حضرت علی علیہ السّلام
نام
پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کا نام اللہ کے نام پر علی رکھا ۔ حضرت ابو طالب و فاطمہ بنت اسد نے پیغمبر اسلام (ص) سے عرض کیا کہ ہم نے ہاتف غیبی سے یہی نام سنا تھا۔ 

القاب
آپ کے مشہور القاب امیر المومنین ، مرتضی، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ، حیدر، کرار، نفس رسول اور ساقی کوثر ہیں۔ 

کنیت
حضرت علی علیہ السّلام کی مشہور کنیت ابو الحسن و ابو تراب ہین۔ 

والدین
حضرت علی (ع) ھاشمی خاندان کے وه پھلے فرزند ھیں جن کے والد اور و الده دونوں ھاشمی ھیں ۔ آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ھاشم ھیں اور ماں فاطمه بنت اسد بن ھاشم ھیں ۔ 
ھاشمی خاندان قبیل ہ قریش میں اور قریش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل کے لحاظ سے مشھور و معروف تھے ۔ 
جواں مردی ، دلیری ، شجاعت اور بھت سے فضائل بنی ھاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی (ع) کی ذات مبارک میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔ 

ولادت
جت حضرت علی (ع) کی ولادت کا وقت قریب آیا تو فاطمه بنت اسد کعبه کے پاس ائیں اور آپنے جسم کو اس کی دیوار سے مس کر کے عرض کیا: 
پروردگارا ! میں تجھ پر، تیرےنبیوں پر، تیری طرف سے نازل شده کتابوں پر اور اس مکان کی تعمیر کرنے والے، آپنے جد ابراھیم (ع) کے کلام پر راسخ ایمان رکھتی ھوں ۔ 
پروردگارا ! تجھے اس ذات کے احترام کا واسطہ جس نے اس مکان مقدس کی تعمیر کی اور اس بچه کے حق کا واسطه جو میرے شکم میں موجود ھے، اس کی ولادت کو میرے لئے آسان فرما ۔ 
ابھی ایک لمحہ بھی نھیں گزرا تھا که کعبہ کی جنوبی مشرقی دیوار ، عباس بن عبد المطلب اور یزید بن تعف کی نظروں کے سامنے شگافته ھوئی، فاطمه بنت اسد کعبہ میں داخل ھوئیں اور دیوار دوباره مل گئی ۔ فاطمه بنت اسد تین دن تک روئے زمین کے اس سب سے مقدس مکان میں اللہ کی مھمان رھیں اور تیره رجب سن ۳۰/ عام الفیل کو بچہ کی ولادت ھوئی ۔ ولادت کے بعد جب فاطمه بنت اسد نے کعبہ سے باھر آنا چاھا تو دیوار دو باره شگافتہ ھوئی، آپ کعبه سے باھر تشریف لائیں اور فرمایا :” میں نے غیب سے یہ پیغام سنا ھے که اس بچے کا ” نام علی “ رکھنا “ ۔ 

بچپن ا ور تربیت
حضرت علی (ع) تین سال کی عمر تک آپنے والدین کے پاس رہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آگئے۔ کیون کہ جب آپ تین سال کے تھےاس وقت مکہ میں بھت سخت قحط پڑا ۔جس کی وجہ سے رسول الله (ص) کے چچا ابو طالب کو اقتصادی مشکل کابہت سخت سامنا کرنا پڑا ۔ رسول الله (ص) نے آپنے دوسرے چچا عباس سے مشوره کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ ھم میں سے ھر ایک، ابو طالب کے ایک ایک بچے کی کفالت آپنے ذمہ لے لے تاکہ ان کی مشکل آسان ھو جائے ۔ اس طرح عباس نے جعفر اور رسول الله (ص) نے علی (ع) کی کفالت آپنے ذمہ لے لی ۔ 
حضرت علی (ع) پوری طرح سے پیغمبر اکرم (ص) کی کفالت میں آگئے اور حضرت علی علیہ السّلام کی پرورش براهِ راست حضرت محمد مصطفےٰ کے زیر نظر ہونے لگی ۔ ا ٓ پ نے انتہائی محبت اور توجہ سے آپنا پورا وقت، اس چھوٹے بھائی کی علمی اورا خلاقی تربیت میں صرف کیا. کچھ تو حضرت علی (ع) کے ذاتی جوہر اور پھراس پر رسول جیسے بلند مرتبہ مربیّ کافیض تربیت ، چنانچہ علی علیہ السّلام دس برس کے سن میں ہی اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ جب پیغمبر اسلام (ص) نے رسالت کا دعوی ک یا، تو آپ نے ان کی تصدیق فرمائ ۔ آپ ھمیشه رسول الله (ص) کے ساتھ رھتے تھے، یہاں تک کہ جب پیغمبر اکرم (ص) شھر سے باھر، کوه و بیابان کی طرف جاتے تھے تو آپ کو آپنے ساتھ لے جاتے تھے ۔ 

پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت اور حضرت علی (ع)
جب حضرت محمد مصطفے ( ص ) چالیس سال کے ہوئے تو اللہ نے انہیں عملی طور پر آپنا پیغام پہنچانے کے لئے معین فرمایا ۔ اللہ کی طرف سے پیغمبر (ص) کو جو یہ ذمہ داری سونپی گئ ، اسی کو بعثت کہتے ہیں . 
حضرت محمد (ص) پر وحی الٰھی کے نزول و پیغمبری کے لئے انتخاب کے بعدکی تین سال کی مخفیانہ دعوت کے بعد بالاخرخدا کی طرف سے وحی نازل ھوئ اور رسول الله (ص) کو عمومی طور پر دعوت اسلام کا حکم دیا گیا ۔ 
اس دوران پیغمبراکرم (ص) کی الٰھی دعوت کے منصوبوں کو عملی جامہ پھنانے والے تنھا حضرت علی (ع) تھے۔ جب رسول الله (ص) نے اپنے اعزاء و اقرباء کے درمیان اسلام کی تبلیغ کے لئے انہیں دعوت دی تو آپ کے ھمدرد و ھمدم، تنھا حضرت علی (ع) تھے ۔ 
اس دعوت میں پیغمبر خدا (ص) نےحاضرین سے سوال کیا کہ آپ میں سے کون ہے جو اس راه میں میری مدد کرے اور آپ کے درمیان میرا بھائی، وصی اور جانشین ھو؟ 
اس سوال کا جواب فقط حضرت علی (ع) نے دیا :” اے پیغمبر خدا ! میں اس راه میں آپ کی نصرت کروں گا ۔ پیغمبر اکرم (ص) نے تین مرتبه اسی سوال کی تکرار اور تینوں مرتبہ حضرت علی (ع) کا جواب سننے کے بعد فرمایا : 
اے میرے خاندان والوں ! جان لو که علی میرا بھائی اور میرے بعد تمھارے درمیان میرا وصی و جانشین ھے ۔ 
علی (ع) کے فضائل میں سے ایک یہ بھی ھے کہ آپ (ع) رسول الله (ص) پر ایمان لانے والے سب سے پھلے شخص ھیں ۔ اس سلسلے میں ابن ابی الحدید لکھتے ھیں : 
”بزرگ علماء اور گروه معتزلہ کے متکلمین کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نھیں ھے کہ علی بن ابی طالب (ع) وه پھلے شخص ھیں جو پیغمبر اسلام پر ایمان لائے اور پیغمبر خدا (ص) کیتصدیق کی “۔ 
رسول اسلام کی بعثت، زمانہ , ماحول, شہر اور آپنی قوم و خاندان کے خلاف ایک ایسی مہم تھی ، جس میں رسول کا ساتھ دینے والا کوئی نظر نہ ی اتا تھا ۔ بس ایک علی علیہ السّلام تھے کہ جب پیغمبر نے رسالت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے سب سے پہلے ا ن کی تصدیق کی اور ان پر ایمان کااقرارکیا . دوسری ذات جناب خدیج ۃ ال کبریٰ کی تھی، جنھوں نے خواتین کے طبقہ میں سبقتِ اسلام ک ا شرف حاصل کیا۔ 
پیغمبر کادعوائے رسالت کرنا تھا کہ مکہ کا ہر آدمی رسول کادشمن نظر انے لگا . وہی لوگ جو کل تک آپ کی سچائی اورامانتداری کادم بھرتے تھے اج آپ کو ( معاذ الله ( یوانہ، جادو گر اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے۔ اللہ کے رسول کے راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے، انہیں پتھر مارے جاتے اور ان کے سر پر کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا تھا. اس مصیبت کے وقت میں رسول ک ے شریک صرفاور صرف حضرت علی علیہ السّلام تھے، جو بھائی کاساتھ دینے میں کبھی بھی ہمت نہیں ہار تے تھے ۔ وہ ہمیشہ محبت ووفاداری کادم بھرتے رہےاور ہرموقع پر رسول کے سینہ سپر رہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی ایا جب مخالف گروہ نے انتہائی سختی کے ساتھ یہ طے کرلیا کہ پیغمبر اور ان کے تمام گھر والوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ حالات اتنے خراب تھے کہ جانوں کے لالے پڑ گئے تھے .حضرت ابو طالب علیہ السّلام نے آپنے تمام ساتھیوں کو حضرت محمدمصطفےٰ سمیت ایک پہاڑ کے دامن میں محفوظ قلعہ میں بند کردیا۔ وہان پر تین برس تک قید وبند کی زندگی بسر کرنی پڑی . کیون کہ اس دوران ہر رات یہ خطرہ رہتا تھا کہ کہیں دشمن شب خون نہ مار دے . اس لئے ابو طالب علیہ السّلام نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ رات بھر رسول کو ایک بستر پر نہیں رہنے دیتے تھے، بلکہ ک بھی رسول کے بستر پر جعفر کو اور جعفر کے بستر پر رسول کو ک بھی عقیل کے بستر پر رسول کو اور رسول کے بستر پر عقیل کو ک بھی علی کے بستر پر رسول کو اور رسول کے بستر پر علی علیہ السّلام کو لٹا تے رہتے تھے. مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن رسول کے بستر کا پتہ لگا کر حملہ کرنا چاہے تو میرا کوئ بیٹا قتل ہوجائے مگر رسول کا بال بیکانہ ہونے پائے . اس طرح علی علیہ السّلام بچپن سے ہی فدا کاری اور جان نثاری کے سبق کو عملی طور پر دہراتے رہے . 

رسول کی ہجرت اور حضرت علی (ع)
حضرت علی (ع) کے دیگر افتخارات میں سے ایک یہ ھے کہ جب شب ھجرت مشرک دشمنوں نے رسول الله (ص) کے قتل کی سازش رچی تو آپ (ع) نے پوری شجاعت کے ساتھ رسول الله (ص) کے بستر پر سو کر انکی سازش کو نا کام کر دیا۔ 
حضرت ابو طالب علیہ السّلام کی وفات سے پیغمبر کا دل ٹوٹ گیا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کاارادہ کرلیا ۔ دشمنوں نے یہ سازش رچی کہ ایک رات جمع ہو کر پیغمبر کے گھر کو گھیر لیں اور حضرت کو شہید کرڈالیں۔ جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے آپنے جاں نثار بھائی علی علیہ السّلام کو بلا کر اس سازش کے بارے میں اطلاع دی اور فرمایا کہ میری جان اس طرح بچ سکتی ہے اگر آج رات آپ میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جاؤ اور میں مخفی طور پر مکہ سے روانہ ہوجاؤں . کوئی دوسرا ہوتاتو یہ پیغام سنتے ہی اس کا دل دہل جاتا، مگر علی علیہ السّلام نے یہ سن کر کہ میرے ذریعہ سے رسول کی جان کی حفاظت ہوگی، خدا کاشکر ادا کیا اور بہت خوش ہوئے کہ مجھے رسول کافدیہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہی ہوا کہ رسالت ماب شب کے وقت مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور علی بن ابی طالب علیہ ما السّلام رسول کے بستر پر سوئے۔ چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے نیزے لئے ہوئے مکان کوگھیرے ہوئے تھے . بس اس بات کی دیر تھی کہ ذرا صبح ہو اور سب کے سب گھر میں داخل ہو کر رسالت ما ٓ ب کو شہید کر ڈالیں . علی علیہ السّلام اطمینان کے ساتھ بستر پرارام کرتے رہے اور اپنی جان کا ذرا بھی خیال نہ کیا۔ جب دشمنوں کو صبح کے وقت یہ معلوم ہوا کہ محمد نہیں ہیں تو انھوں نے آپ پر یہ دباؤ ڈالا کہ آپ بتلادیں کہ رسول کہا ںگئے ہیں ? مگر علی علیہ السّلام نے بڑے بہادرانہ انداز میں یہ بتانے سے قطعیطور پر انکار کردیا . اس کا نتیجہ یہ ہواکہ رسول الله (ص) مکہ سے کافی دور تک بغیر کسی پریشانی اور رکاوٹ کے تشریف لے جاسکیں.علی علیہ السّلام تین روز تک مکہ میں رہے . جن لوگوں کی امانتیں رسول الله کے پاس تھیں ان کے سپرد کر کےخواتین ُبیت ُ رسالت کو آپنے ساتھ لے کرمدینہ کی طرف روانہ ہوئے . آپ کئ روز تک رات دن پیدل چلے کر اس حالت میں رسول کے پاس پہنچے کہ آپ کے پیروں سے خون بہ رہا تھا. اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ علی علیہ السّلام پر رسول کو سب سے زیادہ اعتماد تھااور جس وفاداری , ہمت اور دلیری سے علی علیہ السّلام نے اس ذمہ داری کو پورا کیا ہے وہ بھی آپنی آپ میں ایک مثال ہے۔ 

شادی
جب رسول اکرم (ص) ہجرت کر کے مدینے گئے تو فاطمہ زہرا السّلام اللہ عل یہا بالغ ہو چکی تھیں اور پیغمبر(ص) اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ک ی شادی کی فکر میں تھے.کیوں کہ رسول(ص) اپنی بیٹی س ے بہت محبت کر تے تھے اور انہیں اتنی عزت دیتے تھے کہ جب فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ان کے پاس تشریف لاتی تھیں تو رسولاللہ (ص)ان کی تعظیم کے ل ئے کھڑے ہوجاتے تھے .اس لئے ہر شخص رسول کی اس معزز بیٹی کے ساتھ منسوب ہونے کا شرف حاصل کرنے کی تمنا میں تھا. کچھ لو گوں نے ہمت کر کے سول کو پیغام بھی دیا مگر حضرت نے سب کی خواہشوں کو رد کردیا اور فرمایا کہ فاطمہ کی شادی اللہ کے حکمِ بغیر نہیں ہوسکتی ۔ 
عمر و ابوبکر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ سے مشوره کرنے کے بعد اس نتیجے پر پھونچ چکے تھے کہ علی (ع) کے سوا کوئی بھی زھرا (س) کے ساتھ ازدواج کی لیاقت نھیں رکھتا۔ ایک دن جب حضرت علی (ع) انصار رسول (ص) میں سے کسی کے باغ میں آبیاری کر رھے تھےتو انھوں نے اس موضوع کو آپ (ع) کے سامنے چھیڑا اور آپ نے فرمایا : 
” میں بھی دختر رسول (ص) سے شادی کا خواھاں ھوں ، یہ کہہ کر آپ رسول الله (ص) کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ 
جب رسول الله (ص) کی خدمت میں پھونچے تو رسول الله (ص) کی عظمت اس بات میں مانع ھوئی که آپ (ع) کچه عرض کریں ۔جب رسول الله (ص) نے آنے کی وجہ دریافت کی تو حضرت علی (ع) نے اپنے فضائل، تقویٰ اور اسلام کے لئے آپنے سابقہ کارناموں کی بنیاد پرعرض کیا : ” آیا آپ فاطمه کو میرے عقد میں دینا بہتر سمجھتے ہیں ؟“ 
حضرت زھرا (س) کی رضامندی کے بعد رسول الله (ص) نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔ 
ہجرت کا پہلا سال تھا کہ رسول نے علی علیہ السّلام کو اس عزت کے لئے منتخب کیا . یہ شادی نہایت سادگی کے ساتھ انجام دی گئ . حضرت فاطمہ (س) کا مہر حضرت علی علیہ السّلام سے لے کر اسی سے ُ کچھ گھر کا سامان خریدا گیا جسے جہیز طور پر دیا گیا۔ وہ سامان بھی کیاتھا ؟ کچھ مٹی کے برتن ، خرمے کی چھال کے تکیے، چمڑے کابستر، چرخہ، چکی اور پانی بھرنے کی مشک . حضرت زہرا (س) کا مہر ایک سو سترہ تولے چاندی قرار پایا، جسےحضرت علی علیہ السّلام نے آپنی زرہ فروخت کر کے ادا کیا ۔ 

کتابت وحی
وحی الٰھی کی کتابت اور بھت سے تاریخی و سیاسی اسناد کی تنظیم اور دعوت الٰھی کے تبلیغی خطوط لکھنا، حضرت علی (ع) کے بھت اھم کاموں میں سے ایک ھے ۔ آپ (ع) قرآنی آیات کو لکھتے اور منظم و کرتے تھے اسی لئے آپ کو کاتبان وحی اور حافظان قرآن میں شمار کیا جاتا ھے ۔ 

حضرت علیہ ااسلام ، پیغمبراسلام (ص) کے بھائ
پیغمبراسلام (ص) نےمدینے پہنچ کر مسلمانوں کے درمیان بھائ کا رشتہ قائم کیا۔ عمر کو ابو بکر کا بھائ بنا بنا یاطلہ کو زبیر کا بھائ قرار دیا و۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور حضرت علی (ع)کو رسول الله (ص) نے اپنا بھائ بنایا اور حضرت علی (ع) سے فرمایا : 
” تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ھو، اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ۔۔۔ میں تمھیں آپنی اخوت کے لئے انتخاب کرتا ھوں ، ایک ایسی اخوت جو دونوں جھان میں بر قرار رھے “۔ 

. حضرت علی علیہ السلام اور اسلا می جہاد
اسلام کے دشمنوں نے پیغمبراسال (ص) کو مدینہ میں چین سے نہ بیٹھنے دیا. جو مسلمان مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں کچھ کو قتل کر دیا گیا، کچھ کو قیدی بنا لیاگیا اور کچھ کو مارا پیٹاگیا. یہی نہیں بلکہانہوں نے اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑاھئی کردی۔ اس موقع پر رسول اللہ (ص) کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کریں، کیوں کہ انھوں نے آپ کو پریشانی کے عالم میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت و مداد کاوعدہ کیا تھا، لہذا آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا کہ آپ شہر کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کو مدینہ کی پر امن ابادی میں داخل ہونے اور عورتوں اور بچوں کو پریشان کرنے کا موقع دیں. آپ کے ساتھیوں تعداد بہت کم تھی۔ آپ کے پاس کل تین سو تیرہ آدمی تھے اور مب کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے، مگر آپ نے یہ طے کیا کہ ہم مدینے سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ چنانچہ یہ اسلام کی پہلی جنگ ہوئی جوآگے چل کر جنگِ بدر کے نام سے مشہور ہوئ . اس جنگ میں رسول اللہ (ص) نے آپنے عزیزوں کو زیادہ آگے رکھا، جس کی وجہ سے آپ کے چچا زاد بھائی عبید ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوگئے . علی علیہ السّلام ابن ابی طالب کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۲۵برس تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی علیہ السّلام کے سر ہی بندھا۔ جتنے مشرکین قتل ہوئے ان میں سے ادھےحضرت علی علیہ السّلام کے ہاتھ سے اور ادھے، باقی مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ اس کے بعد ،اُحد، خندق،خیبراور اخر میں حنین یہ وہ بڑی جنگیں تھیں جن میں حضرت علی علیہ السّلام نے رسول کے ساتھ رہ کر اپنی بہادری کے جوہر دکھا ئے۔ تقریباً ان تمام جنگوں میں علی علیہ السّلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی جنگیں ایسی تھیں جن میں رسول نےحضرت علی علیہ السّلام کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ہی بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ فتح حاصل کی اور استقلال،تحمّل اور شرافت ُ نفس کا وہ مطاہرہ کیا کہاس کا اقرار خود ان کے دشمن کو بھی کرنا پڑا۔ جب خندق کی جنگ میں دشمن کے سب سے بڑے سورماعمر وبن عبدود کو آپ نے مغلوب کر لیا اور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پرسوار ہوئے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا۔ آپ کو غصہ اگیا اور آپ اس کے سینے سے اتر ا ٓئے . صرف اس خیال سے کہ اگراس غصّےکی حالت میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل خواہش نفس کے مطابق ہوگا، خدا کی راہ میں نہ ہوگا۔ اسی لئے آپ نے اس کو کچھ دیر کے بعد قتل کیا۔ اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش کو برہنہ کردیتے تھے، مگر حضرت علی علیہ السّلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری جبکہ وہ بہت قیمتی تھی . چناچہجب عمرو کی بہن آپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا کہاگر علی کے علاوہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی، مگر مجھے یہ دیکھ کر صبر اگیا کہ اس کاقاتل شریف انسان ہے جس نے آپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یابچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور نہ کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ کیا . 

غدیر خم
پیغمبر اکرم (ص) آپنی پر برکت زندگی کے آخری سال میں حج کا فریضہ انجام دینے کے بعد مکہ سےمدینے کی طرف پلٹ رہے تھے، جس وقت آپ کا قافلہ جحفه کے نزدیک غدیر خم نامی مقام پر پہنچا تو جبرئیل امین یہ آیہ بلغ لیکرنازل ہوئے، پیغمبر اسلام (ص)نے قافلےکو ٹھرنے کا حکم دیا ۔ 
نماز ظھر کے بعد پیغمبر اکرم (ص) اونٹوں کے کجاوں سے بنے منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : 
” ایھا الناس ! وہ وقت قریب ھے که میں دعوت حق پر لبیک کہتے ھوئے تمھارے درمیان سے چلا جاؤں ،لہذا بتاو کہ میرے بارے میں تمہاری کیا رای ہے؟ “ 
سب نے کہا :” ھم گواھی دیتے ھیں آپ نے الٰھی آئین و قوانین کی بہترین طریقے سے تبلیغ کی ھے “ رسول الله (ص) نے فرمایا ” کیا تم گواھی دیتے ہو کہ خدائے واحد کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نھیں ھے اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ھے “۔ 
پھر فرمایا: ” ایھا الناس ! مومنوں کے نزدیک خود ان سے بھتر اور سزا وار تر کون ھے ؟“۔ 
لوگوں نے جواب دیا :” خدا اور اس کا رسول بھتر جانتے ھیں “۔ 
پھر رسول الله (ص) نے حضرت علی (ع) کے ھاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا 
:” ایھا الناس ! من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں“ ۔ 
رسول الله (ص) نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی ۔ 
اس کے بعد لوگوں نے حضرت علی (ع) کواس منصب ولایت کے لئے مبارک باددی اور آپ (ع) کے ھاتھوں پر بیعت کی ۔ 

حضرت علی علیہ السلام، پیغمبر اسلام (ص) کی نظر میں
علی علیہ السّلام کے امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او آپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .کبھی یہ کہا کہ »میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے . کبھی یہ کہا »آپ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے . کبھی یہ کہا»علی کومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی . کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتا ہے .,, 
کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفسِ رسول کاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ جب مسجدکے صحن میں کھلنے والے، سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی کا رشتہ قائم کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے آپنا بھائی قرار دیا۔ اور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کے مجمع میں علی علیہ السّلام کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح میں تم سب کا حاکم اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب کے سرپرست اور حاکم ہیں۔ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ السّلام کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے علی علیہ السّلام کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے . 

رسول اللہ (ص)کی وفات اور حضرت علی علیہ السلام
ہجرت کا دسواں سال تھا کہ پیغمبر خدا (ص)ایک ایسے مرض میں مبتلا ہوئے، جو ان کے لئے مرض الموت ثابت ہوا۔ یہ خاندان ُ رسول کے لئے بڑی مصیبت کاوقت تھا۔ حضرت علی علیہ السّلام رسول کی بیماری میں آپ کے پاس موجود رہ کر تیمارداری کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ اور رسول اللہ (ص) بھی آپنے پاس سے ایک لمحہ کے لئے بھی حضرت علی علیہ السّلام کا جدا ہونا گوارانہیں کرتے تھے . پیغمبر اسلام (ص) نے علی علیہ السّلام کو آپنے پاس بلایا اور سینے سے لگا کر بہت دیر تک باتیں کرتے رہے اور ضروری وصیتیں فرمائیں . اس گفتگو کے بعد بھی حضرت علی علیہ السّلام کو آپنے سے جدا نہ ہونے دیا اور ان کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا. جس وقت رسول اللہ (ص) کی روح جسم سے جداہوئی، اس وقت بھی حضرت علی علیہ السّلام کاہاتھ رسول کے سینے پر رکھاہوا تھا۔ 
جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا ہو، وہ بعد رسول ان کی لاش کو کس طرح چھوڑ سکتا تھا، لہذا رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل کا تمام کام علی علیہ السّلام نےاپنے ہاتھوں سے انجام دیا اور رسول اللہ (ص)کواپنے ھاتھوں سے قبر میں رکھ کر دفن کر دیا۔ 

حضرت علی علیہ السلام کی طاہری خلافت
رسول اللہ (ص) کے بعدحضرت علی علیہ السّلام نے پچیس برس خانہ نشینی میں بسر کئے۔ جب سن ۳۵ ھجری قمری میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا تو پہلےتو آپ نے انکار کر دیا، لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکرلیا کہ میں قران اور سنت ُ پیغمبر(ص) کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا۔ جب مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کر لیا تو آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص دینی حکومت کو برداشت نہ کرسکا، لہذا بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ، جنھیں آپ کی دینی حکومت کی وجہ سے آپنے اقتدار کے ختم ہوجانے کا خطرہمحسوس ہو گیا تھا، وہ آپ کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا،جس کے نتیجے میں جمل، صفین، اور نہروان کی جنگیں ہوئیں . ان جنگوں میں حضرت علی بن ابی طالب علیہما السّلام نے اس شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر، احد، خندق، وخیبرمیں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان جنگوں کی وجہ سے آپ کو اتنا موقع نہ مل سکا کہ آپ اس طرح اصلاح فرماتے جیساکہ آپ کا دل چاہتا تھا . پھر بھی آپ نے اس مختصرسی مدّت میں، سادہ اسلامی زندگی، مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے۔ آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور آپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے۔ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے، غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھالیتے تھے . جو مال بیت المال میں اتا تھا اسے تمام حقداروں کے درمیان برابر تقسیم کردیتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نےجب یہ چاہا کہ انہیں، دوسرے مسلمانوں سے کچھ زیادہ مل جائے،تو آپ نے انکار کردیا اور فرمایا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو یہ ممکن تھا، مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے ، لہذا مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے اپنے کسی عزیز کو دوسروں سے زیادہ حصہ دوں۔ انتہا یہ ہے کہ اگرآپ کبھی رات کے وقت بیت المال میں حساب وکتاب میں مصروف ہوتے اور کوئی ملاقات کے لیے آجاتا اور غیر متعلق باتیں کرنے لگتا تو آپ چراغ کو بھجادیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہیں ہونا چاہئے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں ائے وہ جلد سے جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال کو جمع کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ 

حضرت علی علیہ السلام کی شہادت
جنگ نھروان کے بعد خوارج میں سے کچھ لوگ جیسے عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، ومبرک بن عبد الله تمیمی اور عمر و بن بکر تمیمی ایک رات میں ایک جگہ جمع ہوئےاور نھروان میں مارے گئے اپنےساتھیوں کو یاد کیا کرتے ہوئے ان دنوں کے حالات اور داخلی جنگوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرنےلگے۔ بالآخروہ اس نتیجہ پر پھونچے که اس قتل و غارت کی وجہ حضرت علی (ع) معاویہ اورعمرو عاص ھیں اور اگر ان تینوں افراد کو قتل کر دیا جائے تو مسلمان اپنے مسائل کوخود حل کر لیں گے۔ لھذا انھوں نے آپس میں طےکیا کہ ھم میں سے ھر ایک آدمی ان میں سے ایک ایک کو قتل کرے گا ۔ 
ابن ملجم نے حضرت علی (ع) کے قتل کا عھد کیا اور سن۴۰ ہجری قمری میں انیسویں رمضان المبارک کی شب کو کچھ لوگوں کے ساتھ مسجد کوفہ میں آکر بیٹھ گیا ۔ اس شب حضرت علی (ع) اپنی بیٹی کے گھر مھمان تھے اور صبح کو واقع ھونے والے حادثہ سے با خبر تھے۔ لھذا جب اس مسئلہ کو اپنی بیٹی کے سامنے بیان کیا تو ام کلثوم نے کہا کہ کل صبح آپ ۔۔۔کو مسجد میں بھیج دیجئے ۔ 
حضرت علی (ع) نے فرمایا : قضائے الٰھی سے فرار نھیں کیا جا سکتا۔ پھر آپنے کمر کے پٹکے کو کس کر باندھا اور اس شعر کو گنگناتےہوئے مسجد کی طرف روانہ ھوگئے ۔ 
” اپنی کمر کو موت کے لئے کس لو ، اس لئے کہ موت تم سے ملاقات کرے گی ۔ 
اور جب موت تمھاری تلاش میں آئے تو موت کے ڈر سے نالہ و فریاد نہ کرو “۔ 
حضرت علی (ع) سجده میں تھے کہ ابن ملجم نے آپ کے فرق مبارک پر تلوار کا وار کیا۔ آپ کے سر سے خون جاری ھواآپ کی داڑھی اور محراب خون سے رنگین ہو گئ۔ اس حالت میں حضرت علی (ع) نے فرمایا : ” فزت و رب الکعبه “ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ھو گیا۔ پھر سوره طہ کی اس آیت کی تلاوت فرمائی : 
”ھم نے تم کو خاک سے پیدا کیا ھے اور اسی خاک میں واپس پلٹا دیں گے اور پھر اسی خاک تمھیں دوباره اٹھائیں گے “۔ 
حضرت علی (ع) اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی لوگوں کی اصلاح و سعادت کی طرف متوجہ تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں، عزیزوں اور تمام مسلمانوں سے اس طرح وصیت فرمائی : 
” میں تمہیں پرھیز گاری کی وصیت کرتا ھوں اور وصیت کرتا ھوں کہ تم اپنے تمام امور کو منظم کرو اور ھمیشه مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی فکر کرتے رھو ۔ یتیموں کو فراموش نہ کرو ۔ پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت کرو ۔ قرآن کو اپنا عملی نصاب قرار دو ،نماز کی بہت زیادہ قدر کرو، کیوں کہ یہ تمھارے دین کا ستون ھے “۔ 
آپ کے رحم وکرم اور مساوات پسندی کا عالم یہ تھا کہ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لا یا گیا، اورآپ نے دیکھا کہ اس کاچہرہ زرد ہے اور انکھوں سے انسو جاری ہیں، تو آپ کو اس پر بھی رحم اگیا۔ آپنے اپنے دونوں بیٹوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسین علیہ السّلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ ہمارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا، اگر میں صحتیاب ہو گیا تو مجھے اختیار ہے کہ چاہے اسے سزا دوں یا معاف کردوں اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور آپ نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضربت لگاناکیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضربت لگائی ہے ۔ اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کرنا کیوں کہ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ 
حضرت علی علیہ السّلام دو روز تک بستر بیماری پر کرب و بیچینی کے ساتھ کروٹیں بدلتے رہے۔ اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور ۲۱رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی روح جسم سے پرواز کر گئ .حضرت امام حسن و امام حسین علیہما السّلام نے تجہیزو تکفین کے بعد آپ کے جسم اطہر کو نجف میں دفن کر دیا۔ 
 
 

 

Nasheed Tawashih Imam Ali (A.S.) - تواشیح اناشید ساقی کوثر علی - Arabic

Majlis 1 - 19 Ramazan - Shahadat Imam Ali (as)

Majlis 2 - 20 Ramazan - Shahadat Imam Ali (as)

Majlis 3 - 21 Ramazan - Shahadat Imam Ali (as)

علي ع علي ع يا علي الاكبر ع - ابا ذر الحلواجي Ali Ali (a.s) - Arabic

Jo So E Najaf Na Dehkhey

Qatrey ko yon Ali(a.s)

Ali Ali Bol - Mir Hasan Mir

Peace be on you, O trusted guardian, appointed by Allah, to administer His earth, and to convince the mankind to accept His plan. Peace be on you, O Ameer ul Moomineen;

 I testify that you made utmost efforts, as it should be, in the cause of Allah, acted upon His Book, followed the way of life of His Prophet, (blessings of Allah be on him and on his children ) , 
to the last moment of your life, until Allah invited you to come unto Him, and used His discretion to take you away, 
and sealed your enemies' doom with the blame that the arguments had been made known to one and all through you. 
O Allah let me be happy and satisfied with that which Thou considers good for me, let me agree with that which Thou decides for me, let me passionately remember Thee, and invoke Thee, 
let me be in love with Thy pure and sincere friends, let me be well-liked and respected on the earth, and in the heavens, let me be unruffled and well composed in the midst of misfortunes, 
let me be gratefully thankful in prosperity, let me be mindful of much and more bounties, let- me ardently desire for the heart warming meeting with Thee; well-equipped with piety to gain my end on the Day of Requital, 
let me follow into the footsteps of Thy representatives, let me disassociate myself from the mannerism of Thy enemies, let me pass my time, in this world, by praising and glorifying Thee. 
O Allah, verily, the hearts of those who surrender to Thee, are full of passionate love, the path of those, who long for Thee, is the straight (true) road, 
the instructions given by those, who lean on Thee, are distinct and precise, the minds of those, who are aware of Thy reality, are filled with awe and reverence, 
the call of those, who invite unto Thee, is loud and clear, and the doors of approval are kept open for them;whoso submits his supplication to Thee receives a favourable answer,
whoso turns repentant unto Thee gets acceptance (amnesty), whoso bursts into tears in fear of Thy punishment obtains mercy, whoso seeks redress from Thee finds the required assistance at his disposal, 
whoso asks for Thy help procures the aid as a gift. Thy promise made with Thy servants is fulfilled; 
whoso asks for pardon of his errors finds them reduced to nothing, whoso does everything for Thysake discovers that each and every deed has been preserved. The means of livelihood available to the created beings come from Thee like a rainfall,
and in addition many recurring favours and bounties reach them in regular successions, the sins of those, who ask for forgiveness, are overlooked, 
the wants and needs of all that which has been created by Thee are properly satisfied, those who put forward genuine demands get more than they ask for, one after the other, again and again; 
for the hungry wholesome food is arranged, for the thirsty clean water is available in abundance. 
O Allah give favourable answer to my prayer, acknowledge the praise I sing in worship, let there be peace and harmony between me and my friends, 
for the sake of Muhammad, Ali, Fatimah, Hasan and Husayn; 
verily, Thou art my Benefactor who provides with bounties, the aim of my desires, the ultimate destination of my hopes, in my future life, and during this short life. 
Thou art my God, my Master and my Lord;welcome my friends, keep our enemies away from us;to save us from the evil mischief divert their attention, 
let the "true Word" come out in the open, supreme and dominant, refute and condemn the "foullie", rendered contemptible, verily, Thou art able to do all things.

السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَمِينَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَ حُجَّتَهُ عَلَى عِبَادِهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ‏
أَشْهَدُ أَنَّكَ جَاهَدْتَ فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ وَ عَمِلْتَ بِكِتَابِهِ وَ اتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
حَتَّى دَعَاكَ اللَّهُ إِلَى جِوَارِهِ فَقَبَضَكَ إِلَيْهِ بِاخْتِيَارِهِ‏
وَ أَلْزَمَ أَعْدَاءَكَ الْحُجَّةَ مَعَ مَا لَكَ مِنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَةِ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ‏
اللَّهُمَّ فَاجْعَلْ نَفْسِي مُطْمَئِنَّةً بِقَدَرِكَ رَاضِيَةً بِقَضَائِكَ مُولَعَةً بِذِكْرِكَ وَ دُعَائِكَ‏
مُحِبَّةً لِصَفْوَةِ أَوْلِيَائِكَ مَحْبُوبَةً فِي أَرْضِكَ وَ سَمَائِكَ صَابِرَةً عَلَى نُزُولِ بَلاَئِكَ‏
شَاكِرَةً لِفَوَاضِلِ نَعْمَائِكَ ذَاكِرَةً لِسَوَابِغِ آلاَئِكَ مُشْتَاقَةً إِلَى فَرْحَةِ لِقَائِكَ مُتَزَوِّدَةً التَّقْوَى لِيَوْمِ جَزَائِكَ‏
مُسْتَنَّةً بِسُنَنِ أَوْلِيَائِكَ مُفَارِقَةً لِأَخْلاَقِ أَعْدَائِكَ مَشْغُولَةً عَنِ الدُّنْيَا بِحَمْدِكَ وَ ثَنَائِكَ‏
اللَّهُمَّ إِنَّ قُلُوبَ الْمُخْبِتِينَ إِلَيْكَ وَالِهَةٌ وَ سُبُلَ الرَّاغِبِينَ إِلَيْكَ شَارِعَةٌ
وَ أَعْلاَمَ الْقَاصِدِينَ إِلَيْكَ وَاضِحَةٌ وَ أَفْئِدَةَ الْعَارِفِينَ مِنْكَ فَازِعَةٌ
وَ أَصْوَاتَ الدَّاعِينَ إِلَيْكَ صَاعِدَةٌ وَ أَبْوَابَ الْإِجَابَةِ لَهُمْ مُفَتَّحَةٌ وَ دَعْوَةَ مَنْ نَاجَاكَ مُسْتَجَابَةٌ
وَ تَوْبَةَ مَنْ أَنَابَ إِلَيْكَ مَقْبُولَةٌ وَ عَبْرَةَ مَنْ بَكَى مِنْ خَوْفِكَ مَرْحُومَةٌ وَ الْإِغَاثَةَ لِمَنِ اسْتَغَاثَ بِكَ مَوْجُودَةٌ) مَبْذُولَةٌ)
وَ الْإِعَانَةَ لِمَنِ اسْتَعَانَ بِكَ مَبْذُولَةٌ (مَوْجُودَةٌ) وَ عِدَاتِكَ لِعِبَادِكَ مُنْجَزَةٌ
وَ زَلَلَ مَنِ اسْتَقَالَكَ مُقَالَةٌ وَ أَعْمَالَ الْعَامِلِينَ لَدَيْكَ مَحْفُوظَةٌ وَ أَرْزَاقَكَ إِلَى الْخَلاَئِقِ مِنْ لَدُنْكَ نَازِلَةٌ
وَ عَوَائِدَ الْمَزِيدِ إِلَيْهِمْ وَاصِلَةٌ وَ ذُنُوبَ الْمُسْتَغْفِرِينَ مَغْفُورَةٌ
وَ حَوَائِجَ خَلْقِكَ عِنْدَكَ مَقْضِيَّةٌ وَ جَوَائِزَ السَّائِلِينَ عِنْدَكَ مُوَفَّرَةٌ وَ عَوَائِدَ الْمَزِيدِ مُتَوَاتِرَةٌ
وَ مَوَائِدَ الْمُسْتَطْعِمِينَ مُعَدَّةٌ وَ مَنَاهِلَ الظِّمَاءِ (لَدَيْكَ) مُتْرَعَةٌ
اللَّهُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعَائِي وَ اقْبَلْ ثَنَائِي وَ اجْمَعْ بَيْنِي وَ بَيْنَ أَوْلِيَائِي‏
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ عَلِيٍّ وَ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ‏
إِنَّكَ وَلِيُّ نَعْمَائِي وَ مُنْتَهَى مُنَايَ وَ غَايَةُ رَجَائِي فِي مُنْقَلَبِي وَ مَثْوَايَ‏
أَنْتَ إِلَهِي وَ سَيِّدِي وَ مَوْلاَيَ اغْفِرْ لِأَوْلِيَائِنَا وَ كُفَّ عَنَّا أَعْدَاءَنَا وَ اشْغَلْهُمْ عَنْ أَذَانَا
وَ أَظْهِرْ كَلِمَةَ الْحَقِّ وَ اجْعَلْهَا الْعُلْيَا وَ أَدْحِضْ كَلِمَةَ الْبَاطِلِ وَ اجْعَلْهَا السُّفْلَى إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِير

 

O Allah I step out of my lodging, 
Seek Your favor, and proceed to visit the executor of Your Prophet’s will, Your blessings be on them. 
O Allah, make it easy for me, let my visit take place smoothly, 
Let me succeed in my fulfillment 
And attendance, and let it be a fairly auspicious success, 
O the most Merciful of all who show mercy. 

While going towards the “Haram Mubarak”, recite:
All Praise is for Allah and Glory be to Allah and there is no god except Allah 

At the “trench of Kufah”, recite:
Allah is the Greatest, Allah is the Greatest 
True owner of greatness might and majesty.
Allah is the Greatest, (He alone) is worthy of sublimity, 
Purity, glory and beneficence 
Allah is Greatest, I stand in awe of His greatness, and take alarm. 
Allah is Greatest, I rely upon Him and resign to His will. 
Allah is Greatest, I lean on Him and turn to Him. 
O Allah You are my Master of my bounties, 
And able to satisfy my demands, you know my needs 
And that which the troubled thoughts 
And apprehensive nature conceal, 
Therefore, I beseech You in the name of Mohammad (whom You elected) 
To silence the pseudo antagonists and sham pretenders. 
Through him, and made him “Mercy unto the worlds”, 
Not to deprive me of recompense available to me if I perform the visitation of Your 
friend, And Your Prophet’s brother, leader of the faithful and also of my 
determination on him, let me be among the worthy visitors 
And pious partisans, through Your mercy, O the Most Merciful.

As soon as the “Dome” is sighted, say: 
Praise be to Allah because He distinguished me with a good and lawful birth, 
And as a favor, purified me with the friendship of the virtuous, 
The chaste mediators, and the models of goodness; 
O Allah, therefore, take notice of how I hasten unto You,
Solicit humbly before You; 
And absolve me of my sins which are not hidden from You, 
Verily You are Allah, the King, the Forgiver

On arriving at the door of Najaf Ashraf, say:
Praise be to Allah Who has brought us here,
We, on our own, could not come if  Allah has not guided us. 
Praise be to Allah Who made me travel in His land, 
And loaded me on His conveyance and made the far as near from me 
He kept me safe from danger, and removed 
Discomforts, till I entered the 
Sacred sanctuary of the brother of His Apostle, blessings of Allah be on him and on his children.

While entering the city, say: 
Praise be to Allah who made me enter His blessed preinct, 
Which has been sanctified and selected by Allah 
For the successor of His Prophet, 
O Allah, therefore, let him take notice of (my arrival). 

At the first door of the Holy mausoleum, say:
O Allah I stand at Your door, set foot in Your courtyard, hold fast to Your rope, ask for Your mercy, apply to Your friend and representative, Your blessings be on him so welcome my visitation and give favourable answer to my prayer.

At the first door of the courtyard, say:
O Allah! Surely this sanctuary is Your sanctuary and this place is Your place and I enter it I supplicate to Your regarding what You know better than me about it and my secrets and whisperings All Praise be to Allah, the Benefactor, the Benovelent, Who, by His Grace, has made easy for me the visitation of my master and has not prevented me from his visitation and neither has He repelled me from his mastership, rather He has favoured and granted O Allah! As You have obliged me by his recognition then include me among his adherents and cause me to enter Paradise by his intercession, O the most Merciful of all those who show Mercy 

After entering into the courtyard, say:
Praise be to Allah Who honoured me with insight in the divine matters concerning Him and His Apostle, and prescribed for me obedience unto Him as a duty, an act of mercy from Him to me, a recurring bounty from Him for me, and choose me to have faith in Him. Praise be to Allah Who brought me to the sacred resting place of His Apostle’s brother a destination which gives me comfort. Prais be to Allah who allowed me to be amount the “Zawwaar” (visitors) of His Apostle’s successor. I bear witness that there is no god save Allah, the one Who has not taken any partner, and I bear witness that Mohammad, His bondman and Apostle, had come with truth from Him, and I bear witness that Ali , the brother of the Apostle of Allah, is also His bondman. Allah is the Greatest ! Allis is the Greatest! Allah is the Greatest !There is no god save Allah, Allah is the Greatest. Praise be to Allah, for His guidance and His granting opportunity towards what He calls from His way O Allah You are the most desired real aim, that most generous Welcomer unto whom one can go to seek nearness. I have come near You to seek Your nearness, in the name of Your Prophet, the Prophet of mercy. And in the name of his brother, commander of faithful, Ali son of Abu Talib, peace be on them. Send blessings on Mohammad and on the children of Mohammad, let not my effort go waste, treat me mercifully, promote my interests, make me honoured and respected in this world and in the Hereafter, and let me be amoung the favourites. 

Stop at the porch (Riwaaq) and say:
Peace on the Apostle of Allah custodian of His revelations, whom He entrusted with His divine plan, who brought to fullness and made perfect that which went before, began that which came ultimately, preserved and defended both of them; mercy and blessings of Allah be on him. Peace be on the possessor of tranquility Peace be on him who is resting in Medina. Peace be on him whom Allah helped and assisted. Peace be on Abdul Qasim Mohammad, son of Abdullah. Mercy and blessings of Allah be on him. Enter (putting the right foot first) through the porch, stand at the door of the “Haram Mubarak” and recite:I bear witness that there is no god save Allah, the One Who has no partner. I bear witness that Mohammad is His bondman and His Apostle, who came with truth from Him and certified the (earlier) Apostles, Peace be on you O Apostle of Allah . Peace be on you O beloved friend of Allah, the “ Best Individual” among His creation. Peace be on the commander of the faithfuls, the servant of Allah the brother of the Apostle of Allah, O Master! O Ameeral Momineen! I , your bondman, son of your bondman and bondwoman, take refuge in your shelter, I seek your patronage, I stand, face to face, before you, I seek nearness of Allah through you, May I enter , O my Master? May I enter, O Commander of the faithful. May I enter, O Decisive argument of Allah?  May I enter, O Faithful Trustee of Allah? May I enter, O Angels of Allah, quartered in this place of pilgrimage?O my Master do I have your permission to enter (a most cordial welcome that is extended to any of your closest friends)?May be I do not deserve it, but your are known to do this!

While entering (put the right foot forward) into the holy shrine, recite:
In the name of Allah, with (relying on) Allah, in the cause of Allah, following the religion of the Apostle of Allah, blessings of Allah be on him and on his children. O Allah forgive me, have mercy on me, accept my repentance. Verily You are the Oft-forgiving Merciful. 

Standing a few steps away from the Holy “Zarih”, say:
Peace be from Allah on Mohammad, the Apostle of Allah, the faithful trustee of Allah’s revelation, message and plan, the custodian of the Holy Quran, who brought to fullness and made perfect that which  went before, and began that which came after ultimately, preserved and defended both of them, a witness over the creation, and a light, giving light, peace, mercy and blessings of Allah be on him, O Allah send blessing on Mohammad and on his Ahlul Bayt, who were burdened With many troubles, the best, the most perfect, the worthiest blessing of all that have been bestowed upon any of Your Prophets, Apostles and Your chosen friends. O Allah send blessing on Ameerul Moomineen, Your bondman, Your best creation, After Your Prophet, the brother of Your Apostle, the executor of Your beloved friend’s will, whom you elected in preference over all Your creation, whom you sent as a  proof to confirm the Apostle who spread Your Message, who administered Your religion according to Your just and fair rules, and made clear Your commands for the people. Peace, mercy and blessing of Allah be on him. O Allah and blessings on the Imams, in his progeny, established through Your command, after him the thoroughly purified, whom You chose and approved to promote Your religion, to keep safe Your confidential matters, to give witness about that which the people do, to set examples for Your believing servants, Your blessings be on all of them. Peace be on the Ameerul Moomineen, Ali son of Abu Tablib, the executor of the Apostle of Allah’s will; his successor, appointed by his mandate to take charge of the divine mission after him; the first of the (twelve) successors; mercy and blessings of Allah be on him. Peace be on Fatimah daughter of the Apostle of Allah, (Allah’s blessings be on him and on his children), the leader, (chosen) from the women of the worlds. Peace be on Hasan and Husayn, the two young exclusive leaders of the inhabitants of the Paradise. Peace be on the rightly guided Guides (Imams). Peace be on the Prophets and Apostles. Peace be on the Guides (Imams) whom the divine mission was given in trust. Peace be on the favourites of Allah from among His creation who enjoy special distinctions. Peace be on those who possess deep insight and understand subtleties. Peace be on the faithfuls who abide by and attend to His commands, help His representatives, and stand in awe of their reverence. Peace be on the Angles, nearest to Allah.  Peace be on us and on the pious servants of Allah.

Ziarat-e-Mutlaqa:

Peace be on you, O Ameer ul Moomineen! Peace be on you, O the dearest beloved of Allah!Peace be on you, O true friend of Allah!Peace be on you, O representative of Allah!Peace be on you, O decisive argument of Allah!Peace be on you, o the Leader of guidance!Peace be on you, O the symbol of piety! …Peace be on you, O He who carried out the divine mission, obeyed Allah, devoted himself to the service of Allah, selected the best, kept his word!Peace be on you, O the father of Hasan and Husayn!Peace be on you, O the mainstay of the religion of Allah! Peace be on you, O the first of the (twelve) successors, the confidant of the Lord of the worlds;The administrator of the “day of judgment”, the best of all believers, the chief of the truthfuls, the purest progeny of the Prophets, the gate of wisdom of the Lord of the worlds, the treasurer of His Book, the treasure of His knowledge, the well-wisher of His Prophet’s ummah whom he always gave sincere advice, the follower of His Apostle, and for His sake staked his own life to assist (him). Used His “reason and argument” in his own discourses, and invited people unto the law of God, and introduced  the system approved by Him. O Allah I testify that he took steps to revive and generate that which Your Apostle entrusted to him Took care of that which (Your Apostle ) put in his safekeeping, protected that which (Your Apostle)gave over to him in letter and spirit adhered to that which You has made lawful, proclaimed unlawful that which You has forbidden, gave effect to Your laws, waged war, in Your cause, against those who were guilty of the breach of faith;Against those who swerved from that which was right according to Your command; against those who deviated from your true religon, exercising self-control, but retributing good and bad, and for Your sake did not take to task those who rebuked and blamed him out of meanness. O Allah send blessings on him, much and more than that which You has sent on any one of Your close favourite friends, or Prophets.O Allah this is the resting place of Your beloved friend, obedience unto whom has been made obligatory, You has made it compulsory for all Your servants to acknowledge him as an authority; he is Your representative, through whom, You catches hold of and also passes over, through him You gives a reward, and also inflicts penalty. I make the highest efforts to stay attached with him, so that I deserve to be among Your friends, (such a man) is credited with the highest merits by You; before You he occupies a noticeable important place, and Your closest nearness is his final destination; send blessings on Mohammad and on the children of Mohammad, and do for me that which Your are able to do, because, verily, You owns generosity and kindness. Peace be on you, O my Master, and on Aadam and Nooh who lie (buried) side by side with you, mercy and blessings of Allah be on you 

Now kiss the “Zarih Mubark”, stand at the head of the holy grave, and say:

O my Master I have come to your place, through you, I apply to Allah for fulfillment of my aim. I am positively sure, that whoso keeps close to you never comes to grief, whoso asks for satisfaction, fully aware of your authority, never comes back empty-handed, unless all his demands are decided and settled in his favour; therefore, recommend me (my case) to Allah, your Lord and my Lord, for favourable settlement of my demands, for speedy disposal of my affairs, for relief  from hardships, for forgiveness of my wrongdoings, for enough means of livelihood, for a long life, and for granting me that which I have asked for, in this world and in the Herafter. O Allah damn the killers of the commander of the faithful. O Allah damn the killers of Hasan and Husayn. O Allah damn the killers of the Holy Imams, condemn them to eternal punishment.  Like which You has not yet punished anyone in the whole universe, doomed ever to repeating damnation; which never shall leave them alone, nor there should be a fixed time, and interval. Lest they many (again) tear asunder the authourity of Your commands; and keep ready for them  that punishment which none from among Your creation will ever encounter. O Allah crack down on the killers of the friends of Your Apostle, and the killers of the commander of the faithful, on the killers of Hassan and Husayn, on the killers of the friends of Hasan and Husayn on the killers Of all those (faithfulls)who were killed in the love of the progeny of Mohammad, And inflict a painful punishment, and as much again in the lowest tiers of the burning Fire, so that for them there is no letup in torment, and they stay there, wrapped in grief, condemned to hell, hanging down their heads before their Lord, that they (at last) see with their own eyes what the (inevitable) sufferings is, and how the shame and disgrace shall last for ever, for killing the children of Your Prophets and Apostles, and their friends and followers, from among Your pious servants. O Allah let damnation torment them in their innermost thoughts and feelings, and in their social relationship and dealings, during their lifetime in his world, and after death, in the heaven.  O Allah let my approach be sincere in the matter of Your friends, let me love and take delight in their presence, near their resting abodes, till You unite me with them, and let me join them, in this world , and in the Hearafter. O the Most Merciful of all who show mercy !

Then kiss the shrine, Stand with your back towards Ka’bah facing the holy shrine and recite:
Peace be on you, O Abu Abdullah. Peace be on you, O the son of the Apostle of AllahPeace be on you, O the son of the commander of the faithfulPeace be on you, O the son of Fatemah Zehra the leader of the women of the universe. Peace be on you, O the father of the guiding leaders, the guided ones. Peace be on you, O the one who was felled down while tears were pouring out from his eyes Peace be on you, O the possessor of the perfected calamity. Peace be on you and on your grandfather and your father.Peace be on you and on your mother and your brother. Peace be on you the leaders from your progeny and sons. I bear witness that Allah has ordained the mud as pure because of you and has explained the Book through you and has made you and your father and grandfather and brother and sons as examples for the possessors of understanding. O the son of the auspicious and pure ones, the reciters of the Book. I direct my salutations to you, may the blessings of Allah and His peace be on you and may He made the hearts of the people incline towards you, He is not unsuccessful who adheres to you and seeks refuge in you. ….Stand at the foot of the Holy grave and recite: Peace be on the progenator of the Imams, intimately associated with the mission of prophethood. Particularly preferred for the equal affiliation. ….Peace be on the prima donna of the Religion and Belief, the Word of the beneficent. Peace be on the standard model (yardstick, criterion) of the “Ideal way of life”, the director  who plans and executes (all) affairs, the “sword” of the Almighty. The distributor of the pure water of the fountain of benevolence and love. Peace be on the benefactor of the faithfuls, the inheritor of the wisdom of the prophets, the administrator of the Day of Judgement. Peace be on the growth (fullness) of piety the hearer of hidden thoughts and secret communications. Peace be on the “argument”  Allah put forward as a convincing proof. His all-encompassing mercy, his disciplinary strike….. Peace be on the true and clear path, the distinct and bright star, the sincere and kind Guide, the many splendoured torch, the mercy and blessings of Allah be on you. ….Salawaat:O Allah send blessings on the Ameer Ul Moomineen, Ali ibna abi Talib, the bother of Thy prophet, his successor, his supporter, his vicegerent, custodian of his knowledge, repository of his confidential and privileged matters, gate of his wisdom, who gave tongue to his arguments, invited to his system, and took charge of the affairs of his followers after him he removed his anxiety and anguish, he pulled the syndrome of infidelity to pieces, and pushed the nose of evil into the dust, whom Thou united with Thy Prophet as Haroon was attached with Moosaa.O Allah befriend those who make friends with him, discard those who show hostility to him, help those who support him, abandon those who forsake him, damn those who set up and planted hostile opposition against him, whether they were his contemporaries or came after in succeeding generations; and send blessings on him, much and more blessings than Thou bestowed on any one from among the successors of Thy prophets, O the Lord of the worlds ! …..Stand at the head of the Holy grave and recite:Ziyaarat of Prophet Adam (A.S.) Peace be on you, O he who was sincerely attached to AllahPeace be on you, O beloved friend of Allah!Peace be on you, O Prophet of Allah!Peace be on you, O faithful trustee of Allah!Peace be on you, O the representative of Allah on His earth! Peace be on you, O father of mankind!…Peace be on you, and on your soul and body, and on your pure children and descendants, blessing of Allah be on you, blessings that no one can count save he, and Allah’s mercy and blessing be on you. Ziyaarat of Prophet Nooh (A.S.)Peace be on you, O Prophet of Allah!Peace be on you, O he who was sincerely attached to Allah!Peace be on you, O the close friend of Allah!Peace be on you, O beloved friend of Allah!Peace be on you, O the spiritual guide of the Apostles!Peace be on you, O the faithful trustee of Allah on His earth!Blessings of Allah and His greeting be on you, on your soul and body, and on your pure children, mercy and blessings of Allah be on you….
At the time of coming out of Residence

اللَّهُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ (تَوَجَّهْتُ) مِنْ مَنْزِلِي أَبْغِي فَضْلَكَ وَ أَزُورُ وَصِيَّ نَبِيِّكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِمَا
اللَّهُمَّ فَيَسِّرْ ذَلِكَ لِي وَ سَبِّبِ الْمَزَارَ لَهُ وَ اخْلُفْنِي فِي عَاقِبَتِي وَ حُزَانَتِي بِأَحْسَنِ الْخِلاَفَةِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏

Recite while going towards Haram:
الْحَمْدُ لِلَّهِ و سُبْحَانَ اللَّهِ و لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَهْلُ (أَهْلَ) الْكِبْرِيَاءِ وَ الْمَجْدِ وَ الْعَظَمَةِ
اللَّهُ أَكْبَرُ أَهْلُ (أَهْلَ) التَّكْبِيرِ وَ التَّقْدِيسِ وَ التَّسْبِيحِ وَ الْآلاَءِ اللَّهُ أَكْبَرُ مِمَّا أَخَافُ وَ أَحْذَرُ
اللَّهُ أَكْبَرُ عِمَادِي وَ عَلَيْهِ أَتَوَكَّلُ اللَّهُ أَكْبَرُ رَجَائِي وَ إِلَيْهِ أُنِيْبُ‏
اللَّهُمَّ أَنْتَ وَلِيُّ نِعْمَتِي وَ الْقَادِرُ عَلَى طَلِبَتِي تَعْلَمُ حَاجَتِي وَ مَا تُضْمِرُهُ هَوَاجِسُ الصُّدُورِ وَ خَوَاطِرُ النُّفُوسِ‏
فَأَسْأَلُكَ بِمُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى الَّذِي قَطَعْتَ بِهِ حُجَجَ الْمُحْتَجِّينَ وَ عُذْرَ الْمُعْتَذِرِينَ وَ جَعَلْتَهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ‏
أَنْ لاَ تَحْرِمَنِي ثَوَابَ زِيَارَةِ وَلِيِّكَ وَ أَخِي نَبِيِّكَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ قَصْدَهُ‏
وَ تَجْعَلَنِي مِنْ وَفْدِهِ الصَّالِحِينَ وَ شِيعَتِهِ الْمُتَّقِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏


Recite as soon as the Dome is sighted: 
الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى مَا اخْتَصَّنِي بِهِ مِنْ طِيبِ الْمَوْلِدِ
وَ اسْتَخْلَصَنِي إِكْرَاماً بِهِ مِنْ مُوَالاَةِ الْأَبْرَارِ السَّفَرَةِ الْأَطْهَارِ وَ الْخِيَرَةِ الْأَعْلاَمِ‏
اللَّهُمَّ فَتَقَبَّلْ سَعْيِي إِلَيْكَ وَ تَضَرُّعِي بَيْنَ يَدَيْكَ‏
وَ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي لاَ تَخْفَى عَلَيْكَ إِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْمَلِكُ الْغَفَّارُ

When you step into the city of Najaf: 
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لاَ أَنْ هَدَانَا اللَّهُ‏
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَيَّرَنِي فِي بِلاَدِهِ وَ حَمَلَنِي عَلَى دَوَابِّهِ‏
وَ طَوَى لِيَ الْبَعِيدَ وَ صَرَفَ عَنِّي الْمَحْذُورَ وَ دَفَعَ عَنِّي الْمَكْرُوهَ‏
حَتَّى أَقْدَمَنِي حَرَمَ أَخِي رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَدْخَلَنِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ الْمُبَارَكَةَ الَّتِي بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا وَ اخْتَارَهَا لِوَصِيِّ نَبِيِّهِ اللَّهُمَّ فَاجْعَلْهَا شَاهِدَةً لِي‏

At the first door of Mausoleum say: 
اللَّهُمَّ لِبَابِكَ وَقَفْتُ وَ بِفِنَائِكَ نَزَلْتُ وَ بِحَبْلِكَ اعْتَصَمْتُ وَ لِرَحْمَتِكَ تَعَرَّضْتُ‏
وَ بِوَلِيِّكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ تَوَسَّلْتُ فَاجْعَلْهَا زِيَارَةً مَقْبُولَةً وَ دُعَاءً مُسْتَجَاباً

After entering the courtyard say: 
اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا الْحَرَمَ حَرَمُكَ وَ الْمَقَامَ مَقَامُكَ‏
وَ أَنَا أَدْخُلُ إِلَيْهِ أُنَاجِيكَ بِمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي وَ مِنْ سِرِّي وَ نَجْوَايَ‏
الْحَمْدُ لِلَّهِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ الْمُتَطَوِّلِ الَّذِي مِنْ تَطَوُّلِهِ سَهَّلَ لِي زِيَارَةَ مَوْلاَيَ بِإِحْسَانِهِ‏
وَ لَمْ يَجْعَلْنِي عَنْ زِيَارَتِهِ مَمْنُوعاً وَ لاَ عَنْ وِلاَيَتِهِ مَدْفُوعاً بَلْ تَطَوَّلَ وَ مَنَحَ‏
اللَّهُمَّ كَمَا مَنَنْتَ عَلَيَّ بِمَعْرِفَتِهِ فَاجْعَلْنِي مِنْ شِيعَتِهِ وَ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنِي بِمَعْرِفَتِهِ وَ مَعْرِفَةِ رَسُولِهِ وَ مَنْ فَرَضَ عَلَيَّ طَاعَتَهُ‏
رَحْمَةً مِنْهُ لِي وَ تَطَوُّلاً مِنْهُ عَلَيَّ وَ مَنَّ عَلَيَّ بِالْإِيمَانِ‏
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَدْخَلَنِي حَرَمَ أَخِي رَسُولِهِ وَ أَرَانِيهِ فِي عَافِيَةٍ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنِي مِنْ زُوَّارِ قَبْرِ وَصِيِّ رَسُولِهِ‏
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ‏
جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَ أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيّاً عَبْدُ اللَّهِ وَ أَخُو رَسُولِ اللَّهِ‏
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَ اللَّهُ أَكْبَرُ
وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى هِدَايَتِهِ وَ تَوْفِيقِهِ لِمَا دَعَا إِلَيْهِ مِنْ سَبِيلِهِ‏
اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَفْضَلُ مَقْصُودٍ وَ أَكْرَمُ مَأْتِيٍّ وَ قَدْ أَتَيْتُكَ مُتَقَرِّباً إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ
وَ بِأَخِيهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ‏
فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ لاَ تُخَيِّبْ سَعْيِي وَ انْظُرْ إِلَيَّ نَظْرَةً رَحِيمَةً تَنْعَشُنِي بِهَا
وَ اجْعَلْنِي عِنْدَكَ وَجِيهاً فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ‏

Stop at the porch (Riwaq) and say: 
السَّلاَمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَمِينِ اللَّهِ عَلَى وَحْيِهِ وَ عَزَائِمِ أَمْرِهِ‏
الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ وَ الْفَاتِحِ لِمَا اسْتُقْبِلَ وَ الْمُهَيْمِنِ عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
السَّلاَمُ عَلَى صَاحِبِ السَّكِينَةِ السَّلاَمُ عَلَى الْمَدْفُونِ بِالْمَدِينَةِ السَّلاَمُ عَلَى الْمَنْصُورِ الْمُؤَيَّدِ
السَّلاَمُ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏

Enter putting the right foot first, stand at the door of Haram and recite: 
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ‏
وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِهِ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ وَ خِيَرَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ‏
السَّلاَمُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ اللَّهِ وَ أَخِي رَسُولِ اللَّهِ‏
يَا مَوْلاَيَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدِكَ وَ ابْنُ أَمَتِكَ جَاءَكَ مُسْتَجِيراً بِذِمَّتِكَ‏
قَاصِداً إِلَى حَرَمِكَ مُتَوَجِّهاً إِلَى مَقَامِكَ مُتَوَسِّلاً إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِكَ‏
أَ أَدْخُلُ يَا مَوْلاَيَ أَ أَدْخُلُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَ أَدْخُلُ يَا حُجَّةَ اللَّهِ أَ أَدْخُلُ يَا أَمِينَ اللَّهِ‏
أَ أَدْخُلُ يَا مَلاَئِكَةَ اللَّهِ الْمُقِيمِينَ (الْمُقَرَّبِينَ) فِي هَذَا الْمَشْهَدِ
يَا مَوْلاَيَ أَ تَأْذَنُ لِي بِالدُّخُولِ أَفْضَلَ مَا أَذِنْتَ لِأَحَدٍ مِنْ أَوْلِيَائِكَ فَإِنْ لَمْ أَكُنْ لَهُ أَهْلاً فَأَنْتَ أَهْلٌ لِذَلِكَ‏

Recite while entering into the Rawzah Mubarak:
بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَ ارْحَمْنِي وَ تُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ‏

Stand a few steps away from the Zareeh and say: 
السَّلاَمُ مِنَ اللَّهِ عَلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ‏
أَمِينِ اللَّهِ عَلَى وَحْيِهِ وَ رِسَالاَتِهِ وَ عَزَائِمِ أَمْرِهِ وَ مَعْدِنِ الْوَحْيِ وَ التَّنْزِيلِ‏
الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ وَ الْفَاتِحِ لِمَا اسْتُقْبِلَ وَ الْمُهَيْمِنِ عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ الشَّاهِدِ عَلَى الْخَلْقِ‏
السِّرَاجِ الْمُنِيرِ وَ السَّلاَمُ عَلَيْهِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ الْمَظْلُومِينَ‏
أَفْضَلَ وَ أَكْمَلَ وَ أَرْفَعَ وَ أَشْرَفَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَنْبِيَائِكَ وَ رُسُلِكَ وَ أَصْفِيَائِكَ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِكَ وَ خَيْرِ خَلْقِكَ بَعْدَ نَبِيِّكَ وَ أَخِي رَسُولِكَ‏
وَ وَصِيِّ حَبِيبِكَ الَّذِي انْتَجَبْتَهُ مِنْ خَلْقِكَ وَ الدَّلِيلِ عَلَى مَنْ بَعَثْتَهُ بِرِسَالاَتِكَ‏
وَ دَيَّانِ الدِّينِ بِعَدْلِكَ وَ فَصْلِ قَضَائِكَ بَيْنَ خَلْقِكَ وَ السَّلاَمُ عَلَيْهِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ الْقَوَّامِينَ بِأَمْرِكَ مِنْ بَعْدِهِ الْمُطَهَّرِينَ‏
الَّذِينَ ارْتَضَيْتَهُمْ أَنْصَاراً لِدِينِكَ وَ حَفَظَةً لِسِرِّكَ وَ شُهَدَاءَ عَلَى خَلْقِكَ وَ أَعْلاَماً لِعِبَادِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ وَ خَلِيفَتِهِ‏
وَ الْقَائِمِ بِأَمْرِهِ مِنْ بَعْدِهِ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
السَّلاَمُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَى الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ سَيِّدَيْ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْخَلْقِ أَجْمَعِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَى الْأَئِمَّةِ الرَّاشِدِينَ السَّلاَمُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَ الْمُرْسَلِينَ السَّلاَمُ عَلَى الْأَئِمَّةِ الْمُسْتَوْدَعِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَى خَاصَّةِ اللَّهِ مِنْ خَلْقِهِ السَّلاَمُ عَلَى الْمُتَوَسِّمِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ قَامُوا بِأَمْرِهِ وَ وَازَرُوا أَوْلِيَاءَ اللَّهِ وَ خَافُوا بِخَوْفِهِمْ‏
السَّلاَمُ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَفْوَةَ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا إِمَامَ الْهُدَى السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا عَلَمَ التُّقَى السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْوَصِيُّ الْبَرُّ التَّقِيُّ النَّقِيُّ الْوَفِيُ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا عَمُودَ الدِّينِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الْوَصِيِّينَ‏
وَ أَمِينَ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَ دَيَّانَ يَوْمِ الدِّينِ وَ خَيْرَ الْمُؤْمِنِينَ وَ سَيِّدَ الصِّدِّيقِينَ‏
وَ الصَّفْوَةَ مِنْ سُلاَلَةِ النَّبِيِّينَ وَ بَابَ حِكْمَةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَ خَازِنَ وَحْيِهِ وَ عَيْبَةَ عِلْمِهِ وَ النَّاصِحَ لِأُمَّةِ نَبِيِّهِ‏
وَ التَّالِيَ لِرَسُولِهِ وَ الْمُوَاسِيَ لَهُ بِنَفْسِهِ وَ النَّاطِقَ بِحُجَّتِهِ وَ الدَّاعِيَ إِلَى شَرِيعَتِهِ وَ الْمَاضِيَ عَلَى سُنَّتِهِ‏
اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ عَنْ رَسُولِكَ مَا حُمِّلَ وَ رَعَى مَا اسْتُحْفِظَ وَ حَفِظَ مَا اسْتُوْدِعَ‏
وَ حَلَّلَ حَلاَلَكَ وَ حَرَّمَ حَرَامَكَ وَ أَقَامَ أَحْكَامَكَ‏
وَ جَاهَدَ النَّاكِثِينَ فِي سَبِيلِكَ وَ الْقَاسِطِينَ فِي حُكْمِكَ وَ الْمَارِقِينَ عَنْ أَمْرِكَ صَابِراً مُحْتَسِباً لاَ تَأْخُذُهُ فِيكَ لَوْمَةُ لاَئِمٍ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَوْلِيَائِكَ وَ أَصْفِيَائِكَ وَ أَوْصِيَاءِ أَنْبِيَائِكَ‏
اللَّهُمَّ هَذَا قَبْرُ وَلِيِّكَ الَّذِي فَرَضْتَ طَاعَتَهُ وَ جَعَلْتَ فِي أَعْنَاقِ عِبَادِكَ مُبَايَعَتَهُ‏
وَ خَلِيفَتِكَ الَّذِي بِهِ تَأْخُذُ وَ تُعْطِي وَ بِهِ تُثِيبُ وَ تُعَاقِبُ‏
وَ قَدْ قَصَدْتُهُ طَمَعاً لِمَا أَعْدَدْتَهُ لِأَوْلِيَائِكَ فَبِعَظِيمِ قَدْرِهِ عِنْدَكَ وَ جَلِيلِ خَطَرِهِ لَدَيْكَ وَ قُرْبِ مَنْزِلَتِهِ مِنْكَ‏
صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ افْعَلْ بِي مَا أَنْتَ أَهْلُهُ‏
فَإِنَّكَ أَهْلُ الْكَرَمِ وَ الْجُودِ وَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مَوْلاَيَ وَ عَلَى ضَجِيعَيْكَ آدَمَ وَ نُوحٍ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
يَا مَوْلاَيَ إِلَيْكَ وُفُودِي وَ بِكَ أَتَوَسَّلُ إِلَى رَبِّي فِي بُلُوغِ مَقْصُودِي‏
وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْمُتَوَسِّلَ بِكَ غَيْرُ خَائِبٍ وَ الطَّالِبَ بِكَ عَنْ مَعْرِفَةٍ غَيْرُ مَرْدُودٍ إِلاَّ بِقَضَاءِ حَوَائِجِهِ‏
فَكُنْ لِي شَفِيعاً إِلَى اللَّهِ رَبِّكَ وَ رَبِّي فِي قَضَاءِ حَوَائِجِي وَ تَيْسِيرِ أُمُورِي وَ كَشْفِ شِدَّتِي‏
وَ غُفْرَانِ ذَنْبِي وَ سَعَةِ رِزْقِي وَ تَطْوِيلِ عُمُرِي وَ إِعْطَاءِ سُؤْلِي فِي آخِرَتِي وَ دُنْيَايَ‏
اللَّهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ‏
اللَّهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْأَئِمَّةِ وَ عَذِّبْهُمْ عَذَاباً أَلِيماً لاَ تُعَذِّبُهُ أَحَداً مِنَ الْعَالَمِينَ‏
عَذَاباً كَثِيراً لاَ انْقِطَاعَ لَهُ وَ لاَ أَجَلَ وَ لاَ أَمَدَ بِمَا شَاقُّوا وُلاَةَ أَمْرِكَ‏
وَ أَعِدَّ لَهُمْ عَذَاباً لَمْ تُحِلَّهُ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ‏
اللَّهُمَّ وَ أَدْخِلْ عَلَى قَتَلَةِ أَنْصَارِ رَسُولِكَ وَ عَلَى قَتَلَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ‏
وَ عَلَى قَتَلَةِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ وَ عَلَى قَتَلَةِ أَنْصَارِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ‏
وَ قَتَلَةِ مَنْ قُتِلَ فِي وِلاَيَةِ آلِ مُحَمَّدٍ أَجْمَعِينَ عَذَاباً أَلِيماً مُضَاعَفاً فِي أَسْفَلِ دَرْكٍ مِنَ الْجَحِيمِ‏
لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ مَلْعُونُونَ‏
نَاكِسُوا رُءُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَدْ عَايَنُوا النَّدَامَةَ وَ الْخِزْيَ الطَّوِيلَ‏
لِقَتْلِهِمْ عِتْرَةَ أَنْبِيَائِكَ وَ رُسُلِكَ وَ أَتْبَاعَهُمْ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ‏
اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ فِي مُسْتَسِرِّ السِّرِّ وَ ظَاهِرِ الْعَلاَنِيَةِ فِي أَرْضِكَ وَ سَمَائِكَ‏
اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي قَدَمَ صِدْقٍ فِي أَوْلِيَائِكَ وَ حَبِّبْ إِلَيَّ مَشَاهِدَهُمْ وَ مُسْتَقَرَّهُمْ‏
حَتَّى تُلْحِقَنِي بِهِمْ وَ تَجْعَلَنِي لَهُمْ تَبَعاً فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْأَئِمَّةِ الْهَادِينَ الْمَهْدِيِّينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَرِيعَ الدَّمْعَةِ السَّاكِبَةِ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَاحِبَ الْمُصِيبَةِ الرَّاتِبَةِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى جَدِّكَ وَ أَبِيكَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أُمِّكَ وَ أَخِيكَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْأَئِمَّةِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ وَ بَنِيكَ‏
أَشْهَدُ لَقَدْ طَيَّبَ اللَّهُ بِكَ التُّرَابَ وَ أَوْضَحَ بِكَ الْكِتَابَ‏
وَ جَعَلَكَ وَ أَبَاكَ وَ جَدَّكَ وَ أَخَاكَ وَ بَنِيكَ عِبْرَةً لِأُولِي الْأَلْبَابِ يَا ابْنَ الْمَيَامِينِ الْأَطْيَابِ التَّالِينَ الْكِتَابَ‏
وَجَّهْتُ سَلاَمِي إِلَيْكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَ سَلاَمُهُ عَلَيْكَ وَ جَعَلَ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْكَ مَا خَابَ مَنْ تَمَسَّكَ بِكَ وَ لَجَأَ إِلَيْكَ‏
السَّلاَمُ عَلَى أَبِي الْأَئِمَّةِ وَ خَلِيلِ النُّبُوَّةِ وَ الْمَخْصُوصِ بِالْأُخُوَّةِ
السَّلاَمُ عَلَى يَعْسُوبِ الدِّينِ وَ الْإِيمَانِ وَ كَلِمَةِ الرَّحْمَنِ‏
السَّلاَمُ عَلَى مِيزَانِ الْأَعْمَالِ وَ مُقَلِّبِ الْأَحْوَالِ وَ سَيْفِ ذِي الْجَلاَلِ وَ سَاقِي السَّلْسَبِيلِ الزُّلاَلِ‏
السَّلاَمُ عَلَى صَالِحِ الْمُؤْمِنِينَ وَ وَارِثِ عِلْمِ النَّبِيِّينَ وَ الْحَاكِمِ يَوْمَ الدِّينِ‏
السَّلاَمُ عَلَى شَجَرَةِ التَّقْوَى وَ سَامِعِ السِّرِّ وَ النَّجْوَى‏
السَّلاَمُ عَلَى حُجَّةِ اللَّهِ الْبَالِغَةِ وَ نِعْمَتِهِ السَّابِغَةِ وَ نَقِمَتِهِ الدَّامِغَةِ
السَّلاَمُ عَلَى الصِّرَاطِ الْوَاضِحِ وَ النَّجْمِ اللاَّئِحِ وَ الْإِمَامِ النَّاصِحِ وَ الزِّنَادِ الْقَادِحِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخِي نَبِيِّكَ وَ وَلِيِّهِ وَ نَاصِرِهِ وَ وَصِيِّهِ وَ وَزِيرِهِ‏
وَ مُسْتَوْدَعِ عِلْمِهِ وَ مَوْضِعِ سِرِّهِ وَ بَابِ حِكْمَتِهِ وَ النَّاطِقِ بِحُجَّتِهِ وَ الدَّاعِي إِلَى شَرِيعَتِهِ‏
وَ خَلِيفَتِهِ فِي أُمَّتِهِ وَ مُفَرِّجِ الْكَرْبِ عَنْ وَجْهِهِ‏
وَ قَاصِمِ الْكَفَرَةِ وَ مُرْغِمِ الْفَجَرَةِ الَّذِي جَعَلْتَهُ مِنْ نَبِيِّكَ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى‏
اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ‏
وَ اخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وَ الْعَنْ مَنْ نَصَبَ لَهُ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ‏
وَ صَلِّ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَوْصِيَاءِ أَنْبِيَائِكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ‏

Ziarat of Hazrat Adam (as): 
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَفِيَّ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَمِينَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْبَشَرِ السَّلاَمُ (سَلاَمُ اللَّهِ) عَلَيْكَ وَ عَلَى رُوحِكَ وَ بَدَنِكَ وَ عَلَى الطَّاهِرِينَ مِنْ وُلْدِكَ وَ ذُرِّيَّتِكَ‏
وَ صَلَّى (اللَّهُ عَلَيْكَ) صَلاَةً لاَ يُحْصِيهَا إِلاَّ هُوَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ‏

Ziarat of Hazrat Nooh (as): 
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَفِيَّ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا شَيْخَ الْمُرْسَلِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَمِينَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَ سَلاَمُهُ عَلَيْكَ وَ عَلَى رُوحِكَ وَ بَدَنِكَ‏
وَ عَلَى الطَّاهِرِينَ مِنْ وُلْدِكَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ

 

BIOGRAPHY

Name: Ali ibne Abi Talib (as)

Father: Abu Talib bin Abdul Muttalib bin Hashim. 

Mother: Fatimah bint Asad bin Hashim bin Abd Munaf. 

Kunniyat (Patronymic): Abul Hasan and Husayn, Abu Turab 

Laqab (Title): Al-Wasi, Amir al-Mu'minin 

Birth: He was born in the Ka'ba , in thirty 'Am al-Fil (the year of the elephant). 

MartyrdomHe was martyred by the Khwariji named Abd al-Rahman ibn Muljam at Kufa during the month of Ramadhan in the fortieth year of Hijrah and is buried in Najaf on the outskirts of Kufa.

imam <span style='background-color:yellow'>ali</span>

 Biography

Amir al-mu'minln Ali (upon whom be peace) was the son of Abu Talib, the Shaykh of the Banu Hashim. Abu Talib was the uncle and guardian of the Holy Prophet (sawas) and the person who had brought the Prophet (sawas) to his house and raised him like his own son. After the Prophet (sawas) was chosen for his prophetic mission, Abu Talib continued to support him and repelled from him the evil that came from the infidels among the Arabs and especially the Quraysh.

According to well-known traditional accounts Ali was born ten years before the commencement of the prophetic mission of the Prophet (sawas). When six years old, as a result of famine in and around Mecca, he was requested by the Prophet (sawas) to leave his father's house and come to the house of his cousin, the Prophet (sawas). There he was placed directly under the guardianship and custody of the Holy Prophet (sawas).

imam <span style='background-color:yellow'>ali</span>

A few years later, when the Prophet (sawas) was endowed with the Divine gift of prophecy and for the first time received the Divine revelation in the cave of Hira', as he left the cave to return to town and his own house he met Ali on the way. He told him what had happened and Ali accepted the new faith. Again in a gathering when the Holy Prophet (sawas) had brought his relatives together and invited them to accept his religion, he said the first person to accept his call would be his vicegerent and inheritor and deputy. The only person to rise from his place and accept the faith was Ali and the Prophet (sawas) accepted his declaration of faith. Therefore Ali was the first man in Islam to accept the faith and is the first among the followers of the Prophet (sawas) to have never worshipped other than the One God.

Ali was always in the company of the Prophet (sawas) until the Prophet (sawas) migrated from Mecca to Medina. On the night of the migration to Medina (hijrah) when the infidels had surrounded the house of the Prophet (sawas) and were determined to invade the house at the end of the night and cut him to pieces while he was in bed, Ali slept in place of the Prophet (sawas) while the Prophet (sawas) left the house and set out for Medina. After the departure of the Prophet (sawas), according to his wish Ali gave back to the people the trusts and charges that they had left with the Prophet (sawas). Then he went to Medina with his mother, the daughter of the Prophet (sawas), and two other women.

In Medina also Ali was constantly in the company of the Prophet (sawas) in private and in public. The Prophet (sawas) gave Fatimah, his beloved daughter from Khadijah, to Ali as his wife and when the Prophet (sawas) was creating bonds of brotherhood among his companions he selected Ali as his brother.

Ali was present in all the wars in which the Prophet (sawas) participated, except the battle of Tabuk when he was ordered to stay in Medina in place of the Prophet (sawas). He did not retreat in any battle nor did he turn his face away from any enemy. He never disobeyed the Prophet (sawas), so that the Prophet (sawas) said, "Ali is never separated from the Truth nor the Truth from Ali."

On the day of the death of the Prophet (sawas), Ali was thirty-three years old. Although he was foremost in religious virtues and the most outstanding among the companions of the Prophet (sawas), he was pushed aside from the caliphate on the claim that he was too young and that he had many enemies among the people because of the blood of the polytheists he had spilled in the wars fought alongside the Prophet (sawas). Therefore Ali was almost completely cut off from public affairs. He retreated to his house where he began to train competent individuals in the Divine sciences and in this way he passed the twenty-five years of the caliphate of the first three caliphs who succeeded the Prophet (sawas). When the third caliph was killed, people gave their allegiance to him and he was chosen as caliph.

During his caliphate of nearly four years and nine months, Ali followed the way of the Prophet (sawas) and gave his caliphate the form of a spiritual movement and renewal and began many different types of reforms. Naturally, these reforms were against the interests of certain parties that sought their own benefit. As a result, a group of the companions (foremost among whom were Talhah and Zubayr, who also gained the support of A'ishah, and especially Mu'awiyah) made a pretext of the death of the third caliph to raise their heads in opposition and began to revolt and rebel against Ali.

In order to quell the civil strife and sedition, Ali fought a war near Basra, known as the "Battle of the Camel," against Talhah and Zubayr in which Ummul Mu'mineen A'ishah, was also involved. He fought another war against Mu'awiyah on the border of Iraq and Syria which lasted for a year and a half and is famous as the "Battle of Siffin." He also fought against the Khawarij at Nahrawan, in a battle known as the "Battle of Nahrawan." Therefore, most of the days of Ali's caliphate were spent in overcoming internal opposition. Finally, in the morning of the 19th of Ramadan in the year 40 A.H., while praying in the mosque of Kufa, he was wounded by one of the Khawarij and died as a martyr during the night of the 21st of Ramadan.
imam <span style='background-color:yellow'>ali</span>

According to the testimony of friend and foe alike, Ali had no shortcomings from the point of view of human perfection. And in the Islamic virtues he was a perfect example of the upbringing and training given by the Prophet (sawas). The discussions that have taken place concerning his personality and the books written on this subject by Shi'ites, Sunnis and members of other religions, as well as the simply curious outside any distinct religious bodies, are hardly equalled in the case of any other personality in history.

In science and knowledge Ali was the most learned of the companions of the Prophet (sawas), and of Muslims in general. In his learned discourses he was the first in Islam to open the door for logical demonstration and proof and to discuss the "divine sciences" or metaphysics (ma'arif-i ilahlyah). He spoke concerning the esoteric aspect of the Quran and devised Arabic grammar in order to preserve the Quran's form of expression. He was the most eloquent Arab in speech (as has been mentioned in the first part of this book).

The courage of Ali was proverbial. In all the wars in which he participated during the lifetime of the Prophet (sawas), and also afterward, he never displayed fear or anxiety. Although in many battles such as those of Uhud, Hunayn, Khaybar and Khandaq the aides to the Prophet (sawas) and the Muslim army trembled in fear or dispersed and fled, he never turned his back to the enemy. Never did a warrior or soldier engage Ali in battle and come out of it alive. Yet, with full chivalry he would never slay a weak enemy nor pursue those who fled. He would not engage in surprise attacks or in turning streams of water upon the enemy. It has been definitively established historically that in the Battle of Khaybar in the attack against the fort he reached the ring of the door and with sudden motion tore off the door and cast it away. Also on the day when Mecca was conquered the Prophet (sawas) ordered the idols to be broken. The idol "Hubal" was the largest idol in Mecca, a giant stone statue placed on the top of the Ka'bah. Following the command of the Prophet (sawas), Ali placed his feet on the Prophet (sawas)'s shoulders, climbed to the top of the Ka'bah, pulled "Hubal" from its place and cast it down.

Ali was also without equal in religious asceticism and the worship of God. In answer to some who had complained of Ali's anger toward them, the Prophet (sawas) said, "Do not reproach Ali for he is in a state of Divine ecstasy and bewilderment.
imam <span style='background-color:yellow'>ali</span>

" Abu Darda'', one of the companions, one day saw the body of Ali in one of the palm plantations of Medina laying on the ground as stiff as wood. He went to Ali's house to inform his noble wife, the daughter of the Prophet (sawas), and to express his condolences. The daughter of the Prophet (sawas) said, "My cousin (Ali) has not died. Rather, in fear of God he has fainted. This condition overcomes him often." There are many stories told of Ali's kindness to the lowly, compassion for the needy and the poor, and generosity and munificence toward those in misery and poverty. Ali spent all that he earned to help the poor and the needy, and himself lived in the strictest and simplest manner. Ali loved agriculture and spent much of his time digging wells, planting trees and cultivating fields. But all the fields that he cultivated or wells that he built he gave in endowment (waqf) to the poor. His endowments, known as the "alms of Ali," had the noteworthy income of twenty-four thousand gold dinars toward the end of his life.