حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
امام حسن عسکری کی ولادت اوربچپن کے بعض حالات

علماء فریقین کی اکثریت کااتفاق ہے کہ آپ بتاریخ ۱۰/ ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری یوم جمعہ بوقت صبح بطن جناب حدیثہ خاتون سے بمقام مدینہ منورہ متولدہوئے ہیں ملاحظہ ہوشواہدالنبوت ص ۲۱۰ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، نورالابصارص ۱۱۰ ، جلاء العیون ص ۲۹۵ ، ارشادمفید ص ۵۰۲ ، دمعہ ساکبہ ص ۱۶۳ ۔ 
آپ کی ولادت کے بعد حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے حضرت محمدمصطفی صلعم کے رکھے ہوئے ”نام حسن بن علی“ سے موسوم کیا (ینابع المودة)۔ 

آپ کی کنیت اورآپ کے القاب

آپ کی کنیت ”ابومحمد“ تھی اورآپ کے القاب بے شمارتھے جن میں عسکری، ہادی، زکی خالص، سراج اورابن الرضا زیادہ مشہورہیں (نورالابصار ص ۱۵۰ ،شواہدالنبوت ص ۲۱۰ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۲ ،مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۲۵) ۔ 
آپ کالقب عسکری اس لئے زیادہ مشہورہوا کہ آپ جس محلہ میں بمقام ”سرمن رائے“ رہتے تھے اسے عسکرکہاجاتاتھا اوربظاہراس کی وجہ یہ تھی کہ جب خلیفہ معتصم باللہ نے اس مقام پرلشکرجمع کیاتھا اورخو دب ھی قیام پذیرتھاتواسے ”عسکر“ کہنے لگے تھے، اورخلیفہ متوکل نے امام علی نقی علیہ السلام کومدینہ سے بلواکریہیں مقیم رہنے پرمجبورکیاتھا نیزیہ بھی تھا کہ ایک مرتبہ خلیفہ وقت نے امام زمانہ کواسی مقام پرنوے ہزار لشکر کامعائنہ کرایاتھا اورآپ نے اپنی دوانگلیوں کے درمیان سے اسے اپنے خدائی لشکرکامطالعہ کرادیاتھا انہیں وجوہ کی بناپراس مقام کانام عسکر ہوگیاتھا جہاں امام علی نقی اورامام حسن عسکری علیہماالسلام مدتوں مقیم رہ کرعسکری مشہورہوگئے (بحارالانوارجلد ۱۲ ص ۱۵۴ ،وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۳۵ ،مجمع البحرین ص ۳۲۲ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۳ ، تذکرة ا لمعصومین ص ۲۲۲) ۔ 

آپ کاعہدحیات اوربادشاہان وقت

آپ کی ولادت ۲۳۲ ہجر ی میں اس وقت ہوئی جبکہ واثق باللہ بن معتصم بادشاہ وقت تھا جو ۲۲۷ ہجری میں خلیفہ بناتھا (تاریخ ابوالفداء) پھر ۲۳۳ ہجری میں متوکل خلیفہ ہوا(تاریخ ابن الوردی) جوحضرت علی اوران کی اولادسے سخت بغض وعنادرکھتاتھا، اوران کی منقصت کیاکرتا تھا (حیواة الحیوان وتاریخ کامل) اسی نے ۲۳۶ ہجری میں امام حسین کی زیارت جرم قراردی اوران کے مزارکوختم کرنے کی سعی کی (تاریخ کامل) اوراسی نے امام علی نقی علیہ السلام کوجبرامدینہ سے رمن رائے میں طلب کرالیا، (صواعق محرقہ) اورآپ کوگرفتارکراکے آپ کے مکان کی تلاشی کرائی (وفیات الاعیان) پھر ۲۴۷ ہجری میں مستنصربن متوکل خلیفہ وقت ہوا۔(تاریخ ابوالفداء)پھر ۲۴۸ ہجری میں مستعین خلیفہ بنا(ابوالفداء) پھر ۲۵۲ ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا(ابوالفداء) اسی زمانے میں امام علیہ السلام کو زہرسے شہیدکردیاگیا (نورالابصار) پھر ۲۵۵ ہجری میں مہدی باللہ خلیفہ بنا(تاریخ ابن الوردی) پھر ۲۵۶ ہجری میں معتمدعلی اللہ خلیفہ ہوا(تاریخ ابوالفداء) اسی زمانہ میں ۲۶۰ ہجری میں امام علیہ السلام زہرسے شہیدہوئے (تاریخ کامل) ان تمام خلفاء نے آپ کے ساتھ وہی برتاؤکیا جوآل محمدکے ساتھ برتاؤکئے جانے کادستورچلاآرہاتھا۔ 

چارماہ کی عمراورمنصب امامت

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی عمرجب چارماہ کے قریب ہوئی توآپ کے والدامام علی نقی علیہ السلام نے اپنے بعدکے لیے منصب امامت کی وصیت کی اورفرمایاکہ میرے بعدیہی میرے جانشین ہوں گے اوراس پربہت سے لوگوں کوگواہ کردیا(ارشادمفید ۵۰۲ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۳ بحوالہ اصول کافی)۔ 
علامہ ابن حجرمکی کاکہناہے کہ امام حسن عسکری ،امام علی نقی کی اولادمیں سب سے زیادہ اجل وارفع اعلی وافضل تھے۔ 

چارسال کی عمرمیں آپ کاسفرعراق

متوکل عباسی جوآل محمدکاہمیشہ سے دشمن تھا اس نے امام حسن عسکری کے والدبزرگوارامام علی نقی علیہ السلام کوجبرا ۲۳۶ ہجری میں مدینہ سے ”سرمن رائے“ بلالیا آپ ہی کے ہمراہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کوبھی جاناپڑااس وقت آپ کی عمرچارسال چندماہ کی تھی(دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۶۲) ۔ 

یوسف آل محمدکنوئیں میں

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نہ جانے کس طرح اپنے گھرکے کنوئیں میں گرگئے، آپ کے گرنے سے عورتوں میں کہرام عظیم برپاہوگیا سب چیخنے اورچلانے لگیں ، مگرامام علی نقی علیہ السلام جومحونمازتھے، مطلق متاثرنہ ہوئے اوراطمینان سے نمازکااختتام کیا، اس کے بعدآ پ نے فرمایا کہ گھبراؤنہیں حجت خداکوکوئی گزندنہ پہنچے گی، اسی دوران میںدیکھاکہ پانی بلندہورہاہے اورامام حسن عسکری پانی میں کھیل رہے ہیں(معہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۹) ۔ 

امام حسن عسکری اورکمسنی میں عروج فکر

آل محمدجوتدبرقرآنی اورعروج فکرمیں خاص مقام رکھتے ہیں ان میں سے ایک بلند مقام بزرگ حضرت امام حسن عسکری ہیں، علماء فریقین نے لکھاہے کہ ایک دن آپ ایک ایسی جگہ کھڑے رہے جس جگہ کچھ بچے کھیل میں مصروف تھے اتفاقا ادھرسے عارف آل محمدجناب بہلول داناگزرے، انہوں نے یہ دیکھ کرکہ سب بچے کھیل رہے ہیں اورایک خوبصورت سرخ وسفیدبچہ کھڑارورہاہے ادھرمتوجہ ہوئے اورکہاکہ اے نونہال مجھے بڑاافسوس ہے کہ تم اس لیے رورہے رہو کہ تمہارے پاس وہ کھلونے نہیں ہیں جوان بچوں کے پاس ہیں سنو! میں ابھی ابھی تمہارے لیے کھلونے لے کرآتاہوں یہ کہناتھا کہ اس کمسنی کے باوجودبولے، انانہ سمجھ ہم کھیلنے کے لیے نہیں پیداکئے گئے ہم علم وعبادت کے لیے پیداکئے گئے ہیں انہوں نے پوچھاکہ تمہیں یہ کیونکرمعلوم ہواکہ غرض خلقت علم وعبادت ہے، آپ نے فرمایاکہ اس کی طرف قرآن مجیدرہبری کرتاہے،کیاتم نے نہیں پڑھاکہ خدافرماتاہے ”افحسبتم انماخلقناکم عبثا“ الخ(پ ۱۸ رکوع ۶) ۔ 
کیاتم نے یہ سمجھ لیاہے کہ ہم نے تم کوعبث (کھیل وکود) کے لیے پیداکیاہے؟ اورکیاتم ہماری طرف پلٹ کرنہ آؤگے یہ سن کربہلول حیران رہ گئے، اورکہنے پرمجبورہوگئے کہ اے فرزندتمہیں کیاہوگیاتھا کہ تم رورہے تھے گناہ کاتصورتوہونہیں سکتا کیونکہ تم بہت کم سن ہو، آپ نے فرمایاکہ کمسنی سے کیاہوتاہے میں نے اپنی والدہ کودیکھاہے کہ بڑی لکڑیوں کوجلانے کے لیے چھوٹی لکڑیاں استعمال کرتی ہیں میں ڈرتاہوں کہ کہیں جہنم کے بڑے ایندھن کے لیے ہم چھوٹے اورکمسن لوگ استعمال نہ کئے جائیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، نورالابصار ص ۱۵۰ ،تذکرة المعصومین ص ۲۳۰) ۔ 

امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ بادشاہان وقت کاسلوک اورطرزعمل

جس طرح آپ کے آباؤاجدادکے وجودکوان کے عہدکے بادشاہ اپنی سلطنت اورحکمرانی کی راہ میں روڑاسمجھتے رہے ان کایہ خیال رہاکہ دنیاکے قلوب ان کی طرف مائل ہیں کیونکہ یہ فرندرسول اوراعمال صالح کے تاجدارہیں لہذا ان کوانظارعامہ سے دوررکھاجائے ورنہ امکان قوی ہے کہ لوگ انہیں اپنا بادشاہ وقت تسلیم کرلیں گے اس کے علاوہ یہ بغض وحسدبھی تھا کہ ان کی عزت بادشاہ وقت کے مقابلہ میں زیادہ کی جاتی ہے اوریہ کہ امام مہدی انہیں کی نسل سے ہوں گے جوسلطنتوں کا انقلاب لائیں گے انہیں تصورات نے جس طرح آپ کے بزرگوں کو چین نہ لینے دیا اورہمیشہ مصائب کی آماجگاہ بنائے رکھااسی طرح آپ کے عہد کے بادشاہوں نے بھی آپ کے ساتھ کیا عہدواثق میں آپ کی ولادت ہوئی اورعہدمتوکل کے کچھ ایام میں بچپناگزرا،متوکل جوآل محمدکا جانی دشمن تھا اس نے صرف اس جرم میں کہ آل محمدکی تعریف کی ہے ابن سکیت شاعرکی زبان گدی سے کھنچوالی (ابوالفداء جلد ۲ ص ۱۴) ۔ 
اس نے سب سے پہلے توآپ پریہ ظلم کیاکہ چارسال کی عمرمیں ترک وطن کرنے پرمجبورکیا یعنی امام علی نقی علیہ السلام کوجبرا مدینہ سے سامرہ بلوالیا جن کے ہمراہ امام حسن عسکری علیہ السلام کولازماجاناتھا پھروہاں آپ کے گھرکی لوگوں کے کہنے سننے سے تلاشی کرائی اوراپ کے والدماجدکو جانوروں سے پھڑوا ڈالنے کی کوشش کی ، غرضکہ جوجوسعی آل محمدکوستانے کی ممکن تھی وہ سب اس نے اپنے عہدحیات میں کرڈالی اس کے بعداس کابیٹا مستنصرخلیفہ ہوا یہ بھی اپنے پاپ کے نقش قدم پرچل کرآل محمدکوستانے کی سنت اداکرتارہا اوراس کی مسلسل کوشش یہی رہی کہ ان لوگوں کوسکون نصیب نہ ہونے پائے اس کے بعدمستعین کاجب عہدآیاتواس نے آپ کے والدماجدکوقیدخانہ میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی سعی پیہم کی کہ کسی صورت سے امام حسن عسکری کوقتل کرادے اوراس کے لیے اس نے مختلف راستے تلاش کیے۔ 
ملاجامی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ اس نے اپنے شوق کے مطابق ایک نہایت زبردست گھوڑاخریدا، لیکن اتفاق سے وہ کچھ اس درجہ سرکش نکلاکہ اس نے بڑے بڑے لوگوں کوسواری نہ دی اورجواس کے قریب گیا اس کوزمین پردے مارکرٹاپوں سے کچل ڈالا،ایک دن خلیفہ مستعین باللہ کے ایک دوست نے رائے دی کہ امام حسن عسکری کوبلاکرحکم دیاجائے کہ وہ اس پرسواری کریں، اگروہ اس پرکامیاب ہوگئے توگھوڑارام ہوجائے گا اوراگرکامیاب نہ ہوئے اورکچل ڈالے گئے تو تیرامقصدحل ہوجائے گا چنانچہ اس نے ایساہی کیا لیکن اللہ رے شان امامت جب آپ اس کے قریب پہنچے تووہ اس طرح بھیگی بلی بن گیاکہ جیسے کچھ جانتاہی نہیں بادشاہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیا اوراس کے پاس اس کے سواکوئی اورچارہ نہ تھا کہ گھوڑاحضرت ہی کے حوالے کردے (شواہدالنبوت ص ۲۱۰) ۔ 
پھرمستعین کے بعدجب معتزباللہ خلیفہ ہواتواس نے بھی آل محمدکوستانے کی سنت جاری رکھی اوراس کی کوشش کرتارہا کہ عہدحاضرکے امام زمانہ اورفرزندرسول امام علی نقی علیہ السلام کودرجہ شہادت پرفائزکردے چنانچہ ایساہی ہوا اوراس نے ۲۵۴ ہجری میں آپ کے والدبزرگوارکوزہرسے شہیدکرادیا، یہ ایک ایسی مصیبت تھی کہ جس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کوبے انتہامایوس کردیا امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے بعدامام حسن عسکری علیہ السلام خطرات میں محصور ہوگئے کیونکہ حکومت کارخ اب آپ ہی کی طرف رہ گیا آپ کوکھٹکالگاہی تھا کہ حکومت کی طرف سے عمل درآمدشروع ہوگیا معتزنے ایک شقی ازلی اورناصب ابدی ابن یارش کی حراست اورنظربندی میں امام حسن عسکری کودیدیا اس نے آپ کوستانے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا لیکن آخرمیں وہ آپ کامعتقدبن گیا،آپ کی عبادت گزاری اورروزہ داری نے اس پرایساگہرااثرکیا کہ اس نے آپ کی خدمت میں حاضرہوکرمعافی مانگ لی اورآپ کودولت سراتک پہنچادیا۔ 
علی بن محمدزیادکابیان ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے ایک خط تحریرفرمایاجس میں لکھاتھا کہ تم خانہ نشین ہوجاؤ کیونکہ ایک بہت بڑافتنہ اٹھنے والاہے غرضکہ تھوڑے دنوں کے بعد ایک عظیم ہنگامہ برپاہوااورحجاج بن سفیان نے معتزکوقتل کردیا(کشف الغمہ ص ۱۲۷) ۔ 
پھرجب مہدی باللہ کاعہدآیا تواس نے بھی بدستوراپناعمل جاری رکھا اورحضرت کوستانے میں ہرقسم کی کوشش کرتارہا ایک دن اس نے صالح بن وصیف نامی ناصبی کے حوالہ آپ کوکردیااورحکم دیا کہ ہرممکن طریقہ سے آپ کوستائے، صالح کے مکان کے قریب ایک بدترین حجرہ تھا جس میں آپ قیدکئے گئے صالح بدبخت نے جہاں اورطریقہ سے ستایا ایک طریقہ یہ بھی تھاکہ آپ کوکھانا اورپانی سے بھی حیران اورتنگ رکھتاتھا آخرایساہوتارہاکہ آپ تیمم سے نمازادا فرماتے رہے ایک دن اس کی بیوی نے کہاکہ اے دشمن خدایہ فرزندرسول ہیں ان کے ساتھ رحم کابرتاؤ کر، اس نے کوئی توجہ نہ کی ایک دن کاذکرہے کہ بنی عباسیہ کے ایک گروہ نے صالح سے جاکردرخواست کی کہ حسن عسکری پرزیادہ ظلم کیاجاناچاہئے اس نے جواب دیاکہ میں نے ان کے اوپردوایسے شخصوں کومسلط کردیاہے جن کاظلم وتشدد میں جواب نہیں ہے، لیکن میں کیاکروں، کہ ان کے تقوی اوران کی عبادت گذاری سے وہ اس درجہ متاثرہوگئے ہیں کہ جس کی کوئی حدنہیں، میں نے ان سے جواب طلبی کی توانہوں نے قلبی مجبوری ظاہرکی یہ سن کروہ لوگ مایوس واپس گئے (تذکرة المعصومین ص ۲۲۳) ۔ 
غرضکہ مہدی کاظلم وتشددزوروں پرتھا اوریہی نہیں کہ وہ امام علیہ السلام پرسختی کرتاتھا بلکہ یہ کہ وہ ان کے ماننے والوں کوبرابرقتل کررہاتھا ایک دن آپ کے ایک صحابی احمدبن محمدنے ایک عریضہ کے ذریعہ سے اس کے ظلم کی شکایت کی، توآپ نے تحریرفرمایاکہ گھبراؤنہیں کہ مہدی کی عمراب صرف پانچ یوم باقی رہ گئی ہے چنانچہ چھٹے دن اسے کمال ذلت وخواری کے ساتھ قتل کردیاگیا(کشف الغمہ ص ۱۲۶) ۔اسی کے عہدمیں جب آپ قیدخانہ میں پہنچے توعیسی بن فتح سے فرمایاکہ تمہاری عمراس وقت ۶۵ سال ایک ماہ دویوم کی ہے اس نے نوٹ بک نکال کراس کی تصدیق کی پھرآپ نے فرمایا کہ خداتمہیں اولادنرینہ عطاکرے گا وہ خوش ہوکرکہنے لگا مولا!کیاآپ کوخدافرزندنہ دے گا آپ نے فرمایاکہ خداکی قسم عنقریب مجھے مالک ایسافرزندعطاکرے گا جوساری کائنات پرحکومت کرے گا اوردنیاکو عدل وانصاف سے بھردے گا (نورالابصارص ۱۰۱) پھرجب اس کے بعدمعتمدخلیفہ ہواتواس نے امام علیہ السلام پرظلم وتشدد واستبدادکا خاتمہ کردیا۔ 

امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت اورامام حسن عسکری کاآغازامامت

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے فرزندامام حسن عسکری علیہ السلام کی شادی جناب نرجس خاتون سے کردی جوقیصرروم کی پوتی اورشمعون وصی عیسی کی نسل سے تھیں (جلاء العیون ص ۲۹۸) ۔ 
اس کے بعدآپ ۳/ رجب ۲۵۴ ہجری کودرجہ شہادت پرفائزہوئے۔ 
آپ کی شہادت کے بعدحضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کاآغازہوا آپ کے تمام معتقدین نے آپ کومبارک باددی اورآپ سے ہرقسم کااستفادہ شروع کردیا آپ کی خدمت میں آمدورفت اورسوالات وجوابات کاسلسلہ جاری ہوگیا آپ نے جوابات میں ایسے حیرت انگیزمعلومات کاانکشاف فرمایاکہ لوگ دنگ رہ گئے آپ نے علم غیب اورعلم بالموت تک کاثبوت پیش فرمایا اوراس کی بھی وضاحت کی کہ فلاں شخص کواتنے دنوں میں موت آجائے گی۔ 
علامہ ملاجامی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے والدسمیت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی راہ میں بیٹھ کریہ سوال کرناچاہاکہ باپ کوپانچ سو درہم اوربیٹے کو تین سوردرہم اگرامام دیدیں توتوسارے کام ہوجائیں، یہاں تک امام علیہ السلام اس راستے پرآپہنچے ،اتفاقا یہ دونوں امام کوپہچانتے نہ تھے امام خودان کے قریب گئے اوران سے کہاکہ تمہیں آٹھ سودرہم کی ضرورت ہے آؤتمہیں دیدوں دونوں ہمراہ ہولیے اوررقم معہودحاصل کرلی اسی طرح ایک اورشخص قیدخانہ میں تھا اس نے قیدکی پریشانی کی شکایت امام علیہ السلام کولکھ کربھیجی اورتنگ دستی کا ذکرشرم کی وجہ سے نہ کیا آپ نے تحریرفرمایاکہ تم آج ہی قید سے رہاہوجاؤگے اورتم نے جوشرم سے تنگدستی کاتذکرہ نہیں کیا اس کے متعلق معلوم کروکہ میں اپنے مقام پرپہنچتے ہی سودیناربھیج دوں گا۔ 
چنانچہ ایساہی ہوا اسی طرح ایک شخص نے آپ سے اپنی تندستی کاکی شکایت کی آپ نے زمین کریدکرایک اشرفی کی تھیلی نکالی اوراس کے حوالہ کردی اس میں سودینارتھے۔ 
اسی طرح ایک شخص نے آپ کوتحریرکیاکہ مشکوة کے معنی کیاہیں؟ نیزیہ کہ میری بیوی حاملہ ہے اس سے جوفرزندپیداہوگا اس کانام رکھ دیجیے آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ مشکوة سے مراد قلب محمدمصطفی صلعم ہے اورآخرمیں لکھ دیا ”اعظم اللہ اجرک واخلف علیک“ خداتمہیں جزائے خیردے اورنعم البدل عطاکرے چنانچہ ایساہی ہوا کہ اس کے یہاں مردہ بیٹاپیداہوا۔ 
اس کے بعداس کی بیوی حاملہ ہوئی ، فرزندنرینہ متولدہوا، ملاحظہ ہو(شواہدالنبوت ص ۲۱۱) ۔ 
علامہ ارلی لکھتے ہیں کہ حسن ابن ظریف نامی ایک شخص نے حضرت سے لکھ کردریافت کیاکہ قائم آل محمدپوشیدہ ہونے کے بعدکب ظہورکریں گے آپ نے تحریرفرمایا جب خداکی مصلحت ہوگی اس کے بعدلکھا کہ تم تپ ربع کاسوال کرنابھول گئے جسے تم مجھ سے پوچھناچاہتے تھے ، تودیکھوایساکروکہ جواس میں مبتلاہواس کے گلے میں ایة ”یانارکونی برداولاما علی ابراہیم“ لکھ کرلٹکادوشفایاب ہوجائے گاعلی بن زیدابن حسین کاکہناہے کہ میں ایک گھوڑاپرسوارہوکرحضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے فرمایاکہ اس گھوڑے کی عمرصرف ایک رات باقی رہ گئی ہے چنانچہ وہ صبح ہونے سے پہلے مرگیا اسماعیل بن محمدکاکہناہے کہ میں حضرت کی خدمت میں حاضرہوا، اورمیں نے ان سے قسم کھاکرکہاکہ میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہے آپ نے مسکراکر فرمایا کہ قسم مت کھاؤ تمہارے گھردوسودینار مدفون ہیں یہ سن کروہ حیران رہ گیا پھرحضرت نے غلام کوحکم دیاکہ انہیں سواشرفیاں دیدو عبدی روایت کرتاہے کہ میں اپنے فرزندکو بصرہ میں بیمار چھوڑکرسامرہ گیااوروہاں حضرت کوتحریرکیاکہ میرے فرزندکے لیے دعائے شفاء فرمائیں آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ ”خدااس پررحمت نازل فرمائے“ جس دن یہ خط اسے ملااسی دن اس کافرزندانتقال کرچکاتھا محمدبن افرغ کہتاہے کہ میں نے حضرت کی خدمت میں ایک عریضہ کے ذریعہ سے سوال کیاکہ ”آئمہ کوبھی احتلام ہوتاہے“ جب خط روانہ کرچکاتو خیال ہواکہ احتلام تووسوسہ شیطانی سے ہواکرتاہے اورامام تک شیطان پہنچ نہیں سکتا بہرحال جواب آیاکہ امام نوم اوربیداری دونوں حالتوں میں وسوسہ شیطانی سے دورہوتے ہیں جیساکہ تمہارے دل میں بھی خیال پیداہواہے پھراحتلام کیونکرہوسکتاہے جعفربن محمدکاکہناہے کہ میں ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضرتھا، دل میں خیال آیا کہ میری عورت جوحاملہ ہے اگراس سے فرزندنرینہ پیداہوتوبہت اچھاہوآپ نے فرمایاکہ اے جعفرلڑکانہیں لڑکی ہوگی چنانچہ ایساہی ہوا(کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔ 

اپنے عقیدت مندوں میں حضرت کادورہ

جعفربن شریف جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعدحضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں حاضرہوا ،اوران سے عرض کی کہ مولا! اہل جرجان آپ کی تشریف آوری کے خواستگارہیں آپ نے فرمایاکہ تم آج سے ایک سونوے دن کے بعدواپس جرجان پہنچوگے اورجس دن تم پہچوگے اسی دن شام کو میں بھی پہنچ جاؤں گا تم انہیں باخبرکردینا، چنانچہ ایساہی ہوا میں وطن پہنچ کرلوگوں کوآگاہ کرچکاتھا کہ امام علیہ السلام کی تشریف آوری ہوئی آپ نے سب سے ملاقات کی اورسب نے شرف زیارت حاصل کیا، پھرلوگوں نے اپنی مشکلات پیش کیں امام علیہ السلام نے سب کومطمئن کردیا اسی سلسلہ میں نصربن جابرنے اپنے فرزندکوپیش کیا، جونابیناتھا حضرت نے اس کے چہرہ پردست مبارک پھیرکراسے بینائی عطاکی پھرآپ اسی روزواپس تشریف لے گئے (کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔ 
ایک شخص نے آپ کوایک خط بلاروشنائی کے قلم سے لکھا آپ نے اس کاجواب مرحمت فرمایااورساتھ ہی لکھنے والے کا اوراس کے باپ کانام بھی تحریرفرمادیا یہ کرامت دیکھ کروہ شخص حیران ہوگیااوراسلام لایا اورآپ کی امامت کامعتقدبن گیا(دمعہ ساکبہ ص ۱۷۲) ۔ 

امام حسن عسکری علیہ السلام کاپتھرپرمہر لگانا

ثقة الاسلام علامہ کلینی اورامام اہلسنت علامہ جامی رقمطرازہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں ایک خوبصورت سایمنی آیا اوراس نے ایک سنگ پارہ یعنی پتھرکاٹکڑا پیش کرکے خواہش کی کہ آپ اس پراپنی امامت کی تصدیق میں مہرکردیں حضرت نے مہرنکالی اوراس پرلگادی آپ کااسم گرامی اس طرح کندہ ہوگیاجس طرح موم پرلگانے سے کندہ ہوتاہے ایک سوال کے جواب میں کہاگیاکہ آنے والامجمع ابن صلت بن عقبہ بن سمعان ابن غانم ابن ام غانم تھا یہ وہی سنگ پارہ لایاتھا جس پراس کے خاندان کی ایک عورت ام غانم نے تمام آئمہ طاہرین سے مہرلگوارکھی تھی اس کاطریقہ یہ تھا کہ جب کوئی امامت کادعوی کرتاتھا تووہ اس کولے کراس کے پاس چلی جاتی تھی اگراس مدعی نے پتھرپرمہرلگادی تواس نے سمجھ لیاکہ یہ امام زمانہ ہیں اوراگروہ اس عمل سے عاجزرہاتووہ اسے نظراندازکردیتی تھی چونکہ اس نے اسی سنگ پارہ پرکئی اماموں کی مہرلگوائی تھی ، اس لیے اس کالقب (صاحبةالحصاة) ہوگیاتھا ۔ 
علامہ جامی لکھتے ہیں کہ جب مجمع بن صلت نے مہرلگوائی تواس سے پوچھاگیاکہ تم حضرت امام حسن عسکری کوپہلے سے پہچانتے تھے اس نے کہانہیں، واقعہ یہ ہواکہ میں ان کاانتظارکرہی رہاتھا کہ کہ آپ تشریف لائے میں لیکن پہچانتانہ تھا اس لیے خاموش ہوگیا اتنے میں ایک ناشناس نوجوان نے میری نظروں کے سامنے آکرکہاکہ یہی حسن بن علی ہیں ۔ 
راوی ابوہاشم کہتاہے کہ جب وہ جوان آپ کے دربارمیں آیاتومیرے دل میں یہ آیاکہ کاش مجھے معلوم ہوتاکہ یہ کون ہے، دل میں اس کاخیال آناتھا کہ امام علیہ السلام نے فرمایاکہ مہرلگوانے کے لیے وہ سنگ پارہ لایاہے ، جس پرمیرے باپ داداکی مہریں لگی ہوئی ہیں چنانچہ اس نے پیش کیا اورآپ نے مہرلگادی وہ شخص آیة ”ذریة بعضہامن بعض“ پڑھتاہواچلاگیا (اصول کافی ،دمعہ ساکبہ ص ۱۶۴ ،شواہدالنبوت ص ۲۱۱ ،طبع لکھنو ۱۹۰۵ ء اعلام الوری ۲۱۴) ۔ 

حضرت امام حسن عسکری کاعراق کے ایک عظیم فلسفی کوشکست دینا

مورخین کابیان ہے کہ عراق کے ایک عظیم فلسفی اسحاق کندی کویہ خبط سوارہواکہ قرآن مجیدمیں تناقض ثابت کرے اوریہ بتادے کہ قرآن مجیدکی ایک آیت دوسری آیت سے، اورایک مضمون دوسرے مضمون سے ٹکراتاہے اس نے اس مقصدکی تکمیل کے لیے ”تناقض القرآن“ لکھناشروع کی اوراس درجہ منہمک ہوگیا کہ لوگوں سے ملناجلنا اورکہیں آناجانا سب ترک کردیا حضرت امام حسن عسکر ی علیہ السلام کوجب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس کے خبط کو دور کرنے کاارادہ فرمایا، آپ کاخیال تھا کہ اس پرکوئی ایسااعتراض کردیاجائے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سے اورمجبورااپنے ارادہ سے بازآئے ۔ 
اتفاقا ایک دن آپ کی خدمت میں اس کاایک شاگرد حاضرہوا، حضرت نے اس سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسانہیں ہے جواسحاق کندی کو ”تناقض القرآن“ سے لکھنے سے بازرکھے اس نے عرض کی مولا! میں اس کاشاگردہوں، بھلااس کے سامنے لب کشائی کرسکتاہوں، آپ نے فرمایاکہ اچھایہ توکرسکتے ہو کہ جومیں کہوں وہ اس تک پہنچادو، اس نے کہاکرسکتاہوں، حضرت نے فرمایاکہ پہلے توتم اس سے موانست پیداکرو، اوراس پراعتبارجماؤ جب وہ تم سے مانوس ہوجائے اورتمہاری بات توجہ سے سننے لگے تواس سے کہناکہ مجھے ایک شبہ پیداہوگیاہے آپ اس کودورفرمادیں، جب وہ کہے کہ بیان کروتوکہناکہ ”ان اتاک ہذالمتکلم بہذاالقرآن ہل یجوزمرادہ بماتکلم منہ عن المعانی التی قدظننتہا انک ذہبتھا الیہا“ 
اگراس کتاب یعنی قرآن کامالک تمہارے پاس اسے لائے توکیاہوسکتاہے کہ اس کلام سے جومطلب اس کاہو، وہ تمہارے سمجھے ہوئے معانی ومطالب کے خلاف ہو، جب وہ تمہارا یہ اعتراض سنے گا توچونکہ ذہین آدمی ہے فوراکہے گا کہ بے شک ایساہوسکتاہے جب وہ یہ کہے توتم اس سے کہناکہ پھرکتاب ”تناقض القرآن“ لکھنے سے کیافائدہ؟ کیونکہ تم اس کے جومعنی سمجھ کراس پراعتراض کررہے ہو ،ہوسکتاہے کہ وہ خدائی مقصودکے خلاف ہو، ایسی صورت میں تمہاری محنت ضائع اوربرباد ہوجائے گی کیونکہ تناقض توجب ہوسکتاہے کہ تمہارا سمجھاہوا مطلب صحیح اورمقصود خداوندی کے مطابق ہو اورایسا یقینی طورپرنہیں توتناقض کہاں رہا؟ ۔ 
الغرض وہ شاگرد ،اسحاق کندی کے پاس گیا اوراس نے امام کے بتائے ہوئے اصول پر اس سے مذکورہ سوال کیا اسحاق کندی یہ اعتراض سن کر حیران رہ گیا اورکہنے لگا کہ پھرسوال کودہراؤ اس نے پھراعادہ کیا اسحاق تھوڑی دیرکے لیے محو تفکرہوگیا اورکہنے لگا کہ بے شک اس قسم کااحتمال باعتبار لغت اوربلحاظ فکروتدبرممکن ہے پھراپنے شاگرد کی طرف متوجہ ہواکربولا! میں تمہیں قسم دیتاہوں تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ کہ تمہیں یہ اعتراض کس نے بتایاہے اس نے جواب دیا کہ میرے شفیق استاد یہ میرے ہی ذہن کی پیداوارہے اسحاق نے کہاہرگزنہیں ، یہ تمہارے جیسے علم والے کے بس کی چیزنہیں ہے، تم سچ بتاؤ کہ تمہیں کس نے بتایا اوراس اعتراض کی طرف کس نے رہبری کی ہے شاگرد نے کہا کہ سچ تویہ ہے کہ مجھے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایاتھا اورمیں نے انھیں کے بتائے ہوئے اصول پرآپ سے سوال کیاہے اسحاق کندی بولا ”ان جئت بہ “ اب تم نے سچ کہاہے ایسے اعتراضات اورایسی اہم باتیں خاندان رسالت ہی سے برآمدہوسکتی ہیں ”ثم انہ دعا بالنا رواحرق جمیع ماکان الفہ“ پھراس نے آگ منگائی اورکتاب تناقض القرآن کاسارامسودہ نذرآتش کردیا (مناقب ابن شہرآشوب مازندرانی جلد ۵ ص ۱۲۷ ،بحارالانوار جلد ۱۲ ص ۱۷۲ ،دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۸۳) ۔ 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اورخصوصیات مذہب

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کاارشادہے کہ ہمارے مذہب میں ان لوگوں کاشمارہوگا جواصول وفروع اوردیگرلوزم کے ساتھ ساتھ ان دس چیزوں کے قائل ہوں بلکہ ان پرعامل ہوں گے۔: 
۱ ۔ شب وروزمیں ۵۱/ رکعت نمازپڑھنا۔ 
۲ ۔سجدگاہ کربلاپرسجدہ کرنا۔ 
۳ ۔ داہنے ہاتھ میں انگھوٹھی پہننا۔ 
۴ ۔اذان واقامت کے جملے دودومرتبہ کہنا۔ 
۵ ۔ اذان واقامت میں حی علی خیرالعمل کہنا۔ 
۶ ۔ نمازمیں بسم اللہ زورسے پڑھنا۔ 
۷ ۔ ہردوسری رکعت میں قنوت پڑھنا۔ 
۸ ۔ آفتاب کی زردی سے پہلے نمازعصراورتاروں کے ڈوب جانے سے پہلے نماز صبح پڑھنا۔ 
۹ ۔سراورڈاڑھی میں وسمہ کاخضاب کرنا۔ 
۱۰ ۔ نمازمیت میں پانچ تکبرکہنا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۲) ۔ 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اورعیدنہم ربیع الاول

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام چندعظیم اصحاب جن میں احمدبن اسحاق قمی بھی تھے، ایک دن محمدبن ابی علاء ہمدانی اوریحی بن محمدبن جریح بغدادی کے درمیان ۹/ ربیع الاول کے یوم عیدہونے پرگفتگوہورہی تھی، بات چیت کی تکمیل کے لیے یہ دونوں احمدبن اسحاق کے مکان پرگئے، دق الباب کیا،ایک عراقی لڑکی نکلی، آنے کاسبب پوچھا کہا، احمدسے ملناہے اس نے کہاوہ اعمال کررہے ہیں انہوں نے کہا کیساعمل ہے ؟ لڑکی نے کہاکہ احمدبن اسحاق نے حضرت امام علی نقی سے روایت کی ہے کہ ۹/ ربیع الاول یوم عیدہے اورہماری بڑی عیدہے اورہمارے دوستوں کی عیدہے الغرض وہ احمدسے ملے، انہوں نے کہا میں ابھی غسل عیدسے فارغ ہواہوں اورآج عیدنہم ہے پھرانہوں نے کہاکہ میں آج حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہواہوں، ان کے یہاں انگیٹھی سلگ رہی تھی اورتمام گھرکے لوگ اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے خوشبولگائے ہوئے تھے میں نے عرض کی ابن رسول اللہ آج کیاکوئی تازہ یوم مسرت ہے فرمایاہاں آج ۹/ ربیع الاول ہے، ہم اہلبیت اورہمارے ماننے والوں کے لیے یوم عیدہے پھرامام علیہ السلام نے اس دن کے یوم عیدہونے اوررسول خدا اورامیرالمومنین کے طرزعمل کی نشان دہی فرمائی ۔ 

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندسودمند

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پندونصائح حکم اورمواعظ میں سے مشتی نمونہ ازخرواری یہ ہیں: 
۱ ۔ دوبہترین عادتیں یہ ہیں کہ اللہ پرایمان رکھے اورلوگوں کوفائدے پہنچائے۔ 
۲ ۔ اچھوں کودوست رکھنے میں ثواب ہے۔ 
۳ ۔ تواضع اورفروتنی یہ ہے کہ جب کسی کے پاس سے گزرے توسلام کرے اورمجلس میں معمولی جگہ بیٹھے۔ 
۴ ۔بلاوجہ ہنسنا جہالت کی دلیل ہے۔ 
۵ ۔پڑوسیوں کی نیکی کوچھپانا، اوربرائیوں کواچھالناہرشخص کے لیے کمرتوڑدینے والی مصیبت اوربے چارگی ہے۔ 
۶ ۔ یہی عبادت نہیں ہے کہ نماز،روزے کواداکرتارہے، بلکہ یہ بھی اہم عبادت ہے کہ خداکے بارے میں سوچ وبچارکرے۔ 
۷ ۔ وہ شخص بدترین ہے جودومونہااوردوزباناہو، جب دوست سامنے آئے تواپنی زبان سے خوش کردے اورجب وہ چلاجائے تو اسے کھاجانے کی تدبیرسوچے ،جب اسے کچھ ملے تویہ حسدکرے اورجب اس پرکوئی مصیبت آئے توقریب نہ پھٹکے۔ 
۸ ۔ غصہ ہربرائی کی کنجی ہے۔ 
۹ ۔ حسدکرنے اورکینہ رکھنے والے کوکبھی سکون قلب نصیب نہیں ہوتا۔ 
۱۰ ۔ پرہیزگاروہ ہے کہ جوشب کے وقت توقف وتدبرسے کام لے اورہرامرمیں محتاط رہے۔ 
۱۱ ۔ بہترین عبادت گزاروہ ہے جوفرائض اداکرتارہے۔ 
۱۲ ۔بہترین متقی اورزاہدوہ ہے جوگناہ مطلقا چھوڑدے۔ 
۱۳ ۔ جودنیامیں بوئے گا وہی آخرت میں کاٹے گا۔ 
۱۴ ۔ موت تمہارے پیچھے لگی ہوئی ہے اچھابوگے تواچھاکاٹوگے، برا بوگے توندامت ہوگی۔ 
۱۵ ۔ حرص اورلالچ سے کوئی فائدہ نہیں جوملناہے وہی ملے گا ۔ 
۱۶ ۔ ایک مومن دوسرے مون کے لیے برکت ہے۔ 
۱۷ ۔ بیوقوف کادل اس کے منہ میں ہوتاہے اورعقلمندکامنہ اس کے دل میں ہوتاہے ۔ ۱۸ ۔ دنیاکی تلاش میں کوئی فریضہ نہ گنوادینا۔ 
۱۹ ۔ طہارت میں شک کی وجہ سے زیادتی کرناغیرممدوح ہے۔ 
۲۰ ۔ کوئی کتناہی بڑاآدمی کیوں نہ ہو جب وہ حق کوچھوڑدے گاذلیل ترہوجائے گا۔ 
۲۱ ۔ معمولی آدمی کے ساتھ اگرحق ہوتووہی بڑاہے۔ 
۲۲ ۔ جاہل کی دوستی مصیبت ہے۔ 
۲۳ ۔ غمگین کے سامنے ہنسنا بے ادبی اوربدعملی ہے۔ 
۲۴ ۔ وہ چیزموت سے بدترہے جوتمہیں موت سے بہترنظرآئے۔ 
۲۵ ۔ وہ چیززندگی سے بہترہے جس کی وجہ سے تم زندگی کوبراسمجھو۔ 
۲۶ ۔ جاہل کی دوستی اوراس کے ساتھ گزاراکرنا معجزہ کے مانندہے۔ 
۲۷ ۔ کسی کی پڑی ہوئی عادت کوچھڑانااعجازکی حیثیت رکھتاہے۔ 
۲۸ ۔ تواضع ایسی نعمت ہے جس پرحسدنہیں کیاجاسکتا۔ 
۲۹ ۔ اس اندازسے کسی کی تعظیم نہ کروجسے وہ براسمجھے۔ 
۳۰ ۔ اپنے بھائی کی پوشیدہ نصیحت کرنی اس کی زینت کاسبب ہوتا۔ 
۳۱ ۔ کسی کی علانیہ نصیحت کرنابرائی کاپیش خیمہ ہے۔ 
۳۲ ۔ ہربلااورمصیبت کے پس منظرمیں رحمت اورنعمت ہوتی ہے۔ 
۳۳ ۔ میں اپنے و الوں کووصیت کرتاہوں کہ اللہ سے ڈریں دین کے بارے میں پرہیزگاری کوشعاربنالیں خداکے متعلق پوری سعی کریں اوراس کے احکام کی پیروی میں کمی نہ کریں، سچ بولیں، امانتیں چاہے مون کی ہوں یاکافرکی ،اداکریں، اوراپنے سجدوں کوطول دیں اورسوالات کے شیریں جواب دیں تلاوت قرآن مجیدکیاکریں موت اورخداکے ذکرسے کبھی غافل نہ ہوں۔ 
۳۴ ۔ جوشخص دنیاسے دل کااندھااٹھے گا، آخرت میں بھی اندھارہے گا،دل کااندھاہونا ہماری مودت سے غافل رہناہے قرآن مجیدمیں ہے کہ قیامت کے دن ظالم کہیں گے ”رب لماحشرتنی اعمی وکنت بصیرا“ میرے پالنے والے ہم تودنیامیں بیناتھے ہمیں یہاں اندھاکیوں اٹھایاہے جواب ملے گا ہم نے جونشانیاں بھیجی تھیں تم نے انھیں نظراندازکیاتھا۔ ”لوگو! اللہ کی نعمت اللہ کی نشانیاں ہم آل محمدہیں۔ 
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے دوشنبہ کے شرونحوست سے بچنے کے لیے ارشادفرمایاہے کہ نمازصبح کی رکعت اولی میں سوہ ”ہل اتی“ پڑھنا چاہئے،نیزیہ فرمایاہے کہ نہارمنہ خربوزہ نہیں کھاناچاہئے کیونکہ اس سے فالج کااندیشہ ہے (بحارالانوارجلد ۱۴) ۔ 

معتمدعباسی کی خلافت اورامام حسن عسکری علیہ السلام کی گرفتاری

۲۵۶ ہجری میں معتدعباسی خلافت مقبوضہ کے تخت پرمتمکن ہوا، اس نے حکومت کی عنان سنبھالتے ہی اپنے آبائی طرزعمل کواختیارکرنا اورجدی کردارکوپیش کرناشروع کردیا اوردل سے اس کی سعی شروع کردی کہ آل محمدکے وجودسے زمین خالی ہوجائے، یہ اگرچہ حکومت کی باگ ڈوراپنے ہاتھوں میں لیتے ہی ملکی بغاوت کاشکارہوگیاتھا لیکن پھربھی اپنے وظیفے اوراپنے مشن سے غافل نہیں رہا” اس نے حکم دیاکہ عہدحاضرمیں خاندان رسالت کی یادگار،امام حسن عسکری کوقیدکردیاجائے اورانہیں قیدمیں کسی قسم کاسکون نہ دیاجائے حکم حاکم مرگ مفاجات آخرامام علیہ السلام بلاجرم وخطاآزادوفضاسے قیدخانہ میں پہنچادئیے گئے اورآپ پرعلی بن اوتاش نامی ایک ناصبی مسلط کردیاگیا جوآل محمداورال ابی طالب کاسخت ترین دشمن تھا اوراس سے کہہ دیاگیاکہ جوجی چاہے کرو، تم سے کوئی پوچھنے والانہیں ہے ابن اوتاش نے حسب ہدایت آپ پرطرح طرح کی سختیاں شروع کردیں اس نے نہ خداکاخوف کیانہ پیغمبرکی اولادہونے کا لحاظ کیا۔ 
لیکن اللہ رے آپ کا زہدوتقوی کہ دوچارہی یوم میں دشمن کادل موم ہوگیا اوروہ حضرت کے پیروں پرپڑگیا، آپ کی عبادت گذاری اورتقوی وطہارت دیکھ کر وہ اتنامتاثرہواکہ حضرت کی طرف نظراٹھاکردیکھ نہ سکتاتھا، آپ کی عظمت وجلالت کی وجہ سے سرجھکاکرآتااورچلاجاتا، یہاں تک کہ وہ وقت آگیاکہ دشمن بصیرت آگیں بن کرآپ کامعترف اورماننے والاہوگیا(اعلام الوری ص ۲۱۸) ۔ 
ابوہاشم داؤدبن قاسم کابیان ہے کہ میں اورمیرے ہمراہ حسن بن محمد القتفی ومحمدبن ابراہیم عمری اوردیگربہت سے حضرات اس قیدخانہ میں آل محمد کی محبت کے جرم کی سزابھگت رہے تھے کہ ناگاہ ہمیں معلوم ہواکہ ہمارے امام زمانہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام بھی تشریف لارہے ہیں ہم نے ان کااستقبال کیاوہ تشریف لاکرقیدخانہ میں ہمارے پاس بیٹھ گئے، اوربیٹھتے ہی ایک اندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ اگریہ شخص نہ ہوتاتو میں تمہیں یہ بتادیتاکہ اندرونی معاملہ کیاہے اورتم کب رہاہوگے لوگوں نے یہ سن کراس اندھے سے کہا کہ تم ذراہمارے پاس سے چندمنٹ کے لیے ہٹ جاؤ، چنانچہ وہ ہٹ گیا اس کے چلے جانے کے بعدآپ نے فرمایاکہ یہ نابیناقیدی نہیں ہے بلکہ تمہارے لیے حکومت کاجاسوس ہے اس کی جیب میں ایسے کاغذات موجودہیں جواس کی جاسوسی کاثبوت دیتے ہیں یہ سن کرلوگوں نے اس کی تلاشی لی اورواقعہ بالکل صحیح نکلاابوہاشم کہتے ہیں کہ ہم قیدکے ایام گذاررہے تھے کہ ایک دن غلام کھانالایا حضرت نے شام کا لیے کھانانہ لوں گا چنانچہ ایساہی ہواکہ آپ عصرکے وقت قیدخانہ سے برآمدہوگئے۔ (اعلام الوری ص ۲۱۴) ۔ 

اسلام پرامام حسن عسکری کااحسان عظیم واقعہ قحط

امام علیہ السلام قیدخانہ ہی میں تھے کہ سامرہ میں جوتین سال سے قحط پڑاہواتھا اس نے شدت اختیارکرلی اورلوگون کاحال یہ ہوگیاکہ مرنے کے قریب پہنچ گئے بھوک اورپیاس کی شدت نے زندگی سے عاجزکردیا یہ حال دیکھ خلیفہ معتمدعباسی نے لوگوں کوحکم دیا کہ تین دن تک باہرنکل کر نمازاستسقاء پڑھیں چنانچہ سب نے ایساہی کیا ،مگرپانی نہ برسا، چوتھے روزبغدادکے نصاری کی جماعت صحرا میں آئی اوران میں سے ایک راہب نے آسمان کی طرف اپناہاتھ بلندکیا، اس کاہاتھ بلندہوناتھا کہ بادل چھاگئے اورپانی برسناشروع ہوگیا اسی طرح اس راہب نے دوسرے دن بھی عمل کیا اوربدستوراس دن بھی باران رحمت کانزول ہوا، یہ دیکھ کرسب کونہایت تعجب ہوا حتی کہ بعض جاہلوں کے دلوں میں شک پیداہوگیا، بلکہ ان میں سے اسی وقت مرتدہوگئے، یہ واقعہ خلیفہ پربہت شاق گذرا۔ 
اس نے امام حسن عسکری کوطلب کرکے کہا کہ ائے ابومحمداپنے جدکے کلمہ گویوں کی خبرلو، اوران کوہلاکت یعنی گمراہی سے بچاؤ، حضرت امام حسن عسکری نے فرمایاکہ اچھاراہبوں کوحکم دیاجائے کہ کل پھروہ میدان میں آکردعائے باران کریں ،انشاء اللہ تعالی میں لوگوں کے شکوک زائل کردوں گا، پھرجب دوسرے دن وہ لوگ میدان میں طلب باران کے لیے جمع ہوئے تواس راہب نے معمول کے مطابق آسمان کی طرف ہاتھ بلندکیا، ناگہاں آسمان پرابرنمودارہوئے اورمینہ برسنے لگا یہ دیکھ کرامام حسن عسکری نے ایک شخص سے کہا کہ راہب کاہاتھ پکڑکر جوچیزراہب کے ہاتھ میں ملے لے لو، اس شخص نے راہب کے ہاتھ میں ایک ہڈی دبی ہوئی پائی اوراس سے لے کرحضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی، انہوں نے راہب سے فرمایاکہ اب توہاتھ اٹھاکر بارش کی دعاکراس نے ہاتھ اٹھایاتوبجائے بارش ہونے کے مطلع صاف ہوگیا اوردھوپ نکل آئی، لوگ کمال تعجب ہوئے۔ 
خلیفہ معتمدنے حضرت امام حسن عسکری سے پوچھا، کہ ائے ابومحمدیہ کیاچیزہے؟ آپ نے فرمایاکہ یہ ایک نبی کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے راہب اپنے مدعامیں کامیاب ہوتارہا، کیونکہ نبی کی ہڈی کایہ اثرہے کہ جب وہ زیرآسمان کھولی جائے گی، توباران رحمت ضرورنازل ہوگایہ سن کرلوگوں نے اس ہڈی کاامتحان کیاتواس کی وہی تاثیردیکھی جوحضرت امام حسن عسکری نے بیان کی تھی، اس واقعہ سے لوگوں کے دلوں کے وہ شکوک زائل ہوگئے جوپہلے پیداہوگئے تھے پھرامام حسن عسکری علیہ السلام اس ہڈی کولے کراپنی قیام گاہ پرتشریف لائے(صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ،کشف الغمہ ص ۱۲۹) ۔/ 
پھرآپ نے اس ہڈی کوکپڑے میں لپیٹ کردفن کردیا (اخبارالدول ص ۱۱۷) ۔ 
شیخ شہاب الدین قلبونی نے کتاب غرائب وعجائب میں اس واقعہ کوصوفیوں کی کرامات کے سلسلہ میں لکھاہے بعض کتابوں میں ہے کہ ہڈی کی گرفت کے بعدآپ نے نمازاداکی اوردعافرمائی خداوندعالم نے اتنی بارش کی کہ جل تھل ہوگیا اورقحط جاتارہا۔ 
یہ بھی مرقوم ہے کہ امام علیہ السلام نے قیدسے نکلتے وقت اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ فرمایاتھا جومنظورہوگیاتھا، اوروہ لوگ بھی راہب کی ہوااکھاڑنے کلے ہمراہ تھے (نورالابصار ص ۱۵۱) ۔ 
ایک روایت میں ہے کہ جب آپ نے دعائے باران کی اورابرآیاتوآپ نے فرمایاکہ فلاں ملک کے لیے ہے اوروہ وہیں چلاگیا، اسی طرح کئی بارہوا پھر وہاں برسا۔ 

امام حسن عسکری اورعبیداللہ وزیرمعتمدعباسی

اسی زمانہ میں ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام متوکل کے وزیرفتح ابن خاقان کے بیٹے عبیداللہ ابن خاقان جوکہ معتمدکاوزیرتھا ملنے کے لیے تشریف لے گیے اس نے آپ کی بے انتہا تعظیم کی اورآپ سے اس طرح محوگفتگورہاکہ معتمدکابھائی موفق دربارمیں آیا تواس نے کوئی پرواہ نہ کی یہ حضرت کی جلالت اورخداکی دی ہوئی عزت کانتیجہ تھا۔ 
ہم اس واقعہ کوعبیداللہ کے بیٹے احمدخاقان کی زبانی بیان کرتے ہیں کتب معتبرہ میں ہے کہ جس زمانہ میں احمدخاقان قم کاوالی تھا اس کے دربارمیں ایک دن علویوں کاتذکرہ چھڑگیا، وہ اگرچہ دشمن آل محمدہونے میں مثالی حیثیت رکھتاتھا لیکن یہ کہنے پرمجبورہوگیا کہ میری نظرمیں امام حسن عسکری سے بہترکوئی نہیں ہے ان کی جووقعت ان کے ماننے والوں اوراراکین دولت کی نظرمیں تھی وہ ان کے عہدمیں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوئی ،سنو! ایک مرتبہ میں اپنے والدعبیداللہ ابن خاقان کے پاس کھڑاتھاکہ ناگاہ دربان نے اطلاع دی کہ امام حسن عسکری تشریف لائے ہوئے ہیں وہ اجازت داخل چاہتے ہیں یہ سن کرمیرے والدنے پکارکرکہاکہ حضرت ابن الرضاکوآنے دو، والدنے چونکہ کنیت کے ساتھ نام لیاتھا اس لیے مجھے سخت تعجب ہوا، کیونکہ اس طرح خلیفہ یاولیعہدکے علاوہ کسی کانام نہیں لیاجاتاتھا اس کے بعد ہی میں نے دیکھا کہ ایک صاحب جوسبزرنگ ، خوش قامت، خوب صورت، نازک اندام جوان تھے، داخل ہوگئے جن کے چہرے سے رعب وجلال ہویداتھا میرے والدکی نظرجونہی ان کے اوپرپڑی وہ اٹھ کھڑے ہوئے اوران کے استقبال کے لیے آگے بڑھے اورانھیں سینے سے لگاکر ان کے چہرہ اورسینے کابوسہ دیااوراپنے مصلے پرانہیں بٹھایا اورکمال ادب سے ان کی طرف مخاطب رہے، اورتھوڑی تھوڑی دیرکے بعدکہتے تھے میری جان آپ پرقربان ائے فرزندرسول۔ 
اسی اثناء میں دربان نے آکراطلاع دی کہ خلیفہ کابھائی موفق آیاہے میرے والدنے کوئی توجہ نہ دی ،حالانکہ اس کاعموما یہ اندازرہتاتھا کہ جب تک واپس نہ چلاجائے دربارکے لوگ دورویہ سر جھکائے کھڑے رہتے تھے یہاں تک کہ موفق کے غلامان خاص کواس نے اپنی نظروں سے دیکھ لیا، انہیں دیکھنے کے بعد میرے والدنے کہایاابن رسول اللہ اگراجازت ہوتو موفق سے کچھ باتیں کرلوں حضرت نے وہاں سے اٹھ کرروانہ ہوجانے کاارادہ کیا میرے والدنے انہیں سینے سے لگایا اوردربانوں کوحکم دیا کہ انہیںدومکمل صفوں کے درمیان سے لے جاؤ کہ موفق کی نظرآپ پرنہ پڑے چنانچہ اسی اندازسے واپس تشریف لے گئے۔ 
آپ کے جانے کے بعدمیں نے خادموں اورغلاموں سے کہاکہ وائے ہوتم نے کنیت کے ساتھ کس کانام لے کراسے میرے والدکے سامنے پیش کیا تھا جس کی اس نے اس درجہ تعظیم کی جس کی مجھے توقع نہ تھی ان لوگوں نے پھرکہا کہ یہ شخص سادات علویہ میں سے تھا اس کانام حسن بن علی اورکنیت ابن الرضا ہے، یہ سن کرمیرے غم وغصہ کی کوئی انتہانہ رہی اورمیں دن بھراسی غصہ میں بھنتارہا کہ علوی سادات کی میرے والدنے اتنی عزت وتوقیرکیوں کی یہاں تک کہ رات آگئی۔ 
میرے والدنمازمیں مشغول تھے جب وہ فریضہ عشاء سے فارغ ہوئے تومیں ان کی خدمت میں حاضرہوا انہوں نے پوچھااے احمد اس وقت آنے کاسبب کیاہے ، میں نے عرض کی کہ اجازت دیجیے تو میں کچھ پوچھوں، انہوں نے فرمایاجوجی چاہے پوچھو میں نے کہایہ شخص کون تھا ؟ جوصبح آپ کے پاس آیاتھا جس کی آپ نے زبردست تعظیم کی اورہربات میں اپنے کو اوراپنے ماں باپ کو اس پرسے فداکرتے تھے انہوں نے فرمایاکہ ائے فرزندیہ رافضیوں کے امام ہیں ان کانام حسن بن علی اوران کی مشہورکنیت ابن الرضا ہے یہ فرماکر وہ تھوڑی دیرچپ رہے پھر بولے اے فرزندیہ وہ کامل انسان ہے کہ اگرعباسیوں سے سلطنت چلی جائے تواس وقت دنیا میں اس سے زیادہ اس حکومت کامستحق کوئی نہیں ہے یہ شخص عفت زہد،کثرت عبادت، حسن اخلاق، صلاح، تقوی وغیرہ میں تمام بنی ہاشم سے افضل واعلی ہے اورائے فرزند اگرتوان کے باپ کودیکھتاتوحیران رہ جاتا وہ اتنے صاحب کرم اورفاضل تھے کہ ان کی مثال بھی نہیں تھی یہ سب باتیں سن کر میں خاموش توہوگیا لیکن والدسے حددرجہ ناخوش رہنے لگا اورساتھ ہی ساتھ ابن الرضا کے حالات کاتفحص کرنااپناشیوہ بنالیا۔ 
اس سلسلہ میں میں نے بنی ہاشم ،امراء لشکر،منشیان دفترقضاة اورفقہاء اورعوام الناس سے حضرت کاحالات کااستفسارکیا سب کے نزدیک حضرت ابن الرضا کوجلیل القدراورعظیم پایا اورسب نے بالاتفاق یہی بیان کیا کہ اس مرتبہ اوران خوبیوں کاکوئی شخص کسی خاندان میں نہیں ہے جب میں نے ہرایک دوست اوردشمن کو حضرت کے بیان اخلاق اوراظہارمکارم اخلاق میں متفق پایاتومیں بھی ان کادل سے ماننے والاہوگیا اوراب ان کی قدرومنزلت میرے نزدیک بے انتہاہے یہ سن کرتمام اہل دربارخاموش ہوگئے البتہ ایک شخص بول اٹھا کہ ائے احمدتمہاری نظرمیں ان کے برادرجعفرکی کیاحثیت ہے احمدنے کہاکہ ان کے مقابلہ میں اس کاکیاذکرکرتے ہو وہ توعلانیہ فسق وفجورکاارتکاب کرتاتھا، دائم الخمرتھا خفیف العقل تھا، انواع ملاہی ومناہی کامرتکب ہوتاتھا۔ 
ابن الرضاکے بعد جب خلیفہ معتمدسے اس نے ان کی جانشینی کاسوال کیا تواس نے اس کے کردارکی وجہ سے اسے دربارسے نکلوادیاتھا (مناقب ابن آشوب جلد ۵ ص ۱۲۴ ، ارشادمفید ص ۵۰۵) ۔ 
بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ گفتگوامام حسن عسکری کی شہادت کے ۱۸/ سال بعد ماہ شعبان ۲۷۸ ہجری کی ہے (دمعہ ساکبہ ص ۱۹۲ جلد ۳ طبع نجف اشرف)۔ 

امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت

امام یازدہم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام قیدوبندکی زندکی گزارنے کے دوران میں ایک دن اپنے خادم ابوالادیان سے ارشادفرماتے ہوئے کہ تم جب اپنے سفرمدائن سے ۱۵/ یوم کے بعد پلٹوگے تو میرے گھرسے شیون وبکاکی آواز آتی ہوگی (جلاء العیون ص ۲۹۹) ۔ 
نیزآپ کایہ فرمانابھی معقول ہے کہ ۲۶۰ ہجری میں میرے ماننے والوں کے درمیان انقلاب عظیم آئے گا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۷۷) ۔ 
الغرض امام حسن عسکری علیہ السلام کوبتاریخ یکم ربیع الاول ۲۶۰ ہجری معتمدعباسی نے زہردلوادیا اورآپ ۸/ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کوجمعہ کے دن بوقت نمازصبح خلعت حیات ظاہری اتارکر بطرف ملک جاودانی رحلت فرماگئے ”اناللہ وانا الیہ راجعون“ (صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ، فصولف المہمہ ،ارجح المطالب ص ۲۶۴ ، جلاء العیون ص ۲۹۶ ،انوارالحسینیہ جلد ۳ ص ۱۲۴) ۔ 
علماء فریقین کااتفاق ہے کہ آپ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اولادنہیں چھوڑی (مطالب السول ص ۲۹۲ ، صواعق محرقہ ص ۱۲۴ ،نورالابصار ارجح المطالب ۴۶۲ ،کشف الغمہ ص ۱۲۶ ، اعلام الوری ص ۲۱۸) ۔

 

Son of Imam Hasan Al-Askari - Arabic هم الخالدون - خطة شيطانية

Seerat of Imam Hassan Askari AS

Seerat of Imam Hassan Askari AS - Part 1

Ziaraat E Masomeen(A.S.)

Ya Imam E Askari As - Shahid Biltistani

Ziarat of Imam Hasan al-Askari (as)

O the Prophet of Allah; may I enter

O the Commander of the Believers; may I enter

O Fatimah al-Zahraa, the Chiefess of the women of the world; may I enter

O my master, al-Hasan ibn Ali; may I enter

O my master, al-Husayn ibn Ali; may I enter

O my master, Ali ibn al-Husayn; may I enter

O my master, Muhammad ibn Ali; may I enter

O my master, Jafar ibn Muhammad; may I enter

O my master, Musa ibn Jafar; may I enter

O my master, Ali ibn Musa; may I enter

O my master, Muhammad ibn Ali; may I enter

O my master, Abul-Hasan Ali ibn Muhammad; may I enter

O my master, Abu-Muhammad al-Hasan ibn Ali; may I enter

O the angels of Allah whom are assigned to manage this holy

mausoleum; may I enter

Say:Allah is the Greatest

O Allah: (please do) send blessings upon our master Muhammad

and upon his Household,

And send blessings upon al-Hasan, son of Ali, who guides to Your religion,

Who calls to Your way,

The sign of true guidance

The lantern of true piety

The essence of rationality

The resource of reason

The raining cloud over mankind

The cloud of wisdom

The ocean of admonition

The heir of the Imams

The witness over the (Muslim) community

The sinless, the well-mannered,

The virtuous, the favorite (by Allah),

The purified against filth

The one whom You have given the knowledge of the (Holy) Book in inheritance,

And You have given clear judgment,

And You have appointed him as the leading sign for those who follow the direction You have decided,

And You have decided the obedience to him to be attached to the obedience to You

And You have imposed the love for him upon all Your creatures.

O Allah: on account of the fact that he always turned to you with excellent sincerity in Your Oneness,

And he always argued and defeated those who anthropomorphized You

And he always defended those who faithfully believed in You;

So, O my Lord, (please) cover him with Your blessings due to which he joins the rank of those who behave humbly toward You,

And due to which he surmounts to the rank of his forefatherthe Seal of the Prophets,

And (please do) convey to him greetings and compliments from us,

And (please do) grant us favor and benevolence from You, on account of our loyalty to him

And also grant us forgiveness and gratification,

For You are, most certainly, the Lord of enormous favor

and huge bliss.

 

You may then offer 2 Rakat Namaz-e-Ziarat & say:

 

O All-eternal Lord, O All-everlasting,

O Ever-living, O All-subsisting,

O the Reliever of agonies and griefs

O the Soother of anguishes,

O the Appointer of the Messengers,

O the Truthful to what He promises,

O Ever-living, there is no deity save You

I beg You in the name of Your two dear ones: Muhammad

And his successor, Alihis cousin and the husband of his daughter,

By both of whom You have sealed Your laws

And by both of whom You have opened interpretation and Yourpioneering ordains,

So, (please do) send upon both of them blessings that are witnessed by the ancient and the coming generations,

And by which the intimate servants and the righteous ones are saved,

And I also beg You in the name of Fatimah the Luminous, the mother of the well-guided Imams,

And the Chiefess of all women of the world,

Whom shall be allowed to intercede for the followers of her immaculate descendants,

So, (please do) send upon her blessings that are as endless as ages

And as endless as times.

And I also beg You in the name of al-Hasanthe pleased,

The infallible, and the pure

And in the name of al-Husaynthe oppressed, the pleasedthe pious, and the righteous

(they both are) the masters of the youth of Paradise,

The two virtuous and infallible Imams

The pious, the pure,

The immaculate, the martyred

The oppressed, the slain;

So, (please do) send upon them blessings whenever the sun rises and sets;

Blessings that are consecutive and successive.

And I also beg You in the name of Ali son of al-Husaynthe chief of the worshippers,

And the concealed for fear of the oppressors

And in the name of Muhammad son of Ali, al-Baqir (i.e. the one who split knowledge), the pure,

The glowing light.

(they both are) the two Imams and masters,

The keys to blessings,

And the lanterns in the murk.

So, (please) send blessings upon them whenever night comes,

And whenever daylight rises,

Such ceaseless blessings.

And I also beg You in the name of Jafar son of Muhammad

The truthful in what he conveys from Allah,

The spokesman of Allahs knowledge

And in the name of Musa son of Jafar,

The self-righteous servant (of Allah),

And the well-whisher successor (of the Prophet).

(They both are) the two guiding and well-guided Imams,

The two adequate, right Imams.

So, (please) send upon them blessings whenever an angel glorifies You

And whenever a planet moves.

Such increasable and growing blessings

That are neither ending nor stopping.

And I also beg You in the name of Ali ibn Musa, the well-pleased

And in the name of Muhammad son of Ali, the well-contented

The two purified and selected Imams,

So, (please) send upon them blessings whenever morning glows and endures,

Such blessings that take them up to the rank of Your pleasure in the highest level of Your gardens of Paradise.

I also beg You in the name of Ali son of Muhammad, the orthodox,

And in the name of al-Hasan ibn Ali, the guide;

(The two Imams) who supervise the affairs of Your servants,

(the two Imams) whom are also tested by unbearable ordeals,

And who acted patiently against the swerving enmities.

So, (please do) send upon them blessings that are suitable enough to be the reward of the enduring people,

And that are worth being the prize of the winners,

Such blessings that pave for them the way to exaltation.

And I also beg You, O Lord, in the name of our Imam,

The rising in our ages,

The promised day,

The witnessed observer

The luminous light

The bright illumination

The supported by means of horror

And the triumphant with happiness.

So, (please) send upon him blessings that are as many as the number of fruits

And as many as the leaves of trees,

And as many as townspeople

And as many as hairs of people and animals

And as many as all things that Your knowledge encompasses

And You Book counts,

Such blessings due to which all the ancient and the last generations envy him.

O Allah: (please do) include us with his group,

And cause us to keep on obeying him,

And guard us through his state

And confer upon us with the loyalty to him,

And give us victory over our enemies as a result of his power

And include us, O Lord, with those who turn to You constantly,

O the most Merciful of all those who show mercy.

O Allah: surely, Iblis, the rebel, the accursed,

Asked You to grant his respite so that he would mislead Your creatures, and You granted him so,

And he asked You to reprieve him so that he would misguide Your servants, and You reprieved him,

This is because he carried a good idea about You.

He thus nested and gave birth of many hosts.

So, his armies have been overcrowding,

And his propagandists have widespread in all the corners of this earth,

And they have mislead Your servants,

And deformed Your religion,

And displaced the words from their right places,

And made Your servants diverse revelries,

And rebellious parties.

And You promised that You would demolish his (i.e. Iblis) edifice,

And You would tear out his matters,

So, (please do) deaden his sons and armies,

And purify Your lands from his inventions and fabrications,

And relieve Your servants from his factions and analogies,

And make the disaster of evil surround them,

And extend Your justice

And give victory to Your religion,

And give strength to Your intimate servants,

And weaken Your enemies,

And make Your intimate servants inherit the lands of Iblis and these of his fans,

And make the fans of Iblis stay forever in the blazing Fire

And make them taste from the painful torment,

And make the curses of You that are kept in the evil part of the creation and in the deformed part of the nature surround them forever,

And control over them,

And strike them every morning and evening

And every single minute.

O Our Lord: (please do) grant us goodness in this world

And goodness in the world to come,

And save us, out of Your mercy, from the torment of Fire.

You are surely the most Merciful of all those who show mercy

أَأَدْخُلُ يَا نَبِيّ اللّهِ؟

أَأَدْخُلُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟

أَأَدْخُلُ يَا فَاطِمَةُ الزّهْرَاءُ سَيّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيّ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ عَلِيّ بْنَ الْحُسَيْنِ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ مُحَمّدَ بْنَ عَلِيّ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمّدٍ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ عَلِيّ بْنَ مُوسَى؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ مُحَمّدَ بْنَ عَلِيّ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ يَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِيّ بْنَ مُحَمّدٍ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَوْلايَ يَا أَبَا مُحَمّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيّ؟

أَأَدْخُلُ يَا مَلائِكَةَ اللّهِ الْمُوَكّلِينَ بِهذَا الْحَرَمِ الشّرِيفِ؟

ألله أكبر

لسَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مَوْلاَيَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْهَادِيَ الْمُهْتَدِيَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ وَ ابْنَ أَوْلِيَائِهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ وَ ابْنَ حُجَجِهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَفِيَّ اللَّهِ وَ ابْنَ أَصْفِيَائِهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ وَ ابْنَ خُلَفَائِهِ وَ أَبَا خَلِيفَتِهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ الْأَئِمَّةِ الْهَادِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ الْأَوْصِيَاءِ الرَّاشِدِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا عِصْمَةَ الْمُتَّقِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا إِمَامَ الْفَائِزِينَ السلاَمُ عَلَيْكَ يَا رُكْنَ الْمُؤْمِنِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا فَرَجَ الْمَلْهُوفِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا وَارِثَ الْأَنْبِيَاءِ الْمُنْتَجَبِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَازِنَ عِلْمِ وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الدَّاعِي بِحُكْمِ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّاطِقُ بِكِتَابِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ الْحُجَجِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا هَادِيَ الْأُمَمِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ النِّعَمِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا عَيْبَةَ الْعِلْمِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا سَفِينَةَ الْحِلْمِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْإِمَامِ الْمُنْتَظَرِ الظَّاهِرَةِ لِلْعَاقِلِ حُجَّتُهُ‏
وَ الثَّابِتَةِ فِي الْيَقِينِ مَعْرِفَتُهُ الْمُحْتَجَبِ عَنْ أَعْيُنِ الظَّالِمِينَ وَ الْمُغَيَّبِ عَنْ دَوْلَةِ الْفَاسِقِينَ‏
وَ الْمُعِيدِ رَبُّنَا بِهِ الْإِسْلاَمَ جَدِيداً بَعْدَ الاِنْطِمَاسِ وَ الْقُرْآنَ غَضّاً بَعْدَ الاِنْدِرَاسِ‏
أَشْهَدُ يَا مَوْلاَيَ أَنَّكَ أَقَمْتَ الصَّلاَةَ وَ آتَيْتَ الزَّكَاةَ وَ أَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ
وَ دَعَوْتَ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ عَبَدْتَ اللَّهَ مُخْلِصاً حَتَّى أَتَاكَ الْيَقِينُ‏
أَسْأَلُ اللَّهَ بِالشَّأْنِ الَّذِي لَكُمْ عِنْدَهُ أَنْ يَتَقَبَّلَ زِيَارَتِي لَكُمْ وَ يَشْكُرَ سَعْيِي إِلَيْكُمْ‏
وَ يَسْتَجِيبَ دُعَائِي بِكُمْ وَ يَجْعَلَنِي مِنْ أَنْصَارِ الْحَقِّ وَ أَتْبَاعِهِ وَ أَشْيَاعِهِ وَ مَوَالِيهِ وَ مُحِبِّيهِ وَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
You may then kiss the holy tomb, put your right and then you left cheek on it, and say the following:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ صَلِّ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَادِي إِلَى دِينِكَ‏
وَ الدَّاعِي إِلَى سَبِيلِكَ عَلَمِ الْهُدَى وَ مَنَارِ التُّقَى وَ مَعْدِنِ الْحِجَى وَ مَأْوَى النُّهَى وَ غَيْثِ الْوَرَى‏
وَ سَحَابِ الْحِكْمَةِ وَ بَحْرِ الْمَوْعِظَةِ وَ وَارِثِ الْأَئِمَّةِ وَ الشَّهِيدِ عَلَى الْأُمَّةِ الْمَعْصُومِ الْمُهَذَّبِ‏
وَ الْفَاضِلِ الْمُقَرَّبِ وَ الْمُطَهَّرِ مِنَ الرِّجْسِ الَّذِي وَرَّثْتَهُ عِلْمَ الْكِتَابِ وَ أَلْهَمْتَهُ فَصْلَ الْخِطَابِ‏
وَ نَصَبْتَهُ عَلَماً لِأَهْلِ قِبْلَتِكَ وَ قَرَنْتَ طَاعَتَهُ بِطَاعَتِكَ وَ فَرَضْتَ مَوَدَّتَهُ عَلَى جَمِيعِ خَلِيقَتِكَ‏
اللَّهُمَّ فَكَمَا أَنَابَ بِحُسْنِ الْإِخْلاَصِ فِي تَوْحِيدِكَ وَ أَرْدَى مَنْ خَاضَ فِي تَشْبِيهِكَ وَ حَامَى عَنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِكَ‏
فَصَلِّ يَا رَبِّ عَلَيْهِ صَلاَةً يَلْحَقُ بِهَا مَحَلَّ الْخَاشِعِينَ وَ يَعْلُو فِي الْجَنَّةِ بِدَرَجَةِ جَدِّهِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ‏
وَ بَلِّغْهُ مِنَّا تَحِيَّةً وَ سَلاَماً وَ آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ فِي مُوَالاَتِهِ فَضْلاً وَ إِحْسَاناً وَ مَغْفِرَةً وَ رِضْوَاناً
إِنَّكَ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ وَ مَنٍّ جَسِيمٍ‏
You may then offer the (two-Rak’ah) Ziyarah Prayer and say the following thereafter:
يَا دَائِمُ يَا دَيْمُومُ (يَا دَيُّومُ) يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ يَا كَاشِفَ الْكَرْبِ وَ الْهَمِّ (وَ) يَا فَارِجَ الْغَمِ‏
وَ يَا بَاعِثَ الرُّسُلِ (وَ) يَا صَادِقَ الْوَعْدِ (وَ) يَا حَيُّ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ‏
أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِحَبِيبِكَ ( مُحَمَّدٍ ) وَ وَصِيِّهِ عَلِيٍّ ابْنِ عَمِّهِ وَ صِهْرِهِ عَلَى ابْنَتِهِ‏
الَّذِي (اللَّذَيْنِ) خَتَمْتَ بِهِمَا الشَّرَائِعَ وَ فَتَحْتَ (بِهِمَا) التَّأْوِيلَ وَ الطَّلاَئِعَ‏
فَصَلِّ عَلَيْهِمَا صَلاَةً يَشْهَدُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَ الْآخِرُونَ وَ يَنْجُو بِهَا الْأَوْلِيَاءُ وَ الصَّالِحُونَ‏
وَ أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِفَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ وَالِدَةِ الْأَئِمَّةِ الْمَهْدِيِّينَ وَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ‏
الْمُشَفَّعَةِ فِي شِيعَةِ أَوْلاَدِهَا الطَّيِّبِينَ فَصَلِّ عَلَيْهَا صَلاَةً دَائِمَةً أَبَدَ الْآبِدِينَ وَ دَهْرَ الدَّاهِرِينَ‏
وَ أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِالْحَسَنِ الرَّضِيِّ الطَّاهِرِ الزَّكِيِّ وَ الْحُسَيْنِ الْمَظْلُومِ الْمَرْضِيِّ الْبَرِّ التَّقِيِّ سَيِّدَيْ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
الْإِمَامَيْنِ الْخَيِّرَيْنِ الطَّيِّبَيْنِ التَّقِيَّيْنِ النَّقِيَّيْنِ الطَّاهِرَيْنِ الشَّهِيدَيْنِ الْمَظْلُومَيْنِ الْمَقْتُولَيْنِ‏
فَصَلِّ عَلَيْهِمَا مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ وَ مَا غَرَبَتْ صَلاَةً مُتَوَالِيَةً مُتَتَالِيَةً
وَ أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ سَيِّدِ الْعَابِدِينَ الْمَحْجُوبِ مِنْ خَوْفِ الظَّالِمِينَ وَ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاقِرِ الطَّاهِرِ النُّورِ الزَّاهِرِ
الْإِمَامَيْنِ السَّيِّدَيْنِ مِفْتَاحَيِ الْبَرَكَاتِ وَ مِصْبَاحَيِ الظُّلُمَاتِ فَصَلِّ عَلَيْهِمَا مَا سَرَى لَيْلٌ وَ مَا أَضَاءَ نَهَارٌ صَلاَةً تَغْدُو وَ تَرُوحُ‏
وَ أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عَنِ اللَّهِ وَ النَّاطِقِ فِي عِلْمِ اللَّهِ‏
وَ بِمُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ الْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي نَفْسِهِ وَ الْوَصِيِّ النَّاصِحِ‏
الْإِمَامَيْنِ الْهَادِيَيْنِ الْمَهْدِيَّيْنِ الْوَافِيَيْنِ الْكَافِيَيْنِ‏
فَصَلِّ عَلَيْهِمَا مَا سَبَّحَ لَكَ مَلَكٌ وَ تَحَرَّكَ لَكَ فَلَكٌ صَلاَةً تُنْمَى وَ تَزِيدُ وَ لاَ تَفْنَى وَ لاَ تَبِيدُ
وَ أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا وَ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُرْتَضَى الْإِمَامَيْنِ الْمُطَهَّرَيْنِ الْمُنْتَجَبَيْنِ‏
فَصَلِّ عَلَيْهِمَا مَا أَضَاءَ صُبْحٌ وَ دَامَ صَلاَةً تُرَقِّيهِمَا إِلَى رِضْوَانِكَ فِي الْعِلِّيِّينَ مِنْ جِنَانِكَ‏
وَ أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّاشِدِ وَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَادِي الْقَائِمَيْنِ بِأَمْرِ عِبَادِكَ‏
الْمُخْتَبَرَيْنِ بِالْمِحَنِ الْهَائِلَةِ وَ الصَّابِرَيْنِ فِي الْإِحَنِ الْمَائِلَةِ
فَصَلِّ عَلَيْهِمَا كِفَاءَ أَجْرِ الصَّابِرِينَ وَ إِزَاءَ ثَوَابِ الْفَائِزِينَ صَلاَةً تُمَهِّدُ لَهُمَا الرِّفْعَةَ
وَ أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ يَا رَبِّ بِإِمَامِنَا وَ مُحَقِّقِ زَمَانِنَا الْيَوْمِ الْمَوْعُودِ وَ الشَّاهِدِ الْمَشْهُودِ
وَ النُّورِ الْأَزْهَرِ وَ الضِّيَاءِ الْأَنْوَرِ الْمَنْصُورِ بِالرُّعْبِ وَ الْمُظَفَّرِ بِالسَّعَادَةِ
فَصَلِّ عَلَيْهِ عَدَدَ الثَّمَرِ وَ أَوْرَاقِ الشَّجَرِ وَ أَجْزَاءِ الْمَدَرِ وَ عَدَدَ الشَّعْرِ وَ الْوَبَرِ
وَ عَدَدَ مَا أَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ وَ أَحْصَاهُ كِتَابُكَ صَلاَةً يَغْبِطُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَ الْآخِرُونَ‏
اللَّهُمَّ وَ احْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ وَ احْفَظْنَا عَلَى طَاعَتِهِ وَ احْرُسْنَا بِدَوْلَتِهِ‏
وَ أَتْحِفْنَا بِوِلاَيَتِهِ وَ انْصُرْنَا عَلَى أَعْدَائِنَا بِعِزَّتِهِ وَ اجْعَلْنَا يَا رَبِّ مِنَ التَّوَّابِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏
اللَّهُمَّ وَ إِنَّ إِبْلِيسَ الْمُتَمَرِّدَ اللَّعِينَ قَدِ اسْتَنْظَرَكَ لِإِغْوَاءِ خَلْقِكَ فَأَنْظَرْتَهُ وَ اسْتَمْهَلَكَ لِإِضْلاَلِ عَبِيدِكَ فَأَمْهَلْتَهُ بِسَابِقِ عِلْمِكَ فِيهِ‏
وَ قَدْ عَشَّشَ وَ كَثُرَتْ جُنُودُهُ وَ ازْدَحَمَتْ جُيُوشُهُ وَ انْتَشَرَتْ دُعَاتُهُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ‏
فَأَضَلُّوا عِبَادَكَ وَ أَفْسَدُوا دِينَكَ وَ حَرَّفُوا الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَ جَعَلُوا عِبَادَكَ شِيَعاً مُتَفَرِّقِينَ وَ أَحْزَاباً مُتَمَرِّدِينَ‏
وَ قَدْ وَعَدْتَ نَقْضَ بُنْيَانِهِ وَ تَمْزِيقَ شَأْنِهِ فَأَهْلِكْ أَوْلاَدَهُ وَ جُيُوشَهُ‏
وَ طَهِّرْ بِلاَدَكَ مِنِ اخْتِرَاعَاتِهِ وَ اخْتِلاَفَاتِهِ وَ أَرِحْ عِبَادَكَ مِنْ مَذَاهِبِهِ وَ قِيَاسَاتِهِ وَ اجْعَلْ دَائِرَةَ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ‏
وَ ابْسُطْ عَدْلَكَ وَ أَظْهِرْ دِينَكَ وَ قَوِّ أَوْلِيَاءَكَ وَ أَوْهِنْ أَعْدَاءَكَ‏
وَ أَوْرِثْ دِيَارَ إِبْلِيسَ وَ دِيَارَ أَوْلِيَائِهِ أَوْلِيَاءَكَ وَ خَلِّدْهُمْ فِي الْجَحِيمِ وَ أَذِقْهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَلِيمِ‏
وَ اجْعَلْ لَعَائِنَكَ الْمُسْتَوْدَعَةَ فِي مَنَاحِسِ (مَنَاحِيسِ) الْخِلْقَةِ وَ مَشَاوِيهِ الْفِطْرَةِ دَائِرَةً عَلَيْهِمْ‏
وَ مُوَكَّلَةً بِهِمْ وَ جَارِيَةً فِيهِمْ كُلَّ صَبَاحٍ وَ مَسَاءٍ وَ غُدُوٍّ وَ رَوَاحٍ‏
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ النَّارِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

 

BIOGRAPHY
Name: Al Hasan bin Ali (a.s.)

MotherUmmul Walad - Susan. 

Kunniyat (Patronymic): Abu Muhammad. 

Laqab (Title): Al Askari. 

Birth: He was born at Samarrah in the year 232 A.H. 

Martyrdom: He was poisoned in 260 A.H. at Samarrah and is buried there.

Imam Hassan askari(as)

BIOGRAPHY

His name is al-Hasan, Abu Muhammad. Being a resident of "Asgar a suburb of Samarra", he is titled al-askari. His father was Imam "Ali An-Naqi (A.S.) and his mother was Salil Khatun, an ideal woman in piety, worship, chastity and generosity. He was born in Medina on the tenth of Rabi" al-Akhir, 232 A.H. (December 4, 846 AD).

 

Upbringing and Instruction

He lived under the care of his respected father upto the age of 11. When his father had to leave for Samarra" he was to accompany him and thus share the hardships of the journey with the family. At Samarra", he passed his time with his father either in imprisonment or in partial freedom. He had, however, the chance to benefit from his father"s teaching and instruction.

 

Imamate

His father died in 254. A.H. (868 AD) when he was twenty-two. Four months before his death, the father declared his son to be his successor and executor of his will, asking his followers to bear witness to the fact. Thus the responsibilities of Imamate were vested upon him which he fulfilled even in the face of great difficulties and hostile environment.

In the early days of his lmamate, Al-Mu"tassam Al-"Abbasi was the caliph. When the latter was deposed, he was succeeded by al-Muhtadi. After his brief reign of only eleven months and one week, al-Mu"tamad came to the throne. During their regimes, Imam Hasan al-askari (A.S.) did not enjoy peace at all. Although the Abbaside dynasty was involved in constant complications and disorders, each and every king thought it necessary to keep the Imam (A.S.) imprisoned.

One of the Holy Prophet"s traditions ran that the Prophet (S.A.W) would be succeeded by twelve soccessors, the last of whom would be the Mahdi, Qa"im "Al-Muhammad (A.S.). The "Abbasides knew well that the true successors of the Prophet (S.A.W) were these very Imams. AI-Hasan (A.S.) being the eleventh, his son would surely be the 12th or the last. They, tried to put an end to his life in such a way, that it would ensure there would be nobody to succeed him. As the simple confinement inflicted on Imam "Ali an-Naqi (A.S.) was considered inadequate for Imam Hasan al-"askari (A.S.), so he was imprisoned, away from his family. No doubt the revolutionary intervals between two regimes gave him brief periods of freedom. Yet as soon as the new king came to the throne, he followed his predecessor"s policy and imprisoned the Imam again. The Imam"s brief life therefore was mostly spent inside dungeon cells.

Imam Hassan askari(as)

 

Appointement of Deputies

Under all circumstances, the Imams carried out their duties of guiding the people. Imam Hasan Al-"askari was subjected to numerous restrictions,and those who sought to learn the teachings of AhI al-Bayt (A.S.) and their Shi"ah point of view could not reach him. In order to solve this problem, the Imam appointed certain confidants as his deputies in view of their knowledge of jurisprudence. These persons satisfied the curiosity of inquirers as much as they could. But if they could not solve certain theological problems, they would keep them pending the acquisition of their solutions from the Imam (A.S.) whenever they got the opportunity to see him. Of course the visit to the Imam (A.S.) by a few individuals could be allowed by the government but certainly not by groups who wished to see the Imam (A.S.) on a regular basis.

The Khums (1/5 of total savings), which was being paid to the Imams (A.S.) by the believers who cherished these Imams and regarded them as representatives of the Divine Law was spent by these sacred saints on religious matters, and to sustain the Prophet"s descendants. This Khums was secretly collected by these deputies, who spent it according to the directives of the Imam. They accordingly were in constant danger of being identified as such by the governments’ secret intelligence service. In order to divert this danger, Uthman ibn Sa"id and his son Abu Ja"far Muhammad, two prominent deputies of the Imam (A.S.) in the capital Baghdad, ran a big shop trading in oils. This provided them with free contact with the concerned people. It was thus that even under the very thumb of the tyrant regime that those devotees managed to run the system of the Divine law unsuspected.

Imam Hassan askari(as)
 

 

Character and Virtues

Imam Hasan Al-"askari (A.S.) was one of that illustrious series of the immaculate infallible each member of whom displayed the moral excellence of human perfection. He was peerless in knowledge, forbearance, forgiveness, generosity, sacrifice and piety. Whenever Al-Mu"tamad asked anybody about his captive Imam Hasan al-"askari (A.S.), he was told that the Imam fasted during the day and worshipped during the night, and that his tongue uttered no word but remembrance of his creator. During the brief periods of freedom and stay at home, people approached him hoping to avail from his benevolence, and they went back well rewarded. Once when the "Abbaside caliph asked Ahmed ibn "Abd Allah ibn khaqan, his Minister for Charities (awqaf), about the descendants of Imam "Ali (A.S.), he reported: "I do not know anybody among them who is more distinguished than Hasan al-"askari. None can surpass him in dignity, knowledge, piety and abstinence, nor can anybody match him in the point of nobleness majestic grandeur, modesty and honesty".

 

As Center of Learning

Imam Hasan al-"askari (A.S.) had a brief span of life, only twenty-eight years, but even in this short period, which was furled by a chain of troubles and tribulations, several high ranking scholars benefited from his ocean of knowledge. He also stemmed the flood of atheism and disbelief, which ensued, from the philosophers of that age, winning conspicuous success over them. One of those was Ishaq al-Kindi. He was writing a book on what he called "self-contradictions" in the Holy Qur"an. When the news reached the Imam (A.S.), he waited for an opportunity to refute and rebut him. By chance, some of Ishaq"s students came to him. The Imam asked them: "Is there anyone among you who can stop Ishaq from wasting his time in this useless effort fighting the Holy Qur"an?" The students said: "Sir, we are his students: how can we object to his teaching?" The Imam urged that they could at least convey to their teacher what he had to tell them. They replied that they would be ready to cooperate as much as they could in that respect.

Imam Hassan askari(as)

The Imam (A.S.) then recited a few verses from the Holy Qur"an, which the philosopher thought as contradictory of one another. He then explained to them thus: "Your teacher thinks that some of the words in these verses have only one meaning. But according to the Arabic language, these words have other meanings too which, when taken into consideration, indicate no contradiction in he overall meaning. Thus, your teacher is not justified for basing his objections and claim of contradictions on the premises of the "wrong meaning" he himself selects for such verses". He then put up some examples of such words before them so clearly that the students conceived the whole discussion and the precedents of more than one meaning.

When these students visited Ishaq al-Kindi and after routine talk, reproduced the disputed points, he was surprised. He was a fair-minded scholar and he listened to his students" explanations. Then he said: "What you have argued is beyond your capacity: tell me truly who has taught you these points?" The students said that it was their own reflection, but when he insisted that they could never have conceived those points, they admitted that, it was explained to them by Abu Muhammad Imam Hasan al-askari (A.S.). The instructor said: "Yes: this level of knowledge is the heritage of that House and only that House". Then he asked the students to set fire to all such works of his.

Imam Hasan al-askari (A.S.) was a reliable authority for traditionalists who had recorded several traditions in their collections on his authority. One tradition about drinking runs thus: "The wine drinking is like an idolater". It has been recorded by Ibn al-Jawzi in his book "Tahrim al-Khamr" (prohibition of wine drinking) with continuous chain of references tracing its narrators. Abu Na"im Fadl ibn Waki states that the tradition is true as it has been narrated by his companions such as Ibn "Abbas, Abu Hyrayra, Anas, AbdAllah ibn Awf al-Aslami and others.

Unfortunately, these storehouses of knowledge are not available.

Imam Hassan askari(as)

 

Imam Al-Hasan al-"askari, peace be on him, said:

Generosity has a limit, when crossed becomes extravagance; caution has a limit when crossed becomes cowardice; thriftiness has a limit, when crossed becomes miserliness; courage has a limit, when crossed becomes fool-hardiness. Let this moral lesson suffice: refrain from doing anything which you would disapprove of if done by someone else.

A Part of Imam Hasan Al-askari’s Commandments to His Shia

Let piety be your provision, patience be your garment, and buy hardship in the path of Allah. Be true in your speech, trustworthy in performing your deeds, prolong your sajdah (prostration), deal with others with best behavior, and treat your neighbor amicably. Perform your prayers even with those whom you think to be your opposition; attend their funeral ceremonies, visit their sick, and give them their rights. Verily I tell you that whosoever is honest and has good behavior in the eyes of others, he is the pious Shia whom I will be proud of. Therefore, fear Allah, be as adornment on behalf of us and be not as shame that defames our name. This is the only way by which others shall be attracted toward us (the Ahlul Bayt of the Holy Prophet s.w.)