مصنف: علامہ نجم الحسن کراروی
حضرت رسول اكرم صلى الله عليه وآله وسلم
آنحضرت کی ولادت باسعادت
آپ کے نوروجودکی خلقت ایک روایت کی بنیاد پر حضرت آدم کی تخلقیق سے ۹ لاکھ برس پہلے اور دوسری روایت کی بنیاد پر ۴ ۔ ۵ لاکھ سال قبل ہوئی تھی، آپ کانوراقدس اصلاب طاہرہ، اورارحام مطہرہ میں ہوتاہواجب صلب جناب عبداللہ بن عبدالمطلب تک پہنچا توآپ کاظہور و شہودبشکل انسانی میں بطن جناب ”آمنہ بنت وہب“ سے مکہ معظمہ میں ہوا۔ 

آنحضرت کی ولادت کے وقت حیرت انگیزواقعات کاظہور
آپ کی ولادت سے متعلق بہت سے ایسے اموررونماہوئے جوحیرت انگیزہیں۔ مثلاآپ کی والدہ ماجدہ کوبارحمل محسوس نہیں ہوااوروہ تولید کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ تھے آپ کے ظہورفرماتے ہی آپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا۔ 
بروایت ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ھء شیطان کورجم کیاگیااوراس کاآسمان پرجانابندہوگیا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے تمام دنیامیں ایسازلزلہ آیاکہ تمام دنیاکے کینسے اوردیگر غیراللہ کی عبادت کرنے کے مقامات منہدم ہوگئے ، جادواورکہانت کے ماہراپنی عقلیں کھوبیٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ایسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہیں کسی کبھی کسی نے دیکھانہ تھا۔ ساوہ کی وہ جھیل جس کی پرستش کی جاتی تھی جوکاشان میں ہے وہ خشک ہوگئی ۔ وادی سماوہ جوشام میں ہے اورہزارسال سے خشک پڑی تھی اس میں پانی جاری ہوگیا، دجلہ میں اس قدرطغیانی ہوئی کہ اس کاپانی تمام علاقوں میں پھیل گیا محل کسری میں پانی بھر گیااورایسازلزلہ آیاکہ ایوان کسری کے ۱۴ کنگرے زمین پرگرپڑے اورطاق کسری شگافتہ ہوگیا، اورفارس کی وہ آگ جوایک ہزارسال سے مسلسل روشن تھی، فورابجھ گئی۔(تاریخ اشاعت اسلام دیوبندی ۲۱۸ طبع لاہور) 
اسی رات کوفارس کے عظیم عالم نے جسے (موبذان موبذ)کہتے تھے، خواب میں دیکھاکہ تندوسرکش اوروحشی اونٹ، عربی گھوڑوں کوکھینچ رہے ہیں اورانہیں بلادفارس میں متفرق کررہے ہیں، اس نے اس خواب کابادشاہ سے ذکرکیا۔ بادشاہ نوشیرواں کسری نے ایک قاصدکے ذریعہ سے اپنے حیرہ کے کورنرنعمان بن منذرکوکہلابھیجاکہ ہمارے عالم نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھاہے توکسی ایسے عقلمنداور ہوشیار شخص کومیرے پاس بھیج دے جواس کی اطمینان بخش تعبیردے کر مجھے مطمئن کرسکے۔ نعمان بن منذرنے عبدالمسیح بن عمرالغسافی کوجوبہت لائق تھابادشاہ کے پاس بھیج دیانوشیروان نے عبدالمسیح سے تمام واقعات بیان کئے اوراس سے تعبیر کی خواہش کی اس نے بڑے غوروخوض کے بعد عرض کی”ائے بادشاہ شام میں میراماموں ”سطیح کاہی“ رہتاہے وہ اس فن کابہت بڑاعالم ہے وہ صحیح جواب دے سکتاہے اوراس خواب کی تعبیربتاسکتاہے نوشیرواں نے عبدالمسیح کوحکم دیاکہ فوراشام چلاجائے چنانچہ روانہ ہوکر دمشق پہنچااوربروابت ابن واضح ”باب جابیہ“ میں اس سے اس وقت ملاجب کہ وہ عالم احتضارمیں تھا، عبدالمسیح نے کان میں چیخ کراپنامدعا بیان کیا۔ اس نے کہاکہ ایک عظیم ہستی دنیامیں آچکی ہے جب نوشیرواں کونسل کے ۱۴ مردوزن حکمران کنگروں کے عدد کے مطابق حکومت کرچکیں گے تویہ ملک اس خاندان سے نکل جائے گا ثم” فاضت نفسہ“ یہ کہہ کر وہ مرگیا۔(روضة الاحباب ج ۱ ص ۵۶ ،سیرت حلبیہ ج ۱ ص ۸۳ ، حیات القلوب ج ۲ ص ۴۶ ، الیعقوبی ص ۹) ۔ 

آپ کی تاریخ ولادت
آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف ہے بعض مسلمان ۲ ربیع الاول بعض ۶ ربیع الاول اہل تسنن ۱۷ ربیع الاول ۱ عام الفیل مطابق ۵۷۰ کوصحیح سمجھتے ہیں- 
علامہ مجلسی علیہ الرحمة حیات القلوب ج ۲ ص ۴۴ میں تحریرفرماتے ہیں کہ علماء امامیہ کااس پراجماع واتفاق ہے کہ آپ ۱۷ ربیع الاول ۱ عام الفیل یوم جمعہ بوقت شب یابوقت صبح صادق”شعب ابی طالب“ میں پیداہوئے ہیں، اس وقت انوشیرواں کسری کی حکومت کابیالیسواں سال تھا۔ 

آپ کی پرورش وپرداخت اورآپ کابچپنا
مورخ ذاکرحسین لکھتے ہیں کہ بروایتے آپ کے پیداہونے سے پہلے اوربروایتے آپ دوماہ کے بھی نہ ہونے پائے تھے کہ آپ کے والد ”عبداللہ“ کاانتقال بمقام مدینہ ہوگیاکیونکہ وہیں تجارت کےلئے گئے تھے انھوں نے سوئے پانچ اونٹ اورچند بھیڑوں اورایک حبشی کنیز برکت (ام ایمن) کے اورکچھ ورثہ میں نہ چھوڑا۔ حضرت آمنہ کوحضرت عبداللہ کی وفات کااتناصدمہ ہواکہ دودھ خشک ہوگیا۔ چونکہ مکہ کی آب وہوابچوں کے چنداں موافق نہ تھی اس واسطے نواح کی بدوعورتوں میں سے دودھ پلانے کے واسطے تلاش کی گئی انا کے دستیاب ہونے تک ابولہب کی کنیزک، ثوبیہ نے آنحضرت کوتین چارمہینے تک دودھ پلایا اقوام بدوکی عادت تھی کہ سال میں دومرتبہ بہاراورموسم خزاں میں دودھ پلانے اوربچے پالنے کی نوکری کی تلاش میں آیاکرتی تھیں آخرحلیمہ سعدیہ کے نصیبہ نے زورکیا اوروہ آپ کواپنے گھرلے گئیں اورآپ حلیمہ کے پاس پرورش پانے لگے۔ (تاریخ اسلام ج ۲ ص ۳۲ ، تاریخ ابوالفداء ج ۲ ص ۲۰) ۔ 
مجھے اس تحریرکے اس جزء سے کہ رسول خداکوثوبیہ اورحلیمہ نے دودھ پلایا، اتفاق نہیں ہے۔ 
مورخین کابیان ہے کہ آپ میں نموکی قوت اپنے سن کواعتبارسے بہت زیادہ تھی جب تین ماہ کے ہوئے توکھڑے ہونے لگے اورجب سات ماہ کے ہوئے توچلنے لگے، آٹھویں مہینے اچھی طرح بولنے لگے ،نویں مہینے اس فصاحت سے کلام کرنے لگے کہ سننے والوں کی حیرت ہوتی تھی۔ 

آپ کی سایہ رحمت مادری سے محرومی
آپ کی عمرجب چھ سال کی ہوئی توسایہ مادرس سے محروم ہوگئے آپ کی والدہ جناب آمنہ بنت وہب حضرت عبداللہ کی قبرکی زیارت کے لئے مدینہ گئی تھیں وہاں انھوں نے ایک ماہ قیام کیا، جب واپس آنے لگیں توبمقام ابواء (جوکہ مدینہ سے ۲۲ میل دورمکہ کی جانب واقع ہے) انتقال فرماگئیں اوروہیں دفن ہوئیں آپ کی خادمہ ام ایمن ، آپ کولے کرمکہ آئیں۔ (روضة الاحباب ۱ ص ۶۷) ۔ 
جب آپ کی عمر ۸ سال کی ہوئی توآپ کے دادا”عبدالمطلب“ کا ۱۲۰ سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا۔ عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ کے بڑے چچاجناب ابوطالب اورآپ کی چچی جناب فاطمہ بنت اسدنے فرائض تربیت اپنے اوپرعائدکئے ۔اوراس شان سے تربیت کی کہ دنیانے آپکی ہمدردی اورخلوص کالوہامان لیا عبدالمطلب کے بعدابوطالب بھی خانہ کعبہ کے محافظ اورمتولی اورسردارقریش تھے حضرت علی فرماتے ہیں کہ کوئی غریب اس شان کاسردارنہیں ہواجس شان وشوکت کی سرداری میرے پدرمحترم کوخدانے دی تھی(الیعقوبی ج ۲ ص ۱۱) ۔ 

حضرت ابوطالب کوحضرت عبدالمطلب کی وصیت وہدایت
بعض مؤرخین نے لکھاہے کہ جب حضرت عبدالمطلب کاوقت وفات قریب پہنچا توانہوں نے آنحضرت کواپنے سینے سے لگایااورسخت گریہ کیا اوراپنے فرزندابوطالب کی طرف متوجہ ہوکرفرمایاکہ” اے ابوطالب یہ تیرے حقیقی بھائی کابیٹاہے اس دریگانہ کی حفاظت کرنا، اسے اپنا نورنظراورلخت جگرسمجھنا، اس کے تفقد وخبر گیری میں کوتاہی نہ کرنا اوردست وزبان اورجان ومال سے اس کی اعانت کرتے رہنا“ روضة الاحباب) 

حضرت ابوطالب کے تجارتی سفرشام میں آنحضرت کی ہمراہی اوربحیرئہ راہب کاواقعہ
حضرت ابوطالب جوتجارتی سفرمیں اکثرجایاکرتے تھے جب ایک دن روانہ ہونے لگے، توآنحضرت کوجن کی عمراس وقت بروایت طبری وابن اثیر ۹ سال اوربروایت ابوالفداء وابن خلدون ۱۳ سال کی تھی، اپنے بال بچوں میں چھوڑدیا۔ اورچاہاکہ روانہ ہوجائیں یہ دیکھ کرآنحضرت نے اصرارکیاکہ مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلئے آپ نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ میربھتیجہ یتیم ہے انہیں اپنے ہمراہ لے لیا اورچلتے چلتے جب شہربصرہ کے قریہ کفرپہنچے جوکہ شام کی سرحدپر ۶ میل کے فاصلہ پرواقع ہے جواس وقت بہت بڑی منڈی تھی اوروہاں نسطوری عیسائی رہتے تھے وہاں ان کے ایک نسطوری راہبوں کے معبدکے پاس قیام کیا راہبوں نے آنحضرت اورابوطالب کی بڑی خاطرداری کی پھران میں سے ایک نے جس کانام جرجیس اورکنیت ”ابوعداس“اورلقب بحیراراہب“ تھاآپ کے چہرہ مبارک سے آثارعظمت وجلالت اوراعلی درجے کے کمالات عقلی اورمحامداخلاق نمایاں دیکھ کر اوران صفات سے موصوف پاکرجواس نے توریت اورانجیل اوردیگرکتب سماوی میں پڑھی تھیں، پہچان لیاکہ یہی پیغمبرآخرالزمان ہیں، ابھی اس نے اظہارخیال نہ کیاتھاکہ ناگاہ لکئہ ابرکوسایہ فگنی کرتے ہوئے دیکھا، پھرشانہ کھلواکر مہرنبوت پرنگاہ کی، اس کے بعدفورا مہرنبوت کابوسہ لیااورنبوت کی تصدیق کرکے ابوطالب سے کہاکہ اس فرزندارجمند کادین تمام عرب وعجم میں پھیلے گا اوریہ دنیاکے بہت سے حصے کامالک بن جائے گا یہ اپنے ملک کوآزادکرائے گااوراپنے اہل وطن کونجات دلائے گا ائے ابوطالب اس کی بڑی حفاظت کرنااوراس کواعداء کے شرسے بچانے کی پوری کوشش کرنا، دیکھوکہیں ایسانہ ہوکہ یہ یہودیوں کے ہاتھ لگ جائے پھراس نے کہاکہ میری رائے یہ ہے کہ تم شام نہ جاؤ اوراپنامال یہیں فروخت کرکے مکہ واپس چلے جاؤ چنانچہ ابوطالب نے اپنامال باہرنکالاوہ حضرت کی برکت سے آنافانا بہت زیادہ نفع پرفروخت ہوگیا اورحضرت ابوطالب واپس مکہ چلے گئے۔( روضة الاحباب ج ۱ ص ۷۱ ، تنقیدالکلام ص ۳۰) ایرونگ ص ۲۴ ،تفریح الاذکار وغیرہ۔ 

جناب خدیجہ کے ساتھ آپ کی شادی خانہ آبادی
جب آپ کی عمرپچس سال کی ہوئی اورآپ کے حسن سیرت،آپ کی راستبازی، صدق اوردیانت کی عام شہرت ہوگئی اورآپ کوصادق وامین کاخطاب دیا جاچکاتوجناب خدیجہ بنت خویلد نے جوانتہائی پاکیزہ نفس، خوش اخلاق اورخاندان قریش میں سب سے زیادہ دولت مندتھیں ایسے حال میں ابنی شادی کا پیغام پہنچایاجب کہ ان کی عمرچالیس سال کی تھی پیغام عقدمنظورہوااورحضرت ابوطالب نے نکاح پڑھا(تلخیص سیرت النبی علامہ شبلی ص ۹۹ طبع لاہور ۱۹۶۵ ءء۔ مورخ ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ء کابیان ہے کہ حضرت ابوطالب نے جوخطبہ نکاح پڑھاتھا اس کی ابتداء اس طرح تھی۔ الحمدللہ الذی جعلنامن زرع ابراہیم وذریتہ اسماعیل الخ تمام تعرفیں اس خدائے واحدکے لئے ہیں جس نے ہمیں نسل ابراہیم اورذریت اسماعیل سے قراردیاہے (یعقوبی ج ۲ ص ۱۶ طبع نجف اشرف) 
مؤرخین کابیان ہے کہ حضرت خدیجہ کامہربارہ اونس سونا اور ۲۵ اونٹ مقررہوا جسے حضرت ابوطالب نے اسی وقت اداکردیا۔(مسلمان عالم ص ۳۸ طبع لاہور) تواریخ میں ہے کہ جناب خدیجہ کی طرف سے عقدپڑھنے والے ان کے چچاعمروابن اسداورحضرت رسول خداکی طرف سے جناب ابوطالب تھے۔(تاریخ اسلام ج ۲ ص ۸۷ طبع لاہور ۱۹۶۲ ء۔ 
ایک روایت میں ہے کہ شادی کے وقت جناب خدیجہ باکرہ تھیں یہ واقعہ نکاح ۵۹۵ کاہے ۔ مناقب ابن شہرآشوب میں ہے کہ رسول خداکے ساتھ خدیجہ کایہ پہلاعقدتھا ۔سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۱۱۹ میں ہے کہ جب تک خدیجہ زندہ رہیں رسول کریم نے کوئی عقدنہیں کیا۔ 

کوہ حرامیں آنحضرت کی عبادت گذاری
تواریخ میں ہے کہ آپ نے ۳۸ سال کی عمرمیں” کوہ حرا“ جسے جبل ثوربھی کہتے ہیں کواپنی عبادت گذاری کی منزل قراردیااوراس کے ایک غارمیں بیٹھ کر جس کی لمبائی چارہاتھ اورچوڑائی ڈیڑھ ہاتھ تھی عبادت کرتے تھے اورخانہ کعبہ کودیکھ کرلذت محسوس کرتے تھے یوں تودودو، چارچارشبانہ روزوہاں رہاکرتے تھے لیکن ماہ رمضان سارے کاساراوہیں گزراتے تھے۔ 

آپ کی بعثت
مورخین کابیان ہے کہ انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی ”یامحمد“ آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھرآوازآئی پھرآپ نے ادھرادھردیکھاناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پرپڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقرا“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا”مااقراء-“ کیاپڑھوں انہوں نے عرض کی کہ ” اقراء باسم ربک الذی خلق الخ“ پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔ 
کیونکہ آپ کوعلم قرآن پہلے سے حاصل تھا جبرئیل کے اس تحریک اقراء کامقصدیہ تھا کہ نزول قرآن کی ابتداء ہوجائے اس وقت آ پ کی عمرچالیس سال ایک یوم تھی اس کے بعدجبرئیل نے وضواورنمازکی طرف اشارہ کیااوراس کی تعدادرکعات کی طرف بھی حضورکومتوجہ کیاچنانچہ حضوروالانے وضوکیااورنمازپڑھی آپ نے سب سے پہلے جونمازپڑھی وہ ظہرکی تھی پھرحضرت وہاں سے اپنے گھرتشریف لائے اورخدیجة الکبری اورعلی ابن ابی طالب سے واقعہ بیان فرمایا۔ ان دونوں نے اظہارایمان کیااورنمازعصران دونوں نے بجماعت اداکی یہ اسلام کی پہلی نمازجماعت تھی جس میں رسول کریم امام اورخدیجہ اورعلی ماموم تھے۔ 
آپ درجہ نبوت پربدوفطرت ہی سے فائزتھے، ۲۷ رجب کومبعوث برسالت ہوئے حیات القلوب کتاب المنتقی، مواہب اللدنیہ) اسی تاریخ کونزول قرآن کی ابتداء ہوئی۔ 

دعوت ذوالعشیرہ کاواقعہ اوراعلان رسالت ووزارت
بعثت کے بعد آپ نے تین سال تک نہایت رازداری اورپوشیدگی کے ساتھ فرائض کی ادائیگی فرمائی اس کے بعد کھلے بندوں تبلیغ کاحکم آگیا”فاصدع بماتومر“ جوحکم دیاگیاہے اس کی تکمیل کرومیں اس مقام پر” تاریخ ابوالفداء کے اس ترجمہ کی لفظ بہ لفظ عبارت نقل کرتاہوں جسے مولاناکریم الدین حنفی انسپکٹر مدارس پنجاب نے ۱۸۴۶ ءء میں کیاتھا۔ 
”واضح ہوکہ تین برس تک پیغبرخدادعوت فطرت اسلام خفیہ کرتے رہے مگر جب کہ یہ آیت نازل ہوئی ” وانذرعشیرتک الاقربین“ یعنی ڈرا اپنے کنبے والوں کوجوقریب رشتہ کے ہیں اس وقت حضرت نے بموجب حکم خداکے اظہارکرنادعوت کاشروع کیابعدمیں نازل ہونے سے اس آیت کے پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی سے ارشاد فرمایاکہ” ائے علی ایک پیمانہ کھانے کامیرے واسطے تیارکرواورایک بکری کاپیراس پرچھوالے اورایک بڑاکانسہ دودھ کامیرے واسطے لااورعبدالمطلب کی اولادکومیرے پاس بلاکرلا تاکہ میں اس سے کلام کروں اورسناؤں ان کووہ حکم کہ جس پرجناب باری سے مامورہواہوں چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وہ کھانا ایک پیمانہ بموجب حکم تیارکرکے اولادعبدالمطلب کوجوقریب چالیس آدمی کے تھے بلایا، ان آدمیوں میں حضرت کے چچا ابوطالب اورحضرت حمزہ اورحضرت عباس بھی تھے اس وقت جضرت علی نے وہ کھانا جوتیارکیاتھالاکرحاضرکیا۔ 
سب کھاپی کرسیرہوگئے حضرت علی نے ارشاد کیاکہ جوکھانا ان سب آدمیوں نے کھایاہے وہ ایک آدمی کی بھوک کے موافق تھا اس اثناء میں حضرت چاہتے تھے کہ کچھ ارشاد کریں کہ ابولہب جلدبول اٹھااوریہ کہاکہ محمدنے بڑاجادوکیا یہ سنتے ہی تمام آدمی الگ الگ ہوگئے تھے ، چلے گئے پیغمبرخداکچھ کہنے نہ پائے تھے یہ حال دیکھ کر جناب رسالتماب نے ارشاد کیاکہ ایے علی دیکھاتونے اس شخص نے کیسی سبقت کی مجھ کوبولنے ہی نہ دیااب پھرکل کوتیارکر جیساکہ آج کیاتھا اورپھران کوبلاکرجمع کر_ 
چنانچہ حضرت علی نے دوسرے روزپھرموافق ارشاد آنحضرت کے وہ کھاناتیارکرکے سب لوگوں کوجمع کیا، جب وہ کھانے سے فراغت پاچکے اس وقت رسول اللہ نے ارشادکیاکہ ”تم لوگوں کی بہت اچھی قسمت اورنصیب ہے کیونکہ ایسی چیزمیں اللہ کی طرف سے لایاہوں کہ اس سے تم کوفضیلت حاصل ہوتی ہے اورلے آیاہوں تمہارے پاس دنیاوآخرت میں اچھا۔ خداتعالی نے مجھ کوتمہاری ہدایت کاحکم فرمایاہے کوئی شخص تم میں سے اس امرکااقتداء کرکے میرابھائی اوروصی اورخلیفہ بنناچاہتاہے اس وقت سب موجودتھے اورحضرت پرایک ہجوم تھا اورحضرت علی نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میں آپ کے دشمنوں کونیزہ ماروں گااورآنکھیں ان کوپھوڑوں گا اورپیٹ چیروں گا اورٹانگیں کاٹوں گااورآپ کاوزیرہوں گا حضرت نے اس وقت علی مرتضی کی گردن پرہاتھ مبارک رکھ کر ارشادکیاکہ یہ میرابھائی ہے اورمیراوصی ہے اورمیراخلیفہ ہے تمہارے درمیان اس کی سنواوراطاعت قبول کرو۔ یہ سن کرسب قوم کے لوگ ازروئے تمسخرے ہنس کرکھڑے ہوگئے اورابوطالب سے کہنے لگے کہ اپنے بیٹے کی بات سن اوراطاعت کریہ تجھے حکم ہواہے الخ ص ۳۳ تاص ۳۶ طبع لاہور۔ 

حضرت رسول کریم شعب ابی طالب میں (محرم ۷ ء بعثت)
مورخین کابیان ہے کہ جب کفارقریش نے دیکھاکہ اسلام روزافزوں ترقی کرتاچلاجارہاہے توسخت مضطرب ہوئے پہلے توچندقریش دشمن تھے اب سب کے سب مخالف ہوگئے اوربروایت ابن ہشام وابن اثیروطبری ابوجہل بن ہشام، شیبة، عتبہ بن ربیعة، نصربن حارث، عاص بن وائل اورعقبہ بن ابی معیط ایک گروہ کے ساتھ رسول خداکے قتل پرکمرباندھ کرحضرت ابوطالب کے پاس آئے اورصاف لفظوں میں کہاکہ محمدنے ایک نئے مذہب کااختراع کیاہے اوروہ ہمارے خداوں کوہمیشہ برابھلاکہاکرتے ہیں لہذا انہیں ہمارے حوالے کردوہم انہیں قتل کردیں یاپھرآمادہ جنگ ہوجاؤ حضرت ابوطالب نے اس وقت انھیں ٹالدیا اوروہ لوگ واپس چلے گئے ورروسول کریم اپناکام برابرکرتے رہے چنددنوں کے بعددشمن پھرآئے اورانھوں نے آکرشکایت کی اورحضرت کے قتل پراصرارکیا حضرت ابوطالب نے آنحضرت سے واقعہ بیان کیاانہوں نے فرمایاکہ اے چچامیں جوکہتاہوں ،کہتارہوں گا میں کسی کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوسکتا اورنہ کسی لالچ میں پھنس سکتاہوں اگرمیرے ایک ہاتھ پرآفتاب اوردوسے پرماہتاب رکھ دیاجائے جب بھی میں تعمیل حکم خداوندی سے بازنہ آوں گا میں جوکرتاہوں حکم خداسے کرتاہوں، وہ میرامحافظ ہے یہ سن کرحضرت ابوطالب نے فرمایاکہ ” بیٹاتم جوکرتے ہوکرتے رہو، میں جب تک زندہ ہوں تمہاری طرف کوئی نظراٹھاکرنہیں دیکھ سکتا تھوڑے عرصہ کے بعدبروایت ابن ہشام وابن ا ثیر، کفارنے ابوطالب سے کہا کہ تم اپنے بھتیجے کوہمارے حوالے کردو ہم اسے قتل کردیں اوراس کے بدلے میں ایک نوجوان ہم سے بنی مخزوم میں سے لے لو حضرت ابوطالب نے فرمایاکہ تم بعیدازعقل باتیں کرتے ہو، یہ کبھی نہیں ہوسکتا یہ کیونکہ ممکن ہے کہ میں تمہارے لڑکے کولے کراس کی پرورش کروں اورتم ہمارے بیٹے کولے کرقتل کردو۔ یہ سن کر ان کی آتش غضب اوربرافروختہ ہوگئی اوروہ ان کے ستانے پربھرپورتل گئے حضرت ابوطالب نے اس کے ردعمل میں بنی ہاشم اوربنی مطلب سے امدادچاہی اوردشمنوں سے کہلابھیجاکہ کعبہ وحرم کی قسم اگرمحمدکے پاؤں میں تمہاری طرف سے کانٹابھی چبھاتومیں سب کوہلاک کردوں گا حضرت ابوطالب کے اس کہنے پردشمن کے دلوں میں آگ لگ گئی اوروہ آنحضرت کے قتل پرپوری طاقت سے تیارہوگئے۔ 
حضرت ابوطالب نے جب آنحضرت کی جان کوغیرمحفوظ دیکھاتوفورا ان لوگوں کولے جنہوں نے حمایت کاوعدہ کیاتھا جن کی تعدادبروایت حیات القلوب چالیس تھی۔ محرم ۷بعثت میں ”شعب ابی طالب“ کے اندرچلے گئے اوراس کے اطراف کو محفوظ کردیا۔ 
کفارقریش نے ابوطالب اس عمل سے متاثرہوکرایک عہدنامہ مرتب کیاجس میں بنی ہاشم اوربنی مطلب سے مکمل بائیکاٹ کافیصلہ تھا طبری میں ہے کہ اس عہدنامہ کومنصوربن عکرمہ بن ہاشم نے لکھاتھاجس کے بعدہی اس کاہاتھ شل ہوگیاتھا۔ 
تواریخ میں ہے کہ دشمنوں نے شعب کاچاروں طرف سے بھرپورمحاصرہ کرلیاتھا اورانھیں مکمل قیدمیں مقیدکردیاتھا اس قیدنے اہل شعب پربڑی مصیبت ڈآلی جسمانی اورروحانی تکلیف کے علاوہ رزق کی تنگی نے انہیں تباہی کے کنارے پرپہنچادیااورنوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ دینداردرختوں کے پتے کھانے لگے ناتے ،کنبے والے اگرچوری چھپے کچھ کھانے پینے کی چیزپہنچادیتے اورانہیں معلوم ہوجاتاتوسخت سزائیں دیتے اسی حالت میں تین سال گزرگئے ایک روایت میں ہے کہ جب اہل شعب کے بچے بھوک سے بے چین ہوکرچیختے اورچلاتے تھے توپڑسیوں کی نیندحرام ہوجاتی تھی اس حالت میں بھی آپ پروحی نازل ہوتی رہی ، اورآپ کاررسالت انجام دیتے رہے۔ 
تین سال کے بعد ہشام بن عمربن حرث کے دل میں یہ خیال آیاکہ ہم اورہمارے بچے کھاتے پیتے اورعیش کرتے ہیں اوربنی ہاشم اوران کے بچے فاقہ کشی کررہے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے پھراس نے اورچندآدمیوں کوہم خیال بناکرقریش کے اجتماع میں اس سوال کواٹھایا۔ ابوجہل اورا سکی بیوی ”ام جمیل“ جسے بزبان قرآن ”حمالة الحطب“کہاجاتاہے نے مخالفت کی لیکن عوام کے دل پسیج اٹھے اسی دوران میں حضرت ابوطالب آگئے اورانہوں نے کہاکہ ”محمد“ نے بتایاہے کہ تم نے جوعہدنامہ لکھاہے اس دیمک چرگئی ہے اورکاغذ کے اس حصہ کے سواجس پراللہ کانام ہے سب ختم ہوگیاہے اے قریش بس ظلم کی حدہوچکی تم اپنے عہدنامہ کودیکھواگرمحمدکاکہناسچ ہوتوانصاف کرواوراگر جھوٹ ہوتوجوچاہے کرو۔ 
حضرت ابوطالب کے اس کہنے پرعہدنامہ منگوایاگیااورحضرت رسول کریم کا ارشاداس کے بارے میں من وعن صحیح ثابت ہواجس کے بعدقریش شرمندہ ہوگئے اورشعب کاحصارٹوٹ گیا۔ 
اس کے بعدہشام بن عمربن حرث اوراس کے چارساتھی ،زبیربن ابی امیہ مخزومی اورمطعم بن عدی ابوالبختری بن ہشام، زمعہ بن الاسودبن المطلب بن اسدشعب ابی طالب میں گئے اوران تمام لوگوں کوجواس میں محصورتھے ان کے گھروں میں پہنچادیا۔(تاریخ طبری، تاریخ کامل، روضة الاحباب)۔ 
مورخ ابن واضح المتوفی ۲۹۲ ء کابیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد” اسلم یومسئذخلق من الناس عظیم“ بہت سے کافرمسلم ہوگئے۔ (الیعقوبی ج ۲ ص ۲۵ طبع نجف ۱۳۸۴ ھء)_

آپ کامعجزہ شق القمر( ۹ بعثت )
ابن عباس، ابن مسعود،انس بن مالک، حذیفہ بن عمر، حبیربن مطعم کابیان ہے کہ شق القمرکامعجزہ کوہ ابوقبیس پرظاہرہواتھا، جب کہ ابوجھل نے بہت سے یہودیوں کوہمراہ لاکرحضرت سے چاندکودوٹکڑے کرنے کی خواہش ظاہرکی تھی یہ واقعہ چودھویں رات کوہواتھاجبکہ آپ کوموسم حج میں شعب ابی طالب سے نکلنے کی اجازت مل گئی تھی اہل سیرلکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ۹ ء بعثت کاہے، اس معجزہ کاذکر”تاریخ فرشتہ میں بھی ہے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”مجب اعتقادوقوعہ“ اس معجزہ کے واقع ہونے پرایمان واجب ہے۔( سفینة البحارج ۱ ص ۷۰۹) اس معجزہ کاذکرعزیزلکھنوی مرحوم نے کیاخوب کیاہے 

معجزہ شق القمرکاہے ”مدینہ“ سے عیاں 
مہ نے شق ہوکرلیاہے دین کوآغوش میں 

آنحضرت صلعم کی معراج جسمانی ( ۱۲ ئبعثت)
۲۷/ رجب ۱۲ بعثت کی رات کوخداوندعالم نے جبرئیل کوبھیج کربراق کے ذریعہ آنحضرت صلعم کو”قاب قوسین“ کی منزل پربلایا اوروہاں علی بن ابی طالب کی خلافت وامامت کے متعلق ہدایات دیں (تفسیرقمی) اسی مبارک سفراورعروج کو”معراج“ کہاجاتاہے یہ سفرام ہانی کے گھرسے شروع ہواتھاپہلے آپ بیت المقدس تشریف لے گئے پھروہاں سے آسمان پرروانہ ہوئے منازل آسمانی کوطے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پرپہنچے جس کے آگے جبرئیل کاجاناممکن نہ ہوا جبرئیل نے عرض کی حضورلودنوت لیلة لاحترقت“ اب اگرایک انگل بھی آگے بڑہوں گاتوجل جاؤں گا ۔ 

اگریک سرموئے برترروم 
بنورتجلی بسوزد پرم 

پھرآپ براق پرسوارآگے بڑھے ایک منزل پربراق رک گیااورآپ ”رفرف“ پربیٹھ کرآگے روانہ ہوگئے یہ ایک نوری تخت تھاجونورکے دریامیں جارہاتھا یہاں تک کہ منزل مقصودپرآپ پہنچ گئے آپ جسم سمیت گئے اورفوراواپس آئے قرآن مجید میں ”اسری بعبدہ“ آیاہے عبدکالفظ اطلاق جسم اورروح دونوں پرہوتاہے وہ لوگ جومعرادج روحانی کے قائل ہیں وہ غلطی پرہیں (شرح عقائدنسفی ص ۶۸ ) معراج کااقراراوراس کااعتقادضروریات دین میں سے ہے حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جومعراج کامنکرہواس کاہم سے کوئی تعلق نہیں (سفینة البحارج ۲ ص ۱۷۴) 
ایک روایت میں ہے کہ پہلے صرف دونمازیں واجب تھیں معراج کے بعدپانچ وقت کی نمازیں مقررہوئیں۔ 

بیعت عقبہ اولی
اسی ۱۲ بعثت کے موسم حج میں ان چھ آدمیوں میں سے جوسال گذشتہ مسلمان ہوکرمدینہ واپس گئے تھے پانچ آدمیوں کے ساتھ سات آدمی مدینہ والوں میں سےاورآکرمشرف بااسلام ہوئے حضرت کی حمایت کاعہدکیایہ بیعت بھی اسی مکان عقبہ میں ہوئی جومکہ سے تھوڑے فاصلہ پرشمال کی جانب واقع ہے، مورخ ابوالفداء لکھتاہے کہ اس عہدپربعیت ہوئی کہ خداکاکوئی شریک نہ کرو چوری نہ کرو،زنانہ کرو، اپنی اولادکوقتل نہ کرو، جب وہ بیعت کرچکے توحضرت نے مصعب بن عمیربن ہاشم بن عبدمناف ابن عبدالعلاء کوتعلیم قرآن اورطریقہ اسلام بتانے کے لیے مامورفرمایا الخ(تاریخ ابوالفداء ج ۲ ص ۵۲) ۔ 

بیعت عقبہ ثانیہ ۱۳ بعثت
۱۳ بعثت کے ماہ ذی الحجہ میں مصعب بن عمیر، ۷۳ مرداوردوعورتوں کومدینہ سے لے کرمکہ آئے اورانہوں نے مقام عقبہ پررسول کریم کی خدمت میں ان لوگوں کوپیش کیاوہ مسلمان ہوچکے تھے انہوں نے بھی حضرت کی حمایت کاعہدکیااورآپ کے دست مبارک پربیعت کی، ان میں اوس اورخزرج دونوں کے افراد شامل تھے۔ 

ہجرت مدینہ
۱۴ بعثت مطابق ۲۲۶ میں حکم رسول کے مطابق مسلمان چوری چھپے مدینہ کی طرف جانے لگے اوروہاں پہنچ کرانہوں نے اچھی منزل حاصل کرلی قریش کوجب معلوم ہواکہ مدینہ میں اسلام زورپکڑرہاہے تو”دارالندوہ“ میں جمع ہوکریہ سوچنے لگے کہ اب کیاکرنا چاہئے کسی نے کہاکہ محمدکویہیں قتل کردیاجائے تاکہ ان کادین ہی ختم ہوجائے کسی نے کہاکہ جلاوطن کردیاجائے ابوجہل نے رائے دی کہ مختلف قبائل کے لوگ جمع ہوکربیک ساعت ان پرحملہ کرکے انہیں قتل کردیں تاکہ قریش خون بہانہ لے سکیں اسی رائے پربات ٹہرگئی، سب نے مل کرآنحضرت کے مکان کامحاصرہ کرلیاپروردگارکی ہدایت کے مطابق جوحضرت جبرئیل کے ذریعہ پہنچی آپ نے حضرت علی کواپنے بسترپرلٹادیااورایک مٹی دھول لے کرگھرسے باہرنکلے اوران کی آنکھوں میں جھونکتے ہوئے اس طرح نکل گئے جیسے کفرسے ایمان نکل جائے علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ یہ سخت خطرہ کاموقعہ تھا جناب امیرکومعلوم ہوچکاتھا کہ قریش آپ کے قتل کاارادہ کرچکے ہیں اورآج رسول اللہ کابسترخواب گاہ قتل کی زمین ہے لیکن فاتح خیبرکے لیئے قتل گاہ فرش گل تھا (سیرةالنبی ومحسن اعظم ص ۱۶۵) ۔ 
صبح ہوتے ہوتے دشمن دروازہ توڑکرداخل خانہ ہوئے توعلی کوسوتاہواپایا پوچھامحمدکہاں ہیں؟ جواب دیاجہاں ہیں خداکی امان ہیں طبری میں ہے کہ علی تلوارسونت کرکھڑے ہوگئے اورسب گھرسے نکل بھاگے احیاء العلوم غزالی میں ہے کہ علی کی حفاظت کے لئے خدانے جبرئیل اورمیکائیل کوبھیج دیاتھا یہ دونوں ساری رات علی کی خواب گاہ کاپہرہ دیتے رہے حضرت علی کافرماناہے کہ مجھے شب ہجرت جیسی نیند ساری عمرنہ آئی تھی ۔ تفاسیرمیں ہے کہ اس موقع کے لئے آیت ” ومن الناس من یشری نفسہ مرضات اللہ“ نازل ہوئی ہے الغرض آنحضرت کے روانہ ہوتے ہی حضرت ابوبکرنے ان کاپیچھاکیا آپ نے رات کے اندھیرے میں یہ سمجھ کر کوئی دشمن آرہاہے اپنے قدم تیزکردئیے پاؤں میں ٹھوکرلگی خون جاری ہوگیاپھرآپ نے محسوس کیا کہ ابن ابی قحافہ آرہے ہیں آپ کھڑے ہوگئے پاؤں صحیح بخاری ج ۱ حصہ ۳ ص ۶۹ میں ہے کہ رسول خدانے ابوبکربن ابی قحافہ سے یہ قیمت ناقہ خریدا۔ اورمدارج النبوت میں ہے کہ حضرت ابوبکرنے دوسودرہم کی خریدی ہوئی اونٹنی آنحضرت کے ہاتھ نوسودرہم کی فروخت کی اس کے بعدیہ دونوں غارثورتک پہنچے یہ غارمدینہ کی طرف مکہ سے ایک گھنٹہ کی راہ پرڈھائی یاتین میل جنوب کی طرف واقع ہے اس پہاڑکی چوٹی تقریباایک میل بلندہے سمندروں وہاں سے دکھائی دیتاہے(تلخیص سیرت النبی ص ۱۶۹ وزرقانی)۔ 
یہ حضرات غارمیں داخل ہوگئے خدانے ایساکیاکہ غارکے منہ پرببول کادرخت اگادیامکڑی نے جالاتناکبوترنے انڈادیا،اورغارمیں داخلہ کاشبہ نہ رہا، جب دشمن اس غارپرپہنچے تووہ یہی سب کچھ دیکھ کرواپس ہوگئے (عجائب القصص صفحہ ۲۵۷ میں ہے کہ اسی موقع پرحضرت نے کبوترکوخانہ کعبہ پرآکربسنے کی اجازت دی۔ اس سے قبل دیگر پرندوں کی طرح کبوتربھی اوپرسے گذرنہیں سکتاتھا۔ 
مختصریہ کہ یکم ربیع الاول ۱۴ ء بعثت یوم پنجشنبہ بوقت شب قریش نے آنحضرت کے گھرکامحاصرہ کیاتھاصبح سے کچھ پہلے ۲/ ربیع الاول یوم جمعہ کوغارثورمیں پہنچے یوم یکشنبہ ۴/ ربیع الاول تک غارمیں رہے حضرت علی آپ لوگوں کے لئے رات میں کھاناپہنچاتے رہے اوریہ چاروں اشخاص معمولی راستہ چھوڑکربحیرئہ قلزم کے کنارے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے کفارمکہ نے انعام مقررکردیاتھاکہ جوشخص آپ کوزندہ پکڑکرلائے گایاآپ کاسرکاٹ کرلائے گاتوسواونٹ انعام میں دئیے جائیں گے اس پرسراقہ بن مالک آپ کی کھوج لکاتاہواغارتک پہنچااسے دیکھ کرحضرت ابوبکررونے لگے ۔ توحضرت نے فرمایاروتے کیوں ہو” خدا ہمارے ساتھ ہے “ سراقہ قریب پہنچاہی تھاکہ اس کاگھوڑابابزانوزمین میں دھنس گیااس وقت حضرت روانگی کے لیے برآمدہوچکے تھے اس نے معافی مانگی حضرت نے معافی دیدی گھوڑازمین سے نکل آیاوہ جان بچاکربھاگا اورکافروں سے کہہ دیاکہ میں نے بہت تلاش کیامگرمحمدکاسراغ نہیں ملتا اب دوہی صورتیں ہین ۔”یازمین میں سماگئے یاآسمان پراڑگئے۔“ 

تحویل کعبہ
ماہ شعبان ۲ ہجری میں بیت المقدس کی طرف سے قبلہ کارخ کعبہ کی طرف موڑدیاگیا قبلہ چونکہ عالم نمازمیں بدلاگیااس لئے آنحضرت کاساتھ حضرت علی کے علاوہ اورکسی نے نہیں دیا کیونکہ وہ آنحضرت کے ہرفعل وقول کوحکم خداسمجھتے تھے اسی لیے آپ مقام فخرمیں فرمایاکرتے تھے انامصلی القبلتین میں ہی وہ ہوہ جس نے ایک نمازبیک وقت دوقبلوں کی طرف پڑھی۔ 

تبلیغی خطوط
حضرت کوابھی صلح حدبیہ کے ذریعہ سے سکون نصیب ہواہی تھا کہ آپ نے ۷ ہجری میں ایک مہربنوائی جس پر”محمد رسول اللہ“ کندہ کرایا اس کے بعد شاہان عالم کوخطوط لکھے ان دنوں عرب کے اردگردچاربڑی سلطنتیں قائم تھیں : ۱ ۔ حکومت ایران جس کااثروسط ایشیاسے عراق تک پھیلاہواتھا۔ 
۲ ۔ حکومت روم جس میں ایشیائے کوچک ،فلسطین،شام اوریورپ کے بعض حصے شامل تھے۔ ۳ ۔ مصر۔ ۴ ۔ حکومت حبش جومصری حکومت کے جنوب سے لے کر بحیرئہ قلزم کے مغربی علاقوں پرتھا۔ حضرت نے بادشاہ حبش نجاشی ، شاہ روم قیصرہرقل، گورنرمصرجریح ابن میناقبطی عرف مقوقش ، بادشاہ ایران خسروپرویزاورگورنریمن باذان، والی دمشق حارث وغیرہ کے نام خطوط روانہ فرمائے۔ 
آپ کے خطوط کامختلف بادشاہوں پرمختلف اثرہوا، نجاشی نے اسلام قبول کرلیا، شاہ ایران نے آپ کاخط پڑھ کرغیظ وغضب کے تحت خط کے ٹکڑے اڑا دے قاصد کونکال دیا ، اورگورنریمن نے لکھاکہ مدینہ کے دیوانہ (آنحضرت) کوگرفتارکرکے میرے پاس بھیجدے اس نے دوسپاہی مدینہ بھیجے تاکہ حضورکوگرفتار کریں حضرت نے فرمایا، جاؤتم کیاگرفتارکروگے تمہیں خبربھی تمہارابادشاہ انتقال کرگیا، سپاہی جویمن پہنچے توسناکہ شاہ ایران داعی اجل کولبیک کہہ چکاہے آپ کی اس خبردہی سے بہت سے کافرمسلمان ہوگئے۔ قیصرروم نے آپ کے خط کی تعظیم کی گورنرمصرنے آپ کے قاصدکی بڑی مدارات کی اوربہت سے تحفوں سمیت اسے واپس کردیا۔ ان تحفوں میں ماریہ قبطیہ(زوجہ آنحضرت)اوران کی ہمشیرہ شیریں (زوجہ حسان بن ثابت) ایک دلدل نامی جانوربرائے حضرت علی، یعفورنامی درازگوش مابورنامی خواجہ سراشامل تھے۔ 

اصحاب کاتاریخی اجتماع اورتبلیغ رسالت کی آخری منزل
حضرت علی کی خلافت کااعلان
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خلاق عالم نے انتخاب خلافت کواپنے لیے مخصوص رکھاہے اوراس میں لوگوں کادسترس نہیں ہونے دیا۔ فرماتاہے : ربک یخلق مایشاء ویختارماکان لہم الخیرة سبحان اللہ تعالی عمایشرکون ۔ 
تمہارارب ہی پیداکرتاہے اورجس کوچاہتاہے (نبوت وخلافت) کے لیے منتخب کرتاہے یادرہے کہ انسان کونہ انتخاب کاکوئی حق ہے اورنہ وہ اس میں خداکے شریک ہوسکتے ہیں (پ ۲۰ رکوع ۱۰) یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے تمام خلفاء آدم سے خاتم تک خود مقررکئے ہیں اوران کااعلان اپنے نبیوں کے ذریعہ سے کرایاہے۔(روضة الصفا، تاریخ کامل، تاریخ ابن الوری، عرائس ثعلبی وغیرہ) اوراس میںتمام انبیاء کے کردارکی موافقت کااتنالحاظ رکھاہے کہ تاریخ اعلان تک میں فرق نہیں آنے دیا۔ علامہ مجلسی وعلامہ بہائی لکھتے ہیں کہ تمام انبیاء نے خلافت کااعلان ۱۸/ ذی الحجہ کوکیاہے(جامع عباسی واختیارات مجلسی) مورخین کااتفاق ہے کے آنحضرت صلعم نے حجة الوداع کے موقع پر ۱۸/ ذی الحجہ کوبمقام غدیرخم حکم خداسے حضرت علی کے جانشین ہونے کااعلان فرمایاہے۔ 

حجة الوداع
حضرت رسول کریم صلعم ۲۵/ ذی قعدہ ۱۰ ء ہجری کوحج آخرکے ارادہ سے روانہ ہوکر ۴/ ذی الحجہ کومکہ معظمہ پہنچے آپ کے ہمراہ آپ کی تمام بیبیاں اورحضرت سیدہ سلام اللہ علیہاتھیں روانگی کے وقت ہزاروں صحابہ کی تعدادایک لاکھ چوبیس ہزارہوگئی حضرت علی یمن سے مکہ پہنچے حضورصلعم نے فرمایاکہ تم قربانی اورمناسک حج میں میرے شریک ہو۔ اس حج کے موقع پرلوگوں نے اپنی آنکھوں سے آنحضرت صلعم کومناسک حج اداکرتے ہوئے دیکھااورمعرکة الاراء خطبے سنے جن میں بعض باتیں یہ تھیں ۔ 
۱ ۔ جاہلیت کے زمانہ کے دستورکچل ڈالنے کے قابل ہیں۔ ۲ ۔ عربی کوعجمی اورعجمی کوعربی پرکوئی فضیلت نہیں۔ ۳ ۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ۴ ۔ غلاموں کاخیال ضروری ہے۔ ۵ ۔ جاہلیت کے تمام خون معاف کردئیے گئے۔ ۶ ۔جاہلیت کے تمام واجب الاداسود باطل کردئیے گئے۔ 
غرضکہ حج سے فراغت کے بعدآپ مدینہ کے ارادہ سے ۱۴/ ذی الحجہ کوروانہ ہوئے ایک لاکھ چوبیس ہزاراصحاب آپ کے ہمراہ تھے جحفہ کے قریب مقام غدیر پرپہنچتے ہی آیہ بلغ کانزول ہوا آپ نے پالان اشترکامنبربنایااوربلاکوحکم دیاکہ ”حی علی خیرالعمل“ کہہ کرآوازیں دیں مجمع سمٹ کرنقطہ اعتدال پرآگیا آپ نے ایک فصیح وبلیغ خطبہ فرمایاجس میں حمدوثناکے بعداپنی افضلیت کاافرارلیااورفرمایاکہ میں تم میں دوگرانقدرچیزیں چھوڑے جاتاہوں ایک قرآن اوردوسرے میرے اہلبیت ۔ 
اس کے بعد علی کواپنے نزدیک بلاکردونوں ہاتھوں سے اٹھایااوراتنابلندکیاکہ سفیدی زیربغل ظاہرہوگئی پھرفرمایا”من کنت مولاہ فہذاعلی مولاہ جس کامیں مولاہ ہوں اس کے یہ علی مولاہیں خدایاعلی جدھرمڑیں حق کواسی طرف موڑدینا پھرعلی کے سرپرسیاہ عمامہ باندھالوگوں نے مبارکبادیاں دینی شروع کیں سب آپ کی جانشینی سے مسرورہوئے حضرت عمرنے بھی نمایاں الفاظ میں مبارکباددی جبرئیل نے بھی بزبان قرآن اکمال دین اوراتمام نعمت کامژدہ سنایا۔ 
سیرہ حلبیہ میں ہے کہ یہ جانشینی ۱۸/ ذی الحجہ کوواقع ہوئی ہے نورالابصارصفحہ ۷۸ میں ہے کہ ایک شخص حارث بن نعمان فہری نے حضرت کے عمل غدیرخم پراعتراض کیاتواسی وقت آسمان سے اس پرایک پتھرگراوروہ مرگیا۔ 
واضح ہوکہ اس واقعہ غدیرکوامام المحدثین حافظ ابن عبدہ نے ایک سوصحابہ سے اس حدیث غدیرکی روایت کی ہے امام جزری وشافعی نے اسی صحابیوں سے امام احمدبن حنبل نے تیس صحابیوں سے اورطبری نے پچھترصحابیوں سے روایت کی ہے علاوہ اس کے تمام اکابراسلام مثلاذہبی صنعائی اورعلی القاری وغیرہ اسے مشہوراورمتواترمانتے ہیں ( منہج الوصول صدیق حسن ص ۱۳ تفسیرثعلبی فتح البیان صدیق حسن جلد ۱ ص ۴۸) ۔ 

واقعہ مباہلہ
نجران یمن میں ایک مقام ہے وہاں عیسائی رہتے تھے اورہاں ایک بڑاکلیساتھا آنحضرت صلعم نے انہیں بھی دعوت اسلام بھیجی ، انھوں نے تحقیق حالات کے لئے ایک وفدزیرقیادت عبدالمسیح عاقب مدینہ بھیجا وہ وفدمسجدنبوی کے صحن میں آکرٹہرا حضرت سے مباحثہ ہوامگروہ قائل نہ ہوئے حکم خدانازل ہوا ” فقل تعالوا ندع انباء نا “ الخ ائے پیغمبران سے کہدوکہ دونوں اپنے بیٹوں اپنی عورتوں اوراپنے نفسوں کولاکرمباہلہ کریں ۔ چنانچہ فیصلہ ہوگیا اور ۲۴/ ذی الحجہ ۱۰ کوپنجتن پاک جھوٹوں پرلعنت کرنے کے لئے نکلے نصاری کے سردارنے جونہی ان کی شکلیں دیکھیں کانپنے لگا اورمباہلہ سے بازآیا۔ خراج دینامنظور کیا جزیہ دے کررعایابنناقبول کرلیا(معراج العرفان ص ۱۳۵ ، تفسیربیضاوی ص ۷۴) ۔ 

سرورکائنات کے آخری لمحات زندگی
حجة الوداع سے واپسی کے بعد آپ کی وہ علالت جوبروایت مشکواة خیبرمیں دئے ہوئے زہرکے کروٹ لینے سے ابھراکرتی تھی مستمرہوگئی آپ علیل رہنے لگے بیماری کی خبرکے عام ہوتے ہی جھوٹے مدعی نبوت پیداہونے لگے جن میں مسیلمہ کذاب ،اسودعنسی، طلیحہ، سجاح زیادہ نمایاں تھے لیکن خدانے انہیں ذلیل کیا اسی دوران میں آپ کواطلاع ملی کہ حکومت روم مسلمانوں کوتباہ کرنے کامنصوبہ تیارکررہی ہے آپ نے اس خطرہ کے پیش نظرکہ کہیں وہ حملہ نہ کردیں اسامہ بن زیدکی سرکردگی میں ایک لشکربھیجنے کافیصلہ کیا اورحکم دیاکہ علی کے علاوہ اعیان مہاجروانصارمیں سے کوئی بھی مدینہ میں نہ رہے اوراس روانگی پراتنا زور دیاکہ یہ تک فرمایا”لعن اللہ من تخلف عنہا“ جواس جنگ میں نہ جائے گااس پرخداکی لعنت ہوگی اس کے بعدآنحضرت نے اسامہ کواپنے ہاتھوں سے تیار کرکے روانہ کیا انہوں نے تین میل کے فاصلہ پرمقام جرف میں کیمپ لگایااوراعیان صحابہ کاانتظارکرنے لگے لیکن وہ لوگ نہ آئے ۔ مدارج النبوت جلد ۲ ص ۴۸۸ وتاریخ کامل جلد ۲ ص ۱۲۰ وطبری جلد ۳ ص ۱۸۸ میں ہے کہ نہ جانے والوں میں حضرت ابوبکروحضرت عمربھی تھے ۔ مدارج النبوت جلد ۲ ص ۴۹۴ میں ہے کہ آخرصفرمیں جب کہ آپ کوشدیددردسرتھا آپ رات کے وقت اہل بقیع کے لئے دعاکی خاطر تشریف لے گئے حضرت عائشہ نے سمجھاکہ میری باری میں کسی اوربیوی کے وہاں چلے گئے ہیں ۔ اس پروہ تلاش کے لیے نکلیں توآپ کوبقیع میں محودعاپایا۔ 
اسی سلسہ میں آپ نے فرمایاکیااچھاہوتا ائے عائشہ کہ تم مجھ سے پہلے مرجاتیں اورمیں تمہاری اچھی طرح تجہیزوتکفین کرتا انہوں نے جواب دیاکہ آپ چاہتے ہیں میں مرجاؤں توآپ دوسری شادی کرلیں۔ اسی کتاب کے ص ۴۹۵ میں ہے کہ آنحضرت کی تیمارداری آپ کے اہل بیت کرتے تھے۔ 
ایک روایت میں ہے کہ اہل بیت کوتیمارداری میں پیچھے رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ 

واقعہ قرطاس
حجة الوداع سے واپسی پربمقام غدیرخم اپنی جانشینی کااعلان کرچکے تھے اب آخری وقت میں آپ نے یہ ضروری سمجھتے ہوئے کہ اسے دستاویزی شکل دیدوں اصحاب سے کہاکہ مجھے قلم ودوات اورکاغذ دیدو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسا نوشتہ لکھ دوں جوتمہیں گمراہی سے ہمیشہ ہمیشہ بچانے کے لیے کافی ہو یہ سن کر اصحاب میں باہمی چہ می گوئیاں ہونے لگیں لوگوں کے رحجانات قلم ودوات دے دینے کی طرف دیکھ کر حضرت عمرنے کہا ”ان الرجل لیھجرحسبناکتاب اللہ“ یہ مرد ہذیان بک رہاہے ہمارے لیے کتاب خداکافی ہے صحیح بخاری پ ۳۰ ص ۸۴۲ علامہ شبلی لکھتے ہیں روایت میں ہجرکالفظ ہے جس کے معنی ہذیان کے ہیں ۔۔۔۔ 
حضرت عمرنے آنحضرت کے اس ارشادکو ہذیان سے تعبیرکیاتھا(الفاروق ص ۶۱) لغت میں ہذیان کے معنی بیہودہ گفتن یعنی بکواس کے ہیں(صراح جلد ۲ ص ۱۲۳) 
شمس العلماء مولوی نذیراحمددہلوی لکھتے ہیں ”جن کے دل میں تمنائے خلافت چٹکیاں لے رہی تھی انہوں نے تودھینگامستی سے منصوبہ ہی چٹکیوں میں اڑادیا اورمزاحمت کی یہ تاویل کی کہ ہمارے ہدایت کے لیے قرآن بس کرتاہے اورچونکہ اس وقت پیغمبرصاحب کے حواس برجانہیں ہیں۔ 
کاغذ،قلم ودوات کالانا کچھ ضروری نہیں خداجانے کیاکیالکھوادیں گے ۔ (امہات الامة صفحہ ۹۲) اس واقعہ سے آنحضرت کوسخت صدمہ ہوا اورآپ نے جھنجلاکر فرمایاقومواعنی میرے پاس سے ہٹ اٹھ کرچلے جاؤ نبی کے روبروشوروغل انسانی ادب نہیں ہے علامہ طریحی لکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں پانچ افراد نے حضرت ابوبکر،حضرت عمر،ابوعبیدہ ،عبدالرحمن ،سالم غلام حذیفہ نے متفقہ عہدوپیمان کیاتھا کہ ”لانودہذہ الامرفی بنی ہاشم“ پیغمبرکے بعدخلافت بنی ہاشم میں نہ جانے دیں گے (مجمع البحرین) میں کہتاہوں کہ کون یقین کرسکتاہے کہ جیش اسامہ میں رسول سے سرتابی کرنے والوں جس میں لعنت تک کی گئی ہے اورواقعہ قرطاس میں حکم کوبکواس بتلانے والوں کورسول خدانے نمازکی امامت کاحکم دیدیاہوگا میرے نزدیک امامت نمازکی حدیث ناقابل قبول ہے۔ 

وصیت اوراحتضار
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری وقت آپ نے فرمایامیرے حبیب کوبلاؤ میں نے اپنے باپ ابوبکرپھرعمرکوبلایا انہوں نے پھریہی فرمایاتومیں نے علی کوبلا بھیجا آپ نے علی کوچادرمیں لے لیااورآخر تک سینے سے لپٹائے رہے (ریاض النضرة ص ۱۸۰ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جناب سیدہ اورحسنین کوطلب فرمایا اورحضرت علی کوبلاکروصیت کی اکرہاجیش اسامہ کے لیے میں نے فلاں یہودی سے قرض لیاتھا اسے اداکردینا اوراے علی تمہیں میرے بعدسخت صدمات پہنچیں گے تم صبرکرنا اوردیکھوجب اہل دنیادنیاپرستی کریں توتم دین اختیارکئے رہنا(روضة الاحباب جلد ۱ ص ۵۵۹ ،مدارج النبوة جلد ۲ ص ۱۱۵ ، تاریخ بغداد ج ۱ ص ۲۱۹) ۔ 

رسول کریم کی شہادت
حضرت علی علیہ السلام سے وصیت فرمانے کے بعد آپ کی حالت متغیر ہوگئی حضرت فاطمہ جن کے زانو پرسرمبارک رسال مآب تھا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ انتہائی پریشانی میں تھے کہ ناگاہ ایک شخص نے اذن حضوری چاہا میں نے داخلہ سے منع کردیا، اورکہااے شخص یہ وقت ملاقات نہیں ہے اس وقت واپس چلاجا اس نے کہامیری واپسی ناممکن ہے مجھے اجازت دیجئے کہ میں حاضرہوجاؤں آنحضرت کوجوقدرے افاقہ ہواتو آپ نے فرمایااے فاطمہ اجازت دے دو یہ ملک الموت ہیں فاطمہ نے اجازت دیدی اوروہ داخل خانہ ہوئے پیغمرکی خدمت میں پہنچ کرعرض کی مولایہ پہلادروازہ ہے جس پرمیں نے اجازت مانگی ہے اوراب آپ کے بعدکسی کے دروازے پراجازت طلب نہ کروں گا (عجائب القصص علامہ عبدالواحد ص ۲۸۲ ،روضة الصفا جلد ۲ ص ۲۱۶ ، انوارالقلوب ص ۱۸۸) ۔ 
الغرض ملک الموت نے اپناکام شروع کیااورحضوررسول کریم نے بتاریخ ۲۸/ صفر ۱۱ ء ہجری یوم دوشنبہ بوقت دوپہرظاہری خلعت حیات اتاردیا(مودة القربی ص ۴۹ م ۱۴ طبع بمبئی ۳۱۰ ہجری اہلبیت کرام میں رونے کاکہرام مچ گیاحضرت ابوبکراس وقت اپنے گھرمحلہ سخ گئے ہوئے تھے جومدینہ سے ایک میل کے فاصلہ پرتھا حضرت عمرنے واقعہ وفات کونشرہونے سے روکااورجب حضرت ابوبکرآگئے تودونوں سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے جومدینہ سے تین میل کے فاصلہ پرتھا اورباطل پرمشوروں کے لیے بنایاگیاتھا (غیاث اللغات) اورانہیں کے ساتھ ابوعبیدہ بھی چلے گئے جوغسال تھے غرض کہ اکثرصحابہ رسول خداکی لاش چھوڑ کر ہنگامہ خلافت میں جاشریک ہوئے اورحضرت علی نے غسل وکفن کابندوبست کیاحضرت علی غسل دینے میں ،فضل ابن عباس حضرت کاپیراہن اونچاکرنے میں، عباس اورقثم کروٹ بدلوانے میں اوراسامہ وشقران پانی ڈالنے میں مصروف ہوگئے اورانہیںچھ آدمیوں نے نمازجنازہ پڑھی اوراسی حجرہ میں آپ کے جسم اطہرکودفن کردیاگیا جہاں آپ نے وفات پائی تھی ابوطلحہ نے قبرکھودی ۔ 
حضرت ابوبکروحضرت عمرآپ کے غسل وکفن اورنمازمیں شریک نہ ہوسکے کیونکہ جب یہ حضرات سقیفہ سے واپس آئے توآنحضرت کی لاش مطہر سپردخاک کی جاچکی تھی (کنزالعمال جلد ۳ ص ۱۴۰ ،ارجح المطالب ص ۶۷۰ ، المرتضی ص ۳۹ ، فتح الباری جلد ۶ ص ۴) ۔ 
وفات کے وقت آپ کی عمر ۶۳ سال کی تھی (تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۵۲) ۔ 

وفات اورشہادت کااثر
سرورکائنات کی وفات کااثریوں توتمام لوگوں پرہوا ،اصحاب بھی روئے اورحضرت عائشہ نے بھی ماتم کیا (مسنداحمدبن حنبل جلد ۶ ص ۲۷۴ ، تاریخ کامل جلد ۲ ص ۱۲۲ ،تاریخ طبری جلد ۳ ص ۱۹۷) لیکن جوصدمہ حضرت فاطمہ کوپہنچا اس میں وہ منفردتھیں تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کی وفات سے عالم علوی اورعالم سفلی بھی متاثرہوئے اوران میں جوچیزیں ہیں ان میں بھی اثرات ہویداہوئے علامہ زمخشری کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نے ام معبدکے وہاں قیام فرمایا آپ کے وضوکے پانی سے ایک درخت اگا،جوبہترین پھل لاتارہا، ایک دن میں نے دیکھاکہ اس کے پتے جھڑ ہوئے ہیں اورمیوے گرے ہوئے ہیں میں حیران ہوئی کہ ناگاہ خبروفات سرورعالم پہنچی پھرتیس سال بعددیکھاگیاکہ اس میں تمام کانٹے اگ آئے تھے بعدمیں معلوم ہواکہ حضرت علی نے شہادت پائی پھرمدت مدیدکے بعداس کی جڑسے خون تازہ ابلتاہوادیکھاگیا بعدمیں معلوم ہواکہ حضرت امام حسین نے شہادت پائی ہے اس کے بعد وہ خشک ہوگیا (عجائب القصص ص ۲۵۹ بحوالہ ربیع الابرارزمخشری)۔ 

آنحضرت کی شہادت کاسبب
یہ ظاہرہے کہ حضرات چہاردہ معصومین علیہم السلام میں سے کوئی بھی ایسانہیں جودردجہ شہادت پرفائزنہ ہواہو۔ حضرت رسول کریم سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام تک سب ہی شہیدہوئے ہیں کوئی زہرسے شہیدہوا، کوئی تلوارسے شہیدہوا ان میں ایک خاتون تھیں حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ وہ ضرب شدیدسے شہیدہوئیں ان چودہ معصوموں میں تقریبا تمام کی شہادت کاسبب واضح ہے لیکن حضرت محمدمصطفی صلعم کی شہادت کے سبب سے اکثرحضرات ناواقف ہیں اس پرروشنی ڈالتاہوں۔ 
حجة الاسلام امام ابوحامد محمدالغزالی کی کتاب سرالعالمین کے ص ۷ طبع بمبئی ۱۳۱۴ ئھ اورکتاب مشکواة شریف کے باب ۳ ص ۵۸ سے واضح ہے کہ آپ کی شہادت زہرکے ذریعہ ہوئی ہے اوربخاری شریف کی ج ۳ طبع مصر ۱۳۱۴ ء کے باب اللدودص ۱۲۷ کتاب الطب سے مستفاد اورمستنبط ہوتاہے کہ ”آنحضرت کو دوامیں ملا کرزہردیاگیاتھا۔ 
میرے نزدیک رسول کریم کے بسترعلالت پرہونے کے وقت کے واقعات وحالات کے پیش نظردوامیں زہرملاکردیاجانا متوقع نہیں ہے علامہ محسن فیض ”کتاب الوافی“ کی جلد ۱ کے ۱۶۶ میں بحوالہ تہذیب الاحکام تحریرفرماتے ہیں کہ حضور مدینہ می ں زہرسے شہیدہوئے ہیں ۔ الخ۔ 
مجھے ایسامعلوم ہوتاہے کہ خیبرمیں میں زہرخورانی کی تشہیراخفائے جرم کے لیے کی گئی ہے۔ 

ازواج
چندکنیزوں کے علاوہ جنہیں ماریہ اورریحانہ بھی شامل تھیں آپ کے گیارہ بیویاں تھیں جن میں سے حضرت خدیجة اورزینب بنت خزیمہ نے آپ کی زندگی میں وفات پائی تھی اورنوبیویوں نے آپ کی وفات کے بعدانتقال فرمایا آنحضرت کی بیویوں کے نام درج ذیل ہیں: 
۱ ۔ خدیجة الکبری ۲ ۔ سودہ ۳ ۔ عائشہ ۴ ۔ حفصہ ۵ ۔ زینب بنت خزیمہ ۶ ۔ ام سلمہ ۷ ۔ زینب بنت جحش ۸ ۔ جزیریہ بنت حارث ۹ ۔ ام حبیبہ ۱۰ ۔ صفیہ ۱۱ ۔میمونہ 

اولاد
آپ کے تین بیٹے تھے اورایک بیٹی تھی جناب ابراہیم کے علاوہ جوماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے سب بچے حضرت خدیجة کے بطن سے تھے حضورکی اولادکے نام حسب ذیل ہیں: 
۱ ۔ حضرت قاسم طیب : آپ بعثت سے قبل مکہ میں پیداہوئے اوردوسال کی عمرمیں وفات پاگئے۔ 
۲ ۔ جناب عبداللہ : جوطاہرکے نام سے مشہورتھے بعثت سے قبل مکہ میں پیداہوئے اوربچپن ہی میں انتقال کرگئے۔ 
۳ ۔ جناب ابراہیم : ۸ ہجری میں پیداہوئے اور ۱۰ ہجری میں انتقال کرگئے۔ 
۴ ۔ حضرت فاطمةالزہرا :آپ پیغمبراسلام کی اکلوتی بیٹی تھیں آپ کے شوہرحضرت علی اوربیٹے حضرت امام حسن اورامام حسین تھے آں جناب کی نسل سے گیارہ امام پیداہوئے اوران ہی کے ذریعہ سے رسول خداکی نسل بڑھی اورآپ کی اولادکاسیادت کاشرف نصیب ہوااوروہ قیامت تک ”سید“ کہی جائے گی۔ 
حضرت رسول کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ قیامت میں میرے سلسہ نسب کے علاوہ سارے سلسلے ٹوٹ جائیں گے اورکسی کارشتہ کسی کے کام نہ آئے گا (صواعق محرقہ ص ۹۳) 
علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ تمام انبیاء کی اولادہمیشہ قابل تعظیم سمجھی جاتی رہی ہے ،ہمارے نبی اس سلسلہ میں سب سے زیادہ حق دارہیں (روضة الشہداء ص ۴۰۴) امام المسلمین علامہ جلال الدین فرماتے ہیں کہ حضرات حسنین کی اولادکے لیے سیادت مخصوص ہے مردہویاعورت جوبھی ان کی نسل سے ہے وہ قیامت تک ”سید“ رہے گا ”ویحبب علی اجمع الخلق تعظیمہم ابدا“ اورساری کائنات پرواجب ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ ان کی تعظیم کرتی رہے (لوامع التنزیل ج ۳ ص ۴،۳ ،اسعاف الراغبین برحاشیئہ نوالابصارشبلنجی ص ۱۱۴ طبع مصر)۔ 

 

Wiladat Hazrat Muhammad (SAWW)

صلوات المصطفى راعي العلم والمعرفة - Nasheed - Arabic

Mera Khuda KAreem Hay (Hamd)

Dar-e-Mohammad saww Say

Mohammad saww Roshni Hain

Mohammad saww kay Qadam

To be recited on His birth / from far

I bear witness that there is no god but Allah
The Unique, there is no partner for Him 
And I bear witness that Mohammad (s.a.w.a) in His servant and 
His Apostle and that he is the leader of the first and the last and that he is the chief of the Prophets and the Apostles. O Allah, bless him and his household, the purified leaders

Then Say:

Peace be on you, O the Apostle of Allah 
Peace be on you, O the friend of Allah 
Peace be on you O the Prophet of Allah 
Peace be on you, O the chosen one of Allah
Peace be on you, O the Mercy of Allah 
Peace be on you, O the one selected by Allah 
Peace be on you, O the one loved by Allah
Peace be on you, O the distinguished one of Allah 
Peace be on you, O the last of the Prophets 
Peace be on you, O the chief of the Apostles
Peace be on you, O the one who established the justice 
Peace be on you, O commencer of goodness
Peace be on you, O the mine of revelation and descent 
Peace be on you, O the preacher from the side of Allah 
Peace be on you, O the radiant lamp
Peace be on you, heralder of glad-tidings 
Peace be on you, O the Warner 
Peace be on you, O the admonisher
Peace be on you, O the light of Allah, through which He is illumined
Peace be on you, and on your household, the pure, the blemishless, the guides, the guided ones
Peace be on you and on your grandfather Abdul Muttalib and on your father Abdullah
Peace be on your mother Aamena, the daughter of Wahad 
Peace be on your uncle Hamza the leader of the martyrs
Peace be on your uncle Abbas the son of Abdul Muttalib 
Peace be on your uncle and your protector Abu Taalib 
Peace be on your cousin Ja’far, the hovering one in the gardens of eternity. 
Peace be on you, O Mohammad 
Peace be on you, O Ahmad 
Peace be on you, O the Proof of Allah upon the first and the last of the foremost in the obedience of the Lord of the Universe and the protector of His Apostles and the last of His Prophets
and the witness over His creation and an interceder towards Him and an esteemed one near Him and the obeyed one in His celestial world and the most praiseworthy in attributes and the loudable in all nobility, the honourable one near the Lord, and the one spoken to behind the veils, the first in the competition, the last in accession. 
(This is) the salutation of one who is cognizant of your right, he acknowledges his shortcoming in his establishing what is obligatory for you, does not deny the extent of your excellence, is certain about its argumentation from your Lord, he believes in the Book sent down upon you, he considers as lawful what you have made lawful and regards as prohibited all that you have prohibited.

I bear witness, O Apostle of Allah with all witnesses and I stand for it against all deniers. Certainly you have conveyed the message of your Lord and have advised your nation and have fought in the way of your Lord, and executed His commands and bore injury in His way and called towards His path with wisdom and beautiful, excellent admonition and fulfilled the right which was upon you and surely you were compassionate with the believers and were harsh towards the disbelievers and worshiped Allah sincerely until death overtook you.

Then may Allah grant you the most noble of the abodes of the honored ones. And the highest stations of the proximate ones and the loftiest grades of the Apostles so much so that no one can join you nor can anyone take precedence over you nor can anyone surpass you, and nor can any hopeful desire of catching up with you.

All Praise be to Allah, Who records us through you from peril and guided us through you from deviation and enlightened us through you from darkness.

Then may Allah grant you. O Apostle of Allah, from us the best of what He has granted to a Prophet from his nation and to an Apostle from the one to whom he was sent. May my father and my mother be sacrificed for you.

O Apostle of Allah, 
I have come to visit you as one cognizant of your rights, acknowledger of the excellence you possesses.

Observant of the deviation of those who have opposed you and have opposed the people of your house, cognizant of the guidance on which you are.

May my father and my mother and myself and my family members and my wealth and my children be sacrificed for you, I send salutations to you, just as Allah sends salutations to you and so do His angles and His Prophets and His Apostles. a continuous, abundant and connected salutation which has no breakage nor an end nor a limit

May Allah bless you and your pure and purified household (a.s.) as you all deserve and are worthy of .

Raise your hands and say:

O Allah grant Your most comprehensive Grace and Your ever expanding Blessings and Your loftiest Goodness and Your noblest greetings and Your salutations and Your Honor and Blessings and the salutations of Your most proximate angles and Your sent Prophets and Your chosen leaders and Your righteous servants and the inhabitants of the Heavens and the earths and those who glorify You, O the Lord of the Universe, from the first to the last upon Mohammad.

Your servant and Your Apostle and Your witness and Your Prophet and a warner from Your side, Your trustworthy, Your distinguished one and Your confidant,

Your noble one, Your loved one, Your friend, Your devoted one and Your chosen one and Your distinguished one and Your sincere one,  and Your mercy and the best of Your choice from Your creation, the Prophet of mercy and the treasurer of forgiveness and the guide towards goodness and blessings and the rescuer of the servants from peril by Your permission and their caller towards Your upright religion. By Your order and the first of the prophets to acknowledge the covenant and the last of them to be raised, the one whom you have immersed in the ocean of virtue and the exalted position and the lofty grade and the significant rank. You had entrusted him to pure loins and transferred him from them to purified wombs, a Grace for Your side towards Him and Your affection upon Him, when You assigned for his protection and guarding and defense and care from Your Power, a protective eye through which concealed from him the pollution of adultery and the evil of fornication (a metaphor for all evils of his time) to the extent that You raised through him the vision of the servants.

And enlivened through him the dead of the cities. You exposed through the light and his birth, the darkness of the curtains and You clothed Your sanctuary through him with an adornment of light. O Allah! Just as You have particularized him through the honor of the noble grade and the treasuring of this great virtue,

bless him just as he had fulfilled Your covenant and had conveyed Your message and had fought with those who denied Your Oneness and served relations with disbelief for the honor of your religion and adorned the clothing of difficulties in the war against Your enemies and You have made obligatory, in lieu of every injury that was inflicted on him or every plotting that he could perceive from the group that endeavored to assassinate him and excellence higher than all other excellences and due to which he became an owner of excess rewards from You and certainly he concealed his regret and hid his sorrow and controlled his anger, but did not disgress from what Your revelation laid out for him

O Allah, bless him and his household, by a blessing with which You are satisfied for them and convey to them abundant greetings and salutations from our side and grant us in lieu our love for them. Grace and Goodness and Mercy and Forgiveness from your side, surely You are the processor of abundant Grace.

Now pray frour raka’t namaz, and recite the “Tasbeeh” of Janab-e-Fatemah Zahra (s.a.) and then say::

O Allah, Your have mentioned to Your Prophet Mohammad (s.a.w.a.) and had those who were unjust upon themselves come to You and sought forgiveness from Allah and even the Apostle sought forgiveness for them, they would surely find Allah as Forgiving, Merciful.

I was not present during the era of the Prophet (s.a.w.a.)

O Allah! I have surely visited him as one inclined towards him, turning back from my evil deeds and seeking Your forgiveness for my sins which I attest to them

While You are more knowledgeable about them than me and I turn towards You through Your Prophet, the Prophet of Mercy, Blessings of Allah be on him and his progeny.

O Allah! Through Mohammad (s.a.w.a.) and his progeny, make me honourable in this world as well as the hereafter and from those who are proximate to you. O Mohammad (s.a.w.a.)! O the Apostle of Allah!

May my father and my mother be sacrificed for you. O the Prophet of Allah, O the leader of the creation of Allah. Surely I turn through you to Allah, your Lord and my Lord that He may forgive my sins and accept my actions and fulfill my wants, then you be my intercessor near your Lord and my Lord for surely the best one to be asked from is my Master, my Lord and the best intercessor is you. O Mohammad (s.a.w.a.) peace be on you and your household…

O Allah! Make obligatory for me forgiveness and mercy and abundant, pure, beneficial sustenance from Your side just as You have made obligatory on the one who comes to Your Prophet, Mohammad (s.a.w.a.) while he was alive. Then he attesded to his sins in front of the Apostle (s.a.w.a.) and the Apostle (s.a.w.a.) sought forgiveness for him, then You forgave him by Your Mercy. O the Most Merciful of all those who show mercy…

O Allah! I have pinned my hopes on You and I yearn from You and I stand before You and am inclined towards You, forsaking everyone else and I hope for abundant rewards from You and surely I affirm to You and I am not a denier. I turn towards You repenting for my sins and seek Your refuge at this place

For my previous actions which I have performed and You had stepped forward and stopped me from committing them and had threatened punishment for their performance and I seek refuge in Your Nobility that You make me stand in a position of degradation and shame on the Day when the veils will be rendered and the secrets and offences will become manifest and the joints of the body will shiver, the Day of Regret

And  remorse, the Day of Exposure of the evils the Day of Loss. the Day of Separation. The Day of Recompense. The Day whose measure will be equal 50,000 years the Day of Blowing (of the Trumpet)...

The Day when the first trumpet resounds and the second one follows it. The Day of scattering the Day of Presentation, the Day when the people will stand before the Lord of the Universe the Day when man will flee from his brother and his mother and his father and his spouse and his progeny. The Day when the earth will split and so will the sides of the sky. The Day when every soul shall come disputing and arguing with his ownself.

The Day when the people will be returned unto Allah, then he will inform them of what they did. On Day when no friends will not be of any benefit to each other and nor will they be helped, except those upon whom Allah has Mercy

Surely He is the Honoured. The Merciful...

The Day when the people will be returned to the Knower of the Unseen and the Evident, the Day when people will be returned to Allah, their Rightful Master.

The Day on which they will very quickly rise up from their graves as if they are running towards some monument and as if they are some scattered locusts, they will immediately respond to the caller towards Allah, the Day of the great event, the Day when the earth will have a server conviction, the Day when the sky shall appear like molten copper and the mountain like soft cotton, and a friend will not bother about his friend, the Day of the Witness and the Witnessed, the Day when the angels shall stand up in rows.

O Allah ! Have mercy on my situation on this Day and do not degrade me  in that situation due to the excesses and sins which I have committed against myself.

O my Lord! Include me on the Day along with Your friends and put in the group of Mohammad and the household and make his Pond the place of my advent and make my station honourable and noble and give me my Book in my right hand so that I may be successful on account of my good actions, and make my face radiant and glowing and make my reckoning easy for me and make my scale (of good deeds) heavy and that I may tread along with the triumplant ones from Your righteous servants towards Your satisfaction and Your Gardens (of Bliss). O the God of the Universe

O Allah! I seek refuge in You that You should disgrace me on the Day in front of the creation, due to my sins or that I should face disgrace and shame due to my mistakes or that You make my sins exceed my deeds of or that You make a mention of my name amoung the creation (in a debasing manner). O Noble! O Noble! I beseech Forgiveness from You and implore You to hide my sins.

O Allah ! I seek refuge in You that my position be on that Day be among the evildoers and that my status on that Day be among the unfortunate ones, dispatch each of them in groups in accordance with their actions, towards their abodes, then send me by Your Mercy among Your righteous servants and in the group of Your pious friends, proceeding towards Your Gardens. O the Lord of the Universe.

 

 

 

Then recite this farewell:

Peace be on you, O the Apostle of Allah

Peace be on you, O the heralder of good news, the warner

Peace be on you, O the radiant lamp.

Peace be on you, O the representative between Allah and His creation. I bear witness, O the Apostle of Allah, that you were a light in lofty loins and pure wombs, ignorance with its impurities did not come near you nor did it clothe you with its robe

And I bear witness, O the Apostle of Allah, that I believe in you and the leaders from your household. I am certain about everything that you have brought.

I am a satisfied believer in you and I bear witness that the leaders from your household are the standards of guidance and the strong rope and the Proof over the inhabitants of the earth 

O Allah! Do not make this my last visitation to Your Prophet and if You should cause me to die, then I bear witness in my death, upon what I do in my life time that You are Allah, there is no god except You...

You are One, there is no partner for You and that Mohammad is Your servant and Your Apostle and that the leaders from his household are Your representatives and Your helpers and Your proofs upon Your creation and Your caliphs amoung Your servants and Your standards in Your cities and the treasures of Your knowledge and the protectors of Your secrets and the interpreters of Your revelation

O Allah! Bless Mohammad and the progeny of Mohammad and convey to the soul of Your prophet Mohammad and his progeny at this every hour and at every hour, greetings from me and peace and peace be on you O the Apostle of Allah and the mercy of Allah and His blessings. May Allah not make this my last salutation to you….

 

 

 

أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ‏
وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ وَ أَنَّهُ سَيِّدُ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ أَنَّهُ سَيِّدُ الْأَنْبِيَاءِ وَ الْمُرْسَلِينَ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ الْأَئِمَّةِ الطَّيِّبِينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَلِيلَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا صَفِيَّ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَحْمَةَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَجِيبَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الْمُرْسَلِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا قَائِماً بِالْقِسْطِ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا فَاتِحَ الْخَيْرِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مَعْدِنَ الْوَحْيِ وَ التَّنْزِيلِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُبَلِّغاً عَنِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا السِّرَاجُ الْمُنِيرُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُبَشِّرُ
(السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نَذِيرُ) السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُنْذِرُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا نُورَ اللَّهِ الَّذِي يُسْتَضَاءُ بِهِ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ الْهَادِينَ الْمَهْدِيِّينَ‏
السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى جَدِّكَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَ عَلَى أَبِيكَ عَبْدِ اللَّهِ‏
السَّلاَمُ عَلَى أُمِّكَ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ السَّلاَمُ عَلَى عَمِّكَ حَمْزَةَ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ السَّلاَمُ عَلَى عَمِّكَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ‏
السَّلاَمُ عَلَى عَمِّكَ وَ كَفِيلِكَ أَبِي طَالِبٍ السَّلاَمُ عَلَى ابْنِ عَمِّكَ جَعْفَرٍ الطَّيَّارِ فِي جِنَانِ الْخُلْدِ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَحْمَدُ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ اللَّهِ عَلَى الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ السَّابِقَ إِلَى طَاعَةِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏
وَ الْمُهَيْمِنَ عَلَى رُسُلِهِ وَ الْخَاتِمَ لِأَنْبِيَائِهِ وَ الشَّاهِدَ عَلَى خَلْقِهِ وَ الشَّفِيعَ إِلَيْهِ‏
وَ الْمَكِينَ لَدَيْهِ وَ الْمُطَاعَ فِي مَلَكُوتِهِ‏
الْأَحْمَدَ مِنَ الْأَوْصَافِ الْمُحَمَّدَ لِسَائِرِ الْأَشْرَافِ الْكَرِيمَ عِنْدَ الرَّبِّ وَ الْمُكَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُبِ‏
الْفَائِزَ بِالسِّبَاقِ وَ الْفَائِتَ عَنِ اللِّحَاقِ‏
تَسْلِيمَ عَارِفٍ بِحَقِّكَ مُعْتَرِفٍ بِالتَّقْصِيرِ فِي قِيَامِهِ بِوَاجِبِكَ غَيْرِ مُنْكِرٍ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ مِنْ فَضْلِكَ‏
مُوقِنٍ بِالْمَزِيدَاتِ مِنْ رَبِّكَ مُؤْمِنٍ بِالْكِتَابِ الْمُنْزَلِ عَلَيْكَ مُحَلِّلٍ حَلاَلَكَ مُحَرِّمٍ حَرَامَكَ‏
أَشْهَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَعَ كُلِّ شَاهِدٍ وَ أَتَحَمَّلُهَا عَنْ كُلِّ جَاحِدٍ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالاَتِ رَبِّكَ وَ نَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ‏
وَ جَاهَدْتَ فِي سَبِيلِ رَبِّكَ وَ صَدَعْتَ بِأَمْرِهِ وَ احْتَمَلْتَ الْأَذَى فِي جَنْبِهِ‏
وَ دَعَوْتَ إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ الْجَمِيلَةِ وَ أَدَّيْتَ الْحَقَّ الَّذِي كَانَ عَلَيْكَ‏
وَ أَنَّكَ قَدْ رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِينَ وَ غَلُظْتَ عَلَى الْكَافِرِينَ وَ عَبَدْتَ اللَّهَ مُخْلِصاً حَتَّى أَتَاكَ الْيَقِينُ‏
فَبَلَغَ اللَّهُ بِكَ أَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُكَرَّمِينَ‏
وَ أَعْلَى مَنَازِلِ الْمُقَرَّبِينَ وَ أَرْفَعَ دَرَجَاتِ الْمُرْسَلِينَ حَيْثُ لاَ يَلْحَقُكَ لاَحِقٌ‏
وَ لاَ يَفُوقُكَ فَائِقٌ وَ لاَ يَسْبِقُكَ سَابِقٌ وَ لاَ يَطْمَعُ فِي إِدْرَاكِكَ طَامِعٌ‏
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَنْقَذَنَا بِكَ مِنَ الْهَلَكَةِ وَ هَدَانَا بِكَ مِنَ الضَّلاَلَةِ وَ نَوَّرَنَا بِكَ مِنَ الظُّلْمَةِ
فَجَزَاكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ مَبْعُوثٍ أَفْضَلَ مَا جَازَى (جَزَى) نَبِيّاً عَنْ أُمَّتِهِ وَ رَسُولاً عَمَّنْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ‏
بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ زُرْتُكَ عَارِفاً بِحَقِّكَ مُقِرّاً بِفَضْلِكَ‏
مُسْتَبْصِراً بِضَلاَلَةِ مَنْ خَالَفَكَ وَ خَالَفَ أَهْلَ بَيْتِكَ عَارِفاً بِالْهُدَى الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ‏
بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي وَ نَفْسِي وَ أَهْلِي وَ مَالِي وَ وَلَدِي‏
أَنَا أُصَلِّي عَلَيْكَ كَمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ صَلَّى عَلَيْكَ مَلاَئِكَتُهُ وَ أَنْبِيَاؤُهُ وَ رُسُلُهُ‏
صَلاَةً مُتَتَابِعَةً وَافِرَةً مُتَوَاصِلَةً لاَ انْقِطَاعَ لَهَا وَ لاَ أَمَدَ وَ لاَ أَجَلَ‏
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ كَمَا أَنْتُمْ أَهْلُهُ‏
اللَّهُمَّ اجْعَلْ جَوَامِعَ صَلَوَاتِكَ وَ نَوَامِيَ بَرَكَاتِكَ‏
وَ فَوَاضِلَ خَيْرَاتِكَ وَ شَرَائِفَ تَحِيَّاتِكَ وَ تَسْلِيمَاتِكَ وَ كَرَامَاتِكَ وَ رَحَمَاتِكَ‏
وَ صَلَوَاتِ مَلاَئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ وَ أَنْبِيَائِكَ الْمُرْسَلِينَ وَ أَئِمَّتِكَ الْمُنْتَجَبِينَ‏
وَ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ وَ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِينَ وَ مَنْ سَبَّحَ لَكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ‏
عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ وَ شَاهِدِكَ وَ نَبِيِّكَ وَ نَذِيرِكَ وَ أَمِينِكَ وَ مَكِينِكَ‏
وَ نَجِيِّكَ وَ نَجِيبِكَ وَ حَبِيبِكَ وَ خَلِيلِكَ وَ صَفِيِّكَ وَ صَفْوَتِكَ وَ خَاصَّتِكَ وَ خَالِصَتِكَ وَ رَحْمَتِكَ‏
وَ خَيْرِ خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ وَ خَازِنِ الْمَغْفِرَةِ وَ قَائِدِ الْخَيْرِ وَ الْبَرَكَةِ
وَ مُنْقِذِ الْعِبَادِ مِنَ الْهَلَكَةِ بِإِذْنِكَ وَ دَاعِيهِمْ إِلَى دِينِكَ الْقَيِّمِ بِأَمْرِكَ‏
أَوَّلِ النَّبِيِّينَ مِيثَاقاً وَ آخِرِهِمْ مَبْعَثاً الَّذِي غَمَسْتَهُ فِي بَحْرِ الْفَضِيلَةِ وَ الْمَنْزِلَةِ الْجَلِيلَةِ وَ الدَّرَجَةِ الرَّفِيعَةِ وَ الْمَرْتَبَةِ الْخَطِيرَةِ
وَ أَوْدَعْتَهُ الْأَصْلاَبَ الطَّاهِرَةَ وَ نَقَلْتَهُ مِنْهَا إِلَى الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ لُطْفاً مِنْكَ لَهُ وَ تُحَنُّناً مِنْكَ عَلَيْهِ‏
إِذْ وَكَّلْتَ لِصَوْنِهِ وَ حِرَاسَتِهِ وَ حِفْظِهِ وَ حِيَاطَتِهِ مِنْ قُدْرَتِكَ عَيْناً عَاصِمَةً
حَجَبْتَ بِهَا عَنْهُ مَدَانِسَ الْعَهْرِ وَ مَعَايِبَ السِّفَاحِ حَتَّى رَفَعْتَ بِهِ نَوَاظِرَ الْعِبَادِ
وَ أَحْيَيْتَ بِهِ مَيْتَ الْبِلاَدِ بِأَنْ كَشَفْتَ عَنْ نُورِ وِلاَدَتِهِ ظُلَمَ الْأَسْتَارِ وَ أَلْبَسْتَ حَرَمَكَ بِهِ حُلَلَ الْأَنْوَارِ
اللَّهُمَّ فَكَمَا خَصَصْتَهُ بِشَرَفِ هَذِهِ الْمَرْتَبَةِ الْكَرِيمَةِ وَ ذُخْرِ هَذِهِ الْمَنْقَبَةِ الْعَظِيمَةِ
صَلِّ عَلَيْهِ كَمَا وَفَى بِعَهْدِكَ وَ بَلَّغَ رِسَالاَتِكَ وَ قَاتَلَ أَهْلَ الْجُحُودِ عَلَى تَوْحِيدِكَ‏
وَ قَطَعَ رَحِمَ الْكُفْرِ فِي إِعْزَازِ دِينِكَ وَ لَبِسَ ثَوْبَ الْبَلْوَى فِي مُجَاهَدَةِ أَعْدَائِكَ‏
وَ أَوْجَبْتَ لَهُ بِكُلِّ أَذًى مَسَّهُ أَوْ كَيْدٍ أَحَسَّ بِهِ مِنَ الْفِئَةِ الَّتِي حَاوَلَتْ قَتْلَهُ فَضِيلَةً تَفُوقُ الْفَضَائِلَ‏
وَ يَمْلِكُ بِهَا الْجَزِيلَ مِنْ نَوَالِكَ‏
وَ قَدْ (فَلَقَدْ) أَسَرَّ الْحَسْرَةَ وَ أَخْفَى الزَّفْرَةَ وَ تَجَرَّعَ الْغُصَّةَ وَ لَمْ يَتَخَطَّ مَا مَثَّلَ لَهُ وَحْيُكَ (مُثِّلَ مِنْ وَحْيِكَ)
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ صَلاَةً تَرْضَاهَا لَهُمْ وَ بَلِّغْهُمْ مِنَّا تَحِيَّةً كَثِيرَةً وَ سَلاَماً
وَ آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ فِي (مِنْ) مُوَالاَتِهِمْ فَضْلاً وَ إِحْسَاناً وَ رَحْمَةً وَ غُفْرَاناً إِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ‏
پس چهار ركعت نماز زيارت بكن به دو سلام با هر سوره كه خواهى و چون فارغ شوى تسبيح فاطمه زهراء سلام الله عليها را بخوان پس بگو
اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحِيماً
وَ لَمْ أَحْضُرْ زَمَانَ رَسُولِكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ السَّلاَمُ‏
اللَّهُمَّ وَ قَدْ زُرْتُهُ رَاغِباً تَائِباً مِنْ سَيِّئِ عَمَلِي وَ مُسْتَغْفِراً لَكَ مِنْ ذُنُوبِي وَ مُقِرّاً لَكَ بِهَا وَ أَنْتَ أَعْلَمُ بِهَا مِنِّي‏
وَ مُتَوَجِّهاً إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ‏
فَاجْعَلْنِي اللَّهُمَّ بِمُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ عِنْدَكَ وَجِيهاً فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ‏
يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي‏
يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَا سَيِّدَ خَلْقِ اللَّهِ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى اللَّهِ رَبِّكَ وَ رَبِّي‏
لِيَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي وَ يَتَقَبَّلَ مِنِّي عَمَلِي وَ يَقْضِيَ لِي حَوَائِجِي‏
فَكُنْ لِي شَفِيعاً عِنْدَ رَبِّكَ وَ رَبِّي فَنِعْمَ الْمَسْئُولُ الْمَوْلَى رَبِّي‏
وَ نِعْمَ الشَّفِيعُ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ عَلَيْكَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ السَّلاَمُ‏
اللَّهُمَّ وَ أَوْجِبْ لِي مِنْكَ الْمَغْفِرَةَ وَ الرَّحْمَةَ وَ الرِّزْقَ الْوَاسِعَ الطَّيِّبَ النَّافِعَ‏
كَمَا أَوْجَبْتَ لِمَنْ أَتَى نَبِيَّكَ مُحَمَّداً صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ هُوَ حَيٌّ فَأَقَرَّ لَهُ بِذُنُوبِهِ‏
وَ اسْتَغْفَرَ لَهُ رَسُولُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ السَّلاَمُ فَغَفَرْتَ لَهُ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ‏
اللَّهُمَّ وَ قَدْ أَمَّلْتُكَ وَ رَجَوْتُكَ وَ قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَ رَغِبْتُ إِلَيْكَ عَمَّنْ سِوَاكَ‏
وَ قَدْ أَمَّلْتُ جَزِيلَ ثَوَابِكَ وَ إِنِّي لَمُقِرٌّ (مُقِرٌّ) غَيْرُ مُنْكِرٍ وَ تَائِبٌ إِلَيْكَ مِمَّا اقْتَرَفْتُ‏
وَ عَائِذٌ بِكَ فِي هَذَا الْمَقَامِ مِمَّا قَدَّمْتُ مِنَ الْأَعْمَالِ الَّتِي تَقَدَّمْتَ إِلَيَّ فِيهَا وَ نَهَيْتَنِي عَنْهَا وَ أَوْعَدْتَ عَلَيْهَا الْعِقَابَ‏
وَ أَعُوذُ بِكَرَمِ وَجْهِكَ أَنْ تُقِيمَنِي مَقَامَ الْخِزْيِ وَ الذُّلِّ يَوْمَ تُهْتَكُ فِيهِ الْأَسْتَارُ وَ تَبْدُو فِيهِ الْأَسْرَارُ وَ الْفَضَائِحُ‏
وَ تَرْعَدُ فِيهِ الْفَرَائِصُ يَوْمَ الْحَسْرَةِ وَ النَّدَامَةِ
يَوْمَ الْآفِكَةِ يَوْمَ الْآزِفَةِ يَوْمَ التَّغَابُنِ يَوْمَ الْفَصْلِ يَوْمَ الْجَزَاءِ يَوْماً كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ يَوْمَ النَّفْخَةِ
يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ يَوْمَ النَّشْرِ يَوْمَ الْعَرْضِ‏
يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَ أُمِّهِ وَ أَبِيهِ وَ صَاحِبَتِهِ وَ بَنِيهِ‏
يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ وَ أَكْنَافُ السَّمَاءِ يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَفْسِهَا
يَوْمَ يُرَدُّونَ إِلَى اللَّهِ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا
يَوْمَ لاَ يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا وَ لاَ هُمْ يُنْصَرُونَ إِلاَّ مَنْ رَحِمَ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ‏
يَوْمَ يُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ
يَوْمَ يُرَدُّونَ إِلَى اللَّهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعاً كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ‏
وَ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ إِلَى اللَّهِ‏
يَوْمَ الْوَاقِعَةِ يَوْمَ تُرَجُّ الْأَرْضُ رَجّاً يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ وَ تَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ‏
وَ لاَ يُسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يَوْمَ الشَّاهِدِ وَ الْمَشْهُودِ يَوْمَ تَكُونُ الْمَلاَئِكَةُ صَفّاً صَفّاً
اللَّهُمَّ ارْحَمْ مَوْقِفِي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ بِمَوْقِفِي فِي هَذَا الْيَوْمِ وَ لاَ تُخْزِنِي فِي ذَلِكَ الْمَوْقِفِ (الْيَوْمِ) بِمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي‏
وَ اجْعَلْ يَا رَبِّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَعَ أَوْلِيَائِكَ مُنْطَلَقِي وَ فِي زُمْرَةِ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ مَحْشَرِي‏
وَ اجْعَلْ حَوْضَهُ مَوْرِدِي وَ فِي الْغُرِّ الْكِرَامِ مَصْدَرِي‏
وَ أَعْطِنِي كِتَابِي بِيَمِينِي حَتَّى أَفُوزَ بِحَسَنَاتِي وَ تُبَيِّضَ بِهِ وَجْهِي وَ تُيَسِّرَ بِهِ حِسَابِي‏
وَ تُرَجِّحَ بِهِ مِيزَانِي وَ أَمْضِيَ مَعَ الْفَائِزِينَ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ إِلَى رِضْوَانِكَ وَ جِنَانِكَ إِلَهَ الْعَالَمِينَ‏
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ تَفْضَحَنِي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ بَيْنَ يَدَيِ الْخَلاَئِقِ بِجَرِيرَتِي أَوْ أَنْ أَلْقَى الْخِزْيَ وَ النَّدَامَةَ بِخَطِيئَتِي‏
أَوْ أَنْ تُظْهِرَ فِيهِ سَيِّئَاتِي عَلَى حَسَنَاتِي أَوْ أَنْ تُنَوِّهَ بَيْنَ الْخَلاَئِقِ بِاسْمِي‏
يَا كَرِيمُ يَا كَرِيمُ الْعَفْوَ الْعَفْوَ السَّتْرَ السَّتْرَ
اللَّهُمَّ وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ فِي مَوَاقِفِ الْأَشْرَارِ مَوْقِفِي أَوْ فِي مَقَامِ الْأَشْقِيَاءِ مَقَامِي‏
وَ إِذَا مَيَّزْتَ بَيْنَ خَلْقِكَ فَسُقْتَ كُلاًّ بِأَعْمَالِهِمْ زُمَراً إِلَى مَنَازِلِهِمْ فَسُقْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ‏
وَ فِي زُمْرَةِ أَوْلِيَائِكَ الْمُتَّقِينَ إِلَى جَنَّاتِكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ‏
پس وداع كن آن حضرت را و بگو
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْبَشِيرُ النَّذِيرُ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا السِّرَاجُ الْمُنِيرُ
السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا السَّفِيرُ بَيْنَ اللَّهِ وَ بَيْنَ خَلْقِهِ‏
أَشْهَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ كُنْتَ نُوراً فِي الْأَصْلاَبِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ
لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجَاهِلِيَّةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْكَ مِنْ مُدْلَهِمَّاتِ ثِيَابِهَا
وَ أَشْهَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي مُؤْمِنٌ بِكَ وَ بِالْأَئِمَّةِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ مُوقِنٌ بِجَمِيعِ مَا أَتَيْتَ بِهِ رَاضٍ مُؤْمِنٌ‏
وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ أَعْلاَمُ الْهُدَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ الْحُجَّةُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا
اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِيَارَةِ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ السَّلاَمُ‏
وَ إِنْ تَوَفَّيْتَنِي فَإِنِّي أَشْهَدُ فِي مَمَاتِي عَلَى مَا أَشْهَدُ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِي‏
أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ‏
وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُكَ وَ رَسُولُكَ وَ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ أَوْلِيَاؤُكَ وَ أَنْصَارُكَ وَ حُجَجُكَ عَلَى خَلْقِكَ‏
وَ خُلَفَاؤُكَ فِي عِبَادِكَ وَ أَعْلاَمُكَ فِي بِلاَدِكَ وَ خُزَّانُ عِلْمِكَ وَ حَفَظَةُ سِرِّكَ وَ تَرَاجِمَةُ وَحْيِكَ‏
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
وَ بَلِّغْ رُوحَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ فِي سَاعَتِي هَذِهِ وَ فِي كُلِّ سَاعَةٍ تَحِيَّةً مِنِّي وَ سَلاَماً
وَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ لاَ جَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ تَسْلِيمِي عَلَيْك

 

 

BIOGRAPHY

 

A Brief History of the Prophet"s Life

 

LINEAGE

  The oldest and noblest tribe in the whole of Arabia was Banu Hashim. They were the descendants of Ibrahim through his son Isma"il. The Arabs respected and loved them for their goodness, knowledge and bravery.

prophet  hazrat mohammad  last prophet

ABD AL-MUTTALIB

Abd al-Muttalib was the chieftain of Banu Hashim and he was also the Guardian of the Ka"bah. Among his ten sons, "Abdullah was the father of the Holy Prophet.

 In Mecca, baby boy muhammad was born on 17th Rabi" al-Awwal, 570 AD.His father "Abdullah, son of "Abd al-Muttalib, died before he was born and when he was six, he lost his loving mother Aminah bint Wahab.His Grandfather, "Abd al-Muttalib, took the responsibility of bringing up the orphan. At the age of ten, he was berefted of his venerable grandfather.On his deathbed, he appointed his son Abu Talib as the guardian of muhammad.Gentle, soft spoken, tall and handsome boy, muhammad, accompanied the trading caravans of Abu Talib, across the deserts, giving him deep insight into nature and man.

 prophet  hazrat mohammad  last prophet

KHADIJAH(A.S)

 The wealthy noble widowed lady Khadijah, looking for a manager for her rich merchantile caravans, selects muhammad, the Trustee. Able and fair dealing,muhammad is a tremendous success. Khadijah already an admirer, made him an offer of marriage. muhammad was twenty five and Khadijah forty. In spite of this disparity in age, the marriage proved to be a very happy one.

 THE PROPHET

  Lover of nature and quite worrried about human sufferings, muhammad very often retired to Mount Hira" for meditations. One night, Laylat al-Qadr (the Night of Majesty) a voice addressing him, commanded "Recite in the name of thy Lord." Deeply excited by the strange phenomena of Divine Visitation,muhammad hurried home to his wife, Khadijah, who listened to him attentively and said that "I bear witness that you are the Apostle of God." After an interval, the voice from heaven spoke again "O thou shrouded in thy mantle, arise, and warn, and magnify thy Lord."

This was a signal for him to start preaching the gospel of truth of One God. In the beginning muhammad invited only those near him, to accept the new Faith. The first to embrace Islam among women was Khadijah and among men "Ali. Soon after, Zayd ibn al-Harithah became a convert to the new Faith.

For three long years, he laboured quietly to wean his people from the worship of idols and drew only thirty followers. muhammad then decided to appeal publicly to the Quraysh to give up idol worship and embrace Islam.The new Faith, is simple without complications, practical and useful for everyday life. It commands to believe and do good, keep up prayer and pay the poorrate, two orders giving four principles of a successful way of life.Almost ten years of hard work and preaching, in spite of all persecution,produced over a hundred followers, physical cruelties and social boycott made life unbearable in Mecca. The Holy Prophet of Islam advised his followers, to seek refuge in the to seek refuge in the neighbouring country of Ethiopia. Eighty eight men and eighteen women sailed to the hospitable shores of the Negus, under the leadership of Ja"far at-Tayyar (brother of "Ali) and the cousin of the Holy Prophet.

several times the chieftains came to Abu Talib saying, "We respect your age and rank, but we have no further patience with your nephew. Stop him or we shall fight you." Abu Talib asked muhammad for his decision.With tears in his eyes, the Apostle firmly replied, "O my uncle! If they place the sun on my right hand and the moon on my left, to force me to renounce my mission, I will not desist until God manifests His cause or I perish in the attempt."

prophet  hazrat mohammad  last prophet
TRAGEDIES

 In a period of troubles, trials and tribulations two major tragedies afflicted muhammad. First the venerable guardian uncle Abu Talib died and shortly afterwards his noble wife Khadijah died, leaving behind her daughter Fatimah (peace be on her) - the only child she had from the Holy Prophet - the daughter who looked after her father so much so that the prophet called her Umm Abiha (the mother of her father).

 MUSLIM ERA

 With the death of the old patriarch Abu Talib, the Meccans planned to assassinate the prophet. Under Divine guidance, he asked "Ali to sleep in his bed and muhammad put his green garment on "Ali. While the murderes mistook "Ali for muhammad, the Holy Prophet of Islam escaped to Medina.

The Muslim era of Hijrah (Emigration) is named after this incident and dated from 17th Rabi" al-Awwwal, 622 AD.

From the time he came to Medina, he was the grandest figure upon whom the light of history has ever shone. We shall now see him as the King of men, the ruler of human hearts, chief law-giver and supreme judge.The Preacher who went without bread, was mightier than the mightiest sovereigns of the earth. No emperor with his tiaras was obeyed, as this man in a cloak of his own clothing.

He laid the foundation of the Muslim commonwealth and drew up a charter which has been acknowledged as the work of highest statemanship, a master-mind not only of his age, but of all ages.

Unlike the Arabs, the Prophet, had never wielded a weapon, but now he was forced to defend Islam by force of arms. Commencing from the battle of Badr,a series of eighty battles had to be fought, which the infant commmunity defended successfully.

 

prophet  hazrat mohammad  last prophet
UHUD

 Next year, Abu Sufyan, the famous long-lived enemy of Islam, again attacked the Muslims at Uhud. Hamzah, the first flag-bearer of Islam and uncle of the Prophet, was killed in action. In spite of strict instructions from the Prophet, a few Muslim soldiers deserted their post,when victory was in sight. This changed the course of the battle. Khalid ibn al-Walid attacked the Prophet and the grave situation was saved by the timely arrival of "Ali. The enemies ran away and the issue was decided. muhammad was deeply grieved at the death of Hamzah.

  HUDAYBIYYAH

 The Muslims had been in self exile for six years and began to feel a keen yearning for their homeland, Mecca. The Prophet desired to perform a pilgrimage to Ka"bah. When he forsook his home town he was weak, but when he wanted to return, he was strong. He did not use his strength to force an entry into the sacred city. Finding the Quraysh hostile, muhammad entered into a treaty Known as the Peace of Hudaybiyyah, appearing not very advantageous to the Muslims, but which revealed the Islamic character of moderation and magnanimity. For the strong to excercise restraint and toleration is true courage. Having reached upto the door of their birth place with hearts over-flowing with impatient longing to enter it, the Muslims retraced their steps peacefully to Medina, under the terms of the treaty, which allowed them to perform the pilgrimage next year.

 prophet  hazrat mohammad  last prophet

MECCA

 In The 8th year AH, the idolators violated the peace of Hudaybiyyah by attacking the Muslims. The enemies were defeated and Mecca was conquered.The Prophet who fled from Mecca as a fugitive, now returned home as a mighty conqueror. The Rahmatun lil "Alamin (mercy unto all beings, i.e., the Prophet) entered the city with his head bowed low in thankfulness to the Almighty (Allah) and ordered a general amnesty, instead of the mass massacre of those who persecuted him and his followers.

  WIVES

 A great number of Muslim soldiers were killed in battles at Badr, Uhud,Khaybar, Hunayn and other places, leaving behind young wives and children. The serious problem of taking care of the widows and orphans, threatened to break up the moral fabric of the Muslim Society. muhammad decided to marry these widows and set an example for his followers to do likewise.

  LAST PILGRIMAGE

 Under the Divine intuition of his approaching end, muhammad prepared to make the farewell pilgrimage to Mecca.Before completing all the ceremonies of Hajj, he addressed a huge multitude from the top of mount "Arafat on 8th Dhi al-hijjah, 11 AH,in words which shall ever ring and live in the atmosphere.

After finishing the hajj the Holy Prophet started for Medina. On his way, at Ghadir Khumm the Voice from Heaven cried: "O Apostle! deliver what has been revealed to you from your Lord; and if you do it not, then you have not delivered His message and Allah will protect you from the people, surely Allah will not guide the unbelieving people. (5:67) muhammad immediately ordered Bilal to recall the Muslims, who had gone ahead,who were behind and who were proceeding to their homes at the junction, to assemble. The famous Sunni mutakallim and commentator, Fakhr ad-Din ar-Razi in his At-Tafsir al-Kabir, vol. 12, pp. 49-50, writes that the Prophet took "Ali by the hand and said: "Whoever whose mawla (master) I am, "Ali is his master. O Allah! Love him who loves "Ali, and be the enemy of the enemy of "Ali; help him who helps "Ali, and forsake him who forsakes "Ali."

 prophet  hazrat mohammad  last prophet

DEATH

 On muhammad"s return to Medina, he got busy settling the organization of the provinces and the tribes which had adopted Islam. His strength rapidly failed and the poison (administered at Khaybar by a Jewess) took its deadly toll. So ended the life dedicated to the service of God and humanity from first to last, on 28th Safar, 11 AH.

The humble Preacher had risen to be the ruler of Arabia. The Prophet of Islam not only inspired reverence, but love owing to his humility,nobility, purity, austerity, refinement and devotion to duty.

The Master inspired all who came into contact with him. He shared his scanty food; he began his meals in the Name of Allah and finished them uttering thanks;he loved the poor and respected them; he would visit the sick and comfort the heart broken; he treated his bitterest enemies with clemency and forbearance,but the offenders against society were administered justice; his intellectual mind was remarkably progressive and he said that man could not exist without contant efforts.

There is no god but One God and muhammad is the Apostle of God, peace and blessings of Allah be upon him and his descendants.