حضرت امام علی نقی علیہ السلام
ولادت باسعادت

آپ بتاریخ ۵/ رجب المرجب ۲۱۴ ہجری یوم سہ شنبہ بمقام مدینہ منورہ متولد ہوئے (نورالابصارص ۱۴۹ ،دمعہ ساکبہ ص ۱۲۰) ۔ 
شیخ مفیدکاکہناہے کہ مدینہ کے قریب ایک قریہ ہے جس کانام صریا ہے آپ وہاں پیداہوئے ہیں (ارشادص ۴۹۴) ۔ 

 

اسم گرامی،کنیت، اورالقاب

آپ کااس گرامی علی، آپ کے والدماجدحضرت امام محمدتقی نے رکھا،اسے یوں سمجھنا چاہئے کہ سرورکائنات نے جواپنے بارہ جانشین اپنی ظاہری حیات کے زمانہ میں معین فرمائے تھے، ان میں سے ایک آپ کی ذات گرامی بھی تھی آپ کے والدماجدنے اسی معین اسم سے موسوم کردیا علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ چہاردہ معصومین کے اسماء لوح محفوظ میں لکھے ہوئے ہیں سرورکائنات نے اسی کے مطابق سب کے نام معین فرمائے ہیں اورہرایک کے والدنے اسی کی روشنی میں اپنے فرزندکوموسوم کیاہے (اعلام الوری ص ۲۲۵) ۔ 
کتاب کشف الغطاء ص ۴ میں ہے کہ آنحضرت نے سب کے نام حضرت عائشہ کولکھوادئیے تھے آپ کی کنیت ابوالحسن تھی … آپ کے القاب بہت کثیرہیں جن میں نقی،ناصح ،متوکل مرتضی اورعسکری زیادہ مشہورہیں (کشف الغمہ ص ۱۲۲ ، نورالابصار ۱۴۹ ، مطالب السؤل ص ۲۹۱) ۔ 

 

آپ کاعہدحیات اوربادشاہان وقت

آپ جب ۲۱۴ ہجری میں پیداہوئے تواس وقت بادشاہ وقت مامون رشیدعباسی تھا ۲۱۸ ہجری میں مامن رشیدنے انتقال کیااورمعتصم خلیفہ ہوا(ابوالفداء) 
۲۷۲ ہجری میں واثق بن معتصم خلیفہ بنایاگیا (ابوالفداء) ۲۳۲ ہجری میں واثق کاانتقا ل ہوا اورمتوکل عباسی خلیفہ مقررکیاگیا (ابوالفداء)۔ 
پھر ۲۴۷ ہجری میں منتصربن متوکل اور ۲۴۸ ہجری میں مستعین اور ۲۵۲ ہجری میں زبیرابن متوکل المکنی بہ متزباللہ علی الترتیب خلیفہ بنائے گئے(ابوالفداء ،دمعہ ساکبہ ۱۲۱) ۲۵۴ ہجری میں معتزکے زہردینے سے امام علی نقی علیہ السلام شہیدہوئے (تذکرة المعصومین)۔ 

 

حضرت امام محمدتقی کاسفربغداد اورحضرت امام علی نقی کی ولیعہدی

مامون رشیدکے انتقال کے بعد معتصم باللہ خلیفہ ہواتواس نے بھی اپنے آبائی کردارکوسراہا اورخاندانی رویہ کااتباع کیا اس کے دل میں بھی آل محمدکی طرف سے وہ جذبات ابھرے جواس کے آباؤاجدادکے دلوں میں ابھرچکے تھے،اس نے بھی چاہا کہ آل محمدکو کوئی فردسطح ارض پرباقی نہ رہے ، چنانچہ اس نے تخت نشین ہوتے ہی حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کو مدینہ سے بغدادطلب کرکے نظربندکردیاامام محمدتقی علیہ السلام نے جواپنے آباؤاجدادکی طرح قیامت تک کے حالات سے واقف تھے مدینہ سے چلتے وقت اپنے فرزندکو اپناجانشین مقررکردیا اوروہ تمام تبرکات جوامام کے پاس ہواکرتے ہیں آپ نے امام علی نقی علیہ السلام کے سپردکردئیے مدینہ منورہ سے رونہ ہوکر آپ ۹/ محرم الحرام ۲۲۰ ہجری کو واردبغدادہوئے بغدادمیں آپ کو ایک سال بھی نہ گزرتھاکہ معتصم عباسی نے آپ کوبتاریخ ۲۰/ ذی قعدہ زہرسے شہید کردیا (نورالابصارص ۱۴۷) ۔ 
اصول کافی میں ہے کہ جب امام محمدتقی علیہ السلام کوپہلی بارمدینہ سے بغدادطلب کیاگیاتو راوی خبراسماعیل بن مہران نے آپ کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی مولا، آپ کوبلانے والے دشمن آل محمدہے کہیں ایسانہ ہوکہ ہم بے امام ہوجائیں آپ نے فرمایاکہ ہم کو علم ہے تم گھبراؤ نہیں اس سفرمیں ایسانہ ہوگا اسماعیل کابیان ہے کہ جب دوبارہ آپ کومعتصم نے بلایاتوپھرمیں حاضرہوکرعرض پردازہواکہ مولایہ سفرکیسارہے گااس سوال کاجواب آپ نے آنسوؤں کے تارسے دیا اورباچشم نم کہاکہ اے اسماعیل میرے بعدعلی نقی کواپناامام جاننا اورصبر وضبط سے کام لینا۔ 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کاعلم لدنی 

 

بچپن کاواقعہ

یہ ہمارے مسلمات سے ہے کہ ہمارے آئمہ کوعلم لدنی ہوتاہے یہ خداکی بارگاہ سے علم وحکمت لے کرکامل اورمکمل دنیامیں تشریف لاتے رہے ہیں انہیں کسی سے علم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اورانہوں نے کسی دنیاوالے کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں فرمایا ”ذاتی علم وحکمت کے علاوہ مزیدشرف کمال کی تحصیل اپنے آباؤاجدادسے کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی کمسنی میں بھی یہ دنیاکے بڑے بڑے عالموں کوعلمی شکست دینے میں ہمیشہ کامیاب رہے اورجب کسی نے اپنے کوان کی کسی فردسے مافوق سمجھا تووہ ذلیل ہوکررہ گیا،یاپھر سرتسلیم خم کرنے پرمجبورہوگیا۔ 
علامہ مسعودی کابیان ہے کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی وفات کے بعدامام علی نقی علیہ السلام جن کی اس وقت عمر ۷ ۔ ۶/ سال کی تھی مدینہ میں مرجع خلائق بن گئے تھے، یہ دیکھ کروہ لوگ جوآل محمدسے دلی دشمنی رکھتے تھے یہ سوچنے پرمجبورہوگئے کہ کسی طرح ان کی مرکزیت کوختم کیاجائے اورکوئی ایسامعلم ان کے ساتھ لگادیاجائے جوانہیں تعلیم بھی دے اوران کی اپنے اصول پرتربیت کرنے کے ساتھ ان کے پاس لوگوں کے پہونچنے کاسدباب کرے، یہ لوگ اسی خیال میں تھے کہ عمربن فرج رجحی فراغت حج کے بعدمدینہ پہنچا لوگوں نے اس سے عرض مدعاکی بالآخر حکومت کے دباؤسے ایساانتظام ہوگیا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو تعلیم دینے کے لیے عراق کاسب سے بڑاعالم، ادیب عبیداللہ جنیدی معقول مشاہرہ پرلگایاگیا یہ جنیدی آل محمدکی دشمنی میں خاص شہرت رکھتاتھا۔ 
الغرض جنیدی کے پاس حکومت نے امام علی نقی علیہ السلام کورکھ دیااورجنیدی کوخاص طورپراس امرکی ہدایت کردی کہ ان کے پاس روافض نہ پہنچنے پائیں جنیدی نے آپ کوقصرصربامیں اپنے پاس رکھا ہوتایہ تھا کہ جب رات ہوتی تھی تودروازہ بندکردیاجاتاتھا اوردن میں بھی شیعوں کے ملنے کی اجازت نہ تھی اس طرح آپ کے ماننے والوں کی آمدکاسلسلہ منقطع ہوگیااورآپ کافیض جاری بندہوگیا لوگ آپ کی زیارت اورآپ سے استفادہ سے محروم ہوگئے ۔ 
راوی کابیان ہے کہ میں نے ایک دن جنیدی سے کہا غلام ہاشمی کاکیاحال ہے اس نے نہایت بری صورت بناکر کہا انہیں غلام ہاشمی نہ کہو، وہ رئیس ہاشمی ہیں ، خداکی قسم وہ اس کمسنی مین مجھ سے کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں سنو میں اپنی پوری کوشش کے بعد جب ادب کاکوئی باب ان کے سامنے پیش کرتاہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتاہوں ”یظن الناس اتی اعلمہ واناواللہ اتعلم مہ“ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ میں انہیں تعلیم دے رہاہوں لیکن خداکی قسم میں ان سے تعلیم حاصل کررہاہوں میرے بس میں یہ نہیں کہ میں انھیں پڑھا سکوں ”ہذاواللہ خیراہل الارض وافضل من بقاء اللہ“ خداکی قسم وہ حافظ قرآن ہی نہیں وہ اس کی تاویل وتنزیل کوبھی جانتے ہیں اورمختصر یہ ہے کہ وہ زمین پربسنے والوں میں سب سے بہتراورکائنات میں سب سے افضل ہیں (اثبات الوصیت ودمعہ ساکبہ ص ۱۲۱) ۔

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے کرامات اورآپ کاعلم باطن

امام علی نقی علیہ السلام تقریبا ۲۹/ سال مدینہ منورہ میں قیام پذیررہے آپنے اس مدت عمرمین کئی بادشاہوں کازمانہ دیکھا تقریبا ہرایک نے آپ کی طرف رخ کرنے سے احترازکیا یہی وجہ ہے کہ آپ امورامامت کوانجام دینے میں کامیاب رہے یعنی تبلیغ دین اورتحفظ بنائے مذہب اوررہبری ہواخواہاں میں فائزالمرام رہے آپ چونکہ اپنے آباؤاجدادکی طرح علم باطن اورعلم غیب بھی رکھتے تھے اسی لیے آپ اپنے ماننے والوں کوہونے والے واقعات سے باخبرفرمادیاکرتے تھے اورسعی فرماتے تھے کہ حتی الوسع مقدورات کے علاوہ کوئی گزند نہ پہنچنے پائے اس سلسلہ میں آپ کے کرامات بے شمارہیں جن میں سے ہم اس مقام پرکتاب کشف الغمہ سے چندکرامات تحریرکرتے ہیں۔ 
۱ ۔ محمدبن فرج رجحی کابیان ہے کہ حضرت امام علی نقی نے مجھے تحریرفرمایا کہ تم اپنے تمام امورومعاملات کوراست اورنظام خانہ کودرست کرلو اور اپنے اسلحوں کوسنبھال لو، میں نے ان کے حکم کے بموجب تمام درست کرلیا لیکن یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ حکم آپ نے کیوں دیاہے لیکن چنددنوں کے بعد مصرکی پولیس میرے یہاں آئی اورمجھے گرفتارکرکے لے گئی اورمیرے پاس جوکچھ تھا سب لے لیا اورمجھے قیدخانہ میں بندکردیا میں آٹھ سال اس قیدخانہ میں پڑارہا، ایک دن امام علیہ السلام کاخط پہنچا، جس میں مرقوم تھا کہ اے محمدبن فرج تم اس ناحیہ کی طرف نہ جانا جومغرب کی طرف واقع ہے خط پاتے ہی میری حیرانی کی کوئی حدنہ رہی میں سوچتارہا کہ میں توقیدخانہ میں ہوں میراتوادھرجاناممکن ہی نہیں پھرامام نے کیوں یہ کچھ تحریرفرمایا آپ کے خط آنے کوابھی دوچاریوم ہی گذرے تھے کہ میری رہائی کاحکم آگیا اورمیں ان کے حسب الحکم مقام ممنوع کی طرف نہیں گیا قیدخانہ سے رہائی کے بعدمیں نے امام علیہ السلام کولکھا کہ حضورمیں قیدسے چھوٹ کرگھرآگیاہوں، اب آپ خداسے دعاء فرمائیں کہ میرامال مغصوبہ واپس کرادے آپ نے اس کے جواب میں تحریرفرمایاکہ عنقریب تمہاراسارامال تمہیں واپس مل جائے گا چنانچہ ایساہی ہوا۔ 
۲ ۔ ایک دن امام علی نقی علیہ السلام اورعلی بن حصیب نامی شخص دونوں ساتھ ہی راستہ چل رہے تھے علی بن حصیب آپ سے چندگآم آگے بڑھ کرلولے آپ بھی قدم بڑھاکرجلدآجائیے حضرت نے فرمایاکہ اے ابن حصیب ”تمہیں پہلے جاناہے“ تم جاؤ اس واقعہ کے چاریوم بعدابن حصیب فوت ہوگئے۔ 
۳ ۔ ایک شخص محمدبن فضل بغدادی کابیان ہے کہ میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کولکھا کہ میرے پاس ایک دکان ہے میں اسے بیچنا چاہتاہوں آپ نے اس کاکوئی جواب نہ دیا جواب نہ ملنے پرمجھے افسوس ہوا لیکن جب میں بغداد واپس پہنچا تووہ آگ لگ جانے کی وجہ سے جل چکی تھی۔ 
۴ ۔ ایک شخص ابوایوب نامی نے امام علیہ السلام کولکھاکہ میری زوجہ حاملہ ہے، آپ دعا فرمائیے کہ لڑکاپیداہو،آپ نے فرمایاانشاء اللہ اس کے لڑکاہی پیداہوگا اورجب پیداہوتو اس کانام محمدرکھنا چنانچہ لڑکاہی پیداہوا، اوراس کانام محمدرکھاگیا۔ 
۵ ۔ یحی بن زکریاکابیان ہے کہ میں نے امام علی نقی علیہ السلام کولکھاکہ میری بیوی حاملہ ہے آپ دعافرمائیں کہ لڑکاپیداہوآپ نے جواب میں تحریرفرمایا، کہ بعض لڑکیاں لڑکوں سے بہترہوتی ہیں، چنانچہ لڑکی پیداہوئی۔ 

 

عہدواثق کاایک واقعہ

۶ ۔ ابوہاشم کابیان ہے کہ میں ۲۲۷ ہجری میں ایک دن حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضرتھا کہ کسی نے آکرکہاکہ ترکوں کی فوج گذررہی ہے امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ائے ابوہاشم چلوان سے ملاقات کریں میںحضرت کے ہمراہ ہوکرلشکریوں تک پہنچا حضرت نے ایک غلام ترکی سے اس کی زبان میں گفتگوشروع فرمائی اوردیرتک باتیں کرتے رہے اس ترکی سپاہی نے آپ کے قدموں کابوسہ دیا میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کونسی چیزہے جس نے تجھے امام کاگرویدہ بنادیاہے اس نے کہاامام نے مجھے اس نام سے پکاراجس کاجاننے والا میرے باپ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ 

 

تہترزبانوں کی تعلیم

۷ ۔ ابوہاشم کہتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے مجھ سے ہندی زبان میں گفتگوکی جس کامیں جواب نہ دے سکا توآپ نے فرمایاکہ میں تمہیں ابھی ابھی تمام زبانوں کاجاننے والابتائے دیتا ہوں یہ کہہ کرآپ نے ایک سنگریزہ اٹھایا اوراسے اپنے منہ میں رکھ لیا اس کے بعداس سنگریزہ کومجھے دیتے ہوئے فرمایاکہ اسے چوسو، میں نے منہ میں رکھ کراسے اچھی طرح چوسا، اس کانتیجہ یہ ہواکہ میں تہترزبانوں کاعالم بن گیا جن میں ہندی بھی شامل تھی اس کے بعدسے پھرمجھے کسی زبان کے سمجھنے اوربولنے میں دقت نہ ہوئی ص ۱۲۲ تا ۱۲۵ 

 

امام علی نقی کے ہاتھوں میں ریت کی قلب ماہیت

۸ ۔ آئمہ طاہرین کے اولوالامرہونے پرقرآن مجیدکی نص صریح موجودہے ان کے ہاتھوں اورزبان میں خداوند جوارادہ کریں اس کی تکمیل ہوجائے جوحکم دیں اس کی تعمیل ہوجائے ابوہاشم کابیان ہے کہ ایک دن میں نے امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں اپنی تنگ دستی کی شکایت کی آپ نے فرمایابڑی معمولی بات ہے تمہاری تکلیف دورہوجائے گی اس کے بعدآپ نے رمل یعنی ریت کی ایک مٹھی زمین سے اٹھاکرمیرے دامن میں ڈال دی اورفرمایااسے غورسے دیکھو اوراسے فروخت کرکے کام نکالو ابوہاشم کہتے ہیں کہ خداکی قسم جب میں نے اسے دیکھاتووہ بہترین سونا تھا، میں نے اسے بازارلے جاکرفروخت کردیا(مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۹) ۔ 

 

امام علی نقی اوراسم اعظم

۹ ۔ حضرت ثقة الاسلام علامہ کلینی اصول کافی میں لکھتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا اسم اللہ الاعظم ۷۳/ حروف میں ان میں سے صرف ایک حرف آصف برخیا وصی سلیمان کودیاگیاتھا جس کے ذریعہ سے انہوں نے چشم ردن میں ملک سباسے تخت بلقیس منگوالیاتھا اوراس منگوانے میں ہوایہ تھا کہ زمین سمٹ کرتخت کوقریب لے آئی تھی، اے نوفلی(راوی) خداوندعالم نے ہمیں اسم عظم کے بہترحروف دئیے ہیں اوراپنے لیے صرف ایک حرف محفوظ رکھاہے جوعلم غیب سے متعلق ہے مسعودی کاکہناکاہے کہ اس کے بعدامام نے فرمایاکہ خداونداعالم نے اپنی قدرت اوراپنے اذن وعلم سے ہمیں وہ چیزیں عطاکی ہیں جوحیرت انگیزاورتعجب خیزہیں مطلب یہ ہے کہ امام جوچاہیں کرسکتے ہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوسکتی(اصول کافی،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۸ ، دمعہ ساکبہ ص ۱۲۶) ۔ 

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورصیحفہ کاملہ کی ایک دعا

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے ایک صحابی سبع بن حمزہ قمی نے آپ کوتحریرکیاکہ مولامجھے خلیفہ معتصم کے وزیرسے بہت دکھ پہنچ رہاہے مجھے اس کابھی اندیشہ ہے کہ کہیں وہ میری جان نہ لے لے حضرت نے اس کے جواب میں تحریرفرمایا کہ گھبراؤ نہیں اوردعائے ”صحیفہ کاملہ“ یامن تحل بہ عقدالمکارہ الخ پڑھو مصیبت سے نجات پاؤگے۔ 
یسع بن حمزہ کابیان ہے کہ میں نے امام کے حسب الحکم نمازصبح کے بعداس دعاکی تلاوت کی جس کاپہلے ہی دن یہ نتیجہ نکلاکہ وزیر خودمیرے پاس آیا مجھے اپنے ہمراہ لے گیا اورلباس فاخرہ پہناکرمجھے بادشاہ کے پہلومیں بٹھادیا۔ 

 

حکومت کی طرف سے امام علی نقی کی مدینہ سے سامرہ میں طلبی اور راستہ کاایک اہم واقعہ

متوکل ۲۳۲ ہجری میں خلیفہ ہوا اوراس نے ۲۳۶ ہجری میں امام حسین علیہ السلام کی قبرکے ساتھ پہلی باربے ادبی کی، لیکن اس میں پوری کامیابی نہ حاصل ہونے پراپنے فطری بغض کی وجہ سے جوآل محمدکے ساتھ تھا وہ حضرت علی نقی علیہ السلام کے طرف متوجہ ہوا متوکل ۲۴۳ ہجری میں امام علی نقی کوستانے کی طرف متوجہ ہوا، اوراس نے حاکم مدینہ عبداللہ بن محمدکوخفیہ حکم دے کربھیجا کہ فرزندرسول امام علی نقی کوستانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے چنانچہ اس نے حکومت کے منشاء کے مطابق پوری توجہ اورپورے انہماک کے ساتھ اپنا کام شروع کردیا خودجس قدرستاسکا اس نے ستایا اورآپ کے خلاف ریکارڈ کے لیے متوکل کوشکایات بھیجنی شروع کیں۔ 
علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام کویہ معلوم ہوگیاکہ حاکم مدینہ نے آپ کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردی ہیں اوراس سلسلہ میں اس نے متوکل کوآپ کی شکایات بھیجنی شروع کردی ہیں توآپ نے بھی ایک تفصیلی خط لکھا جس میں حاکم مدینہ کی بے اعتدالی اورظلم آفرینی کاخاص طورسے ذکرکیا متوکل نے آپ کا خط پڑھ کرآپ کواس کے جواب میں لکھاکہ آپ ہمارے پاس چلے آئیے اس میں حاکم مدینہ کے عمل کی معذرت بھی تھی، یعنی جوکچھ وہ کررہاہے اچھانہیں کرتا ہم اس کی طرف سے معذرت خواہ ہیں مطلب یہ تھا کہ اسی بہانہ سے انہیں سامرہ بلالے خط میں اس نے اتنانرم لہجہ اختیارکیاتھا جوایک بادشاہ کی طرف سے نہیں ہواکرتا یہ سب حیلہ سازی تھی اورغرض محض یہ تھی کہ آپ مدینہ چھوڑکرسامرہ پہنچ جائیں (نورالابصارص ۱۴۹) ۔ 
علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ متوکل نے یہ بھی لکھاتھا کہ میں آپ کی خاطرسے عبداللہ ابن محمدکومعزول کرکے اس کی جگہ پرمحمدبن فضل کومقررکررہاہوں (جلاء العیون ص ۲۹۲) ۔ 
علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ متوکل نے صرف یہ نہیں کیا کہ علی نقی علیہ السلام کوخط لکھا ہوکہ آپ سامرہ چلے آئیے بلکہ اس نے تین سوکا لشکریحی بن ہرثمہ کی قیادت میں مدینہ بھیج کرانہیں بلاناچاہا، یحی بن ہرثمہ کابیان ہے کہ میں حکم متوکل پاکرامام علیہ السلام کولانے کے لیے بہ ارادہ مدینہ منورہ روانہ ہوگیا میرے ہمراہ تین سوکالشکرتھا اوراس میں ایک کاتب بھی تھاجوامامیہ مذہب رکھتاتھا ہم لوگ اپنے راستہ پر جارہے تھے اوراس سعی میں تھے کہ کسی طرح جلدسے جلدمدینہ پہنچ کرامام علیہ السلام کولے آئیں اورمتوکل کے سامنے پیش کریں ہمارے ہمراہ جوایک شیعہ کاتب تھا اس سے ایک لشکرکے افسرسے راستہ بھرمذہبی مناظرہ ہوتارہا۔ 
یہاں تک کہ ہم لوگ ایک عظیم الشان وادی میں پہنچے جس کے اردگرد میلوں کوئی آبادی نہ تھی اوروہ ایسی جگہ تھی جہاں سے انسان کامشکل سے گزرہوتاتھا بالکل جنگل اوربے آب وگیاہ صحراتھا جب ہمارے لشکروہاں پہنچاتواس افسرنے جس کانام ”شادی“ تھا، اورجوکاتب سے مناظرہ کرتاچلاآرہاتھا کہنے لگااے کاتب تمہارے امام حضرت علی کایہ قول ہے کہ دنیاکی کوئی ایسی وادی نہ ہوگی جس میں قبرنہ ہویاعنقریب قبرنہ بن جائے کاتب نے کہا بے شک ہمارے امام علیہ السلام غالب کل غالب کایہی ارشادہے اس نے کہابتاؤاس زمین پرکس کی قبرہے یاکس کی قبربن سکتی ہے تمہارے امام یونہی کہہ دیاکرتے ہیں ابن ہرثمہ کاکہنا ہے کہ میں چونکہ حشوی خیال کاتھا لہذاجب یہ باتیں ہم نے سنیں توہم سب ہنس پڑے اورکاتب شرمندہ ہوگیاغرض کہ لشکربڑھتارہااوراسی دن مدینہ پہنچ گیا واردمدینہ ہونے کے بعد میں نے متوکل کاخط امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا امام علیہ السلام نے اسے ملاحظہ فرماکرلشکرپرنظرڈالی اورسمجھ گئے کہ دال میں کچھ کالاہے آپ نے فرمایااے ابن ہرثمہ چلنے کوتیارہوں لیکن ایک دوروزکی مہلت ضروری ہے میں نے عرض کی حضور”خوشی سے“ جب حکم فرمائیں میں حاضرہوجاؤں اورروانگی ہوجائے ۔ 
ابن ہرثمہ کابیان ہے کہ امام علیہ السلام نے میرے سامنے ملازمین سے کہاکہ درزی بلادواوراس سے کہوکہ مجھے سامرہ جاناہے لہذا راستے کے لیے گرم کپڑے اورگرم ٹوپیاں جلدسے جلدتیارکردے میں وہاں سے رخصت ہوکراپنے قیام گاہ پرپہنچااورراستے بھریہ سوچتارہاکہ امامیہ کیسے بیوقوف ہیں کہ ایک شخص کوامام مانتے ہیں جسے (معاذاللہ) یہ تک تمیزنہیں ہے کہ یہ گرمی کازمانہ ہے یاجاڑے کا، اتنی شدیدگرمی میں جاڑے کے کپڑے سلوارہے ہیں اوراسے ہمراہ لے جانا چاہتے ہیں الغرض میں دوسرے دن ان کی خدمت میں حاضرہواتودیکھا کہ جاڑے کے بہت سے کپڑے سلے ہوئے رکھے ہیں اورآپ سامان سفر درست فرمارہے ہیں اوراپنے ملازمین سے کہتے جاتے ہیں دیکھوکلاہ بارانی اوربرساتی وغیرہ رہنے نہ پائے سب ساتھ میں باندھ دو، اس کے بعدمجھے کہااے یحی بن ہرثمہ جاؤتم بھی اپناسامان درست کروتاکہ مناسب وقت میں روانگی ہوجائے میں وہاں سے نہایت بددل واپس آیا دل میں سوچتاتھا کہ انہیں کیاہوگیاہے کہ اس شدیدگرمی کے زمانہ میں سردی اوربرسات کاسامان ہمراہ لے رہے ہیں اورمجھے بھی حکم دیتے ہیں کہ تم بھی اس قسم کے سامان ہمراہ لے لو۔ 
مختصریہ کہ سامان سفردرست ہوگیااورروانگی ہوگئی میرالشکرامام علیہ السلام کوگھیرے میں لیے ہوئے جارہاتھا کہ ناگاہ اسی وادی میں جاپہنچے، جس کے متعلق کاتب امامیہ اورافسرشادی میں یہ گفتگوہوئی تھی کہ یہاں پرکس کی قبرہے یاہوگی اس وادی میں پہنچناتھا کہ قیامت آگئی، بادل گرجنے لگے،بجلی چمکنے لگی اوردوپہرکے وقت اس قدرتاریکی چھائی کہ ایک دوسرے کودیکھ نہ سکتاتھا ، یہاں تک کہ بارش ہوئی اورایسی موسلادھاربارش ہوئی کہ عمربھرنہ دیکھی تھی امام علیہ السلام نے آثارپیداہوتے ہی ملازمین کوحکم دیاکہ برساتی اوربارانی ٹوپیاں پہن لو اورایک برساتی یحی بن ہرثمہ اورایک کاتب کودیدو غرض کہ خوب بارش ہوئی اورہوااتنی ٹھنڈی چلی کہ جان کے لالے پڑگئے جب بارش تھمی اوربادل چھٹے تو میں نے دیکھاکہ ۸۰/ افرادمیری فوج کے ہلاک ہوگئے ہیں ۔ 
امام علیہ السلام نے فرمایاکہ اے یحی بن ہرثمہ اپنے مردوں کودفن کردو اوریہ جان لو کہ ”خدائے تعالی ہم چنین پرمی گرواندبقاع راازقبور“ اس طرح خداوندعالم نے ہربقعہ ارض کو قبروں سے پرکرتاہے اسی لیے میرے جدنامدارحضرت علی علیہ السلام نے فرمایاکہ زمین کاکوئی ٹکڑاایسانہ ہوگا جس میں قبرنہ بنی ہو 
”یہ سن کرمیں اپنے گھوڑے سے اترپڑااورامام علیہ السلام کے قریب جاکرپابوس ہوا،اوران کی خدمت میں عرض کی مولامیں آج آپ کے سامنے مسلمان ہوتاہوں، یہ کہہ کرمیں نے اس طرح کلمہ پڑھا ”اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ وانکم خلفاء اللہ فی ارضہ “ اوریقین کرلیاکہ یہی حضرت خداکی زمین پرخلیفہ ہیں اوردل میں سوچنے لگاکہ اگرامام علیہ السلام نے جاڑے اوربرسات کاسامان نہ لیاہوتااوراگرمجھے نہ دیاہوتا تومیرا کیاحشرہوتاپھروہاں سے روانہ ہوکر ”عسکر“ پہنچا اورآپ کی امامت کاقائل رہ کرزندہ رہا اورتاحیات آپ کے جدنامدارکاکلمہ پڑھتارہا (کشف الغمہ ص ۱۲۴) ۔ 
علامہ جامی اورعلامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ دوسوسے زائدافرادآپ کے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے سامرہ پہنچے وہاں آپ کے قیام کا کوئی انتظام نہیں کیاگیاتھا اورحکم تھا متوکل کاکہ انہیں فقیروں کے ٹہرانے کی جگہ اتاراجائے چنانچہ آپ کوخان الصعالیک میں اتارگیا وہ جگہ بدترین تھی وہاں شرفاء نہیں جایاکرتے تھے ایک دن صالح بن سعیدنامی ایک شخص جوآپ کے ماننے والے تھے آپ کی خدمت میں حاضرہوئے اورکہنے لگے مولایہ لوگ آب کی قدرومنزلت پرپردہ ڈالنے اورنورخداکوچھپانے کی کس قدرکوشش کرتے ہیں کجاحضورکی ذات اقدس اورکجایہ قیام گاہ حضرت نے فرمایاائے صالح تم دل تنگ نہ ہو۔میں اس کی عزت افزائی کاخواہاں اوران کی کرم گستری کاجویاں نہیں ہوں خداوندعالم نے آل محمدکوجودرجہ دیاہے اورجومقام عطافرمایاہے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اے صالح بن سعید میں تمہیں خوش کرنے کے لیے بتاناچاہتاہوں کہ تم مجھے اس مقام پردیکھ کرپریشان نہ ہوخداوندعالم نے یہاں بھی میرے لیے بہشت جیسا بندوبست فرمایاہے یہ کہہ کرآپ نے انگلی سے اشارہ کیااورصالح کی نظرمیں بہترین باغ بہترین قصوراوربہترین نہریں وغیرہ نظرآنے لگیں صالح کابیان ہے کہ یہ دیکھ کرمجھے قدرے تسلی ہوگئی (شواہدالنبوت ص ۲۰۸ ، نورالابصارص ۱۵۰) ۔ 

 

امام علی نقی علیہ السلام کی نظربندی

امام علی نقی علیہ السلام کودھوکہ سے بلانے کے بعدپہلے توخان الصعالیک میں پھر اس کے بعد ایک دوسرے مقام میں آپ کونظربندکردیا اورتاحیات اسی میں قیدرکھا امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ متوکل آپ کے ساتھ ظاہرداری ضرورکرتاتھا، لیکن آپ کاسخت دشمن تھا اس نے حیلہ سازی اوردھوکہ بازی سے آپ کوبلایا اوردر پردہ ستانے اورتباہ کرنے اورمصیبتوں میں مبتلاکرنے کے درپے رہا (نورالابصار ص ۱۵۰) ۔ 
علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ متوکل نے آپ کوجبرا بلاکرسامرہ میں نظربندکردیا اورتازندگی باہرنہ نکلنے دیا (صواعق محرقہ ص ۱۲۴) ۔ 

 

امام علی نقی علیہ السلام کا جذبہ ہمدردی

مدینہ سے سامرہ پہنچنے کے بعد بھی آپ کے پاس لوگوں کی آمدکاتانتا بندھارہا لوگ آپ سے فائدے اٹھاتے اوردینی اوردنیاوی امورمیں آپ سے مدد چاہتے رہے اورآپ حل مشکل میں ان کے کام آتے رہے علمائے اسلام لکھتے ہیں کہ سامرہ پہنچنے کے بعدجب آپ کی نظر بندی میں سختی اورشدت نہ تھی ایک دن آپ سامرہ کے ایک قریہ میں تشریف لے گئے آپ کے جانے کے بعدایک سائل آپ کے مکان پرآیا، اسے یہ معلوم ہوا کہ آپ فلاں گاوں میں تشریف لے گئے ہیں، وہ وہاں چلاگیا اورجاکرآپ سے ملا، آپ نے پوچھا کہ تم کیسے آئے ہو تمہاراکیاکام ہے؟ 
اس نے عرض کی مولامیں غریب آدمی ہوں، مجھ پردس ہزاردرہم قرض ہوگیاہے اوراس کی ادائیگی کی کوئی سبیل نہیں، مولا خداکے لیے مجھے اس بلاسے نجات دلائیے حضرت نے فرمایاگھبراؤنہیں ،انشاء اللہ تمہاراقرضہ کی ادائیگی کابندوبست ہوجائے گا وہ سائل رات کو آپ کے ہمراہ مقیم رہاصبح کے وقت آپ نے اس سے کہاکہ میںتمہیں جوکہوں اس کی تعمیل کرنا اوردیکھو اس امرمیں ذرا بھی مخالفت نہ کرنا اس نے تعمیل ارشادکاوعدہ کیا آپ نے اسے ایک خط لکھ کردیا جس میں یہ مرقوم تھا کہ ”میں دس ہزاردرہم اس کے اداکردوں گا“اورفرمایاکہ کل میں سامرہ پہنچ جاؤں گا جس وقت میں وہاں کے بڑے بڑے لوگوں کے درمیان بیٹھاہوں توتم مجھ سے روپے کاتقاضاکرنا اس نے عرض کی حضوریہ کیوں کرہوسکتاہے کہ میں لوگوں میں آپ کی توہین کروں حضرت نے فرمایاکوئی حرج نہیں، میں تم سے جوکہوں وہ کرو غرض کہ سائل چلاگیا اورجب آپ سامرہ واپس ہوئے اورلوگوں کوآپ کی واپسی کی اطلاع ملی تواعیان شہرآپ سے ملنے آئے جس وقت آپ لوگوں سے محوملاقات تھے سائل مذکوربھی پہنچ گیا سائل نے ہدایت کے مطابق آپ سے رقم کاتقاضہ کیا آپ نے بہت نرمی سے اسے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ ٹلا اوربدستوررقم مانگتارہا بالاخرحضرت نے اس سے تین میں ادائیگی کاوعدہ فرمایا اوروہ چلاگیا یہ خبرجب بادشاہ وقت کوپہنچی تواس نے مبلغ تیس ہزاردرہم آپ کی خدمت میں بھیج دئیے، تیسرے دن جب سائل آیاتو آپ نے اسے فرمایاکہ تیس ہزاردرہم لے لے اوراپنی راہ لگ اس نے عرض کی مولامیرا قرضہ توصرف دس ہزارہے آپ تیس ہزاردے رہے ہیں آپ نے فرمایا جوقرضہ کی ادائیگی سے بچے اسے اپنے بچوں پرصرف کرنا وہ بہت خوش ہوا اوریہ پڑھتاہوا ”اللہ یعلم حیث یجعل رسالتہ“ خداہی خوب جانتاہے کہ رسالت وامامت کاکون اہل ہے) اپنے گھرچلاگیا (نورالابصارص ۱۴۹ ، صواعق محرقہ، ۱۲۳ ، شواہدالنبوت ص ۲۰۷ ، ارجح المطالب ص ۴۶۱) ۔ 

 

امام علی نقی کی حالت سامرہ پہنچنے کے بعد

متوکل کی نیت خراب تھی ہی امام علیہ السلام کے سامرہ پہنچنے کے بعداس نے اپنی نیت کامظاہرعمل سے شروع کیا اورآپ کے ساتھ نامناسب طریقہ سے دل کابخارنکالنے کی طرف متوجہ ہوا لیکن اللہ جس کی لاٹھی میں آوازنہیں اس نے اسے کیفرکردارتک پہنچادیا مگراس کی زندگی میں بھی ایسے آثاراوراثرات ظاہرکئے جس سے وہ یہ بھی جان لے کہ وہ جوکچھ کررہاتھا خداونداسے پسندنہیں کرتا مورخ اعظم لکھتے ہیں کہ متوکل کے زمانے میں بڑی آفتیں نازل ہوئیں بہت سے علاقوں میں زلزلے آئے زمینیں دھنس گئیں آگیں لگیں، آسمان سے ہولناک آوازیں سنائی دیں، بادسموم سے بہت سے جانوراورآدمی ہلاک ہوئے ، آسمان سے مثل ٹڈی کے کثرت سے ستارے ٹوٹے دس دس رطل کے پتھرآسمان سے برسے، رمضان ۲۴۳ ہجری میں حلب میں ایک پرندہ کوے سے بڑاآکربیٹھا اوریہ شورمچایا ”یاایہاالناس اتقواللہ اللہ اللہ “ چالیس دفعہ یہ آوازلگاکر اڑگیا دودن ایساہی ہوا (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۶۵) ۔ 

 

حضرت امام علی نقی اورسواری کی برق رفتاری

علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے مدینہ سے سامرہ تشریف لے جانے کے بعد ایک دن ابوہاشم نے کہا مولامیرا دل نہیں مانتا کہ میں ایک دن بھی آپ کی زیارت سے محروم رہوں ، بلکہ جی چاہتاہے کہ ہرروز آپ کی خدمت میں حاضرہواکروں حضرت نے پوچھا اس کے لیے تمہیں کونسی رکاوٹ ہے انہوں نے عرض کی میراقیام بغدادہے اورمیری سواری کمزورہے حضرت نے فرمایا”جاو“ اب تمہاری سواری کاجانور طاقتورہوجائے گا اوراس کی رفتاربہت تیزہوجائے گی ابوہاشم کابیان ہے کہ حضرت کے اس ارشادکے بعدسے ایساہوگیاکہ میں روزانہ نمازصبح بغدادمیں نمازظہرسامرہ عسکرمیں اورنمازمغرب بغدادمیں پڑھنے لگا (اعلام الوری ص ۲۰۸) ۔ 

 

دوماہ قبل عزل قاضی کی خبر

علامہ جامی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ سے آپ کے ایک ماننے والے نے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے بغدادکے قاضی شہر کی شکایت کی اورکہاکہ مولاوہ بڑا ظالم ہے ہم لوگوں کو بے حد ستاتاہے آپ نے فرمایا گھبراونہیں دوماہ بعد بغدادمیں نہ رہے گا راوی کابیان ہے کہ جونہی دوماہ پورے ہوئے قاضی اپنے منصب سے معزول ہوکراپنے گھربیٹھ گیا (شواہدالنبوت)۔ 

 

آپ کااحترام جانوروں کی نظرمیں

علامہ موصوف یہ بھی لکھتے ہیں کہ متوکل کے مکان میں بہت سی بطخیں پلی ہوئی تھیں جب کوئی وہاں جاتاتووہ اتناشورمچایاکرتی تھیں کہ کان پڑی آوازسنائی نہ دیتی تھی لیکن جب امام علیہ السلام تشریف لے جاتے تھے تووہ سب خاموش ہوجاتی تھیں اورجب تک آپ وہاں تشریف رکھتے تھے وہ چپ رہتی تھیں (شواہدالنبوت)۔ 

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورخواب کی عملی تعبیر

احمدبن عیسی الکاتب کابیان ہے کہ میں نے ایک شب خواب میں دیکھا کہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماہیں اورمیں ان کی خدمت میں حاضرہوں، حضرت نے میری طرف نظراٹھاکردیکھا اوراپنے دست مبارک سے ایک مٹھی خرمہ اس طشت سے عطافرمایا جوآپ کے سامنے رکھاہواتھا میں نے انہیں گناتووہ پچس تھے اس خواب کوابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ مجھے معلوم ہواکہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام سامرہ سے تشریف لائے ہیں میں ان کی زیارت کے لیے حاضرہوا تومیں نے دیکھا کہ ان کے سامنے ایک طشت رکھا ہے جس میں خرمے ہیں میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کوسلام کیا حضرت نے جواب سلام دینے کے بعد ایک مٹھی خرمہ مجھے عطافرمایا ، میں نے ان خرموں کوشمارکیا تووہ پچیس تھے میں نے عرض کی مولاکیا کچھ خرمہ اورمل سکتاہے جواب میں فرمایا! اگرخواب میں تمہیں رسول خدانے اس سے زیادہ دیاہوتاتومیں بھی اضافہ کردیتا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۴) ۔ 
اسی قسم کا واقعہ امام جعفرصادق علیہ السلام اورامام علی رضاعلیہ السلام کے لیے بھی گزراہے۔ 

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورفقہائے مسلمین

یہ تومانی ہوئی بات ہے کہ آل محمدوہ ہیں جن کے گھرمیں قرآن مجیدنازل ہوا ان سے بہترنہ قرآن کاسمجھنے والاہے، نہ اس کی تفسیرجاننے والا، علماء کابیان ہے کہ جب متوکل کوزہردیاگیا تواس نے یہ نذرمانی کہ ”اگرمیں اچھاہوگیاتوراہ خدامیں مال کثیردوں گا“ پھرصحت پانے کے بعد اس نے اپنے علماء اسلام کوجمع کیااوران سے واقعہ بیان کرکے مال کثیرکی تفصیل معلوم کرناچاہی اس کے جواب میں ہرایک نے علیحدہ علیحدہ بیان دیا ایک فقیہ نے کہا مال کثیرسے ایک ہزاردرہم دوسرے فقیہ نے کہا دس ہزاردرہم ،تیسرے نے کہاایک لاکھ درہم مرادلینا چاہئے متوکل ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ ایک دربان سامنے آیا جس کانام ”حسن“ تھا عرض کرنے لگا کہ حضوراگرمجھے حکم ہواتومیں اس کاصحیح جواب لادوں متوکل نے کہابہترہے جواب لاو اگرتم صحیح جواب لائے تو دس ہزاردرہم تم کوانعام دوں گا اوراگرتسلی بخش جواب نہ لاسکے توسوکوڑے ماروں گا اس نے کہامجھے منظورہے اس کے بعد دربان حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں گیا امام علیہ السلام جونظربندی کی زندگی بسرکررہے تھے دربان کودیکھ کربولے اچھامال کثیرکی تفصیل پوچھنے آیاہے جا اورمتوکل سے کہہ دے مال کثیرسے اسی درہم مرادہے دربان نے متوکل سے یہی کہہ دیا متوکل نے کہا جاکردلیل معلوم کر ،وہ واپس آیا حضرت نے فرمایا کہ قرآن مجیدمیں آنحضرت علیہ السلام کے لیے آیا ہے ہ ”لقدنصرکم اللہ فی مواطن کثیرة“ اے رسول اللہ نے تمہاری مددمواطن کثیرہ یعنی بہت سے مقامات پرکی ہے جب ہم نے ان مقامات کاشمارکیا جن میں خدانے آپ کی مددفرمائی ہے تووہ حساب سے اسی ہوتے ہیں معلوم ہواکہ لفظ کثیرکااطلاق اسی پرہوتاہے یہ سن کرمتوکل خوش ہوگیا اوراس نے اسی درہم صدقہ نکال کر دس ہزاردرہم دربان کوانعام دیا (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۶) ۔ 
اسی قسم کاایک واقعہ یہ ہے کہ متوکل کے دربارمیں ایک نصرانی پیش کیاگیاجومسلمان عورت سے زنا کرتاہواپکڑاگیا جب وہ دربارمیں آیاتوکہنے لگا مجھ پرحدجاری نہ کی جائے میں اس وقت مسلمان ہوتاہوں یہ سن کرقاضی یحی بن اکثم نے کہاکہ اسے چھوڑدیناچاہئے کیونکہ یہ مسلمان ہوگیا ایک فقیہ نے کہا کہ نہیںحدجاری ہوناچاہئے غرض کہ فقہائے مسلمین میں اختلاف ہوگیا متوکل نے جب یہ دیکھاکہ مسئلہ حل ہوتانظرنہیں آتا توحکم دیا کہ امام علی نقی کوخط لکھ کران سے جواب منگایاجائے ۔ 
چنانچہ مسئلہ لکھا گیا حضرت امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں تحریرفرمایا ”یضرب حتی یموت “ کہ اسے اتناماراجائے کہ مرجائے جب یہ جواب متوکل کے دربارمیں پہنچا تویحی بن اکثم قاضی شہراورفقیہ سلطنت نیزدیگرفقہانے کہا اس کاکوئی ثبوت قران مجیدمیں نہیں ہے براہ مہربانی اس کی وضاحت فرمائیے آپ نے خط ملاحظہ فرماکریہ آیت تحریرفرمائی جس کاترجمہ یہ ہے (جب کافروں نے ہماری سختی دیکھی توکہاکہ ہم اللہ پرایمان لاتے ہیں اوراپنے کفرسے توبہ کرتے ہیں یہ ان کاکہناان کے لیے مفیدنہ ہوا، اورنہ ایمان لاناکام آیا) 
آیت پڑھنے کے بعدمتوکل نے تمام فقہا کے اقوال کومستردکردیا اورنصرانی کے لیے حکم دیدیا کہ اسے اس قدر ماراجائے کہ ”مرجائے“ (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۰) ۔ 

 

شاہ روم کوحضرت امام علی نقی کاجواب

علامہ محمدباقرنجفی لکھتے ہیں کہ بادشاہ روم نے خلیفہ وقت کولکھا کہ میں نے انجیل میں پڑھاہے کہ جوشخص اس سورہ کی تلاوت کرے گا جس میں یہ سات لفظ نہ ہوں ث، ج، ح، ز، ش، ظ ، ف، وہ جنت میں جائے گا اسے دیکھنے کے بعد میں نے توریت وزبورکااچھی طرح مطالعہ کیا لیکن اس قسم کاکوئی سورہ اس میں نہیں ملا آپ ذرااپنے علماء سے تحقیق کرکے لکھیے کہ شایدیہ بات آپ کے قرآن مجیدمیں ہوبادشاہ وقت نے بہت سے علماء جمع کئے اوران کے سامنے یہ چیز پیش کی سب نے بہت دیرتک غورکیا لیکن کوئی اس نتیجہ پرنہ پہنچ سکا کہ تسلی بخش جواب دے سکے جب خلیفہ وقت تمام علماء سے مایوس ہوگیا توامام علی نقی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوا جب آپ دربارمیں تشریف لائے اورآپ کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیاگیا توآپ نے بلاتاخیرفرمایاوہ سورہ حمدہے اب جوغورکیاگیا توبالکل ٹھیک پایاگیا ، بادشاہ اسلام خلیفہ وقت نے عرض کی، ابن رسول اللہ کیااچھاہوتا اگرآپ اس کی وجہ بھی بتادیتے کہ یہ حروف اس سورہ میں کیوں نہیں لائے گیے کہ آپ نے فرمایا یہ سورہ رحمت وبرکت ہے اس میں یہ حروف اس لے نہیں لائے گئے کہ (ث) سے ثبورہلاکت تباہی، بربادی کی طرف،ج ۔سے جہیم جہنم کی طرف ، خ۔ خیبت یعنی خسران کی طرف،ز۔ سے زقوم یعنی تھوہڑکی طرف،ش۔ سے شقاوت کی طرف،ظ۔ سے ظلمت کی طرف،ف۔ سے فرقت کی طرف تبادرذہنی ہوتاہے اوریہ تمام چیزیں رحمت وبرکت کے معافی ہیں۔ 
خلیفہ وقت نے آپ کاتفصیلی بیان شاہ روم کوبھیج دیا بادشاہ روم نے جونہی اسے پڑھا وہ مسرورہوگیا اوراسی وقت اسلام لایا اورتاحیات مسلمان رہا (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۰ بحوالہ شرح شافیہ ابوفراس)۔ 

 

متوکل کے کہنے سے ابن سکیت وابن اکثم کاامام علی نقی سے سوال

علماء کابیان ہے کہ ایک دن متوکل اپنے دربارمیں بیٹھاہواتھا دیگرکاموں سے فراغت کے بعدابن سکیت کی طرف متوجہ ہوکر بولاابوالحسن سے ذراسخت سخت سوال کرو ابن سکیت نے اپنی قابلیت بھرسوال کئے امام علیہ السلام نے تمام سوالات کے مفصل اورمکمل جواب دیئے یہ دیکھ کر یحی ابن اکثم قاضی سلطنت نے کہااے ابن سکیت تم نحو،شعر،لغت کے عالم ہو،تمہیں مناظرہ سے کیادلچسپی، ٹہرو میں سوال کرتاہوں یہ کہہ کراس نے ایک سوالنامہ نکالاجوپہلے سے لکھ کراپنے ہمراہ رکھے ہوئے تھا اورحضرت کودیدیا حضرت نے اس کااسی وقت جوال لکھنا شروع کردیا اورایسامکمل جواب دیا کہ قاضی شہرکو متوکل سے کہنا پڑا کہ ان جوابات کو پوشیدہ رکھاجائے ، ورنہ شیعوں کی حوصلہ افزائی ہوگی ان سوالات میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ قرآن مجیدمیں ”سبعة البحر“ اورنفدت کلمات اللہ“ جوہے اس میں کن سات دریاؤں کی طرف اشارہ ہے اورکلمات اللہ سے مراد کیاہے آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایاکہ وہ سات دریایہ ہیں عین الکبریت، عین الیمن ، عین البرہوت، عین الطبریہ، عین السیدان، عین الافریقہ، عین الیاحوران، اورکلمات سے ہم محمدوآل محمدمرادہیں جن کے فضائل کااحصاناممکن ہے (مناقب جلد ۵ ص ۱۱۷) ۔ 

 

قضاوقدرکے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کی رہبری ورہنمائی

قضاوقدرکے بارے میں تقریباتمام فرقے جادہ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں، اس کی وضاحت میں کوئی جبرکاقائل نظر آتاہے کوئی مطلقا تفویض پرایمان رکھتا ہوادکھائی دیتاہے ہمارے امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے آباؤاجدادکی طرح قضاوقدرکی وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے ”لاجبرولاتفویض بل امربین امرین“ نہ انسان بالکل مجبورہے نہ بالکل آزادہے بلکہ دونوں حالتوں کے درمیان ہے (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۳۴) ۔ 
میں حضرت کا مطلب یہ سمجھتاہوں کہ انسان اسباب واعمال میں بالکل آزادہے اورنتیجہ کی برآمدگی میں خداکامحتاج ہے۔ 
علماء امامیہ کی ذمہ داریوں کے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کاارشاد 
حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے ارشادفرمایاہے کہ ہمارے علماء ،غیبت قائم آل محمدکے زمانے میں محافظ دین اوررہبرعلم ویقین ہوں گے ان کی مثال شیعوں کے لیے بالکل ویسی ہی ہوگی جیسی کشتی کے لیے ناخداکی ہوتی ہے وہ ہمارے ضیعفوں کے دلوں کوتسلی دیں گے وہ افضل ناس اورقائدملت ہوں گے (معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۳۷) ۔ 

 

حضرت امام علی نقی اورعبدالرحمن مصری کاذہنی انقلاب

علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ ایک دن متوکل نے برسردربارامام علی نقی کوقتل کردینے کا فیصلہ کرکے آپ کودربارمیں طلب کیا آپ سواری پرتشریف لائے عبدالرحمن مصری کابیان ہے کہ میں سامرہ گیاہواتھا اورمتوکل کے دربارکایہ حال سناکہ ایک علوی کے قتل کاحکم دیاگیاہے تومیں دروازے پراس انتظارمیں کھڑاہوگیا کہ دیکھوں وہ کون شخص ہے جس کے قتل کے انتظامات ہورہے ہیں اتنے میں دیکھاکہ امام علی نقی علیہ السلام تشریف لارہے ہیں مجھے کسی نے بتایاکہ اسی علوی کے قتل کابندوبست ہواہے میری نظرجونہی ان کے چہرہ پرپڑی میرے دل میں ان کی محبت سرایت کرگئی اورمیں دعا کرنے لگا خدایامتوکل کے شرسے اس شریف علوی کوبچانا میں دل میں دعاکرہی رہاتھا کہ آپ نزدیک آپہنچے اورمجھ سے بلاجانے پہچانے فرمایاکہ اے عبدالرحمن تمہاری دعاقبول ہوگئی ہے اورمیں انشاء اللہ محفوظ رہوں گا چنانچہ دربارمیں آپ پرکوئی ہاتھ نہ اٹھاسکا اورآپ محفوظ رہے پھرآپ نے مجھے دعادی اورمیں مالامال ہوگیا اورصاحب اولادہوگیا عبدالرحمن کہتاہے کہ میں اسی وقت آپ کی امامت کاقائل ہوکرشیعہ ہوگیا (کشف الغمہ ص ۱۲۳ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۵) ۔ 

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اوربرکتہ السباع

علماء کابیان ہے کہ ایک دن متوکل کے دربارمیں ایک عورت جوان اورخوبصورت آئی اوراس نے آکرکہا کہ میں زینب بنت علی وفاطمہ ہوں متوکل نے کہاکہ تو جوان ہے اورزینب کوپیداہوئے اوروفات پائے عرصہ گذرگیا اگرتجھے زینب تسلیم کرلیاجائے تویہ کیسے ماناجائے، کہ زینب اتنی عمرتک جوان رہ سکتی ہےں اس نے کہاکہ مجھے رسول خدانے یہ دعادی تھی کہ میں ہرچالیس اورپچاس سال کے بعد جوان ہوجاؤں اسی لیے میں جوان ہوں متوکل نے علماء دربارکوجمع کرکے ان کے سامنے اس مسئلہ کوپیش کیاسب نے کہایہ جھوٹی ہے زینب کے انتقال کوعرصہ ہوگیا ہے متوکل نے کہاکوئی ایسی دلیل دو کہ میں اسے جھٹلاسکوں سب نے اپنے عجزکاحوالہ دیا۔ 
فتح ابن خاقان وزیرمتوکل نے کہاکہ اس مسئلہ کو”ابن الرضا“ علی نقی کے سواکوئی حل نہیں کرسکتا لہذاانہیں بلایاجائے متوکل نے حضرت کوزحمت تشریف آوری دی جب آپ دربارمیں پہنچے متوکل نے صورت مسئلہ پیش کی امام نے فرمایا جھوٹی ہے، متوکل نے کہاکوئی ایسی دلیل دیجئیے کہ میں اسے جھوٹی ثابت کرسکوں ، آپ نے فرمایا میرے جدنامدارکاارشادہے کہ ”حرم لحوم اولادی علی السباع“ درندوں پرمیری اولادکاگوشت حرام ہے اے بادشاہ تواس عورت کو درندوں میں ڈال دے ،اگریہ سچی ہوگی اس کازینب ہوناتودرکنار اگریہ سیدہ بھی ہوگی توجانوراسے نہ چھیڑیں گے اوراگرسادات سے بھی بے بہرہ اورخالی ہوگی تودرندے اسے پھاڑکھائیںگے ابھی یہ گفتگوجاری ہی تھی کہ دربارمیں اشارہ بازی ہونے لگی اوردشمنوں نے مل جل کرمتوکل سے کہا کہ اس کاامتحان امام علی نقی ہی کے ذریعہ سے کیوں نہ لیاجائے اوردیکھاجائے کہ آیا درندے سیدوں کوکھاتے ہیں یانہیں ۔ 
مطلب یہ تھا کہ اگرانہیں جانوروں نے پھاڑکھایا تومتوکل کامنشاء پوراہوجائے گا اوراگریہ بچ گئے تومتوکل کی وہ الجھن دورہوجائے گی جوزینب کذاب نے ڈآل رکھی ہے غرض کی متوکل نے امام علیہ السلام سے کہا ”اے ابن الرضا“ کیااچھاہوتا کہ آپ خودبرکتہ السباع میں جاکر اسے ثابت کردیجئے کہ آل رسول کاگوشت درندوں پرحرام ہے امام علیہ السلام تیارہوگئے متوکل نے اپنے بنائے ہوئے برکت السباع شیرخانہ میں آپ کوڈلواکرپھاٹک بندکروادیا، اورخود مکان کے بالاخانہ پرچلاگیا تاکہ وہاں سے امام کے حالات کامطالعہ کرے۔ 
علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ جب درندوں نے دروازہ کھلنے کی آوازسنی توخاموش ہوگئے جب آپ صحن میں پہنچ کرسیڑھی پرچڑھنے لگے تودرندے آپ کی طرف بڑھے (جن میں تین شیراوربروایت دمعہ ساکبہ چھ شیربھی تھے) اورٹہرگئے اورآپ کوچھوکرآپ کے گردپھرنے لگے، آپ نے اپنی آستین ان پرملتے تھے پھردرندے گھٹنے ٹیک کربیٹھ گئے متوکل امام علیہ السلام کے متعلق چھت پرسے یہ باتیں دیکھتارہااوراترآیا، پھرجناب صحن سے باہرتشریف لے آئے متوکل نے آپ کے پاس گراں بہاصلہ بھیجا لوگوں نے متوکل سے کہاتوبھی ایساکرکے دکھلادے اس نے کہاشایدتم میری جان لیناچاہتے ہو ۔ 
علامہ محمدباقرلکھتے ہیں کہ زینب کذابہ نے جب ان حالات کوبچشم خوددیکھا توفورا اپنی کذب بیانی کااعتراف کرلیا، ایک روایت کی بناپراسے توبہ کی ہدایت کرکے چھوڑدیا گیا دوسری روایت کی بناپرمتوکل نے اسے درندوں میں ڈلواکرپھڑواڈالا(صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، ارحج المطالب ص ۴۶۱ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۵ ، جلاء العیون ص ۳۹۳ ،روضة الصفاء، ) 
فصل الخطاب، علامہ ابن حجرکاکہناہے کہ اسی قسم کاواقعہ عہدرشیدعباسی میں جناب یحی بن عبداللہ بن حسن مثنی ابن امام حسن علیہ السلام کے ساتھ بھی ہواہے۔ 

 

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورمتوکل کاعلاج

علامہ عبدالرحمن جامی تحریرفرماتے ہیں کہ جس زمانہ میں حضرت امام علی نقی علیہ السلام نظربندی کی زندگی بسرکررہے تھے متوکل کے بیٹنے کی جگہ یعنی کمرکے نیچے جسم کے پچھلے حصہ میں ایک زبردست زہریلاپھوڑانکل آیا، ہرچندکوشش کی گئی مگر کسی صورت سے شفاء کی امیدنہ ہوئی جب جان خطرہ میں پڑگئی تومتوکل کی ماں نے منت مانی کہ اگرمتوکل اچھاہوگیاتومیں ابن الرضا کی خدمت میں مال کثیرنذرکروں گی اورفتح بن خاقان نے متوکل سے درخواست کی کہ اگرآپ کاحکم ہوتومیں مرض کی کیفیت ابوالحسن سے بیان کرکے کوئی دواء تجویزکرالاؤں۔ 
متوکل نے اجازت دی اورابن خاقان حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے انہوں نے ساراواقعہ بیان کرکے دواکی تجویزچاہی،امام علیہ السلام نے فرمایا ”کسب غنم“ (بکری کی مینگنیاں) لے کرگلاب کے عرق میں حل کرکے لگاؤ، انشاء اللہ ٹھیک ہوجائے گا وزیرفتح ابن خاقان نے دربارمیں امام علیہ السلام کی تجویزپیش کی، لوگ ہنس پڑے اورکہنے لگے کہ امام ہوکرکیا دواتجویزفرمائی ہے وزیرنے کہااے خلیفہ تجربہ کرنے میں کیاحرج ہے اگرحکم ہوتومیں انتظام کروں خلیفہ نے حکم دیا، دوالگائی گئی، پھوڑاپھوٹا، متوکل کی آنکھ کھل گئی اوررات بھرپورا سویا تین یوم کے اندرشفاء کامل ہوجانے کے بعدمتوکل کی ماں نے دس ہزار اشرفی کی سربمہرتھیلی امام علیہ السلام کی خدمت میں بھجوادی (شواہدالنبوت ص ۲۰۷ ، اعلام الوری ص ۲۰۸) ۔ 

 

امام علی نقی علیہ السلام کے تصورحکومت پرخوف خوف خداغالب تھا

حضرت کی سیرت زندگی اوراخلاق وکمالات وہی تھے جواس سلسلہ عصمت کی ہرفردکے اپنے اپنے دورمیں امتیازی طورپر مشاہدہ میں آتے رہتے تھے قیدخانہ اورنظربندی کاعالم ہویاآزادی کازمانہ ہروقت ہرحال میں یادالہی، عبادت ، خلق خداسے استغناء، ثبات قدم، صبرواستقلال، مصائب کے ہجوم میں ماتھے پرشکن کانہ ہونا ، دشمنوں کے ساتھ حلم ومروت سے کام لینا، محتاجوں اورضرورت مندوں کی امدادکرنا، یہی وہ اوصاف ہیں جوامام علی نقی کی سیرت زندگی میں نمایاں نظرآتے ہیں۔ 
قیدکے زمانہ میں جہاں بھی آپ رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبرکھدی تیاررہتی تھی دیکھنے والوں نے جب اس پرحیرت اوردہشت کااظہارکیا توآپ نے فرمایامیں اپنے دل میں موت کاخیال رکھنے کے لیے یہ قبراپنی نگاہوں کے سامنے تیاررکھتاہوں حقیقت میں یہ ظالم طاقت کواس کے باطل مطالبہ اطاعت اوراسلام کے حقیقی تعلیمات کی نشرواشاعت کے ترک کردینے کی خواہش کاایک عملی جواب تھا یعنی زیادہ سے زیادہ سلاطین وقت کے ہاتھ میں جوکچھ ہے وہ جان کالے لینا مگرجوشخص موت کے لیے اتناتیارہوہ ہروقت کھدی ہوئی قبراپنے سامنے رکھے وہ ظالم حکومت سے ڈرکرسرتسلیم خم کرنے پرکیسے مجبورکیاجاسکتا ہے مگراس کے ساتھ دنیاوی سازشوں میں شرکت یاحکومت وقت کے خلاف کسی بے محل اقدام کی تیاری سے آپ کادامن اس طرح بری رہاکہ باوجود دارالسلطنت کے اندرمستقل قیام اورحکومت کے سخت ترین جاسوسی انتظام کے کبھی آپ کے خلاف تشدد کے جوازکی نہ مل سکی باوجودیکہ سلطنت عباسیہ کی بنیادیں اس وقت اتنی کھوکھلی ہورہی تھیں کہ دارالسلطنت میں ہرروزایک نئی سازش کافتنہ کھڑاہوتاتھا۔ 
متوکل سے خوداس کے بیٹے کی مخالفت اوراس کے انتہائی عزیزغلام باغررومی کی اس سے دشمنی منتصرکے بعدامرائے حکومت کاانتشاراور آخر متوکل کے بیٹوں کوخلافت سے محروم کرنے کافیصلہ مستعین کے دورحکومت میں یحی بن عمربن یحی بن حسین بن زیدعلوی کاکوفہ میں خروج اورحسن بن زیدالملقب بہ داعی الحق کاعلاقہ طبرستان پرقبضہ کرلینا اورمستقل سلطنت قائم کرلینا پھردارالسلطنت میں ترکی غلاموں کی بغاوت، مستعین کاسامرہ کوچھوڑکربغدادکی طرف بھاگنا اورقلعہ بندہوجانا آخرکوحکومت سے دست برداری پرمجبورہونا اورکچھ عرصہ کے بعدمعتزباللہ کے ہاتھ سے تلوارکے گھاٹ اترنا، پھرمعتزباللہ کے دورمیں رومیوں کامخالفت پرتیاررہنا، معتزباللہ کوخوداپنے بھائیوں سے خطرہ محسوس ہونا اورمویدی زندگی کاخاتمہ اورموفق کابصرہ میں قیدکیاجانا، ان تمام ہنگامی حالات، ان تمام شورشوں، ان تمام بے چینیوں اورجھگڑوں میں سے کسی میں بھی امام علی نقی کی شرکت کاشبہ تک نہ پیداہونا، کیااس طرزعمل کے خلاف نہیں ہے؟۔ 
جوایسے موقعوں پرجذبات سے کام لینے والوں کا ہواکرتاہے ایک ایسے اقتدارکے مقابلہ میں جسے نہ صرف وہ حق وانصاف کے روسے ناجائزسمجھتے ہیں بلکہ ان کے ہاتھوں انہیں جلاوطنی قیداوراہانتوں کاسامنابھی کرناپڑاہے مگر جذبات سے بلنداورعظمت نفس کے کامل مظہردنیاوی ہنگاموں اوروقت کے اتفاقی موقعوں سے کسی طرح کافائدہ اٹھانا اپنی بے لوث حقانیت اورکوہ سے بھی گراں صداقت کے خلاف سمجھتاہے اورمخالفت پرپس پشت حملہ کرنے کواپنے بلندنقطہ نگاہ اورمعیارعمل کے خلاف جانتے ہوئے ہمیشہ کنارہ کش رہتاہے (دسویں امام ص ۱۶) ۔ 

 

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت

متوکل کے بعداس کابیٹا مستنصرپھرمستعین پھر ۲۵۲ ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا معتزابن متوکل نے بھی اپنے باپ کی سنت کونہیں چھوڑااورحضرت کے ساتھ سختی ہی کرتارہا یہاں تک کہ اسی نے آپ کوزہردیدیا ۔ 
”سمعہ المعتز، انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۵۵ ،اورآپ بتاریخ ۳/ رجب ۲۵۴ ہجری یوم دوشنبہ انتقال فرماگئے (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۹) ۔ 
علامہ ابن جوزی تذکرة خواص الامة میں لکھتے ہیں کہ آپ معتزباللہ کے زمانہ خلافت میں شہیدکئے گئے ہیں اورآپ کی شہادت زہرسے واقع ہوئی ہے، علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے شہیدکیاگیاہے (انوارالابصارص ۱۵۰) ۔ 
علامہ ابن حجرلکھتے ہیں کہ آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں ، صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۸ میں ہے کہ آپ نے انتقال سے قبل امام حسن عسکری علیہ السلام کومواریث انبیاء وغیرہ سپردفرمائے تھے وفات کے بعدجب امام حسن عسکری علیہ السلام نے گریبان چاک کیاتولوگ معترض ہوئے آپ نے فرمایا کہ یہ سنت انبیاء ہے حضرت موسی نے وفات حضرت ہارون پراپناگریبان پھاڑاتھا (دمعہ ساکبہ ص ۱۴۸ ، جلاء العیون ص ۲۹۴) ۔ 
آپ پرامام حسن عسکری نے نمازپڑھی اورآپ سامرہ ہی میں دفن کئے گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ، علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی وفات انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہوئی انتقال کے وقت آپ کے پاس کوئی بھی نہ تھا (جلاء العیون ص ۲۹۲) ۔ 

 

آپ کی ازواج واولاد

آپ کی کئی بیویاں تھیں، ان سے کئی اولادیں پیداہوئیں جن کے اسماء یہ ہیں امام حسن عسکری، حسین بن علی، محمدبن علی، جعفربن علی، دخترموسومہ عائشہ بن علی (ارشادمفید ص ۵۰۲ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۶ طبع مصر)۔

Imam Ali un Naqi Al Hadi (a.s) - Arabic

مولودی امام هادی علیه السلام Imam Ali Naqi (a.s.) - Farsi

Imam Ali Un Naqi (A.S)

Imam Ali-Un-Naqi (A.S)

Ziarat of Imam Ali an-Naqi (as)

O Lord of omnipotent power!

O Lord of all-inclusive mercy!

O Lord of successive favors!

O Lord of uninterrupted bounties!

O Lord of magnificent bestowals!

O Lord of abundant conferrals!

(Please do) send blessings upon Mu¦ammad and the Household of Mu¦ammadthe veracious ones,

And grant me that which I ask fromYou

And re-unify me (with my family),

And unite me (with my family)

And purify my deeds

And cause not my heart to stray afterYou have guided me,

And cause not my footstep to slip

And never refer me to myself even for a time as short as a wink of an eye

And disappoint not my desire

And expose not my private parts

And disclose not my covering

And cause me not to feel lonely, anddespair me not,

And be to me kind and merciful

And guide me (to the right path), andpurify me, and make me get rid of impurities,

And cleanse me, and include me withthe chosen, the select, and the choicest ones

And dedicate me to You and render me suitable

And draw me near You and take me not far away from You

And be kind to me and do not turn away from me

And honor me and do not humiliate me

And do not deprive me of all that which I ask from You

And also give me that which I havenot asked from You

(please do that) on account of Yourmercy, O the most Merciful of all those who show mercy.

I also beseech You in the name of Your Honorable Face

And in the name of the sanctity ofYour Prophet, Mu¦ammad, may Your blessings be upon him and upon his Household

And in the name of the sanctity ofYour Prophets Household

Namely, `Al¢ the Commander of the Believersand al-°asan, and al-°usayn

And `Al¢, and Mu¦ammad, and Ja`far,

And M£s¡, and `Al¢, and Mu¦ammad,

And `Al¢, and al-°asan, and the AliveSuccessor,

May Your benedictions and blessingsbe upon them

(I beseech You in the name of them)that You send blessings upon all of them,

And hasten the Relief of their Riserby Your permission

And support him and betake him as the means of victory of Your religion,

And include me with those who shallbe redeemed through him,

And those who act sincerely in obedience to him,

And I beseech You in the name of their right that You respond to my prayer

And settle my needs

And answer my requests

And save me from whatever aggrieves me from the affairs of this world as well as the world to come,

O the most Merciful of all those whoshow mercy

O Light, O Evident,

O Granter of light, O Granter of evidence

O Lord: (please do) save me from allevils,

And from vicissitudes of time

And I beseech You for redemption the Day when the Trumpet is blown

O my means when I lack means

O my hope and my trust

O my haven and my support

O the One; O the One and Only

O (the described in) “Say: He is Allah, the One.”

I beseech You in the name of thosewhom You created from among Your creations

But You have not made anyone like them at all,

(please do) send blessings upon themall,

And ..

السّلامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِيّ بن مُحَمّدٍ الزّكِيّ الرَّاشِدَ

النّورَ الثَّاقِبَ وَرَحْمَةُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا صَفِيّ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا سِرّ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا حَبْلَ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا آل اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا صَفْوَةَ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا أَمِينَ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا حَقّ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللّهِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا نُورَ الانْوَارِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا زَيْنَ الابْرَارِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا سَلِيلَ الاخْيَارِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَاعُنْصُرَ الاطْهَارِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا حُجّةَ الرّحْمنِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا رُكْنَ الايمَانِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيّ الصَّالِحِينَ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا عَلَمَ الْهُدَى،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا حَلِيفَ التّقَى،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا عَمُودَ الدّينِ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ خَاتَمِ النّبِيّينَ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ سَيّدِ الْوَصِيّينَ،

السّلامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ فَاطِمَةَ الزّهْرَاءِ سَيّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا الامِينُ الْوَفِيّ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا الْعَلَمُ الرّضِيّ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا الزَّاهِدُ التّقِيّ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا الْحُجّةُ عَلَى الْخَلْقِ أَجْمَعِينَ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا التَّالِي لِلْقُرْآنِ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا الْمُبَيّنُ لِلْحَلالِ مِنَ الْحَرَامِ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا الْوَلِيّ النَّاصِحُ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا الطّرِيقُ الْوَاضِحُ،

السّلامُ عَلَيْكَ أَيّهَا النّجْمُ اللائِحُ،

أَشْهَدُ يَا مَوْلايَ يَا أَبَا الْحَسَنِ أَنّكَ حُجّةُ اللّهِ عَلَى خَلْقِهِ،

وَخَلِيفَتُهُ فِي بَرِيّتِهِ،

وَأَمِينُهُ فِي بِلادِهِ،

وَشَاهِدُهُ عَلَى عِبَادِهِ،

وَأَشْهَدُ أَنّكَ كَلِمَةُ التّقْوَى،

وَبَابُ الْهُدَى،

وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقَى،

وَالْحُجّةُ عَلَى مَنْ فَوْقَ الارْضِ وَمَنْ تَحْتَ الثّرَى،

وَأَشْهَدُ أَنّكَ الْمُطَهّرُ مِنَ الذّنُوبِ،

الْمُبَرّأُ مِنَ الْعُيُوبِ،

وَالْمُخْتَصّ بِكَرَامَةِ اللّهِ،

وَالْمَحْبُوّ بِحُجّةِ اللّهِ،

وَالْمَوْهُوبُ لَهُ كَلِمَةُ اللّهِ،

وَالرّكْنُ الّذِي يَلْجَأُ إِلَيْهِ الْعِبَادُ،

وَتُحْيَى بِهِ الْبِلادُ،

وَأَشْهَدُ يَا مَوْلايَ أَنّي بِكَ وَبِآبَائِكَ وَأَبْنَائِكَ مُوقِنٌ مُقِرّ،

وَلَكُمْ تَابِعٌ فِي ذَاتِ نَفْسِي، وَشَرَايِعِ دِينِي،

وَخَاتِمَةِ عَمَلِي وَمُنْقَلَبِي وَمَثْوَايَ،

وَأَنّي وَلِيّ لِمَنْ وَالاكُمْ، وَعَدُوّ لِمَنْ عَادَاكُمْ،

مُؤْمِنٌ بِسِرّكُمْ وَعَلانِيَتِكُمْ، وَأَوّلِكُمْ وَآخِرِكُمْ،

بِأَبِي أَنْتَ وَأُمّي، وَالسّلامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ.

اللّهُمّ صَلّ عَلَى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمّدٍ،

وَصَلّ عَلَى حُجّتِكَ الْوَفِيّ،

وَوَلِيّكَ الزّكِيّ،

وَأَمِينِكَ الْمُرْتَضَى،

وَصَفِيّكَ الْهَادِي،

وَصِرَاطِكَ الْمُسْتَقِيمِ،

وَالْجَادّةِ الْعُظْمَى،

وَالطّرِيقَةِ الْوُسْطَى،

نُورِ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ،

وَوَلِيّ الْمُتّقِينَ،

وَصَاحِبِ الْمُخْلِصِينَ.

اللّهُمّ صَلّ عَلَى سَيّدِنَا مُحَمّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ،

وَصَلّ عَلَى عَلِيّ بْنِ مُحَمّدٍ

الرَّاشِدِ الْمَعْصُومِ مِنَ الزّلَلِ،

وَالطَّاهِرِ مِنَ الْخَلَلِ،

وَالْمُنْقَطِعِ إِلَيْكَ بِالامَلِ،

الْمَبْلُوّ بِالْفِتَنِ،

وَالْمُخْتَبَرِ بِالْمِحَنِ،

وَالْمُمْتَحَنِ بِحُسْنِ الْبَلْوَى،

وَصَبْرِ الشّكْوَى،

مُرْشِدِ عِبَادِكَ،

وَبَرَكَةِ بِلادِكَ،

وَمَحَلّ رَحْمَتِكَ،

وَمُسْتَوْدَعِ حِكْمَتِكَ،

وَالْقَائِدِ إِلَى جَنّتِكَ،

الْعَالِمِ فِي بَرِيّتِكَ،

وَالْهَادِي فِي خَلِيقَتِكَ

الّذِي ارْتَضَيْتَهُ وَانْتَجَبْتَهُ

وَاخْتَرْتَهُ لِمَقَامِ رَسُولِكَ فِي أُمّتِهِ،

وَأَلْزَمْتَهُ حِفْظَ شَرِيعَتِهِ،

فَاسْتَقَلّ بِأَعْبَاءِ الْوَصِيّةِ

نَاهِضًا بِهَا وَمُضْطَلِعًا بِحَمْلِهَا،

لَمْ يَعْثُرْ فِي مُشْكِلٍ،

وَلا هَفَا فِي مُعْضِلٍ،

بَلْ كَشَفَ الْغُمّةَ،

وَسَدّ الْفُرْجَةَ،

وَأَدَّى الْمُفْتَرَضَ.

اللّهُمّ فَكَمَا أَقْرَرْتَ نَاظِرَ نَبِيّكَ بِهِ فَرَقّهِ دَرَجَتَهُ،

وَأَجْزِلْ لَدَيْكَ مَثُوبَتَهُ،

وَصَلّ عَلَيْهِ وَبَلّغْهُ مِنَّا تَحِيّةً وَسَلامًا،

وَآتِنَا مِنْ لَدُنْكَ فِي مُوَالاتِهِ فَضْلاً وَإِحْسَانًا

وَمَغْفِرَةً وَرِضْوَانًا

إِنّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.

Recite the following dua after Namaz-e-Ziarat:

يَا ذَا الْقُدْرَةِ الْجَامِعَةِ،

وَالرّحْمَةِ الْوَاسِعَةِ،

وَالْمِنَنِ الْمُتَتَابِعَةِ

وَالآلاءِ الْمُتَوَاتِرَةِ،

وَالايَادِي الْجَلِيلَةِ،

وَالْمَوَاهِبِ الْجَزِيلَةِ،

صَلّ عَلَى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمّدٍ الصَّادِقِينَ،

وَأَعْطِنِي سُؤْلِي،

وَاجْمَعْ شَمْلِي،

وَلُمّ شَعَثِي،

وَزَكّ عَمَلِي،

وَلا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي،

وَلا تُزِلْ قَدَمِي،

وَلا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَبَدًا،

وَلا تُخَيّبْ طَمَعِي،

وَلا تُبْدِ عَوْرَتِي،

وَلا تَهْتِكْ سِتْرِي،

وَلا تُوحِشْنِي، وَلاتُؤْيِسْنِي،

وَكُنْ بِي رَؤُوفًا رَحِيمًا،

وَاهْدِنِي وَزَكّنِي وَطَهّرْنِي

وَصَفّنِي وَاصْطَفِنِي وَخَلّصْنِي وَاسْتَخْلِصْنِي،

وَاصْنَعْنِي وَاصْطَنِعْنِي،

وَقَرّبْنِي إِلَيْكَ وَلا تُبَاعِدْنِي مِنْكَ،

وَالْطُفْ بِي وَلاتَجْفُنِي،

وَأَكْرِمْنِي وَلا تُهِنّي،

وَمَا أَسْأَلُكَ فَلا تَحْرِمْنِي،

وَمَا لاأَسْأَلُكَ فَاجْمَعْهُ لِي،

بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ،

وَأَسْأَلُكَ بِحُرْمَةِ وَجْهِكَ الْكَرِيمِ،

وَبِحُرْمَةِ نَبِيّكَ مُحَمّدٍ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ،

وَبِحُرْمَةِ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِكَ

أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ

وَعَلِيّ وَمُحَمّدٍ وَجَعْفَرٍ

وَمُوسَى وَعَلِيّ وَمُحَمّدٍ

وَعَلِيّ وَالْحَسَنِ وَالْخَلَفِ الْبَاقِي

صَلَوَاتُكَ وَبَرَكَاتُكَ عَلَيْهِمْ

أَنْ تُصَلّيَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ،

وَتُعَجّلَ فَرَجَ قَائِمِهِمْ بِأَمْرِكَ،

وَتَنْصُرَهُ وَتَنْتَصِرَ بِهِ لِدِينِكَ،

وَتَجْعَلَنِي فِي جُمْلَةِ النَّاجِينَ بِهِ،

وَالْمُخْلِصِينَ فِي طَاعَتِهِ،

وَأَسْأَلُكَ بِحَقّهِمْ لَمَّا اسْتَجَبْتَ لِي دَعْوَتِي،

وَقَضَيْتَ لِي حَاجَتِي،

وَأَعْطَيْتَنِي سُؤْلِي،

وَكَفَيْتَنِي مَا أَهَمّنِي مِنْ أَمْرِ دُنْيَايَ وَآخِرَتِي،

يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ،

يَا نُورُ يَا بُرْهَانُ

يَا مُنِيرُ يَا مُبِينُ

يَا رَبّ اكْفِنِي شَرّ الشّرُورِ،

وَآفَاتِ الدّهُورِ،

وَأَسْأَلُكَ النّجَاةَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصّورِ.

Mention your needs and repeat the following as much as possible:

يَا عُدّتِي عِنْدَ الْعُدَدِ،

وَيَا رَجَائِي وَالْمُعْتَمَدَ،

وَيَا كَهْفِي وَالسّنَدَ،

يَا وَاحِدُ يَا أَحَدُ،

وَيَا قُلْ هُوَ اللّهُ أَحَدٌ،

أَسْأَلُكَ اللّهُمّ بِحَقّ مَنْ خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِكَ،

وَلَمْ تَجْعَلْ فِي خَلْقِكَ مِثْلَهُمْ أَحَدًا

صَلّ عَلَى جَمَاعَتِهِمْ،

وَافْعَلْ بِي كَذَا وَكَذَا

Mention your Needs  Here

 

BIOGRAPHY
Name: Ali bin Muhammad (a.s.)

MotherSamana al-Maghribiya 

Kunniyat (Patronymic): Abu al-Hasan al Askari 

Laqab (Title): Al Hadi 

BirthHe was born at Madina in the year 212 A.H. 

Martyrdom: He died of poison in 254 A.H. at Samarrah (Sarmanra) in Iraq and is buried there.

BIOGRAPHY

Parents, Birth & Childhood
Imam Ali un Naqi (a.s.)'s mother was a very pious lady who spent her whole life fasting. The 10th Imam has said that his mother was one of the ladies of paradise and one of those from 'Ahlul Haqq' (people of truth).
Imam Ali un Naqi (a.s.) became an Imam at the age of 8 years. The khalifa wrote to the governor of Medina asking him to send the young Imam to a person called Junaydi for tutorage (the governor of Madina was threatened that if he did not do this than the people of Madina would be annihilated). Junaydi was a well-known poet of that time and 'anti - Ahlulbayt' and was 80 years old. The Khalifa felt that if this was done than anything that the Imam did or said could be attributed to Junaydi i.e. it was taught to Imam by Junaydi. When Junaydi was once asked about the progress of his student he said :
"I am the student and he is the teacher. I now know what knowledge is. What I say is because of what I have been taught by Imam".
The Khalifa's plan had failed yet again.
For a while the Khalifa left Imam in peace and freedom as they were engrossed in sorting out their own affairs (Removing the Iranians from power; adding the Turks and establishing power in Samarra). Imam used the time to open Madrasas and the atmosphere in the mosque of the Prophet was once again like in the time of the 6th Imam Ja'fer As-Sadiq (a.s.)

Imamate - His Life and Works
Imam Ali un Naqi (as) served the longest period of Imamate (besides the 12th Imam) - 34 years which can be divided into two parts - 17 years of freedom and 17 years under arrest.
In 234 A.H. came one of the most tyrannical rulers of the Abbasid Khilafate - Mutawakkil. He ruled with tyranny, killing, looting and terrorising especially those who were the followers of Ahlulbayt. Mutawakkil is also the one who ordered the desecration of the grave of Imam Husayn (a.s.) wanting to remove Imam's body and burn it (He did not succeed). He tried running water over the grave so no traces of the grave would remain but was unsuccessful. He ordered that all those wanting to visit Kerbala would have their fingers cut off, then hand and feet cut then only be able to go if one other from the family was killed. Imam still asked Shias to visit Kerbala. When Mutawakkil saw that all had failed and it did not discourage the visits than he banned all visits to Kerbala completely.
Mutawakkil called Imam to Samarra. Imam was called under the pretext of respect and love towards him. Imam was aware of Mutawakkil's intentions but went knowing that this would be an opportunity to show the Turks too what true Islam was. On arriving in Samarra the Turkish spies sent with Imam were amazed at Imam's knowledge of the Turkish language when he had never visited the Turks before.
It was an opportunity for Imam to prepare the Mu'mineen in Samarra for ghaibat. Imam was put up in an Inn which was meant for beggars, destitute and criminals. From this Inn he was removed and put into the custody of an evil man called Zarraqui (who changed to be an avid supporter of Imam) and then a man called Seyyid.
Mutawakkil knew of the progress Imam had made in Madina in 14 years of spreading knowledge. In fact he himself had to ask Imam when the Caesar of Rome wrote to him (Mutawakkil) to ask him:
"I have heard that there is a chapter of a divinely revealed book which does not contain the letters ( t d k S X ) and if this chapter is recited it grants the reciter paradise! I would like to know which chapter and in which book and why these letters are not present".
Mutawakkil's 'Ulema' were confused and eventually Mutawakkil turned to Imam. Imam told him that the chapter was Suratul Fatiha in the Qur'an and the above letters were not present because it was a chapter of mercy and each of the above letters represented words of Adhab (punishment) or Ghadhab (anger of Allah).
e.g.*- jaheem (hell), *- khusr (loss), *- zaqqum (fruit of Jahannam)
Mutawakkil seeing that he could not humiliate Imam in any way, he announced his arrival in Samarra as Ibnur Ridha (son of 8th Imam) and subjected him to things such as handing him a glass of wine in his hands in his court, asking him to sing, making him run in front of his (Mutawakkil's) carriage..etc. Imam Hasan Al-Askery (a.s.) was placed under separate house arrest than his father at the young age of 5 years as Mutawakkil did not want the birth of the 12th Imam.
Whilst under house arrest Imam Ali An-Naqi (a.s.) arranged for the coming of Bibi Nargis to Samarra and for her to be well versed in Fiqh by his learned sister Bibi Hakima.
Imam spent his life making the imminent ghaibat of the 12th Imam easier. Soon after, Mutawakkil was killed by his own son who could not withstand the behaviour of his father.
After Mutawakkil's death his son Muntasir was the successor and he lifted the restrictions of visiting Kerbala. His rule was unlike his father's tyranny but remained in power for only 6 months and died at the age of 25 years. Then came Mustan Billah (Ahmed bin Mo'tasam) followed by Mo'taz Billah who continued his tyranny on Imam and his followers.

Rulers of the Time
The thirtythree years of imamate of Imam ‘Ali an-Naqi coincided with the caliphate of the following six caliphs Mu‘tasim bin Hârun, Wâthiq bin Mu‘tasim, Mutawakkil bin Mu‘tasim, Muntasir bin Mutawakkil, Musta‘in, and Mu‘tazz bin Mutawakkil.
Wâthiq bin Mu‘tasim had a very promiscuous lifestyle, and had no time to harass the Shi‘as and the Imams of the Ahlul Bayt. During his caliphate, a large number of the descendants of Imam ‘Ali (a.s.) had settled in Samarra, the ‘Abbasid capital. But the peaceful days for the ‘Alids and the Imam did not last long. After Wâthiq, his brother Mutawakkil, came to power. Mutawakkil was the most cruel of all the ‘Abbasid caliphs; he is comparable to Yazîd bin Mu‘âwiyah of the Umayyads.
Mutawakkil, on the one hand, started promoting the Shâfi‘i madhhab in order to distract the masses away from the Ahlul Bayt. And, on the other hand, he intensified harassment of the Shi‘as. He had such hatred for the Ahlul Bayt that in 236 A.H. he ordered the grave of Imam Husayn (a.s.) be leveled to the ground, and that the surrounding area be transformed into farmlands so that no trace of the grave be left. This all was done to stop the Shi‘as from visiting (ziyârat) the graves of Imam Husayn (a.s.) and the other martyrs of Karbala. But when Allâh wishes to protect His “light” no human can do anything about it!
The attempt to erase all traces of Imam Husayn’s grave angered many Muslims; people starting writing anti-‘Abbâsid slogans on the walls. Opposition poets also expressed their feelings on this issue. A famous poem against Mutawakkil is given below: By Allâh, if the Umayyids unjustly killed Husayn, son of the Prophet’s daughter, his cousins have committed a similar crime for I swear that Husayn’s grave has been erased.
It seems that they regret for not participating in the massacre, so they now go after the grave!
Mutawakkil enjoyed torturing the followers of the Ahlul Bayt; even the persons appointed by him as governor in Medina and Mecca were instructed to prevent people from being kind and courteous towards the Ahlul Bayt. In 234 A.H., Mutawakkil ordered Imam ‘Ali an-Naqi (a.s.) to be brought from Medina to Samarra where he was placed in a house next to the caliph’s garrison. The Imam lived under constant surveillance until Mutawakkil was murdered by his own troops at the instigation of his own son, Muntasir.
Muntasir bin Mutawakkil reversed the policies of his father towards the Ahlul Bayt (a.s.); he was kind and generous to them; he returned the property of Fadak to the descendants of Imams Hasan and Husayn (a.s.). Unfortunately his caliphate did not last for more than six months when he died in 248 A.H.
Musta‘in came to power after Muntasir and continued the oppressive policies of his ancestors. But soon his own Turkish troops rebelled against him and pledged allegiance to Mu‘tazz bin Mutawakkil whom they rescued from prison. Finally, Musta‘in was killed and Mu‘tazz become the caliph.

Martydom
It was during the reign of Mu‘tazz bin Mutawakkil that Imam ‘Ali an-Naqi was martyred by poisoning.
Mo'taz arranged for the poisoning of Imam through an ambassador and Imam was martyred on Monday 3rd Rajab 254 a.h. nobody except Imam Hasan Askery (a.s.) was present at the time of his death. he gave his father ghusl and kafan and wept bitterly.

Children of Imam Ali Naqi (a.s.)
It is reported that Imam had 5 children
Imam Hasan Al-Askery (a.s.) the Eleventh Imam.
Husayn.
Muhammad (known as Syed Muhammad - Tomb near tomb of Balad).
Ja'fer.
Aaliya.