostles. O Allah, bless him and his household, the purified leaders

Then Say:

Peace be on you, O the Apostle of Allah 
Peace be on you, O the friend of Allah 
Peace be on you O the Prophet of Allah 
Peace be on you, O the chosen one of Allah
Peace be on you, O the Mercy of Allah 
Peace be on you, O the one selected by Allah 
Peace be on you, O the one loved by Allah
Peace be on you, O the distinguished one of Allah 
Peace be on you, O the last of the Prophets 
Peace be on you, O the chief of the Apostles
Peace be on you, O the one who established the justice 
Peace be on you, O commencer of goodness
Peace be on you, O the mine of revelation and descent 
Peace be on you, O the preacher from the side of Allah 
Peace be on you, O the radiant lamp
Peace be on you, heralder of glad-tidings 
Peace be on you, O the Warner 
Peace be on you, O the admonisher
Peace be on you, O the light of Allah, through which He is illumined
Peace be on you, and on your household, the pure, the blemishless, the guides, the guided ones
Peace be on you and on your grandfather Abdul Muttalib and on your father Abdullah
Peace be on your mother Aamena, the daughter of Wahad 
Peace be on your uncle Hamza the leader of the martyrs
Peace be on your uncle Abbas the son of Abdul Muttalib 
Peace be on your uncle and your protector Abu Taalib 
Peace be on your cousin Ja’far, the hovering one in the gardens of eternity. 
Peace be on you, O Mohammad 
Peace be on you, O Ahmad 
Peace be on you, O the Proof of Allah upon the first and the last of the foremost in the obedience of the Lord of the Universe and the protector of His Apostles and the last of His Prophets
and the witness over His creation and an interceder towards Him and an esteemed one near Him and the obeyed one in His celestial world and the most praiseworthy in attributes and the loudable in all nobility, the honourable one near the Lord, and the one spoken to behind the veils, the first in the competition, the last in accession. 
(This is) the salutation of one who is cognizant of your right, he acknowledges his shortcoming in his establishing what is obligatory for you, does not deny the extent of your excellence, is certain about its argumentation from your Lord, he believes in the Book sent down upon you, he considers as lawful what you have made lawful and regards as prohibited all that you have prohibited.

I bear witness, O Apostle of Allah with all witnesses and I stand for it against all deniers. Certainly you have conveyed the message of your Lord and have advised your nation and have fought in the way of your Lord, and executed His commands and bore injury in His way and called towards His path with wisdom and beautiful, excellent admonition and fulfilled the right which was upon you and surely you were compassionate with the believers and were harsh towards the disbelievers and worshiped Allah sincerely until death overtook you.

Then may Allah grant you the most noble of the abodes of the honored ones. And the highest stations of the proximate ones and the loftiest grades of the Apostles so much so that no one can join you nor can anyone take precedence over you nor can anyone surpass you, and nor can any hopeful desire of catching up with you.

All Praise be to Allah, Who records us through you from peril and guided us through you from deviation and enlightened us through you from darkness.

Then may Allah grant you. O Apostle of Allah, from us the best of what He has granted to a Prophet from his nation and to an Apostle from the one to whom he was sent. May my father and my mother be sacrificed for you.

O Apostle of Allah, 
I have come to visit you as one cognizant of your rights, acknowledger of the excellence you possesses.

Observant of the deviation of those who have opposed you and have opposed the people of your house, cognizant of the guidance on which you are.

May my father and my mother and myself and my family members and my wealth and my children be sacrificed for you, I send salutations to you, just as Allah sends salutations to you and so do His angles and His Prophets and His Apostles. a continuous, abundant and connected salutation which has no breakage nor an end nor a limit

May Allah bless you and your pure and purified household (a.s.) as you all deserve and are worthy of .

Raise your hands and say:

O Allah grant Your most comprehensive Grace and Your ever expanding Blessings and Your loftiest Goodness and Your noblest greetings and Your salutations and Your Honor and Blessings and the salutations of Your most proximate angles and Your sent Prophets and Your chosen leaders and Your righteous servants and the inhabitants of the Heavens and the earths and those who glorify You, O the Lord of the Universe, from the first to the last upon Mohammad.

Your servant and Your Apostle and Your witness and Your Prophet and a warner from Your side, Your trustworthy, Your distinguished one and Your confidant,

Your noble one, Your loved one, Your friend, Your devoted one and Your chosen one and Your distinguished one and Your sincere one,  and Your mercy and the best of Your choice from Your creation, the Prophet of mercy and the treasurer of forgiveness and the guide towards goodness and blessings and the rescuer of the servants from peril by Your permission and their caller towards Your upright religion. By Your order and the first of the prophets to acknowledge the covenant and the last of them to be raised, the one whom you have immersed in the ocean of virtue and the exalted position and the lofty grade and the significant rank. You had entrusted him to pure loins and transferred him from them to purified wombs, a Grace for Your side towards Him and Your affection upon Him, when You assigned for his protection and guarding and defense and care from Your Power, a protective eye through which concealed from him the pollution of adultery and the evil of fornication (a metaphor for all evils of his time) to the extent that You raised through him the vision of the servants.

And enlivened through him the dead of the cities. You exposed through the light and his birth, the darkness of the curtains and You clothed Your sanctuary through him with an adornment of light. O Allah! Just as You have particularized him through the honor of the noble grade and the treasuring of this great virtue,

bless him just as he had fulfilled Your covenant and had conveyed Your message and had fought with those who denied Your Oneness and served relations with disbelief for the honor of your religion and adorned the clothing of difficulties in the war against Your enemies and You have made obligatory, in lieu of every injury that was inflicted on him or every plotting that he could perceive from the group that endeavored to assassinate him and excellence higher than all other excellences and due to which he became an owner of excess rewards from You and certainly he concealed his regret and hid his sorrow and controlled his anger, but did not disgress from what Your revelation laid out for him

O Allah, bless him and his household, by a blessing with which You are satisfied for them and convey to them abundant greetings and salutations from our side and grant us in lieu our love for them. Grace and Goodness and Mercy and Forgiveness from your side, surely You are the processor of abundant Grace.

Now pray frour raka’t namaz, and recite the “Tasbeeh” of Janab-e-Fatemah Zahra (s.a.) and then say::

O Allah, Your have mentioned to Your Prophet Mohammad (s.a.w.a.) and had those who were unjust upon themselves come to You and sought forgiveness from Allah and even the Apostle sought forgiveness for them, they would surely find Allah as Forgiving, Merciful.

I was not present during the era of the Prophet (s.a.w.a.)

O Allah! I have surely visited him as one inclined towards him, turning back from my evil deeds and seeking Your forgiveness for my sins which I attest to them

While You are more knowledgeable about them than me and I turn towards You through Your Prophet, the Prophet of Mercy, Blessings of Allah be on him and his progeny.

O Allah! Through Mohammad (s.a.w.a.) and his progeny, make me honourable in this world as well as the hereafter and from those who are proximate to you. O Mohammad (s.a.w.a.)! O the Apostle of Allah!

May my father and my mother be sacrificed for you. O the Prophet of Allah, O the leader of the creation of Allah. Surely I turn through you to Allah, your Lord and my Lord that He may forgive my sins and accept my actions and fulfill my wants, then you be my intercessor near your Lord and my Lord for surely the best one to be asked from is my Master, my Lord and the best intercessor is you. O Mohammad (s.a.w.a.) peace be on you and your household…

O Allah! Make obligatory for me forgiveness and mercy and abundant, pure, beneficial sustenance from Your side just as You have made obligatory on the one who comes to Your Prophet, Mohammad (s.a.w.a.) while he was alive. Then he attesded to his sins in front of the Apostle (s.a.w.a.) and the Apostle (s.a.w.a.) sought forgiveness for him, then You forgave him by Your Mercy. O the Most Merciful of all those who show mercy…

O Allah! I have pinned my hopes on You and I yearn from You and I stand before You and am inclined towards You, forsaking everyone else and I hope for abundant rewards from You and surely I affirm to You and I am not a denier. I turn towards You repenting for my sins and seek Your refuge at this place

For my previous actions which I have performed and You had stepped forward and stopped me from committing them and had threatened punishment for their performance and I seek refuge in Your Nobility that You make me stand in a position of degradation and shame on the Day when the veils will be rendered and the secrets and offences will become manifest and the joints of the body will shiver, the Day of Regret

And  remorse, the Day of Exposure of the evils the Day of Loss. the Day of Separation. The Day of Recompense. The Day whose measure will be equal 50,000 years the Day of Blowing (of the Trumpet)...

The Day when the first trumpet resounds and the second one follows it. The Day of scattering the Day of Presentation, the Day when the people will stand before the Lord of the Universe the Day when man will flee from his brother and his mother and his father and his spouse and his progeny. The Day when the earth will split and so will the sides of the sky. The Day when every soul shall come disputing and arguing with his ownself.

The Day when the people will be returned unto Allah, then he will inform them of what they did. On Day when no friends will not be of any benefit to each other and nor will they be helped, except those upon whom Allah has Mercy

Surely He is the Honoured. The Merciful...

The Day when the people will be returned to the Knower of the Unseen and the Evident, the Day when people will be returned to Allah, their Rightful Master.

The Day on which they will very quickly rise up from their graves as if they are running towards some monument and as if they are some scattered locusts, they will immediately respond to the caller towards Allah, the Day of the great event, the Day when the earth will have a server conviction, the Day when the sky shall appear like molten copper and the mountain like soft cotton, and a friend will not bother about his friend, the Day of the Witness and the Witnessed, the Day when the angels shall stand up in rows.

O Allah ! Have mercy on my situation on this Day and do not degrade me  in that situation due to the excesses and sins which I have committed against myself.

O my Lord! Include me on the Day along with Your friends and put in the group of Mohammad and the household and make his Pond the place of my advent and make my station honourable and noble and give me my Book in my right hand so that I may be successful on account of my good actions, and make my face radiant and glowing and make my reckoning easy for me and make my scale (of good deeds) heavy and that I may tread along with the triumplant ones from Your righteous servants towards Your satisfaction and Your Gardens (of Bliss). O the God of the Universe

O Allah! I seek refuge in You that You should disgrace me on the Day in front of the creation, due to my sins or that I should face disgrace and shame due to my mistakes or that You make my sins exceed my deeds of or that You make a mention of my name amoung the creation (in a debasing manner). O Noble! O Noble! I beseech Forgiveness from You and implore You to hide my sins.

O Allah ! I seek refuge in You that my position be on that Day be among the evildoers and that my status on that Day be among the unfortunate ones, dispatch each of them in groups in accordance with their actions, towards their abodes, then send me by Your Mercy among Your righteous servants and in the group of Your pious friends, proceeding towards Your Gardens. O the Lord of the Universe.

 

 

 

Then recite this farewell:

Peace be on you, O the Apostle of Allah

Peace be on you, O the heralder of good news, the warner

Peace be on you, O the radiant lamp.

Peace be on you, O the representative between Allah and His creation. I bear witness, O the Apostle of Allah, that you were a light in lofty loins and pure wombs, ignorance with its impurities did not come near you nor did it clothe you with its robe

And I bear witness, O the Apostle of Allah, that I believe in you and the leaders from your household. I am certain about everything that you have brought.

I am a satisfied believer in you and I bear witness that the leaders from your household are the standards of guidance and the strong rope and the Proof over the inhabitants of the earth 

O Allah! Do not make this my last visitation to Your Prophet and if You should cause me to die, then I bear witness in my death, upon what I do in my life time that You are Allah, there is no god except You...

You are One, there is no partner for You and that Mohammad is Your servant and Your Apostle and that the leaders from his household are Your representatives and Your helpers and Your proofs upon Your creation and Your caliphs amoung Your servants and Your standards in Your cities and the treasures of Your knowledge and the protectors of Your secrets and the interpreters of Your revelation

O Allah! Bless Mohammad and the progeny of Mohammad and convey to the soul of Your prophet Mohammad and his progeny at this every hour and at every hour, greetings from me and peace and peace be on you O the Apostle of Allah and the mercy of Allah and His blessings. May Allah not make this my last salutation to you….

 

 

 

أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ‏
وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ وَ أَنَّهُ سَيِّدُ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ أَنَّهُ سَيِّدُ الْأَنْبِيَاءِ وَ الْمُرْسَلِينَ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ الْأَئِمَّةِ الطَّيِّبِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَلِيلَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَفِيَّ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَحْمَةَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَجِيبَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الْمُرْسَلِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا قَائِماً بِالْقِسْطِ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا فَاتِحَ الْخَيْرِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مَعْدِنَ الْوَحْيِ وَ التَّنْزِيلِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُبَلِّغاً عَنِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا السِّرَاجُ الْمُنِيرُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُبَشِّرُ
(السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَذِيرُ) السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُنْذِرُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نُورَ اللَّهِ الَّذِي يُسْتَضَاءُ بِهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ الْهَادِينَ الْمَهْدِيِّينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى جَدِّكَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَ عَلَى أَبِيكَ عَبْدِ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَى أُمِّكَ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ السَّلاَمُ عَلَى عَمِّكَ حَمْزَةَ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ السَّلاَمُ عَلَى عَمِّكَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ‏
السَّلاَمُ عَلَى عَمِّكَ وَ كَفِيلِكَ أَبِي طَالِبٍ السَّلاَمُ عَلَى ابْنِ عَمِّكَ جَعْفَرٍ الطَّيَّارِ فِي جِنَانِ الْخُلْدِ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَحْمَدُ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ عَلَى الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ السَّابِقَ إِلَى طَاعَةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏
وَ الْمُهَيْمِنَ عَلَى رُسُلِهِ وَ الْخَاتِمَ لِأَنْبِيَائِهِ وَ الشَّاهِدَ عَلَى خَلْقِهِ وَ الشَّفِيعَ إِلَيْهِ‏
وَ الْمَكِينَ لَدَيْهِ وَ الْمُطَاعَ فِي مَلَكُوتِهِ‏
الْأَحْمَدَ مِنَ الْأَوْصَافِ الْمُحَمَّدَ لِسَائِرِ الْأَشْرَافِ الْكَرِيمَ عِنْدَ الرَّبِّ وَ الْمُكَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُبِ‏
الْفَائِزَ بِالسِّبَاقِ وَ الْفَائِتَ عَنِ اللِّحَاقِ‏
تَسْلِيمَ عَارِفٍ بِحَقِّكَ مُعْتَرِفٍ بِالتَّقْصِيرِ فِي قِيَامِهِ بِوَاجِبِكَ غَيْرِ مُنْكِرٍ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ مِنْ فَضْلِكَ‏
مُوقِنٍ بِالْمَزِيدَاتِ مِنْ رَبِّكَ مُؤْمِنٍ بِالْكِتَابِ الْمُنْزَلِ عَلَيْكَ مُحَلِّلٍ حَلاَلَكَ مُحَرِّمٍ حَرَامَكَ‏
أَشْهَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَعَ كُلِّ شَاهِدٍ وَ أَتَحَمَّلُهَا عَنْ كُلِّ جَاحِدٍ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالاَتِ رَبِّكَ وَ نَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ‏
وَ جَاهَدْتَ فِي سَبِيلِ رَبِّكَ وَ صَدَعْتَ بِأَمْرِهِ وَ احْتَمَلْتَ الْأَذَى فِي جَنْبِهِ‏
وَ دَعَوْتَ إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ الْجَمِيلَةِ وَ أَدَّيْتَ الْحَقَّ الَّذِي كَانَ عَلَيْكَ‏
وَ أَنَّكَ قَدْ رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِينَ وَ غَلُظْتَ عَلَى الْكَافِرِينَ وَ عَبَدْتَ اللَّهَ مُخْلِصاً حَتَّى أَتَاكَ الْيَقِينُ‏
فَبَلَغَ اللَّهُ بِكَ أَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُكَرَّمِينَ‏
وَ أَعْلَى مَنَازِلِ الْمُقَرَّبِينَ وَ أَرْفَعَ دَرَجَاتِ الْمُرْسَلِينَ حَيْثُ لاَ يَلْحَقُكَ لاَحِقٌ‏
وَ لاَ يَفُوقُكَ فَائِقٌ وَ لاَ يَسْبِقُكَ سَابِقٌ وَ لاَ يَطْمَعُ فِي إِدْرَاكِكَ طَامِعٌ‏
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَنْقَذَنَا بِكَ مِنَ الْهَلَكَةِ وَ هَدَانَا بِكَ مِنَ الضَّلاَلَةِ وَ نَوَّرَنَا بِكَ مِنَ الظُّلْمَةِ
فَجَزَاكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ مَبْعُوثٍ أَفْضَلَ مَا جَازَى (جَزَى) نَبِيّاً عَنْ أُمَّتِهِ وَ رَسُولاً عَمَّنْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ‏
بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ زُرْتُكَ عَارِفاً بِحَقِّكَ مُقِرّاً بِفَضْلِكَ‏
مُسْتَبْصِراً بِضَلاَلَةِ مَنْ خَالَفَكَ وَ خَالَفَ أَهْلَ بَيْتِكَ عَارِفاً بِالْهُدَى الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ‏
بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي وَ نَفْسِي وَ أَهْلِي وَ مَالِي وَ وَلَدِي‏
أَنَا أُصَلِّي عَلَيْكَ كَمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ صَلَّى عَلَيْكَ مَلاَئِكَتُهُ وَ أَنْبِيَاؤُهُ وَ رُسُلُهُ‏
صَلاَةً مُتَتَابِعَةً وَافِرَةً مُتَوَاصِلَةً لاَ انْقِطَاعَ لَهَا وَ لاَ أَمَدَ وَ لاَ أَجَلَ‏
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ كَمَا أَنْتُمْ أَهْلُهُ‏
اللَّهُمَّ اجْعَلْ جَوَامِعَ صَلَوَاتِكَ وَ نَوَامِيَ بَرَكَاتِكَ‏
وَ فَوَاضِلَ خَيْرَاتِكَ وَ شَرَائِفَ تَحِيَّاتِكَ وَ تَسْلِيمَاتِكَ وَ كَرَامَاتِكَ وَ رَحَمَاتِكَ‏
وَ صَلَوَاتِ مَلاَئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ وَ أَنْبِيَائِكَ الْمُرْسَلِينَ وَ أَئِمَّتِكَ الْمُنْتَجَبِينَ‏
وَ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ وَ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِينَ وَ مَنْ سَبَّحَ لَكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ‏
عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ وَ شَاهِدِكَ وَ نَبِيِّكَ وَ نَذِيرِكَ وَ أَمِينِكَ وَ مَكِينِكَ‏
وَ نَجِيِّكَ وَ نَجِيبِكَ وَ حَبِيبِكَ وَ خَلِيلِكَ وَ صَفِيِّكَ وَ صَفْوَتِكَ وَ خَاصَّتِكَ وَ خَالِصَتِكَ وَ رَحْمَتِكَ‏
وَ خَيْرِ خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ وَ خَازِنِ الْمَغْفِرَةِ وَ قَائِدِ الْخَيْرِ وَ الْبَرَكَةِ
وَ مُنْقِذِ الْعِبَادِ مِنَ الْهَلَكَةِ بِإِذْنِكَ وَ دَاعِيهِمْ إِلَى دِينِكَ الْقَيِّمِ بِأَمْرِكَ‏
أَوَّلِ النَّبِيِّينَ مِيثَاقاً وَ آخِرِهِمْ مَبْعَثاً الَّذِي غَمَسْتَهُ فِي بَحْرِ الْفَضِيلَةِ وَ الْمَنْزِلَةِ الْجَلِيلَةِ وَ الدَّرَجَةِ الرَّفِيعَةِ وَ الْمَرْتَبَةِ الْخَطِيرَةِ
وَ أَوْدَعْتَهُ الْأَصْلاَبَ الطَّاهِرَةَ وَ نَقَلْتَهُ مِنْهَا إِلَى الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ لُطْفاً مِنْكَ لَهُ وَ تُحَنُّناً مِنْكَ عَلَيْهِ‏
إِذْ وَكَّلْتَ لِصَوْنِهِ وَ حِرَاسَتِهِ وَ حِفْظِهِ وَ حِيَاطَتِهِ مِنْ قُدْرَتِكَ عَيْناً عَاصِمَةً
حَجَبْتَ بِهَا عَنْهُ مَدَانِسَ الْعَهْرِ وَ مَعَايِبَ السِّفَاحِ حَتَّى رَفَعْتَ بِهِ نَوَاظِرَ الْعِبَادِ
وَ أَحْيَيْتَ بِهِ مَيْتَ الْبِلاَدِ بِأَنْ كَشَفْتَ عَنْ نُورِ وِلاَدَتِهِ ظُلَمَ الْأَسْتَارِ وَ أَلْبَسْتَ حَرَمَكَ بِهِ حُلَلَ الْأَنْوَارِ
اللَّهُمَّ فَكَمَا خَصَصْتَهُ بِشَرَفِ هَذِهِ الْمَرْتَبَةِ الْكَرِيمَةِ وَ ذُخْرِ هَذِهِ الْمَنْقَبَةِ الْعَظِيمَةِ
صَلِّ عَلَيْهِ كَمَا وَفَى بِعَهْدِكَ وَ بَلَّغَ رِسَالاَتِكَ وَ قَاتَلَ أَهْلَ الْجُحُودِ عَلَى تَوْحِيدِكَ‏
وَ قَطَعَ رَحِمَ الْكُفْرِ فِي إِعْزَازِ دِينِكَ وَ لَبِسَ ثَوْبَ الْبَلْوَى فِي مُجَاهَدَةِ أَعْدَائِكَ‏
وَ أَوْجَبْتَ لَهُ بِكُلِّ أَذًى مَسَّهُ أَوْ كَيْدٍ أَحَسَّ بِهِ مِنَ الْفِئَةِ الَّتِي حَاوَلَتْ قَتْلَهُ فَضِيلَةً تَفُوقُ الْفَضَائِلَ‏
وَ يَمْلِكُ بِهَا الْجَزِيلَ مِنْ نَوَالِكَ‏
وَ قَدْ (فَلَقَدْ) أَسَرَّ الْحَسْرَةَ وَ أَخْفَى الزَّفْرَةَ وَ تَجَرَّعَ الْغُصَّةَ وَ لَمْ يَتَخَطَّ مَا مَثَّلَ لَهُ وَحْيُكَ (مُثِّلَ مِنْ وَحْيِكَ)
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ صَلاَةً تَرْضَاهَا لَهُمْ وَ بَلِّغْهُمْ مِنَّا تَحِيَّةً كَثِيرَةً وَ سَلاَماً
وَ آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ فِي (مِنْ) مُوَالاَتِهِمْ فَضْلاً وَ إِحْسَاناً وَ رَحْمَةً وَ غُفْرَاناً إِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ‏
پس چهار ركعت نماز زيارت بكن به دو سلام با هر سوره كه خواهى و چون فارغ شوى تسبيح فاطمه زهراء سلام الله عليها را بخوان پس بگو
اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحِيماً
وَ لَمْ أَحْضُرْ زَمَانَ رَسُولِكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ السَّلاَمُ‏
اللَّهُمَّ وَ قَدْ زُرْتُهُ رَاغِباً تَائِباً مِنْ سَيِّئِ عَمَلِي وَ مُسْتَغْفِراً لَكَ مِنْ ذُنُوبِي وَ مُقِرّاً لَكَ بِهَا وَ أَنْتَ أَعْلَمُ بِهَا مِنِّي‏
وَ مُتَوَجِّهاً إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
فَاجْعَلْنِي اللَّهُمَّ بِمُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ عِنْدَكَ وَجِيهاً فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ‏
يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي‏
يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَا سَيِّدَ خَلْقِ اللَّهِ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى اللَّهِ رَبِّكَ وَ رَبِّي‏
لِيَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي وَ يَتَقَبَّلَ مِنِّي عَمَلِي وَ يَقْضِيَ لِي حَوَائِجِي‏
فَكُنْ لِي شَفِيعاً عِنْدَ رَبِّكَ وَ رَبِّي فَنِعْمَ الْمَسْئُولُ الْمَوْلَى رَبِّي‏
وَ نِعْمَ الشَّفِيعُ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ السَّلاَمُ‏
اللَّهُمَّ وَ أَوْجِبْ لِي مِنْكَ الْمَغْفِرَةَ وَ الرَّحْمَةَ وَ الرِّزْقَ الْوَاسِعَ الطَّيِّبَ النَّافِعَ‏
كَمَا أَوْجَبْتَ لِمَنْ أَتَى نَبِيَّكَ مُحَمَّداً صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ هُوَ حَيٌّ فَأَقَرَّ لَهُ بِذُنُوبِهِ‏
وَ اسْتَغْفَرَ لَهُ رَسُولُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ السَّلاَمُ فَغَفَرْتَ لَهُ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏
اللَّهُمَّ وَ قَدْ أَمَّلْتُكَ وَ رَجَوْتُكَ وَ قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَ رَغِبْتُ إِلَيْكَ عَمَّنْ سِوَاكَ‏
وَ قَدْ أَمَّلْتُ جَزِيلَ ثَوَابِكَ وَ إِنِّي لَمُقِرٌّ (مُقِرٌّ) غَيْرُ مُنْكِرٍ وَ تَائِبٌ إِلَيْكَ مِمَّا اقْتَرَفْتُ‏
وَ عَائِذٌ بِكَ فِي هَذَا الْمَقَامِ مِمَّا قَدَّمْتُ مِنَ الْأَعْمَالِ الَّتِي تَقَدَّمْتَ إِلَيَّ فِيهَا وَ نَهَيْتَنِي عَنْهَا وَ أَوْعَدْتَ عَلَيْهَا الْعِقَابَ‏
وَ أَعُوذُ بِكَرَمِ وَجْهِكَ أَنْ تُقِيمَنِي مَقَامَ الْخِزْيِ وَ الذُّلِّ يَوْمَ تُهْتَكُ فِيهِ الْأَسْتَارُ وَ تَبْدُو فِيهِ الْأَسْرَارُ وَ الْفَضَائِحُ‏
وَ تَرْعَدُ فِيهِ الْفَرَائِصُ يَوْمَ الْحَسْرَةِ وَ النَّدَامَةِ
يَوْمَ الْآفِكَةِ يَوْمَ الْآزِفَةِ يَوْمَ التَّغَابُنِ يَوْمَ الْفَصْلِ يَوْمَ الْجَزَاءِ يَوْماً كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ يَوْمَ النَّفْخَةِ
يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ يَوْمَ النَّشْرِ يَوْمَ الْعَرْضِ‏
يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَ أُمِّهِ وَ أَبِيهِ وَ صَاحِبَتِهِ وَ بَنِيهِ‏
يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ وَ أَكْنَافُ السَّمَاءِ يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَفْسِهَا
يَوْمَ يُرَدُّونَ إِلَى اللَّهِ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا
يَوْمَ لاَ يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا وَ لاَ هُمْ يُنْصَرُونَ إِلاَّ مَنْ رَحِمَ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ‏
يَوْمَ يُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ
يَوْمَ يُرَدُّونَ إِلَى اللَّهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعاً كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ‏
وَ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ إِلَى اللَّهِ‏
يَوْمَ الْوَاقِعَةِ يَوْمَ تُرَجُّ الْأَرْضُ رَجّاً يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ وَ تَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ‏
وَ لاَ يُسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يَوْمَ الشَّاهِدِ وَ الْمَشْهُودِ يَوْمَ تَكُونُ الْمَلاَئِكَةُ صَفّاً صَفّاً
اللَّهُمَّ ارْحَمْ مَوْقِفِي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ بِمَوْقِفِي فِي هَذَا الْيَوْمِ وَ لاَ تُخْزِنِي فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ (الْيَوْمِ) بِمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي‏
وَ اجْعَلْ يَا رَبِّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَعَ أَوْلِيَائِكَ مُنْطَلَقِي وَ فِي زُمْرَةِ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ مَحْشَرِي‏
وَ اجْعَلْ حَوْضَهُ مَوْرِدِي وَ فِي الْغُرِّ الْكِرَامِ مَصْدَرِي‏
وَ أَعْطِنِي كِتَابِي بِيَمِينِي حَتَّى أَفُوزَ بِحَسَنَاتِي وَ تُبَيِّضَ بِهِ وَجْهِي وَ تُيَسِّرَ بِهِ حِسَابِي‏
وَ تُرَجِّحَ بِهِ مِيزَانِي وَ أَمْضِيَ مَعَ الْفَائِزِينَ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ إِلَى رِضْوَانِكَ وَ جِنَانِكَ إِلَهَ الْعَالَمِينَ‏
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ تَفْضَحَنِي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ بَيْنَ يَدَيِ الْخَلاَئِقِ بِجَرِيرَتِي أَوْ أَنْ أَلْقَى الْخِزْيَ وَ النَّدَامَةَ بِخَطِيئَتِي‏
أَوْ أَنْ تُظْهِرَ فِيهِ سَيِّئَاتِي عَلَى حَسَنَاتِي أَوْ أَنْ تُنَوِّهَ بَيْنَ الْخَلاَئِقِ بِاسْمِي‏
يَا كَرِيمُ يَا كَرِيمُ الْعَفْوَ الْعَفْوَ السَّتْرَ السَّتْرَ
اللَّهُمَّ وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ فِي مَوَاقِفِ الْأَشْرَارِ مَوْقِفِي أَوْ فِي مَقَامِ الْأَشْقِيَاءِ مَقَامِي‏
وَ إِذَا مَيَّزْتَ بَيْنَ خَلْقِكَ فَسُقْتَ كُلاًّ بِأَعْمَالِهِمْ زُمَراً إِلَى مَنَازِلِهِمْ فَسُقْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ‏
وَ فِي زُمْرَةِ أَوْلِيَائِكَ الْمُتَّقِينَ إِلَى جَنَّاتِكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ‏
پس وداع كن آن حضرت را و بگو
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْبَشِيرُ النَّذِيرُ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا السِّرَاجُ الْمُنِيرُ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا السَّفِيرُ بَيْنَ اللَّهِ وَ بَيْنَ خَلْقِهِ‏
أَشْهَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ كُنْتَ نُوراً فِي الْأَصْلاَبِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ
لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجَاهِلِيَّةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْكَ مِنْ مُدْلَهِمَّاتِ ثِيَابِهَا
وَ أَشْهَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي مُؤْمِنٌ بِكَ وَ بِالْأَئِمَّةِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ مُوقِنٌ بِجَمِيعِ مَا أَتَيْتَ بِهِ رَاضٍ مُؤْمِنٌ‏
وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ أَعْلاَمُ الْهُدَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ الْحُجَّةُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا
اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِيَارَةِ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ السَّلاَمُ‏
وَ إِنْ تَوَفَّيْتَنِي فَإِنِّي أَشْهَدُ فِي مَمَاتِي عَلَى مَا أَشْهَدُ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِي‏
أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ‏
وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُكَ وَ رَسُولُكَ وَ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ أَوْلِيَاؤُكَ وَ أَنْصَارُكَ وَ حُجَجُكَ عَلَى خَلْقِكَ‏
وَ خُلَفَاؤُكَ فِي عِبَادِكَ وَ أَعْلاَمُكَ فِي بِلاَدِكَ وَ خُزَّانُ عِلْمِكَ وَ حَفَظَةُ سِرِّكَ وَ تَرَاجِمَةُ وَحْيِكَ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
وَ بَلِّغْ رُوحَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ فِي سَاعَتِي هَذِهِ وَ فِي كُلِّ سَاعَةٍ تَحِيَّةً مِنِّي وَ سَلاَماً
وَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ لاَ جَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ تَسْلِيمِي عَلَيْك

 

 

Permission for entering Jannat-ul-Baqi

 
اللَّهُمَّ إِنِّي وَقَفْتُ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ بُيُوتِ نَبِيِّكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
وَ قَدْ مَنَعْتَ النَّاسَ أَنْ يَدْخُلُوا إِلاَّ بِإِذْنِهِ‏
فَقُلْتَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ‏
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَقِدُ حُرْمَةَ صَاحِبِ هَذَا الْمَشْهَدِ الشَّرِيفِ فِي غَيْبَتِهِ كَمَا أَعْتَقِدُهَا فِي حَضْرَتِهِ‏
وَ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَكَ وَ خُلَفَاءَكَ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ أَحْيَاءٌ عِنْدَكَ يُرْزَقُونَ يَرَوْنَ مَقَامِي وَ يَسْمَعُونَ كَلاَمِي وَ يَرُدُّونَ سَلاَمِي‏
وَ أَنَّكَ حَجَبْتَ عَنْ سَمْعِي كَلاَمَهُمْ وَ فَتَحْتَ بَابَ فَهْمِي بِلَذِيذِ مُنَاجَاتِهِمْ‏
وَ إِنِّي أَسْتَأْذِنُكَ يَا رَبِّ أَوَّلاً وَ أَسْتَأْذِنُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ثَانِياً
وَ أَسْتَأْذِنُ خَلِيفَتَكَ الْإِمَامَ الْمَفْرُوضَ (الْمُفْتَرَضَ) عَلَيَّ طَاعَتُهُ فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ‏
بجاى فلان بن فلان نام ببرد آن امامى را كه مى‏خواهد زيارت كند و همچنين نام پدرش را ببرد مثلا اگر در زيارت امام حسين عليه السلام است بگويد الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عليهما السلام و اگر در زيارت امام رضا عليه السلام است بگويد عَلِيَّ بْنَ مُوسَى الرِّضَا عليهما السلام و هكذا
پس بگويد
وَ الْمَلاَئِكَةَ الْمُوَكَّلِينَ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ ثَالِثاً أَ أَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَ أَدْخُلُ يَا حُجَّةَ اللَّهِ‏
أَ أَدْخُلُ يَا مَلاَئِكَةَ اللَّهِ الْمُقَرَّبِينَ الْمُقِيمِينَ فِي هَذَا الْمَشْهَدِ
فَأْذَنْ لِي يَا مَوْلاَيَ فِي الدُّخُولِ أَفْضَلَ مَا أَذِنْتَ لِأَحَدٍ مِنْ أَوْلِيَائِكَ فَإِنْ لَمْ أَكُنْ أَهْلاً لِذَلِكَ فَأَنْتَ أَهْلٌ لِذَلِكَ (لَهُ)
پس ببوس عتبه مباركه را و داخل شو و بگو
بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَ ارْحَمْنِي وَ تُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ‏
دوم اذن دخولى است كه علامه مجلسى رحمة الله عليه از نسخه‏اى قديمه از مؤلفات اصحاب براى دخول در سرداب مقدس و بقاع منوره ائمه عليهم السلام نقل فرموده و آن چنان است كه مى‏گويى‏
اللَّهُمَّ إِنَّ هَذِهِ بُقْعَةٌ طَهَّرْتَهَا وَ عَقْوَةٌ شَرَّفْتَهَا وَ مَعَالِمُ زَكَّيْتَهَا
حَيْثُ أَظْهَرْتَ فِيهَا أَدِلَّةَ التَّوْحِيدِ وَ أَشْبَاحَ الْعَرْشِ الْمَجِيدِ الَّذِينَ اصْطَفَيْتَهُمْ مُلُوكاً لِحِفْظِ النِّظَامِ‏
وَ اخْتَرْتَهُمْ رُؤَسَاءَ لِجَمِيعِ الْأَنَامِ وَ بَعَثْتَهُمْ لِقِيَامِ الْقِسْطِ فِي ابْتِدَاءِ الْوُجُودِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ثُمَّ مَنَنْتَ عَلَيْهِمْ بِاسْتِنَابَةِ أَنْبِيَائِكَ لِحِفْظِ شَرَائِعِكَ وَ أَحْكَامِكَ‏
فَأَكْمَلْتَ بِاسْتِخْلاَفِهِمْ رِسَالَةَ الْمُنْذِرِينَ كَمَا أَوْجَبْتَ رِئَاسَتَهُمْ فِي فِطَرِ الْمُكَلَّفِينَ‏
فَسُبْحَانَكَ مِنْ إِلَهٍ مَا أَرْأَفَكَ وَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ مِنْ مَلِكٍ مَا أَعْدَلَكَ‏
حَيْثُ طَابَقَ صُنْعُكَ مَا فَطَرْتَ عَلَيْهِ الْعُقُولَ وَ وَافَقَ حُكْمُكَ مَا قَرَّرْتَهُ فِي الْمَعْقُولِ وَ الْمَنْقُولِ‏
فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى تَقْدِيرِكَ الْحَسَنِ الْجَمِيلِ وَ لَكَ الشُّكْرُ عَلَى قَضَائِكَ الْمُعَلَّلِ بِأَكْمَلِ التَّعْلِيلِ‏
فَسُبْحَانَ مَنْ لاَ يُسْأَلُ عَنْ فَعْلِهِ وَ لاَ يُنَازَعُ فِي أَمْرِهِ‏
وَ سُبْحَانَ مَنْ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ قَبْلَ ابْتِدَاءِ خَلْقِهِ‏
وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيْنَا بِحُكَّامٍ يَقُومُونَ مَقَامَهُ لَوْ كَانَ حَاضِراً فِي الْمَكَانِ‏
لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الَّذِي شَرَّفَنَا بِأَوْصِيَاءَ يَحْفَظُونَ الشَّرَائِعَ فِي كُلِّ الْأَزْمَانِ‏
وَ اللَّهُ أَكْبَرُ الَّذِي أَظْهَرَهُمْ لَنَا بِمُعْجِزَاتٍ يَعْجِزُ عَنْهَا الثَّقَلاَنِ‏
لاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ الَّذِي أَجْرَانَا عَلَى عَوَائِدِهِ الْجَمِيلَةِ فِي الْأُمَمِ السَّالِفِينَ‏
اللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ وَ الثَّنَاءُ الْعَلِيُّ كَمَا وَجَبَ لِوَجْهِكَ الْبَقَاءُ السَّرْمَدِيُ‏
وَ كَمَا جَعَلْتَ نَبِيَّنَا خَيْرَ النَّبِيِّينَ وَ مُلُوكَنَا أَفْضَلَ الْمَخْلُوقِينَ وَ اخْتَرْتَهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ‏
وَفِّقْنَا لِلسَّعْيِ إِلَى أَبْوَابِهِمُ الْعَامِرَةِ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ وَ اجْعَلْ أَرْوَاحَنَا تَحِنُّ إِلَى مَوْطِئِ أَقْدَامِهِمْ‏
وَ نُفُوسَنَا تَهْوِي النَّظَرَ إِلَى مَجَالِسِهِمْ وَ عَرَصَاتِهِمْ حَتَّى كَأَنَّنَا نُخَاطِبُهُمْ فِي حُضُورِ أَشْخَاصِهِمْ‏
فَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سَادَةٍ غَائِبِينَ وَ مِنْ سُلاَلَةٍ طَاهِرِينِ وَ مِنْ أَئِمَّةٍ مَعْصُومِينَ‏
اللَّهُمَّ فَأْذَنْ لَنَا بِدُخُولِ هَذِهِ الْعَرَصَاتِ الَّتِي اسْتَعْبَدْتَ بِزِيَارَتِهَا أَهْلَ الْأَرَضِينَ وَ السَّمَاوَاتِ‏
وَ أَرْسِلْ دُمُوعَنَا بِخُشُوعِ الْمَهَابَةِ
وَ ذَلِّلْ جَوَارِحَنَا بِذُلِّ الْعُبُودِيَّةِ وَ فَرْضِ الطَّاعَةِ حَتَّى نُقِرَّ بِمَا يَجِبُ لَهُمْ مِنَ الْأَوْصَافِ‏
وَ نَعْتَرِفَ بِأَنَّهُمْ شُفَعَاءُ الْخَلاَئِقِ إِذَا نُصِبَتِ الْمَوَازِينُ فِي يَوْمِ الْأَعْرَافِ‏
وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ سَلاَمٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّاهِرِين

 

 
BIOGRAPHY
Name: Ja'far ibn Muhammad (a.s.)

MotherUmm Farwa, the daughter of Qasim bin Muhammad bin Abu Bakr. 

Kunniyat (Patronymic): Abu 'Abdillah. 

Laqab (Title): Al-Sadiq. 

Birth: He was born at Madina in 83 A.H. 

MartyrdomHe died of poison in 148 A.H. and is buried at Baqi near his father.

imam sadiq

BIOGRAPHY

Birth of Imam Sadiq(as):

The sun of the existence of Imam jafar as Sadiq (AS) arose from the lap of his mother Umm-e-Farwah on the 17th of Rabiul Awal, 83rd year Hijrah, in the city of Madina. Imam jafar as Sadiq (AS) has the same birth date as that of our Holy Prophet Muhammad (SAW).

Family Backgroung of Imam jafar Sadiq(as):

Imam jafar as Sadiq (AS) has three titles; they are: As-Sadiq, Al-Fadil, At-Tahir

His father Imam Muhammad Baqir (AS) was much happy and pleased by the birth of his son. His mother Umm-e-Farwah was the grand daughter of Muhammad ibn Abi Bakr, who was one of the companions of Imam Ali (AS). Imam Ali (AS) repeatedly said about him that, "Muhammad is my spiritual and moral son." Asma Bint Umais was the mother of Muhammad ibn Abi Bakr, and she was considered to be a pious woman. She was continuously in the service of Hazrat Fatima Zahra (SA) and took pride in it. After the martyrdom of her husband jafar ibn Abi Talib in the Battle of Mu’tah, Asma Bint Umais married Abu Bakr Siddiq and after his death, married to Imam Ali (AS).

imam saqid

Imam jafar as Sadiq (AS) said about her mother, "My mother was one of the pious, faithful and devoted women." Imam jafar as Sadiq (AS) was 15 years of age when his grandfather Imam Sajjad (AS) was martyred and 34 years old when his father Imam Muhammad Baqir (AS) was martyred.

Political Background:

Consequent upon the martyrdom of Imam Hussain (AS) the government of Bani Umayyah was shaken which turned the people into their enemy and pessimist about them. This opened the avenue for the formation of Bani Abbasid government. The gap in between these two powers opened the way for the propagation of Shiia ideology and school of thought. Imam jafar as Sadiq (AS) could, through a learning movement, propagate the learning’s of Islam in such a way to extend and make it reach all the people in the World.

imam saqid

Characteristic of Imam jafar Sadiq (as):

The Characteristic distinctions of Imam jafar as Sadiq (AS)We all know that the conduct of men is the reflection of their inner character and everyone can be recognized by his conduct.

There are only a very few people who do not spill out their conduct and whatever they have in their interior and do not exhibit it. Whatever they have in their hearts kindles the exterior of the electric lamp like an electric switch.

Whole of the life of Imam jafar as Sadiq (AS), like the other Imams (AS), was the enlightened lesson of the real and true Islam. He himself was considered to be the example and specimen of the Islamic ethic, moral and conduct.

 You cannot find a father and a son among all the people, of all the tribes who may resemble each other from all the angles of ideas, thoughts, character and conduct. But the family of the Prophet of Islam (PBUH) and his successors all were on the same line and performed their heavenly duty with one aim, one ideology, and did not have any kind of difference in speech, character and ethical conduct.

 

imam saqid

Ethical value and virtue of Imam Sadiq jafar (as)

About the ethical value and virtue of Imam jafar as Sadiq (AS), it is sufficient that out of four thousands of his students even a single one did not object or criticize upon the moral character and conduct of Imam jafar as Sadiq (AS), and did not find a weak point in it. He was a practical example and specimen for the Muslims with respect to eating, relaxing and resting, walking, speaking, and conducts with others. He had the same social conduct with his friends as he had with his children.

His Life

During the Imamate of the sixth Imam greater possibilities and a more favourable climate existed for him to propagate religious teachings. This came about as a result of revolts in Islamic lands, especially the uprising of the Muswaddah to overthrow the Umayyad caliphate, and the bloody wars which finally led to the fall and extinction of the Umayyads. The greater opportunities for Shi'ite teachings were also a result of the favourable ground the fifth Imam had prepared during the twenty years of his Imamate through the propagation of the true teachings of Islam and the sciences of the Household of the Prophet (sawas).

The Imam took advantage of the occasion to propagate the religious sciences until the very end of his Imamate, which was contemporary with the end of the Umayad, and beginning of the Abbasid caliphates. He instructed many scholars in different fields of the intellectual and transmitted sciences, such as Zararah, Muhammad ibn Muslim, Mu'min Taqi, Hisham ibn Hakam, Aban ibn Taghlib, Hisham ibn Salim, Hurayz, Hisham Kalbi Nassabah, and Jabir ibn Hayyan, the alchemist. Even some important Sunni scholars such as Sufyan Thawri, Abu Hanifah, the founder of the Hanafi school of law, Qadi. l Sukuni, Qadi Abu'l-Bakhtari, and others, had the honour of being his students. It is said that his classes and sessions of instruction produced four thousand scholars of hadith and other sciences. The number of traditions preserved from the fifth and sixth Imams is more than all the hadith that have been recorded from the Prophet (sawas) and the other ten Imams combined.

Towards the end of his life the Imam was subjected to severe restrictions by the Abbasid caliph Mansur, who ordered such torture and merciless killing of many of the descendants of the Prophet (sawas) who were Shi'ite that his actions even surpassed the cruelty and heedlessness of the Umayyads. On his order they were arrested in groups, some thrown into deep and dark prisons and tortured until they died, while others were beheaded or buried alive or placed at the base of or between walls of buildings, and walls were constructed over them.

Hisham, the Umayyad caliph, had ordered the sixth Imam to be arrested and brought to Damascus. Later, the Imam was arrested by Saffah., the Abbasid caliph, and brought to Iraq. Finally, Mansur had him arrested again and brought to Samarrah where he had the Imam kept under supervision, was in every way harsh and discourteous to him, and several times thought of killing him. Eventually the Imam was allowed-to return to Medina where he spent the rest of his life in hid-ing, until he was poisoned and martyred through the intrigue of Mansur.

Upon hearing the news of the imam's martyrdom, Mansur wrote to the governor of Medina instructing him to go to the house of the Imam on the pretext of expressing his condolences to the family, to ask for the Imam's will and testament and read it. Whoever was chosen by the Imam as his inheritor and successor should be beheaded on the spot. Of course the aim of Mansur was to put an end to the whole question of the Imamate and to Shi'ite aspirations. When the governor of Medina following orders, read the last will and testament. He learnt that the Imam had chosen four people rather than one to administer his last will and testament: the caliph himself, the governor of Medina, 'Abdallah Aftah., the Imam's older son and Musa, his younger son. In this way the plot of Mansur failed.

imam sadegh